افغان طالبان وزیر دفاع ملا یعقوب کا دورہ روس اور ماسکو سے ’فضائی دفاعی نظام‘ کا معاہدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, یما بارز
- عہدہ, بی بی سی پشتو، کابل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایک معتبر ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ان کی حکومت کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔
ذریعے کے مطابق یہ معاملہ پہلے ہی ماسکو کے ساتھ زیرِ بحث تھا اور وزیر دفاع کے حالیہ دورے کے دوران روس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت ہوئی۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس معاہدے میں صرف فضائی دفاعی ساز و سامان شامل ہے یا اس میں ڈرونز جیسے حملہ کرنے والے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ تاہم ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے جس میں فضائی دفاعی آلات کے علاوہ زمینی فوجی ساز و سامان اور طالبان حکومت کی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔
یہ معاہدہ روس کے دار الحکومت ماسکو میں روسی قومی سلامتی مشیر سرگئی شوئیگو اور طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کی موجودگی میں طے پایا۔
افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور اس دوران متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے روس کے دورے کیے ہیں۔
کابل میں وزارتِ دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں روس کے ساتھ طالبان حکومت کے سمجھوتوں کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔
ملا محمد یعقوب مجاہد منگل کے روز ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے۔ اس وقت طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں اور ایک وفد پیشگی طور پر ماسکو بھی روانہ کیا گیا تھا۔
ملا یعقوب مجاہد نے روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’روس خطے اور دنیا میں ایک اہم ملک ہے اور ہمارے کے لیے روس کے ساتھ تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط اور وسیع ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTaliban MOD
روس ان چند ممالک میں شامل ہے جنھوں نے 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد بھی کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کیا۔ اس کے علاوہ 2022 میں افغانستان کو تیل، گیس اور گندم فراہم کرنے کے لیے روس نے طالبان حکومت کے ساتھ ایک اہم اقتصادی معاہدہ بھی کیا تھا۔
روس اور وسطی ایشیا کے ممالک نے افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر بارہا تشویش ظاہر کی ہے، تاہم ملا یعقوب مجاہد نے ایسے گروہوں کے خلاف اپنی حکومت کی کارروائیوں کی نشاندہی کی۔
انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسی کو بھی افغانستان کی سر زمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم یہ یقین دہانیاں اب بھی تمام خدشات کو مکمل طور پر دور نہیں کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ روابط رکھنا ضروری ہے اور کوئی بھی ملک موجودہ قیادت سے رابطے کے بغیر افغانستان پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو نے کہا کہ ان کا ملک طالبان حکومت کے ساتھ ’مکمل شراکت داری‘ قائم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد جب افغانستان کی فضائی دفاعی کمزوری نمایاں ہوئی، تو یہ پہلا موقع ہے کہ وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب نے کسی علاقائی ملک کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTaliban MOD
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
واضح رہے کہ افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔ لیکن یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں اس وقت بدلی جب فروری میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے سبب دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
افغان طالبان پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔
تاہم فروری میں امام بارگاہ پر ہونے والے حملے اور شدت پسندوں کی دیگر کارروائیوں کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو افغانستان میں 22 عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسی دن افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
اور اس کے بعد کے ہفتوں میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کے مسلسل دعوے کیے گئے۔
پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کو آپریشن غضب للحق کا نام دیا اور افغانستان طالبان کی چوکیاں تباہ کرنے اور افغانستان میں میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو فضائی حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
افغانستان کی جانب سے بھی ایسے دعوے تواتر سے سامنے آئے اور طالبان حکام کی جانب سے پاکستان کے متعدد مقامات پر ڈرون حملے کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
مارچ میں عید الفطر کی آمد سے پہلے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف جاری آپریشنز میں ’عارضی وقفے‘ کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع نہیں آئی ہے۔

























