پٹنہ ہائی کورٹ کیسے کام کرتی ہے؟

وقت اشاعت

بھارت کی شہر پٹنہ کی ہائی کورٹ کا شمار ملک کی قدیم ترین ہائی کورٹس میں ہوتا ہے۔

بھارت میں ہائی کورٹ ریاستوں یا وفاق کے زیرانتظام علاقوں کے سول اور جرائم کے کیسوں کی سماعت کرتی ہیں۔

پٹنہ ہائی کورٹ کا شمار بھی بھارت کی ایسی ہی 24 ہائی کورٹوں میں ہوتا ہے اور اگلے سال اس کے قیام کے 100 سال مکمل ہو رہے ہیں۔

بھارت میں انصاف کا پہیہ سست رفتاری سے چلتا ہے۔ تمام ہائی کورٹوں میں تقریباً تین کروڑ سے زائد مقدمات زیرسماعت ہیں اور ان میں تقریباً ایک چوتھائی گذشتہ پانچ برسوں سے حل نہیں ہو سکے۔

بھارت کی غریب ریاست بہار کی پٹنہ ہائی کورٹ میں ہر سال ہزاروں مقدمات پیش کیے جاتے ہیں۔ فوٹوگرافر پرشانت پنجیار نے بھارت میں عدالتوں کے نظام کار کی عکاسی کی ہے۔

پٹنہ ہائی کے دروازے مارچ 1916 کو مقدمہ بازی کے لیے کھلے تھے۔ انڈین لیگل جرنل کے مطابق ’اس دن جج صاحبان نے سرخ گاؤن، وگ، سیاہ رنگ کی گھنٹوں تک پتلون اور ریشم کی لمبی جرابین پہنی تھیں۔‘ بھارت کے وائسرائے لارڈ ہارڈنج نے کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ عدالت ’بہتر احساس اور اچھے قانون کا نام پیدا کرے گی۔‘

ٹائپ رائٹر پر کام کرنے افراد مرکزی عمارت کے باہر عدالتی دستاویزات پر کام کر ہے ہیں۔ بھارت کے بچے کھچے ٹائپسٹ آج بھی عدالتوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک درخواست گزار عدالت میں ایک وکیل سے بات کر رہا ہے۔ بھارت میں ججوں کی شدید کمی ہے اور بہت سی جگہوں پر جج تعینات نہیں ہیں۔ ہائی کورٹوں میں 30 فیصد ججوں کی کمی ہے۔ اسی کے باعث انصاف کا نظام سست ہے۔

روایتی لباس میں ملبوس ایک کلرک۔ بھارت میں عدالتیں اکثر اوقات نوآبادیاتی دور کی دین ہیں: بہت سارے قوانین، اصول اور لباس بھی برطانوی راج کے ہیں۔

سیاہ اور سفید رنگ کے استعمال کی روایت بھی جاری ہے۔ یہاں وکلا پٹنہ کورٹ کی بیرسٹرز لائبریری میں کاغذات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

ججوں کے لیے مخصوص عدالت کی لائبریری کتابوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک سابق جج کا کہنا ہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ ’کا شمار بلاشبہ اپنے دور کی بہترین ہائی کورٹوں میں ہوتا تھا۔ اس نے دانشمند جج اور ایڈووکیٹ پیدا کیے تھے۔‘

ایک عدالتی اہلکار فائلوں کے ڈھیر کے درمیان بیٹھا ہے۔ نامکمل مقدمات کو نمٹانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کی مدد سے بھارت میں سنہ 2001 سے اب تک تقریباً 30 لاکھ مقدمات کو نمٹنایا گیا ہے۔ لیکن ہائی کورٹوں میں بڑے پیمانے پر نا مکمل مقدمات کا انبار لگتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں بھی مزید سستی آتی جا رہی ہے۔

عدالت کے مرکزی ریکارڈ روم میں سنائے گئے فیصلے اور حکم نامے اصل حالت میں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے بھارت میں سب سے پہلے مقدمات کی فہرستیں کمپیوٹرائز کرنے اور مقدمات کی سماعت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کرنے کا اہتمام کیا تھا۔

ایک وکیل وکلا کے کمرے میں قیلولہ کر رہا ہے۔

باہر سائلین درخت کے نیچے اپنے مقدمات کا انتظار کر رہے ہیں۔

فوٹوگرافر پرشانت پنجیار کہتے ہیں کہ وہ ’عدلیہ کے لیے احترام کا احساس لیے وہاں سے گئے، کیونکہ جو رویہ اور نظم و ضبط انھوں نے عدالت میں دیکھا وہ اس کی امید نہیں کر رہے تھے۔‘