نیویارک: ہتھیاروں کا عالمی معاہدے طے نہ ہو سکا

وقت اشاعت

دنیا میں روایتی ہتھیاروں کی تجارت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مزاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔

نیو یارک میں ہونے والی کانفرنس میں امریکہ، روس اور چین نے معاہدے پر غور کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

اقوام متحدہ کے تجویز کردہ اس معاہدے کے تحت ہتھیاروں کی فروخت کے وقت اس بات کو مد نظر رکھا جائے گا کہ یہ ہتھیار کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھ نہ آئیں۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ ایک ماہ تک جاری رہنے والے ان حساس مزاکرات کا خاتمہ بہت حوصلہ شکن ہے۔

دوسری جانب کانفرنس کے سربراہ رابرٹو گارشیا پر امید ہیں کہ ہتھیاروں کی تجارت کے حوالے سے رواں سال کے اختتام پر معاہدہ طے ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ نا گزیر ہے اور ہمیں معاہدے کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مزاکرات کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر اسلحہ کی خرید و فروخت کا کاروبار تقریبا ساٹھ سے ستر بلین ڈالر ہے۔