’چاقو‘: گوادر میں ایک چمکدار چھوٹی مچھلی سے جڑا تنازع

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی نیوز اردو، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

گوادر میں بیچم نامی چھوٹی سی مچھلی (جسے چاقو بھی کہا جاتا ہے) ماہی گیروں کے درمیان ایک بڑے تنازع کی وجہ بن گئی ہے۔

ماہی گیروں کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ چاقو نامی اس مچھلی کی شکار پر پابندی ہو جبکہ دوسرا گروہ اس کے شکار کی پابندی کے حق میں نہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ایکسپورٹ بڑھنے کے باعث اب اس مچھلی کے شکار میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مانگ میں اضافے کے باوجود گوادر میں ماہی گیروں کی اکثریت اس مچحھلی کے شکار کے خلاف ہے اور اسی لیے محکمے نے اس کے شکار پر پابندی لگائی ہے۔

ماہی گیروں کی اکثریت چاقو نامی مچھلی کے شکار کے خلاف کیوں ہے؟ اس کا تذکرہ بعد میں لیکن پہلے چاقو نامی مچھلی کی اہمیت اور سمندری غذائی نظام میں اس کی اہمیت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

بیچم یا چاقو نامی مچھلی کیا ہے؟

سمندری حیات پر تحقیق کرنے والے میرین سائنٹسٹ سدھیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر سے ہے۔ آج کل وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے چین میں ہیں اور اس سے قبل بین الاقوامی ادارے ڈبلیوڈبلیو ایف کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’مقامی طور پر جس مچھلی کو بیچم یا چاقو مچھلی کہا جاتا ہے وہ ایک چھوٹی اور چمکدار مچھلی ہوتی ہے، جو عام طور پر سمندر میں غول میں تیرتی ہیں۔‘

ان کے مطابق اس مچھلی کا تعلق ’Engraulidae‘ خاندان سے ہے اور اسے اینچوئی بھی کہا جاتا ہے۔

’اگر ہم اس کو سائنسی نکتہ نگاہ سے دیکھیں تو اینچوئی بڑی مچھلیوں کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہونے والی مچھلی ہے۔‘

سدھیر بلوچ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ سمندر کی تہہ میں موجود پلانکٹونک کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور بعد میں بڑی مچھلیوں، سمندری پرندوں اور دوسرے شکاری جانداروں کی اہم غذا بنتی ہیں۔‘

'اس لیے اس کی کمی پورے ساحلی ایکو سسٹم کے توانائی کے بہاؤ اور اس کی غذائی توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بہت باریک جال استعمال کیے جائیں تو بالغ مچھلیوں کے ساتھ ساتھ نابالغ اینچوئی مچھلیاں بھی پکڑی چا سکتی ہیں، جس سے ان کی افزائش اور مستقبل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔‘

اس مچھلی کو چاقو کیوں کہا جاتا ہے؟

ڈائریکٹر میرین فشریز احمد ندیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ ایک مخصوص قسم کی چھوٹی سی مچھلی ہے اور بلوچستان میں گوادر اور لسبیلہ کے علاقوں میں اس مچھلی کے لیے دو مختلف نام استعمال ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچی زبان میں ’چم‘ آنکھ کو جبکہ ’بیچ‘ درمیان کو کہتے ہیں، چونکہ اس کی آنکھ سر کے درمیان ہے اس لیے گوادر میں یہ ’بیچم‘ کہلاتی ہے۔

انھوں نے بتایا ’لسبیلہ میں اسے چاقو کہا جاتا ہے، وہ اس لیے کہ یہ نیچے سے چاقو کی طرح ہوتی ہے۔‘

احمد ندیم بتاتے ہیں کہ یہ مچھلی انڈین سارڈین کی طرح ہوتی ہے، ’لیکن انڈین سارڈین تھوڑی موٹی ہوتی ہے جبکہ چاقو مچھلی پتلی ہوتی ہے۔‘

یہ مچھلی کن مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے؟

ڈائریکٹر میرین فشریز احمد ندیم کے مطابق اگر یہ مچھلی پکڑنے کے بعد تھوڑی سا خراب ہوجائے تو پھر اسے کھاد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

’ یہ مچھلی آج کل خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے یہ ایکسپورٹ کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ماہی گیروں کی بات ہے تو وہ بیچم کو بڑی مچھلیوں کی شکار کے لیے چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

’چونکہ بیچم یا چاقو مچھلی کی چمک زیادہ ہے تو بڑی مچھلیاں ان کی چمک دمک کو دیکھ کر ان کو کھانے کے لیے آتی ہیں اور پھر ماہی گیر ان بڑی مچھلیوں کو پکڑ لیتے ہیں۔‘

بیچم مچھلی کی ایکسپورٹ میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم بتاتے ہیں کہ بیچم مچھلی کا شکار اب نہیں شروع ہوا بلکہ بہت پہلے سے چل رہا تھا، لیکن پہلے یہ بہت کم تھا۔

’لوگ ان کو پکڑتے تھے اور جا کر انھیں فش ملز میں دیتے تھے تو قیمت اتنی نہیں تھی۔ اس لیے وہ اس کو زیادہ شکار نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تھوک کے حساب سے پکڑو اور قیمت بھی اتنی نہ ملے تو اس کے شکار کا فائدہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ لوگ اس کو شکار کرنے کے بجائے اس انتظار میں ہوتے تھے کہ انڈین سارڈین مچھلی کا سیزن شروع ہو جائے تو پھر وہ اُس کا شکار کریں۔

’دو، تین ماہ پہلے بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی ایکسپورٹ شروع ہوئی۔ چینی باشندے اس کو خریدتے ہیں اور اس لیے اس کو پکڑنے کی جانب لوگوں کا رحجان بڑھا۔‘

گوادر میں اس وقت مچھلی کے 26 کارخانے ہیں، جو مچھلیاں اور دیہگر سمندری جانور ایکسپورٹ کرتے ہیں۔

احمد ندیم کہتے ہیں کہ ’جب کسی مچھلی کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس مچھلی کو زیادہ سے زیادہ پکڑیں۔‘

ماہی گیروں کی اکثریت بیچم مچھلی کو پکڑنے کے خلاف کیوں؟

ڈائریکٹر میرین فشریز گوادر نے بتایا کہ بڑی مچھلیوں کے شکار کے لیے بیچم یا چاقو مچھلی کا استعمال کرنے والے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اس کو بے تحاشا پکڑتے ہیں، تو یہ بڑے مچھلیوں کے شکار کے لیے انھیں میسر نہیں آتیں یا پھر شکار کے خوف سے بھاگ جاتی ہیں۔‘

’ماہی گیروں کے اس گروہ کا کہنا ہے کہ جب بیچم ہمیں چارے کے طور پر نہیں ملے گی تو پھر ہم بڑی مچھلیوں کا شکار نہیں کر سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا ایندھن ضائع ہوتا ہے، جبکہ روزگار بھی بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں بیچم مچھلی کا شکار نہ کیا جائے۔‘

احمد ندیم نے مطابق ماہی گیروں کے دوسرے گروہ کی دلیل ہے کہ یہ مچھلی’خدا کی دین ہے، کیسے ختم ہوسکتی ہے؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ کہ اس وقت لسبیلہ میں دو ڈھائی سو کے قریب وائر نیٹ استعمال کرنے والے ماہی گیر ہیں اور وہ اسی بیچم مچھلی کو پکڑتے ہیں۔

ڈائریکٹر میرین فشریز احمد ندیم کہتے ہیں کہ ’دونوں کا مؤقف اپنی اپنی جگہ پر درست ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ بیچم مچھلی کو پکڑنا ان کا روزگار ہے، جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ یہ ان کے روزگار کا زریعہ ہے۔ اس یہ مچھلی نہیں ہوگی تو ان کا روزگار ختم ہوگا کیونکہ پھر بڑی مچھلیاں نہیں آئیں گی اور وہ اس کا شکار نہیں کرسکیں گے۔‘

دوسری جانب گوادر سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر رہنما خدائیداد عرف واجُو کا کہنا ہے کہ یہ مقامی ماہی گیروں کا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بڑی مچھلیوں کے شکار کرنے والے یہ کہتے ہیں اگر بیچم ختم ہوتی ہے تو اس سے بڑی مچھلیاں نہیں آئیں گی تو ان کا روزگار اور ذریعہ معاش تباہ ہوگا، اس لیے وہ اس کے شکار کی مخالفت کر رہے ہیں ‘

’ٹرالنگ اور وائر نیٹ کی وجہ سے ویسے بھی سمندر خالی ہو رہا ہے اور اب یہ تھوڑی بہت بڑی مچھلیاں بچ گئی ہیں تو بیچم کے خاتمے یا کمی سے وہ بھی نہیں آئیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ماہی گیری مقامی لوگوں کے معاش اور روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور ’اگر بیچم کے شکار کرنے یا نہ کرنے پر کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے تو محکمہ ماہی گیری کو اس کا حل نکالنا پڑے گا۔‘

میرین سائنٹسٹ سُدھیر بلوچ کہتے ہیں کہ ’اس تنازع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیچم کے شکار پر مکمل پابندی کے بجائے اس کے شکار کو منظم کیا جائے تاکہ ماہی گیروں کے روزگار کے ساتھ ساتھ ساحلی ماحولیاتی نظام کا توازن بھی برقرار رہے۔‘

دوسری جانب ڈائریکٹر میرین فشریز گوادر احمد ندیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جو ماہی گیر بیچم کے شکار پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں ان کی تعداد زیادہ تھی جبکہ ان کے مقابلے میں پابندی کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد کم تھی۔

’چونکہ جسامت کے سائز کے لحاظ سے ویسے بھی اس مچھلی کا شکار منع ہے، اس لیے ہمیں اس پر پابندی لگانے کی ایک بنیاد مل گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس مسئلے پر گوادر میں انتظامیہ کے حکام کے ساتھ ایک، دو اجلاس ہوئے تو وہاں بھی یہ فیصلہ ہوا کہ بیچم کے شکار پر پابندی ہو، جس کے باعث ہم نے پابندی لگائی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قوانین کی وجہ سے محکمہ فشریز ان لوگوں کا زیادہ دفاع کر رہی ہے، جو کہ بیچم کو پکڑنے کے خلاف ہیں۔‘

پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی

بیچم مچھلی کے شکار پر پابندی کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر نے ماہی گیروں اور فیکٹری مالکان کے نام ایک انتباہی نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں بیچم کا شکار ممنوع ہے اور اس سلسلے میں کئی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

نوٹس کے مطابق ’یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کچھ ماہی گیر، جو فش فیکٹریوں کے لیے کام کر رہے ہیں، ممنوعہ بیچم کا شکار کر رہے ہیں اور کچھ فیکٹریاں انھیں ذخیرہ کر رہی ہیں۔‘

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان سی فشریز آرڈیننس 1971 ترمیمی ایکٹ 2022 کی دفعہ 8 کے مطابق محکمی فشریز کے افسر قواعد کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی ماہی گیری کے جہاز، یا ماہی گیری کے آلات یا فش پروسیسنگ پلانٹ کا معائنہ کر سکتے ہیں۔

نوٹس میں ماہی گیروں اور فیکٹری مالکان کو سختی سے آگاہ کیا گیاہے کہ ’کسی بھی فشنگ بوٹ / ایجنٹ کے ساتھ بیچم کی کوئی خریداری نہ کی جائے، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘