’قوم کو مبارک ہو، شاداب کو وکٹ مل گئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا نے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف دیا ہے۔
جمعرات کو لاہور کے ابر آلود موسم میں آسٹریلوی کپتان جاش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم آسٹریلیا کی پوری ٹیم 42 اوورز میں 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے تنویر سنگھا کی جگہ کوپر کونولی کو شامل کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے آٹھ اوورز 30 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، ابرار احمد اور شاداب خان نے دو، دو جبکہ حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جاش انگلس 65 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ اُن کے علاوہ کوئی بھی آسٹریلوی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا اور اس کے سات کھلاڑی ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہو سکے۔
اگر پاکستان یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ون ڈے سیریز میں پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف مسلسل دوسری کامیابی ہو گی۔ اس سے قبل سنہ 2024 میں پاکستان نے آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں تین ون ڈے میچز کی سیریز میں دو، ایک سے شکست دی تھی۔
واضح رہے کہ راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دی تھی جبکہ لاہور میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سات ون ڈے میچز کے بعد شاداب خان کی پہلی وکٹ
ایک جانب جہاں آسٹریلیا کی ناقص بیٹنگ پرفارمنس پر بات ہو رہی ہے وہیں شاداب خان کی جانب سے سات ون ڈے میچز کے بعد وکٹ حاصل کرنے میں کامیابی کا بھی سوشل میڈیا پر چرچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ آسٹریلیا کی اتنی خراب پرفارمنس کبھی نہیں دیکھی، پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں، وہ 200 تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور وہ بھی پاکستانی باؤلنگ اٹیک کے خلاف جو بالکل بہترین نہیں رہا۔
کرک بلاگ کے نام سے ایکس اکاؤنٹ نے پوسٹ کیا کہ ایک وقت میں آسٹریلیا کے 98 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ تھے، لیکن کچھ دیر بعد 131 رنز پر سات کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔
فائنل الیون میں سفیان مقیم کو شامل نہ کرنے پر سیج صادق نامی صارف نے لکھا کہ سفیان مقیم کو پاکستانی سکواڈ میں شامل کیا گیا، لیکن وہ مشروبات اور تولیے لے کر بینچ پر ہی بیٹھے ہیں۔
عروج جاوید نامی صارف نے طویل انتظار کے بعد شاداب خان کو وکٹ ملنے پر لکھا کہ ’قوم کو مبارک ہو، شاداب خان نے سالوں بعد وکٹ حاصل کر لی۔‘
شاداب خان نے نو اوورز میں 28 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اُنھوں نے آخری مرتبہ سنہ 2023 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف میچ میں وکٹ حاصل کی تھی۔ شاداب نے اس میچ میں آٹھ اوورز میں 55 رنز دیے تھے۔
بہرام قاضی نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان کو یہ میچ آسانی سے جیت جانا چاہیے، لیکن پاکستان ٹیم کے بارے میں آپ کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے۔
ایک صارف نے لکھا کہ اس ہدف کے تعاقب میں بھی پاکستان کو بابر اعظم کی ضرورت محسوس ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہX/@DeafMango
تیسرے ون ڈے میں بھی ٹرننگ پچ
تیسرے ون ڈے میچ کے لیے لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں نئی پچ کا انتخاب کیا گیا، لیکن اس پر بھی گیند تیزی سے ٹرن ہوتا رہا اور بلے بازوں کو بڑے شاٹس لگانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خاص طور پر لیگ سپنرر ابرار احمد نے آسٹریلوی بلے بازوں کو مشکل میں ڈالے رکھا اور 10 اوورز میں صرف 19 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔
راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ کے لیے بھی سپنرز کے لیے سازگار پچ بنائی گئی تھی جس پر سوشل میڈیا پر صارفین نے ٹیم انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن نے حال ہی میں ایکس پر ایک پیغام میں پچز پر اعتراضات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ 'میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں پچز کو جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں سمجھا جا رہا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کی رائے میں 'یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ورلڈ کپ مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے میدان موجود ہیں جہاں سپن بولنگ ایک اہم عنصر ہوتی ہے اور ہمیں ان ممالک میں بھی میچز کھیلنے ہیں۔'
'یہ تصور کہ جنوبی افریقہ کی تمام پچز تیز اور اچھال والی ہوتی ہیں، درست نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ پچز ایسی ضرور ہیں تاہم ملک کے مختلف حصوں میں پچز کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔'
مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ 'جو لوگ پاکستان کے جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے آخری ون ڈے سیریز کو یاد رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہو گا کہ پارل میں کھیلے گئے میچ میں سپن نے نتیجے پر اثر ڈالا تھا۔
'یقین رکھیں کہ ہم نے اس حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 مہینوں میں مختلف کنڈیشنز کے لیے تیاری کریں گے۔'




























