لائیو, آبنائے ہرمز میں حملے اور سعودی پائپ لائن کی بندش کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار
آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے اور سعودی عرب کی اہم تیل بردار پائپ لائن کی عارضی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سعودی ایسٹ ویسٹ نامی پائپ لائن حالیہ مہینوں میں خلیجی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز بڑی حد تک متاثر یا بند رہی ہے۔ اس راستے سے روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جاتا ہے، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔
خلاصہ
آبنائے ہرمز میں حملے اور سعودی پائپ لائن کی بندش کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار
محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز
حوثیوں نے امریکہ سے یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ
سعودی عرب کی ایسٹ۔ویسٹ تیل پائپ لائن پر حملے کے پیچھے 'شاید ایران کا ہاتھ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
حوثیوں کا 200 سے زائد ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ
یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں کے باعث کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر: اقوامِ متحدہ
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو 100 کلومیٹر اندر آ کر دکھائیں، پاسداران کا ٹرمپ کو چیلنج
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے کسی بحری جہاز کو 100 کلومیٹر کے اندر لا کر دکھائیں۔
مشہد میں حکومتی حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علی محمدی نے کہا کہ امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان کے جنگی جہاز ایرانی حدود کے قریب آئے تو انھیں ایرانی فورسز کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں بھی اس کی ایک مثال سامنے آ چکی ہے، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں اور نہ ہی ان علاقوں میں امریکی عسکری سازوسامان تعینات ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی جہاز ممنوعہ حدود کے قریب آئے تو انھیں اس کے نتائج کا بخوبی اندازہ ہے۔
پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ کویت اور بحرین سے روانہ ہونے والے تمام بحری جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں ہیں۔ ان کے بقول اگر کسی جہاز کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے خلاف مقررہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
قشم کے قریب ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ، ایک شخص ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
قشم کاؤنٹی کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا ہے کہ ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ ’مخاصمانہ حملے‘ میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حسین امیر تیموری نے کہا کہ اتوار کی صبح تقریباً پانچ بجے جزیرہ ہنگام اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔
گورنر کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے۔
تاہم انھوں نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ حملے میں کس قسم کے ہتھیار یا جہاز کا استعمال کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بلوچستان کے سرکاری کالجوں میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رکھنے کی ہدایت, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے محکمہ کالجز و ہائر ایجوکیشن نے صوبے کے تمام سرکاری پوسٹ گریجویٹ، ڈگری اور انٹر کالجوں میں مختلف تنظیموں کی جانب سے تقریبات اور سرگرمیوں پر پابندی کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق صوبائی حکومت کے ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی تقریبات، اجتماعات اور تنظیمی سرگرمیاں مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر منعقد نہیں کی جا سکتیں۔
مراسلے میں تمام کالج پرنسپلز اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور کسی بھی تنظیم کو کالجوں میں تقریبات منعقد کرنے کی اجازت نہ دیں۔
حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف بیڈا رولز کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ مراسلہ 11 ستمبر 2026 کو ڈائریکٹر کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کی درخواست، امریکہ کا براہ راست مداخلت سے گریز
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ امریکہ میں ڈیزل کی خوردہ قیمت پہلی بار چھے ڈالر فی گیلن سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کی جانب سے ٹینکروں پر حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی یمن میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کو قرار دیا جا رہا ہے، جس سے توانائی کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس صورتحال نے واشنگٹن کو ایک مشکل فیصلہ درپیش کر دیا ہے کہ آیا وہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی مدد کرے یا نہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی مداخلت سے جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کے حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی فوجی مدد طلب کی۔
تین ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن نے فی الحال براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز تصدیق کی کہ ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات چیت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ امریکہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہ ہو۔
ادھر یمنی حکومت کے چار ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے جمعے کے روز باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع اہم جزیرے پریم پر قبضہ کر لیا ہے۔ بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع باب المندب کو عالمی سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے اور اسے بعض اوقات ’گیٹ آف ٹیئرز‘ (آنسوؤں کا دروازہ) بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی میڈیا ایگزیوس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے ان کے خلاف فوجی کارروائی میں مدد کی درخواست کی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے جمعرات کو دو مرتبہ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق حوثی بحیرہ احمر کی ایک اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے سعودی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ یمن کے ایک اہم ساحلی شہر اور باب المندب کے قریب واقع اہم علاقوں پر ان کے کنٹرول نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ ایران کے بعد اب حوثی بھی ایک اور اہم بحری راستے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں دباؤ کا شکار ہوئے تو عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں واقع اہم جزیرے پریم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم آئل پائپ لائن کے قریب دھواں اٹھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر آمادہ ہے، تاہم اس کا ارادہ جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی ترجیح ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر توجہ مرکوز رکھنا ہے تاکہ خطے میں ایک نیا محاذ کھلنے سے روکا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق حالات بگڑنے کے بعد سعودی عرب نے امریکہ سے تعاون کی سطح بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں غیر جنگی معاونت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ بحیرہ احمر میں جہازرانی کی آزادی اور اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ علاقائی سلامتی کے مسائل کے حل میں اپنے اتحادی ممالک کو مرکزی کردار دینا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی، سعودی پائپ لائن کی بندش سے عالمی توانائی سپلائی پر خدشات
،تصویر کا ذریعہEPA
آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے اور سعودی عرب کی اہم تیل بردار پائپ لائن کی عارضی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سعودی عرب نے سنیچر کے روز ڈرون حملے کے بعد اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی۔ ریاض اور بغداد کے مطابق حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز مسلح گروہ سرگرم ہیں۔
یہ پائپ لائن حالیہ مہینوں میں خلیجی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز بڑی حد تک متاثر یا بند رہی ہے۔ اس راستے سے روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جاتا ہے، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔
ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو پراجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں سمندری تجارت کی سلامتی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
ان پیش رفت کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی تھی۔
برکس اجلاس کے موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد اور ایرانی صدر کی ملاقات، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور
،تصویر کا ذریعہ@KBM_ALNAHYAN
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے نئی دہلی میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کی۔ اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
شیخ خالد بن محمد بن زاید اور ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے عوام کی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے مواقع بڑھانے کے لیے سفارتی اور تعمیری کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دشمن موجودہ رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہتا ہے جو سابق رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ کیا گیا: مسعود پیزشکیان
،تصویر کا ذریعہJohn Lamparski/Getty Images
برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا آنے والے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق سوالات کا جواب دیا۔
انٹرویو کے دوران پیزشکیان سے پوچھا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں اور ان کی حالت کیسی ہے؟
جواب میں انھوں نے کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دشمن ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دشمن ہمارے موجودہ رہبر اعلیٰ کے ساتھ بھی وہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے سابق رہبراعلیٰ کے ساتھ کیا تھا۔‘
مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل ایک شخص کے پورے خاندان کو قتل کر دیتے ہیں، ایک عمارت تباہ کر دیتے ہیں اور پھر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شخص دہشت گرد تھا۔ یہ اس دنیا میں جرائم کرنے کا ایک نیا طریقہ بن چکا ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران کے موجودہ رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای عہدہ سنبھالنے کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم ان کے تحریری پیغامات وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتے رہتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
برکس عشائیے میں ملائیشیا کے وزیراعظم کی گلوکاری، ہندی گیتوں کی ویڈیو وائرل
،تصویر کا ذریعہ@anwaribrahim
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر منعقدہ عشائیے میں ہندی فلمی گیت گا کر شرکا کو حیران کر دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں دو روزہ برکس سربراہ اجلاس جاری ہے، جہاں مختلف رکن ممالک کے رہنما علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اجلاس میں ایران، چین اور روس کے صدور سمیت متعدد سربراہانِ مملکت شریک ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں انور ابراہیم پیانو کی دھن کے ساتھ بالی ووڈ کے دو مقبول گیت گاتے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے کشور کمار کا مشہور نغمہ ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ اور مکیش کا مقبول گیت ’دوست دوست نہ رہا‘ گایا۔ تقریباً ڈیڑھ منٹ دورانیے کی ویڈیو میں انھوں نے دونوں نغموں کے چند اشعار پیش کیے۔
انور ابراہیم نے یہ ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی۔ ویڈیو کے ساتھ انھوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’گرو، کیا مجھے تھوڑا سا گانے کی اجازت ہے؟‘
،تصویر کا ذریعہ@anwaribrahim
،تصویر کا کیپشنانور ابراہیم نے یہ ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی؟
’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ 1965 میں ریلیز ہونے والی فلم ’تین دیویاں‘ کا مشہور گیت ہے، جبکہ ’دوست دوست نہ رہا‘ 1964 کی کلاسک فلم ’سنگم‘ میں شامل تھا اور آج بھی مقبول ترین فلمی نغموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ملائیشیا کے وزیراعظم نے انڈین فلمی موسیقی سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہو۔ اس سے قبل فروری 2026 میں وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ ملائیشیا کے دوران انھوں نے ایک سرکاری ویڈیو مونٹیج شیئر کیا تھا، جس میں بالی ووڈ فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کے معروف گیت ’بولے چوڑیاں‘ کا استعمال کیا گیا تھا۔
انور ابراہیم نومبر 2022 سے ملائیشیا کے وزیراعظم ہیں۔ وہ اس سے قبل 1993 میں ملک کے نائب وزیراعظم کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
ایران، عمان مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کی بحالی نہیں: سرکاری میڈیا
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے انتظامات سے متعلق ہونے والی مجوزہ مفاہمت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے والے اس ذریعے کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے لیے نئے بحری راستوں کی تفصیلات پر اتفاقِ رائے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس مفاہمت کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ مکمل طور پر ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرے گا، جبکہ خروج کے راستے کا ایک حصہ بھی ایران کے علاقائی پانیوں کے اندر واقع ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بحری راستوں پر ٹریفک کا انتظام ایرانی ضوابط اور نگرانی کے تحت ہوگا۔ ذرائع کے مطابق مفاہمت پر عمل درآمد کے بعد جنوبی روٹ بھی بند کر دیا جائے گا، جسے کھلوانے کے لیے امریکا اصرار کرتا رہا ہے۔
تسنیم کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان اس مفاہمت کا اعلان خلیج فارس کے ساحلی ممالک اور عراق کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں متوقع ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے مفاہمت کی تفصیلات طے کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں براہِ راست حصہ نہیں لیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے امریکا کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات شرائط پیش کر چکا ہے اور جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے بند رہے گی۔
ان کے بقول عمان کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر مستقبل میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے تو بحری ٹریفک کس فریم ورک کے تحت چلائی جائے گی۔ آبنائے کی عملی طور پر بحالی اور دوبارہ کھلنے کا انحصار اب بھی اس بات پر ہے کہ امریکا ایران کی عائد کردہ شرائط کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔
ایران، امریکہ تعطل برقرار؛ عمان اجلاس سے بڑی پیش رفت کا امکان کم
،تصویر کا ذریعہReuters
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ایران پیر کے روز عمان میں خلیجی عرب ممالک کے اجلاس میں شرکت کرے گا، تاہم تہران نے کسی بڑی پیش رفت کے امکانات کم قرار دیے ہیں۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس اجلاس سے کسی حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ جب تک امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم نہیں کرتا، مذاکرات اور بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
واضح رہے کہ جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ چند ہی ہفتوں میں ناکام ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی یا جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے غیرملکی نجی دورے کے اخراجات ذاتی طور پر برداشت کیے گئے، ایوانِ صدر کی وضاحت
،تصویر کا ذریعہ@PresOfPakistan
ایوانِ صدر کے ترجمان نے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ غیرملکی دورے سے متعلق میڈیا کے بعض حلقوں میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کا یہ دورہ مکمل طور پر نجی نوعیت کا تھا اور اس کے تمام اخراجات انھوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں ادا کیے۔
ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے دورے کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ نجی طور پر چارٹر کیا تھا۔ طیارے سے متعلق تمام اخراجات، جن میں عملے کی فیس، پارکنگ، قیام اور دیگر متعلقہ مصارف شامل ہیں، صدر نے خود برداشت کیے۔
،تصویر کا ذریعہ@PresOfPakistan
وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نجی دورے پر قومی خزانے یا سرکاری وسائل سے کوئی اخراجات نہیں کیے گئے۔
ایوانِ صدر کے ترجمان نے کہا کہ صدر کے حالیہ نجی دورے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے تناظر میں یہ وضاحت ضروری تھی تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔
سعودی عرب نے تیل کی اہم پائپ لائن بند کر دی، حوثیوں کی پیش قدمی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کے مطابق پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اسے بند کیا گیا۔ ریاض اور بغداد دونوں کا کہنا ہے کہ حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز ملیشیائیں سرگرم ہیں۔ واقعے کے بعد عراق نے ایک فوجی کمانڈر کو برطرف بھی کر دیا۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن گذشتہ چھ ماہ کے دوران خلیجی تیل کی عالمی ترسیل کا اہم راستہ بنی ہوئی تھی، کیونکہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حملے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے قریب سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا، تاہم فوری طور پر کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو آئرلینڈ میں ایک گولف ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے موجود ہیں، نے کہا کہ حملے کے پیچھے غالباً ایران کا ہاتھ ہے۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے فائر کیے گئے ایک میزائل یا پروجیکٹائل سے جازان ریجن میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
سعودی ولی عہد کی امریکہ سے فوجی مدد کی درخواست
گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت چھے ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ اس صورتحال کی وجہ خلیج میں کشیدگی، ٹینکروں پر حملے اور بحیرہ احمر کے کنارے حوثیوں کی پیش قدمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ٹرمپ نے سنیچر کے روز تصدیق کی کہ ان کی ولی عہد سے بات ہوئی تھی۔ ان کے بقول حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ امریکہ تنازع میں براہ راست فریق نہ بنے۔
باب المندب میں حوثیوں کا قبضہ
یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جمعے کے روز باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع انتہائی اہم جزیرے ’پریم‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔ باب المندب کو بحیرہ احمر کا مرکزی دروازہ تصور کیا جاتا ہے اور عالمی تجارت کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہے۔
یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی جن پر حوثیوں نے حالیہ برق رفتاری سے کیے گئے حملوں کے دوران قبضہ کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی براہ راست رہنمائی میں ہوئی، تاہم ایران حوثیوں کو صرف اتحادی قرار دیتا ہے اور عسکری ہدایات دینے کی تردید کرتا ہے۔
ادھر حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ سعودی جہازوں کے سوا دیگر تمام بحری جہازوں کے لیے سمندری راستے محفوظ ہیں، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے عائد پابندی برقرار رہے گی۔
سعودی پائپ لائن پر حملے کا مبینہ طور پر عراق سے ہونا بغداد حکومت کے لیے نئی مشکل بن گیا ہے، کیونکہ عراق خطے کا ایسا ملک ہے جس کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ عراقی حکومت نے ایران کی سرحد کے قریب واقع میسان صوبے کے فوجی کمانڈر اور پولیس چیف کو برطرف کر دیا ہے اور مرکزی سرحدی گزرگاہ بھی بند کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرتے جہاز پر حملے کی اطلاع
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن کا کہنا ہے کہ ایک جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ فی الحال عملے کی حالت، جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت یا حملے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ادارے نے جہازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس علاقے سے گزرتے وقت احتیاط برتیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔ ادارے نے کہا کہ حکام اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
حوثیوں کے حملے میں دو افراد زخمی: سعودی عرب
سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل ملک کی یمن کے ساتھ جنوبی سرحد پر ایک علاقے میں گرا جس سے دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب میں سول ڈیفنس کے محکمے نے کہا کہ اس کی فورسز نے جازان ریجن کے الطوال صوبے میں اس حملے کے بعد جوابی کارروائیاں کیں۔
ادارے کے مطابق دو افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ اس حملے میں ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ حملہ سعودی حکام کی جانب سے نئے حملوں کے خدشے سے متعلق انتباہ کے چند گھنٹے بعد ہوا۔
ہماری سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایسٹ-ویسٹ تیل پائپ لائن بند کر دی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ اقدام اہم تیل تنصیبات پر حملے کے بعد کیا گیا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق پزشکیان نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سعودی عرب کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے۔ حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہیے۔ ہمارے درمیان جنگ یا تنازع کی کوئی منطق یا وجہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے بات چیت اور تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
بغداد اور ریاض دونوں کا کہنا ہے کہ ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر حالیہ حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ سرگرم ہیں۔
یہ حملے ایران سے قریب سمجھے جانے والے حوثیوں کی تیز رفتار کارروائی کے بعد ہوئے، جس کے نتیجے میں یہ گروپ مشرقِ وسطیٰ کی ایک اہم آبی گزرگاہ آبنائے باب المندب پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ اس راستے سے سعودی عرب کی تیل برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
حوثیوں کا 200 سے زائد ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ
یمن کے حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش قدمی کے دوران وہ گروپ کے 200 سے زائد ایسے ارکان کو رہا کروانے میں کامیاب رہے ہیں سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کی تحویل میں تھے۔
حوثی عہدیدار عبدالقادر مرتضیٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ افراد جنگی قیدی تھے اور تقریباً آٹھ برس سے قید میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی رہائی آبنائے باب المندب سے متصل علاقوں میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد عمل میں آئی۔
صنعا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالقادر مرتضیٰ نے کہا ہم سعودی دشمن کی جیلوں سے رہائی پانے والے اپنے 210 قیدیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
تین ماہ تک زیرِ حراست رہنے والے محمد فوزی نے اپنی رہائی کو ’ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ‘ قرار دیا۔
مئی میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان 1,600 سے زیادہ قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔
اپریل 2023 میں فریقین کے درمیان تقریباً 900 قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ یہ اکتوبر 2020 کے بعد سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ تھا، جب ایک ہزار سے زیادہ افراد کو رہا کیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے کی تزویراتی پیش قدمی سے قبل حوثیوں کا یمن کے شمالی حصوں کے وسیع علاقے پر کنٹرول تھا، جن میں دارالحکومت صنعا اور حدیدہ کی بندرگاہ بھی شامل ہیں۔
ایران کے جزیرہ قشم کے نزدیک دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جزیرہ قشم کے نزدیک کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ آوازیں سمندر کی جانب سے آئی ہیں تاہم اس بارے میں اب تک مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ہماری اسمبلی بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کے لیے تیار ہے، وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہpabalochistan.gov.pk
پاکستان پیپلز پارٹی
(پی پی پی) کی مرکزی قیادت سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مخالف ہے۔ تاہم اس کے
باوجود پی پی پی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے نئے
صوبے بنانے کی حمایت کی ہے۔
سنیچر کے روز کوئٹہ
میں دوسرے صوبوں سے آنے والے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو وسیع و عریض رقبے کی بنیاد پر کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ
کیا کہ ہماری اسمبلی نئے صوبے بنانے کے لیے تیار ہے۔ ’اگر قومی اسمبلی میں اتفاق رائے
ہو جاتا ہے تو پھر یہاں سے ایک چیز آگے بڑھے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان
اتنا بڑا ہے کہ اس میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے تاہم باقی صوبوں میں کیا صورتحال ہے،
اس بارے میں وہاں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم سرفراز بگٹی
کا کہنا تھا کہ نئے صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیئیں۔
بات چیت کے دوران انھوں
نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس بیان پر افسوس کا اظہار کیا جس میں انھوں نے
کہا تھا کہ پنجاب کو ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان دوسرے صوبوں کو دہشت گردی
سے بچانے کے لیے بفر زون کے طور پر کام کر رہا ہے۔
خضدار میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چاروں افراد بے گناہ تھے جو غلط اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا اعتراف
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ بلوچستان
کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ خضدار کے علاقے سونارو میں ہلاک ہونے
والے چار افراد بے گناہ تھے جو غلط اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے۔
انھوں نے یہ بات سنیچر
کے روز سعودی عرب سے وڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے دیگر صوبوں سے کوئٹہ آنے والے سینیئر
صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
جمعرات کی شب ضلع خضدار
میں وڈھ کے علاقے سونارو میں چار لوگ مارے گئے تھے جن میں ایک سات سالہ بچہ بھی
شامل تھا۔
ہلاک ہونے والے
افراد کے رشتہ داروں اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس واقعے کا الزام سکیورٹی فورسز
پر عائد کیا تھا۔
مارے جانے والے افراد
کے ایک رشتہ دار محمد یونس نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ بے گناہ تھے اور
جمعرات کی شب ساڑھے دس بجے ایک شادی سے واپس آرہے جب مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی
فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک
ہونے والے میں دو بھائی، ان کا ایک کزن اور ایک سات سالہ بچہ شامل تھا جبکہ واقعے
میں ایک خاتون اور ایک اور بچہ بھی زخمی ہوا۔
اس واقعے کے خلاف لوگوں نے بطور احتجاج کوئٹہ کراچی شاہراہ کو کو سونارو اور وڈھ کے مقامات پر دھرنا دیکر بند کر دیا تھا۔
دھرنے کے باعث شاہراہ پر دونوں اطراف گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سنیچر کے روز ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے دھرنا کے شرکا سے مذاکرات کیے جس کے بعد دونوں مقامات سے دھرنے ختم کر دیے گئے۔
محمد یونس نے بتایا کہ حکام نے مظاہرین کی جانب سے رکھے گئے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے دس دن کا وقت مانگا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو دوبارہ احتجاج شروع کیا جائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران اگرچہ اس واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سے براہ راست سوال نہیں کیا گیا تاہم انھوں نے ضمناً اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں ایک مشکل صورتحال میں کام کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کو بھرپور انداز میں جواب دیتے ہیں لیکن اس میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں تاکہ عام لوگ کا نقصان کم سے کم ہو۔
وزیرِ اعلیٰ نے ان چار افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد اطلاع موصول ہوئی تھی کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مارے گئے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماراے جانے والے افراد بے گناہ تھے اور ایک شادی سے واپس آرہے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کالعدم شدت پسند تنظیموں کے لوگ عام آدمیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن۔
حوثیوں نے امریکہ سے یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے امریکہ سے رابطہ کر کے
یمن میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
سنیچر کے روز آئرلینڈ کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا
کہ ’ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ حوثیوں نے ہم
سے رابطہ کیا ہے اور وہ ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔‘
’وہ نہیں چاہتے کہ ہم ان پر حملہ
کریں۔‘
امریکی صدر نے امید کا اظہار بھی کیا کہ خطے میں ’سب کچھ اچھا اور شاندار‘ انداز میں
آگے بڑھے گا۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات ہوئی ہے، جنھیں انھوں نے اپنا ’دوست‘ قرار دیا۔
اس سے قبل ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف
کارروائیوں میں امریکی مدد طلب کی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا
کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو
دو ٹیلی فون کالیں کیں اور انھیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی۔
ایگزیوس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد
کی درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی انتظامیہ
حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔