کشمیر دو ماہ سے سراپا احتجاج

وقت اشاعت

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ماہ گزرنے کے باوجود عوامی احتجاج میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

کشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے جاری عوامی احتجاج کو حالیہ تاریخ میں بدترین قرار دیا جا رہا ہے اور انڈین سکیورٹی فورسز عوامی احتجاج کو دبانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے جاری عوامی احتجاج کو حالیہ تاریخ میں بدترین قرار دیا جا رہا ہے اور انڈین سکیورٹی فورسز عوامی احتجاج کو دبانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
عوامی احتجاج میں ایک ماہ کے دوران 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعوامی احتجاج میں ایک ماہ کے دوران 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام مختلف علاقوں میں عوامی احتجاج کو دبانے کے سکیورٹی فورسز نے چھرّوں والے کارتوس استعمال کیے جن سے سینکڑوں نوجوان جزوی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام مختلف علاقوں میں عوامی احتجاج کو دبانے کے سکیورٹی فورسز نے چھرّوں والے کارتوس استعمال کیے جن سے سینکڑوں نوجوان جزوی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
اس جانی نقصان پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس جانی نقصان پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طاقت کے بےدریغ استعمال کے باوجود عوام احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو بھی کئی علاقوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں اور گلیوں پر نکل کر احتجاج کیا۔
،تصویر کا کیپشنطاقت کے بےدریغ استعمال کے باوجود عوام احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو بھی کئی علاقوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں اور گلیوں پر نکل کر احتجاج کیا۔
ان مظاہروں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کشمیر میں انڈین حکام نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنان مظاہروں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کشمیر میں انڈین حکام نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد جولائی کی آٹھ تاریخ کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے مستقل جاری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبرہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد جولائی کی آٹھ تاریخ کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے مستقل جاری ہیں۔
کرفیو اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود بھی کشمیروں کا احتجاج رکنے میں نہیں آ رہا۔ اس سلسلے میں دہلی سے منتخب نمائندوں کے ایک وفد نے بھی سری نگر کا دورہ کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنکرفیو اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود بھی کشمیروں کا احتجاج رکنے میں نہیں آ رہا۔ اس سلسلے میں دہلی سے منتخب نمائندوں کے ایک وفد نے بھی سری نگر کا دورہ کیا تھا۔