ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی جانب سے سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ’سات روزہ منصوبہ‘ پیش کیا گیا تھا۔
جمعے کو نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی تجاویز پر مشتمل یہ سات روزہ منصوبہ پیش کیا جسے اُنھوں نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا تسلسل قرار دیا تھا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر واشنگٹن اس منصوبے میں طے شدہ شرائط کو قبول کر کے ان پر عمل کرے تو سات روزہ مدت کے اختتام پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ان تجاویز میں بیشتر نکات وہی ہیں جو جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں شامل تھیں۔
تاہم سنیچر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کی تجویز مسترد کردی ہے۔۔۔ میں نے ان کی ڈیل رد کر دی ہے۔‘
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ بہت بری طرح سے ہار رہے ہیں۔‘
’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ٹھیک بھی ہے، میں بھی ڈیل کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن وہ فوراً آبنائے ہرمز کھولنا چاہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں آ رہے، کیونکہ ان کی ساری کمائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔‘
’چین سے مشاورت کے بعد‘ آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دیا گیا ایران کا سات روزہ منصوبہ کیا ہے؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔