آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب ایک شخص بہن کی موت ثابت کرنے کے لیے اُس کی باقیات کندھے پر اُٹھائے بینک پہنچا
- مصنف, راکھی گھوش
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پیر (28 اپریل) کی دوپہر انڈین ریاست اُڑیسہ کے ضلع کیندوجھر میں ایک بینک کے ملازمین اور وہاں موجود افراد اُس وقت خوفزدہ ہو گئے جب ایک 52 سالہ شخص اپنے کندھے پر اپنی بہن کی باقیات اُٹھائے بینک کی عمارت میں داخل ہوئے۔
جیتو منڈا نامی شخص اپنی بہن کے اکاؤنٹ سے 19 ہزار 300 روپے کی رقم نکلوانا چاہ رہے تھے۔
اُن کی 56 سالہ بہن کالرا منڈا کی وفات دو ماہ قبل ہوئی تھی، جو بطور ہیلپر کام کرتی تھیں اور اپنے بھائی کے گھر ہی میں مقیم تھیں۔
چند ماہ قبل بہن کالرا نے اپنا ایک بچھڑا فروخت کیا تھا، جس کے عوض ملنے والی رقم، 19 ہزار 300 روپے، انھوں نے مقامی بینک میں جمع کروائی تھی۔
جیتو منڈا نامی شخص کے مطابق ’میں نے متعدد مرتبہ بینک مینیجر کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ میری بہن وفات پا چکی ہے اور اب مجھے اُن کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانی ہے۔ مگر بینک مینیجر نے مسلسل مجھے سننے سے انکار کیا اور اصرار کیا کہ میں اکاؤنٹ ہولڈر کو ساتھ لاؤں یا اپنی بہن کی موت کا ثبوت دوں۔ میں اس پر تنگ آ گیا اور اپنی بہن کی باقیات کو بطور ثبوت بینک لے آیا۔‘
جیتو کے مطابق اس سے قبل وہ اپنے گاؤں سے تین کلومیٹر دور واقع شمشان گھاٹ پہنچے، جہاں سے انھوں نے اپنی بہن کی باقیات اکھٹی کیں، انھیں ایک تھیلے میں بھرا اور شدید گرمی میں انھیں اُٹھا کر بینک پہنچ گئے۔
تاہم اس منظر کو دیکھ کر بینک کے ملازمین گھبرا گئے اور انھوں نے فوراً پولیس اور مقامی انتظامیہ کو بُلا لیا۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں نے جیتو کو قائل کیا کہ ان کی بات سُنی جائے گی اور یہ کہ وہ اپنی بہن کی باقیات دوبارہ شمشان گھاٹ لے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتظامیہ کی یقین دہانی پر جیتو ایک بار پھر اپنی بہن کی باقیات اُٹھائے تین کلومیٹر چل کر شمشان گھاٹ واپس چلے گئے۔
اڑیسہ میں واقع گرامین بینک کے مینیجر کہتے ہیں کہ ’جب جیتو پیسے نکلوانے آئے تھے تو انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ فرد کا بینک میں ہونا ضروری ہے۔‘
بینک مینیجر نے دعویٰ کیا کہ کسی وفات پا جانے والے شخص کے اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے کا طریقہ کار موجود ہے مگر جیتو نے بینک کے عملے کو ابتدا میں بتایا تھا کہ کہ ان کی بہن اپاہج ہیں اور بینک نہیں آ سکتیں۔
مینیجر کے مطابق ’جب میں نے انھیں کہا کہ بینک کا عملہ اُن کے گھر اُن کے بہن کے اپاہج ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے جائے گا تو انھوں نے کہا کہ اُن کی بہن وفات پا چکی ہیں۔‘
بینک مینیجر کہتے ہیں کہ وفات پا جانے والی خاتون نے دو دیگر لواحقین بھی گذشتہ دنوں میں بینک سے پیسے نکلوانے آئے تھے، اور اسی لیے جیتو کو کہا گیا تھا کہ وہ اس رقم کے قانونی حقدار ہونے کے دستاویزی ثبوت پیش کریں۔
بعدازاں 28 اپریل کو ہی 19 ہزار 410 روپے کی رقم جیتو اور کالرا کے دیگر دو وارثوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے گئے۔
اڑیسہ کے وزیر سُریش پجاری نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ کلیکٹر اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور بینک مینیجر کے رویے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ضلع انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور ایک بیان میں کہا کہ ’لوگوں کے حقوق اور عزت کی حفاظت انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کالرا کے بھائی جیتو کو ضلعی ریڈ کراس فنڈ میں سے 30 ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیتو کو نہ صرف ان کی بہن کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے بلکہ انھیں ان کا قانونی وارث بھی قانونی طور پر مانا گیا ہے۔