خیبر پختونخوا میں سول جج کے تحریری امتحان میں صرف تین امیدوار کامیاب: جوڈیشل مجسٹریٹ کے امتحان کی تیاری کیسے کی جائے؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

خیبر پختونخوا میں سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ (جج درجہ سوئم) کی 105 آسامیوں کے لیے ہونے والے تحریری امتحان کے نتائج کے مطابق امتحان میں حصہ لینے والے 1024 امیدواروں میں سے صرف تین امیدوار ہی کامیاب ہو پائے ہیں۔

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق کامیابی کی شرح محض 0.29 فیصد رہی ہے، جو گذشتہ امتحانات کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کا تحریری امتحان رواں سال منعقد ہوا تھا اور اب تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والے تین امیدواروں کے انٹرویو ہوں گے جس کے بعد کامیاب امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ نتائج کے مطابق تحریری امتحان میں پہلی پوزیشن جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار صبا رسول نے حاصل کی ہے جبکہ دوسری پوزیشن باجوڑ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ نور کے حصے میں آئی، جبکہ تیسری پوزیشن مردان کے سید زاہد حسین نے حاصل کی۔

تاہم ان تین امیدواروں کے علاوہ باقی تمام امیدوار امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے۔

نتائج کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ ناکامی انگلش جنرل اور انگلش مضمون نویسی کے پرچے میں ہوئی۔ 1024 امیدواروں میں سے صرف 149 امیدوار اس پرچے میں کامیاب ہو پائے جبکہ 875 امیدوار ناکام رہے۔

عمومی معلومات (جنرل نالج) کے پرچے میں بھی 1005 امیدواروں میں سے 687 ناکام ہوئے۔ تاہم اس کے برعکس پشتو کے مضمون کا انتخاب کرنے والے 340 امیدواروں میں سے 335 امیدوار کامیاب ہوئے۔

قانون کے مضامین میں بھی کامیابی کی شرح نسبتاً بہتر رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر کم کامیابی کی بڑی وجہ انگلش زبان اور جنرل نالج کے مضامین میں امیدواروں کی کارکردگی رہی۔

’پانچ سے چھ گھنٹے پڑھائی کی‘

اس امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے عبداللہ نور نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس سخت امتحان کے لیے بھرپور تیاری ضروری ہے اور اُن کے خیال میں جس امیدوار نے بھی سنجیدگی سے تحریری امتحان کی تیاری کی، وہ کامیاب ہوا ہے۔

اپنی تیاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نور نے کہا کہ وہ روزانہ تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے پڑھائی کرتے تھے جبکہ صبح کے اوقات میں وہ وکالت کی پریکٹس کے لیے عدالت بھی جاتے تھے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے، تو عبداللہ نور نے جواب دیا کہ پرچے حل کرنے کے لیے انھوں نے اپنے سینیئرز سے مشاورت کی، ہر سوال کا تفصیلی جواب دیا تاہم غیر ضروری اور غیر متعلقہ معلومات اپنے جوابات میں شامل کرنے سے گریز کیا۔

عبداللہ نور کا تعلق باجوڑ سے ہے، تاہم ان کے والد محکمہ تعلیم میں ملازمت کرتے تھے چنانچہ اُن کا زیادہ وقت مردان میں گزرا اور یہیں سے انھوں نےایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

عبداللہ کے مطابق انھوں نے سنہ 2024 میں سی ایس ایس کا امتحان بھی دیا تھا تاہم وہ انگریزی مضمون نویسی کے پرچے میں ناکام رہے تھے اور بعد ازاں مالی مشکلات کے باعث وہ دوبارہ تیاری کے لیے کسی اکیڈمی میں داخلہ نہ لے سکے۔

اُن کے مطابق سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کے امتحان کی تیاری کے لیے بھی انھوں نے کسی اکیڈمی میں داخلہ نہیں لیا تھا، تاہم اپنے طور پر گذشتہ سالوں کے پرچے حل کیے اور مختلف آزمائشی امتحانات دیے، جن سے ان کی تیاری بہتر ہوئی۔

سول جج کے تحریری امتحان کی تیاری کیسے کی جائے؟

جوڈیشل مجسٹریٹ کے امتحان میں زیادہ تر امیدوار ناکام کیوں ہو جاتے ہیں اور اس امتحان کی تیاری کیسے کی جائے؟

یہ جاننے کے لیے ہم نے پنجاب میں تعینات ایک خاتون سول جج سے بات کی ہے جو تین برس قبل اس عہدے پر تعینات ہوئی ہیں۔

بی بی سی اُردو کے عمیر محمود سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کے لیے جس معیار کی انگریزی کا امتحان لیا جاتا ہے، وہ کسی حد تک سی ایس ایس (سینٹرل سپیرئیر سروسز) کے برابر ہوتا ہے۔ ’جس طرح سی ایس ایس کے امیدوار اکثر انگریزی کے امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں، اسی طرح جوڈیشل امتحان میں بھی بڑی تعداد انگریزی کے پرچوں میں مطلوبہ معیار حاصل نہیں کر پاتی۔‘

انھوں نے کہا کہ امتحان لینے والے ایسے امیدوار منتخب کرنا چاہتے ہیں جو عملی طور پر وکالت کر رہے ہوں، عدالتوں کے ماحول سے واقف ہوں اور صرف کتابی علم تک محدود نہ ہوں۔

ان کے مطابق سوالات عموماً اس انداز سے مرتب کیے جاتے ہیں کہ امیدوار قانون کو ایک وکیل کے طور پر کیسے سمجھتا اور استعمال کرتا ہے۔ ’یہی وجہ ہے کہ صرف پڑھنے والے یا رٹہ لگا کر تیاری کرنے والے امیدوار اکثر مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں یہ رجحان بڑھا ہے کہ ایل ایل بی مکمل کرتے ہی بعض طلبہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ انھیں جج بننا ہے۔ ’اس کے بعد وہ سیدھے اکیڈمیوں کا رخ کرتے ہیں اور رٹہ لگانے لگتے ہیں۔‘

ان کے بقول جوڈیشل امتحان میں محض رٹہ لگانے سے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی کیونکہ امتحان امیدوار کی قانونی فہم، تجزیاتی صلاحیت اور عملی سوچ کو جانچتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض امیدوار وکالت کے عملی تجربے کے بغیر بھی تحریری امتحان پاس کر لیتے ہیں، لیکن یہ بات انٹرویو کے دوران معلوم ہو جاتی ہے۔ ’انٹرویو لینے والے یہ دیکھتے ہیں کہ امیدوار کسی مقدمے کو کس حد تک سمجھ سکتا ہے، قانونی نکات کا تجزیہ کیسے کرتا ہے اور عملی عدالتی کارروائی سے کتنا واقف ہے۔ اگر امیدوار نے عدالتی ماحول میں کام نہ کیا ہو تو یہ کمزوری سامنے آ جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے امیدوار کو کم از کم ایک سے دو سال وکالت کی پریکٹس کرنی چاہیے اور پھر اس امتحان کا حصہ بننا چاہیے۔

’جب کوئی وکیل خود مقدمات پر کام کرتا ہے تو اسے یہ سمجھ آتی ہے کہ قانونی نکات کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے، دعویٰ کیسے تیار کیا جاتا ہے، شواہد کیسے پیش کیے جاتے ہیں، کراس ایگزمینیشن کیا ہوتی ہے اور مختلف مراحل میں قانونی حکمت عملی کیا ہوتی ہے۔ امتحان میں بھی اسی نوعیت کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔‘

اُن کے مطابق، دوسری اہم چیز انگریزی زبان پر عبور ہے۔ ’اگرچہ اردو ہماری قومی زبان ہے، لیکن جوڈیشل امتحانات میں انگریزی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بعض امیدوار گذشتہ پرچے یا سوالات مصنوعی ذہانت کے ٹولز میں ڈال کر تیار جوابات یاد کر لیتے ہیں، لیکن یہ طریقہ مؤثر نہیں 'کیوںکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز دیگر ممالک میں رائج قوانین کے مطابق بھی جواب دے دیتے ہیں۔ یا پھر انھیں واضح پرامپٹ دیا جائے کہ جواب پاکستانی قانون کے تناظر میں دینا ہے۔'

ان کے مطابق عمومی معلومات بھی امتحان کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ اس کی تیاری کے لیے بازار میں کتب دستیاب ہوتی ہیں، تاہم مستند یوٹیوب چینلز اور دستاویزی فلموں سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا 2026 کے تحریری امتحان میں ناکامی کی شرح غیرمتوقع ہے؟

خیبر پختونخوا میں سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کی خالی اسامیوں کے لیے ہر سال امتحان منعقد کیا جاتا ہے، لیکن اگر گذشتہ تین برسوں کے امتحانات کا جائزہ لیا جائے تو اس سال کامیابی کی شرح سب سے کم رہی ہے۔

ان اسامیوں پر بھرتی کے حوالے سے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ برسوں میں کامیابی کی شرح مسلسل کم ہوتی گئی ہے۔

سال 2021 میں منعقد ہونے والے امتحان میں سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کی 84 اسامیوں کے لیے 1635 درخواستیں موصول ہوئیں، تاہم 550 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے جن میں سے 203 کامیاب قرار پائے (یعنی 37 فیصد امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے)۔ تاہم بعدازاں انٹرویو کے مرحلے کے بعد 72 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی گئی۔

سنہ 2023 میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کی 84 آسامیوں کے لیے 1751 درخواستیں وصول کیں تاہم تحریری امتحان پاس کرنے والے 22 امیدواروں کے انٹرویو کے بعد صرف 10 امیدوار تقرری کے لیے موزوں قرار پائے، جبکہ 74 اسامیاں اہل امیدوار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خالی رہ گئیں۔

اسی طرح سنہ 2025 میں منعقد ہونے والے امتحان میں 112 اسامیوں کے لیے 2101 امیدوار تحریری امتحان کے لیے اہل قرار پائے، جبکہ 825 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔ ان میں سے صرف 47 امیدوار کامیاب ہوئے، یعنی کامیابی کی شرح تقریباً 5.7 فیصد رہی۔ آگے کے مراحل کے بعد تقرری کے لیے صرف 12 امیدواروں کی سفارش کی گئی جبکہ 100 اسامیاں خالی رہ گئیں۔

سنہ 2026 کے حالیہ امتحان میں کامیابی کی شرح مزید کم ہوئی ہے اور تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح صرف 0.29 فیصد رہی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں سول جج کے تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مختلف برسوں کے امتحانی معیار، نصاب، سوالات اور پاسنگ کے طریقہ کار میں ممکنہ فرق کو مدنظر رکھے بغیر اس کمی کی حتمی وجہ متعین نہیں کی جا سکتی۔

کامیابی کی شرح میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ایک سابق رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ صرف سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کے امتحان تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر اسامیوں کے لیے منعقد ہونے والے امتحانات میں بھی کامیابی کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔

پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹس میں گذشتہ کئی برسوں سے اس مسئلے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ کمیشن کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں کی 4758 اسامیوں کے لیے بھرتی کے عمل کے دوران 2844 امیدواروں کی سفارش کی گئی، تاہم 499 اسامیاں اہل امیدوار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خالی رہ گئیں۔

اسی طرح 2021 کی سالانہ رپورٹ میں بھی یہی صورت حال سامنے آئی تھی۔ محکمہ صحت کی 749 اسامیوں کے لیے 11 ہزار 910 درخواستیں موصول ہوئیں اور 3529 امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے، لیکن صرف 387 اسامیوں پر امیدواروں کی سفارش کی جا سکی جبکہ 362 اسامیاں موزوں امیدوار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خالی رہ گئی تھیں۔

2023 کی سالانہ رپورٹ بھی اسی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ کمیشن کے مطابق اس سال مختلف بھرتیوں کے عمل کے بعد 184 آسامیاں خالی رہ گئی تھیں اور اس کی بنیادی وجہ اہل امیدواروں کی عدم دستیابی تھی۔

تاہم پبلک سروس کمیشن کی رپورٹس میں یہ نہیں کہا گیا کہ امیدوار مجموعی طور پر تعلیمی لحاظ سے کمزور ہیں۔

کمیشن عموماً ’اہل امیدوار دستیاب نہ ہونا‘ یا ’موزوں امیدوار دستیاب نہ ہونا‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ اس لیے موجودہ نتائج کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ کمیشن نے امیدواروں کے کمزور تعلیمی معیار کو ناکامی کی وجہ قرار دیا ہے۔

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن نے بتایا کہ کمیشن کے امتحانات میں امیدواروں کو پہلے تحریری امتحان اور پھر انٹرویو کے ذریعے مکمل طور پر پرکھا جاتا ہے، تب جا کر موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات امیدوار تحریری امتحان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن انٹرویو میں ان کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر نہیں اترتی، جس کی وجہ سے وہ منتخب نہیں ہو پاتے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں کالجوں اور جامعات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے تو کیا ان اداروں میں تعلیم کا معیار کم ہوا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ماہر اساتذہ، پی ایچ ڈی پروفیسرز اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی خود تعلیمی اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے، اس لیے یا تو امیدوار مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آتے یا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے جو ان اسامیوں کے لیے درکار ہوتا ہے۔