آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مقبوضہ مغربی کنارے میں ’دہشتگرد آباد کاروں‘ کی سرگرمیوں کے خلاف برطانوی پابندیوں پر اسرائیل برہم
- مصنف, پال ایڈمز
- مصنف, ہنری مور
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ پر چشم پوشی کر رہی ہے۔
منگل کے روز برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے ’ایک نئے طرزِ عمل کی شروعات‘ ہے، جو ’صرف ناانصافی اور تکلیف کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ عملی اقدام بھی کرتا ہے۔‘
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے جواباً ملی بینڈ پر ’سنگین جھوٹ‘ پھیلانے کا الزام لگایا اور جوابی اقدامات کا اعلان کیا جن میں مشرقی یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کرنا بھی شامل ہے۔
برطانیہ کی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
برطانیہ کا یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے نام نہاد 'ای ون سیٹلمنٹ' علاقے میں تقریباً 1200 بستیوں کے گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے۔ یہ یروشلم کے مشرق میں ایک سٹریٹیجک اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔
ان منصوبوں کی بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔
اسرائیل کئی دہائیوں سے عالمی دباؤ کے باعث اس علاقے میں تعمیرات کے منصوبوں کو مؤخر کرتا رہا ہے۔
یہ پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر متعارف کرائی گئی ہیں، جنھوں نے برطانیہ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام ’دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ہمارے طرزِ عمل میں ایک مزید اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بین الاقوامی قانون کے تحت بستیاں غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
ارکانِ پارلیمان سے خطاب میں ملی بینڈ نے کہا کہ ’برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی نسلی کشی ہو رہی ہے، جو آباد کار دہشت گردوں کے ہاتھوں کی جا رہی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’بہت سے مواقع پر اسرائیلی حکومت نے اس سے چشم پوشی کی ہے، بلکہ اس کے بعض ارکان نے ایسے بیانات دیے اور اقدامات کیے ہیں جن سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت ہوتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق نسل کشی کی تعریف ’ایک ایسی دانستہ پالیسی‘ ہے جسے ’ایک نسلی یا مذہبی گروہ کی جانب سے دوسرے نسلی یا مذہبی گروہ کو تشدد کے ذریعے مخصوص علاقوں سے نکالنے‘ کے لیے بنایا جائے۔
’یہ اقدامات اسرائیل کے خلاف نہیں ہیں‘
ملی بینڈ نے کہا کہ حکومت کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے کیونکہ ’اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے، مستقل خود مختاری بڑھانے کے ارادے اور غیر قانونی بستیوں کے ذریعے توسیع پسندانہ ایجنڈے‘ کی وجہ سے ایسا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مؤقف جو 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کے مطابق ہے، مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ برطانیہ کے ’اقتصادی تعلقات‘ میں بھی جھلکنا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں، آئندہ چھ سے نو ماہ کے دوران برطانیہ ’ایک نیا جامع پابندیوں کا نظام‘ متعارف کرائے گا۔
وزیرِ خارجہ نے برطانیہ میں مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں کے اشتہارات پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔
ملی بینڈ نے مزید کہا: ’پابندیوں کا نظام غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع کو ہدف بنائے گا، اسرائیل کو نہیں۔‘
منگل کو بعد ازاں وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ یہ اقدامات ’اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ دو ریاستی حل کی حمایت میں‘ ہیں۔
’بدقسمتی سے ہمارے سامنے ایک مخاصمانہ حکومت ہے‘
قونصل خانے کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے، جو یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے، اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ برطانیہ میں ہمارے بہت سے دوست ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہمارے سامنے ایک مخاصمانہ لیبر حکومت ہے جو مسلسل ریاستِ اسرائیل کے خلاف کام کر رہی ہے اور اس کے مخاصمانہ اقدامات کا جواب دینا ہمارے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے برطانوی ارکانِ پارلیمان جیریمی کوربن، ڈایان ایبٹ اور گرین پارٹی کے تمام پانچ موجودہ ارکان پر ’یہود دشمن اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اُن کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگانے کا بھی اعلان کیا۔
برطانیہ نے فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، سپین، فن لینڈ، آئر لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال اور سویڈن کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ دو ریاستی حل کے لیے غیر متزلزل طور پر پُرعزم ہے اور مغربی کنارے کی بستیوں سے متعلق تجارت پر قومی سطح کے اقدامات یا یورپی پابندیوں کی حمایت کرے گا۔
’ای ون سیٹلمنٹ‘ منصوبہ دو ریاستی حل کو ’ناقابلِ عمل‘ بنا دے گا‘
ملی بینڈ نے ایوانِ نمائندگان کو بتایا کہ برطانیہ کا ’نیا طرزِ عمل‘ اس لیے ضروری ہے کہ مغربی کنارے میں 'ای ون سیٹلمنٹ' منصوبہ دو ریاستی حل کو ’ناقابلِ عمل‘ بنا دے گا کیونکہ یہ ’فلسطین کے قلب کو تقسیم‘ کر دے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے جس نے غزہ جنگ کو جنم دیا، میں ’یہودی قوم پر صدیوں کے مظالم کی ہولناک بازگشت‘ سنائی دیتی ہے۔
اُنھوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو ’اپنے عوام کی حفاظت اور اپنے علاقے کے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے بعد غزہ میں جو کچھ ہوا، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی انسانی قانون جنگ لڑنے والی ریاستوں پر واضح قواعد عائد کرتا ہے جن میں خوراک اور طبی امداد تک رسائی کو یقینی بنانا، شہریوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی سے گریز کرنا اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب شامل ہے۔ اگر اس قانون کی سنگین اور بین الاقوامی خلاف ورزیاں ثابت ہو جائیں تو وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹس کے نتائج پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر ’جنگی جرائم‘ کا ارتکاب ہوا ہے اور ہم اس قانونی عمل کی حمایت کرتے ہیں جو اس کا تعین کریں گے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’یہ فیصلہ بین الاقوامی عدالتوں نے کرنا ہے کہ آیا اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے یا نہیں۔‘
اسرائیلی رہنما مسلسل نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
ان کا اصرار ہے کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائیاں کی ہیں۔
برطانوی یہودیوں کے بورڈ آف ڈپٹیز نے منگل کے اعلان پر ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا اور برطانوی و اسرائیلی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ’قومی مفادات پر جماعتی مفادات کو ترجیح دینے سے گریز کریں۔‘
ایوانِ نمائندگان میں جواب دیتے ہوئے کنزرویٹو شیڈو وزیر خارجہ ٹام ٹوجنڈہاٹ نے دعویٰ کیا کہ وزرا ’ایسی پالیسیاں نافذ کر رہے ہیں جن کے بارے میں فارن آفس جانتا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گی۔‘
اُنھوں نے اتفاق کیا کہ غیر قانونی بستیاں غلط ہیں اور ’کچھ اسرائیلی وزرا نفرت انگیز پروپیگنڈے اور اشتعال انگیزی میں ملوث رہے ہیں، لیکن اس خطے کی پیچیدگی کو ایک جملے میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت یہ کر رہی ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ جنوبی اسرائیل میں قائم بین الاقوامی غزہ سپورٹ سینٹر میں برطانوی نمائندوں کو ہٹا دیا جائے گا اور یہودیہ و سامریہ، یعنی وہ اصطلاح جو اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کے لیے استعمال کرتی ہے، میں فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کی تربیت سے متعلق برطانوی سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی۔
منگل کے روز اس سے قبل اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ یہ فیصلہ ’تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا ہو گا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’موجودہ تناظر میں یہ ایک خودمختار ریاست کے جمہوری انتخابات میں سنگین مداخلت ہو گی۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام سے براہِ راست فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا، لہذا غیر ملکی حکومت کو چاہیے کہ وہ تعمیری مکالمے کی طرف آئیں، کیونکہ پابندیاں کوئی حل نہیں ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر مائیک ہکابی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکہ پابندیوں پر ’بلاشبہ‘ ردعمل دے گا اور خبردار کیا تھا کہ اس کے ’برطانوی کاروباروں پر بہت بڑے معاشی اثرات‘ مرتب ہوں گے۔
فلسطینی صدراتی دفتر نے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ’اسرائیل کے نوآبادیاتی نظام اور فلسطینی عوام کے خلاف اس کی خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم‘ ہے۔
برطانوی اعلان کے حصے کے طور پر ملی بینڈ نے لبنان کی ایران حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی شعبے پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا۔
ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا گیا جو امریکہ اور یورپی یونین کے اقدامات کے مطابق ہیں۔
یہ اقدام تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے جب سر کیئر سٹارمر کی حکومت نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے پُرامن مستقبل کی حمایت کرنا برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اسرائیل دو ریاستی حل کو مسترد کرتا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی حتمی تصفیے کا نتیجہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات ہونا چاہیے اور ریاست کا درجہ پیشگی شرط نہیں ہونا چاہیے۔
فلسطینی اتھارٹی دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے لیکن فلسطینی مسلح گروہ حماس ایسا نہیں کرتا کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کی مخالفت کرتا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو واپسی کا حق دیا جائے تو وہ 1967 کی عملی سرحدوں کی بنیاد پر ایک عبوری فلسطینی ریاست قبول کر سکتا ہے، بغیر اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے۔
اسرائیل نے 1967 کی مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے تقریباً 160 بستیاں تعمیر کی ہیں جن میں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔
اندازاً 33 لاکھ فلسطینی بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد جس سے غزہ کی جنگ شروع ہوئی، مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔