آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, یمنی فورسز کا حوثیوں کے خلاف آپریشن: سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روبیو

یمنی فورسز نے حوثیوں کے خلاف آپریشن ’فجر الیمن‘ میں باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، اس لیے اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی‘: سپیکر کے پی کا وزیر اعظم شہباز شریف کو خط

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں صوبے میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں 2025 کے امن جرگہ اعلامیہ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی۔‘

    خط کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری سے ایک خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد سکیورٹی صورتحال پر جامع رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دیا گیا۔

    سپیکر نے لکھا کہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے گورنر، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں کی قیادت، منتخب نمائندوں، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں سے رابطہ کیا۔

    خط کے مطابق اس مشاورتی عمل کے تسلسل میں 12 نومبر 2025 کو ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا جس میں 30 سے زائد سیاسی رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

    بابر سلیم سواتی کے خط میں تحریر ہے کہ جرگے نے شدت پسندی، سکیورٹی اور پائیدار امن سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا تھا، جو وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا گیا۔

    خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی نے سکیورٹی سے متعلق سرکاری محکموں اور اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کیں، تاہم کور کمانڈر الیون کور کے دفتر کی جانب سے بریفنگ نہیں دی گئی۔

    سپیکر کے مطابق کمیٹی کا مقصد سکیورٹی اداروں کے آپریشنل امور میں مداخلت نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کو ان معاملات سے آگاہ رکھنا ہے جو براہ راست ان کے ووٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    سپیکر کے مطابق مجوزہ رپورٹ کو قومی ایکشن پلان میں شمولیت کے لیے وفاقی حکومت اور شدت پسندی کے مؤثر تدارک کے لیے صوبائی حکومت کو بھجوایا جانا تھا، تاہم ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے رپورٹ مکمل نہیں کی جا سکی۔‘

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی کمیٹی اب بھی متعلقہ فریقوں اور کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے رابطے میں ہے تاکہ مشاورت کے بعد رپورٹ مکمل کی جا سکے۔

    سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے خط کے مطابق رپورٹ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کی جائے گی اور پھر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رہنما پالیسی دستاویز کے طور پر شیئر کی جائے گی۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی نمائندوں کی قیادت اور سرپرستی میں رائے عامہ کو منظم کر کے شدت پسندی پر قابو پانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

    سپیکر کے مطابق رپورٹ تیار ہونے اور صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم کو بھجوا دی جائے گی ’تاکہ اسے نیشنل ایکشن پلان میں شامل کیا جا سکے۔‘

    بابر سلیم سواتی نے خط کا متن اور عکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کیا ہے۔

  2. فلائی دبئی پرواز کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا: امریکی نائب صدر

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز سے متعلق واقعے میں ایران کے کردار کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    جے ڈی وینس نے یہ بیان الاسکا کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں دیا۔

    یاد رہے کہ فلائی دبئی کی پرواز بدھ کے روز دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے تل ابیب کے بین گورین ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اچانک 17000 فٹ (5,200 میٹر) سے زیادہ نیچے آ گئی تھی جس کے باعث جہاز پر سوا مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

    بعد ازاں یہ پتا چلا کہ اس کی وجہ فرسٹ آفیسر کی جانب سے ساتھی پائلٹ پر حملہ تھا۔ تاہم مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو میں کر کے اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا۔

  3. سعودی فضائی حدود ہماری کارروائیوں کا میدان ہوں گی: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے ائیرلائنز کو تنبیہ کی ہے کہ سعودی عرب کی فضائی حدود ’محفوظ نہیں‘ ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج کی کارروائیاں سعودی فضائی حدود میں بھی ہو سکتی ہیں۔

    حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی فضائی حدود ہماری مسلح افواج کی کارروائیوں کا میدان ہوں گی۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی حکومتی فورسز اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کی جانب سے ’فجر الیمن‘ آپریشن جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  4. یمن میں حالیہ فضائی حملوں سے متعلق دعوے جھوٹ ہیں: حوثیوں کا دعویٰ

    حوثی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو میں کہا ہے کہ یمن میں حالیہ فضائی حملوں اور یمنی فورسز کی پیش رفت سے متعلق سامنے آنے والے دعوے سعودی فریق کا ’جھوٹ‘ ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق کی ’فوجی کامیابیاں‘ صرف میڈیا اور سوشل میڈیا تک ہی محدود ہیں۔

    حزام الاسد کے مطابق زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے اور ان کے بقول مخالف فورسز ’مسلسل پسپا‘ ہو رہی ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی حکومتی فورسز اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج، ’فجر الیمن‘ آپریشن کے تحت باب المندب اور دیگر علاقوں میں پیش رفت کے دعوے کر رہی ہیں۔

    اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ’فجر الیمن‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 ’اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا۔

  5. سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے پابند ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی پاسداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب اور یمن کی سرکاری افواج یہ نہیں چاہتیں کہ آبنائے باب المندب کے قریب علاقے پر حوثیوں کا کنٹرول برقرار رہے‘، اور یمن میں جاری کارروائی کو ’ان علاقوں کی واپسی کے لیے جوابی حملہ‘ قرار دیا جن پر حوثیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔

    ان کے بقول ’ہمیں اس پیش رفت کی توقع تھی۔‘

    روبیو نے کہا: ’سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور وہ ان سے لاحق خطرے سے بخوبی آگاہ ہے، اس لیے اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

  6. آپریشن ’فجر الیمن‘: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور ’حوثی بغاوت‘ کا خاتمہ ہے۔
    • سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے تصدیق کی کہ وہ یمنی حکومتی فورسز کی کارروائی میں فضائی حملوں کے ذریعے حصہ لے رہا ہے۔
    • یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دار الحکومت صنعا کی جانب ’سٹریٹیجک حملہ‘ شروع کر دیا ہے۔
    • اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ’فجر الیمن‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 324 ’اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا۔
    • حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا میں دو سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔
    • المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
  7. روسی ڈرون حملے میں ترکی کے مال بردار جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے: زیلنسکی کا الزام

    یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے الزام لگایا ہے کہ روسی ڈرونز نے ایک سویلین مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے۔

    زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ جہاز ترکی کی ملکیت تھا اور مکئی (کارن) لے کر جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز میں آذربائیجان اور انڈیا کے شہری بھی سوار تھے۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کے کپتان ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کے 11 ارکان کو بچا لیا گیا ہے جن میں سے ایک زخمی ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے بحیرہ اسود میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے متعدد عملی تجاویز پیش کی تھیں، جبکہ بعض دیگر ممالک نے بھی اس حوالے سے تجاویز دی تھیں۔

    انھوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو معمول کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے بجائے ’شدت پسندی اور سویلین جہازوں کو ڈبونے‘ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔

    زیلنسکی کے مطابق عالمی غذائی تحفظ کی بحالی کے لیے روس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  8. یمنی فورسز کا باب المندب اور ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے، جبکہ حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب اور تعز کے مغرب میں واقع ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی ’فجر الیمن‘ کے نام سے جاری آپریشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد صنعا کی جانب پیش قدمی ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں صنعا کے نواحی علاقے بنی حشیش میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئی ہیں۔

    المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں نے تعز کی فضائی حدود میں ایک سعودی ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران حوثیوں سے وابستہ ایک ادارے نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے۔ بی بی سی عربی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک سعودی کارروائیاں جاری رہیں گی، سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں ہوں گی۔

    دوسری جانب ریاض میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کا ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے، جس میں حوثیوں کے حملوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع اور افواج کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔

  9. گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری: نو کمپنیوں کو اہل قرار دے دیا گیا

    وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی کی زیرِ صدارت نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے لیے نو کمپنیوں اور کاروباری گروپس کو پری کوالیفائی کر لیا گیا ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق گیپکو کے 51 سے 100 فیصد شیئرز اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کے لیے 11 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ پری کوالیفائی ہونے والوں میں ترکی کے تین اور پاکستان کے چھ بڑے کاروباری گروپس شامل ہیں۔

    ترکی سے ایکٹور الیکٹرک، گینویرا انرجی اور چنگیز انرجی پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں کامیاب قرار پائیں، جبکہ پاکستان سے اینگرو انرجی، حب پاور، سفائر، شیرازی انویسٹمنٹس، آرٹسٹک ملنرز اور اے کے ڈی سکیورٹیز کو اہل قرار دیا گیا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے گیپکو کی نجکاری کے عمل سے اپنی درخواست باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے، جبکہ الشریف کنٹریکٹنگ مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کر سکی۔

    نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں اسلام آباد، کراچی اور لاہور ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی از سرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی۔

    دوسری جانب زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

  10. غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے: سہیل آفریدی کا الزام

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کرک سے روانگی کے موقع پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے۔

    اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ’خیبر پختونخوا کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا‘ اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ہر اس پالیسی سے باغی ہیں، جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نا سمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا۔‘

    سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے۔‘

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان ملک میں حقیقی سیاسی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    اپنی تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کارکنوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں تھا، جبکہ دوسرا پڑاؤ کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ‏چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔

    متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

  11. نئی جنگ کی صورت میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک لپیٹ میں آئیں گے: ایرانی فوج

    ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع کی گئی تو ’اس کی آگ خطے میں امریکہ کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک تک پہنچے گی۔‘

    علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے برعکس، ایران امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا منتظر نہیں ہے اور اپنے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا ’سخت‘ جواب دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ’ہر قسم کے خطرے‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ’بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مراکز کے بارے میں ایجنسی کے تبصرے ’بے بنیاد‘ ہیں۔

  12. یمنی افواج کا باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

    ان کا یہ بیان یمن کی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔

    بیان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن ’فجر الیمن‘ جاری ہے، اور ذو باب کا ہوائی اڈہ بھی حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

    یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ سڑک کاٹ دی ہے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

    بیان میں ذو باب کے علاقے میں موجود حوثی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘

  13. یمن میں آپریشن شروع کر دیا، 100 جنگی طیاروں کی شرکت، 324 اہداف تباہ: اتحادی افواج کا دعویٰ

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے اعلان کیا ہے کہ ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، دار الحکومت صنعا کی آزادی اور حوثیوں کی بغاوت کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔

    العلیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یمنی عوام کے عزم، مسلح افواج کی بہادری اور برادر و دوست ممالک کی حمایت کے ساتھ، یمن آزادی، امن اور استحکام کی ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔‘

    اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن میں پیر کی صبح 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اتحادی افواج نے 324 ایسے اہداف کو تباہ کیا جنھیں ’اعلیٰ اہمیت کے حامل‘ قرار دیا گیا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ اتحادی افواج باب المندب کی آبی گزر گاہ کو فضائی تحفظ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ متحرک اہداف کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    یمن کی حکومتی فورسز نے کہا ہے کہ وہ صنعا پر جاری حملے میں جدید عسکری صلاحیتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔

    جبکہ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں شہر صعدہ کے جنوبی علاقے، سحار اور الصفرا کی تحصیلیں شامل ہیں۔ چینل کے مطابق کتاف اور البقع کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    المسیرہ نے مزید دعویٰ کیا کہ دار الحکومت صنعا پر بھی سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس نے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  14. جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پیر کو کیس کی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    عدالت نے سابق وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے کر ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، پی ٹی آئی ایم پی اے حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    جوڈیشل کمپلیکس میں تو پھوڑ کا مقدمہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

    خیال رہے کہ مارچ 2023 میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں پی ٹی آئی کارکناں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپی ہوئی تھیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے کارکنوں کو جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ پر اُکسایا۔

  15. ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: عدالت کا ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف درج مقدمے میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کی گرفتاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    سماعت کے دوران جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت ایک فورس کی مانند ہے، جسے اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    جج نے انگریزی میں گفتگو کرنے پر اردو میں بات کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی دستاویز کی پرنٹ کاپی مسترد کرتے ہوئے اصل دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔

    سماعت کے دوران جج نے کمرۂ عدالت میں ہتھکڑی منگوا کر سکیورٹی انچارج کو ہدایت دی کہ ڈی ایس پی کو جانے نہ دیا جائے، جبکہ گیٹ پر موجود عملے کو بھی کہا جائے کہ انھیں باہر نہ جانے دیا جائے۔ عدالت نے درست معلومات فراہم نہ کیے جانے پر گرفتاری کا عندیہ بھی دیا۔

    عدالت نے جوڈیشل فورس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔‘

    ڈی ایس پی نعیم یوسف نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہیں اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اس پر وکیلِ صفائی ریاست علی نے کہا کہ ’بدنیتی دیکھیں، عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے۔‘

    بعد ازاں جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی حکم جاری کریں گے اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی سے متعلق بھی فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  16. مذاکرات کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ عمران خان کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے لندن سے ڈاکٹر کو بلانا پڑا: سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران بتایا کہ جیل میں عمران خان کا بلڈ پریشر تین، چار ہفتے تک اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کے لیے لندن سے ایک ماہر ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ ادویات کے باوجود عمران خان کا بلڈ پریشر نیچے نہیں آ رہا تھا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا کہ تین سے چار ہفتے انتہائی تشویش کے تھے اور عمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہو رہا تھا اور پھر لندن سے ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔ یہ چھپانے والی بات نہیں تھی۔

    سلمان اکرم راجہ نے ایک بار پھر مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو شامل کیے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں واضح کر دیا تھا کہ عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں سب سے اہم معاملہ ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مکالمے میں شامل کیے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پائے گا، کیونکہ ریاست اور عوام کے درمیان جو خلیج پیدا ہو چکی ہے اسے صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنے اہلخانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔ اُن پر 300 سے زائد مقدمات ہیں۔ وکیل عدالت میں وہ بات کرتا ہے، جو اُن کا موکل کہتا ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات مذاکرات میں رکھ دیے گئے تھے اور بتا دیا گیا تھا کہ اس کے بغیر کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم خلوصِ دل سے اس عمل میں شامل ہوئے۔

    دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کھلے دل سے مذاکرات کیے، تمام معاملات فائنل ہونے والے تھے۔ لیکن اچانک سب کچھ ختم کر دیا گیا۔

    بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ طے ہی نہیں ہو سکا کہ ان میں سے بات کس سے کرنی ہے۔ کبھی بہنیں، کبھی خیبر پختونخوا حکومت اور کبھی کوئی اور سامنے آ جاتا ہے۔

  17. صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دینے پر اسرائیل نے برطانوی سیاست دان کے داخلے پر پابندی لگا دی

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے برطانوی گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ہم اس سے قبل یہ خبر دے چکے ہیں کہ برطانوی گرین پارٹی نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صیہونیت کو ’نسل پرست تحریک‘ قرار دیا گیا ہے۔

    پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے سالانہ کانفرنس میں اس تجویز کی حمایت اور منظوری دی، اگرچہ کئی سینئر ارکان نے اس کی مخالفت بھی کی۔

    برٹش جیوش ریپریزنٹیٹو کونسل اور جیوش لیڈرشپ کونسل نے ایک بیان میں کہا: ’گذشتہ ایک سال کے دوران برطانوی یہودیوں کے عبادت گاہوں میں قتل، گلیوں میں چاقو کے حملوں اور عوامی مقامات پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد، یہودیوں اور برطانوی یہودی اداروں کو نسل پرست قرار دینا ملک میں یہود دشمن نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔‘

    گرین پارٹی کے یہودی ارکان کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی رکنیت پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

  18. پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ، شرکا آج کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں ہے اور آج یہ مارچ کوہاٹ کے لیے روانہ ہوگا جہاں کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر لانگ مارچ کے مظاہرین پڑاؤ ڈالیں گے۔

    کوہاٹ میں پارٹی کے قائدین مظاہرین کی آمد سے پہلے وہاں تیاریاں جاری کیے ہیں جبکہ ادھر پشاور سے پہلے متنی کے مقام پر بھی لانگ مارچ کے مظاہرین کی آمد کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    کرک سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ جیل چوک پر ایک بڑا پنڈال بنایا گیا ہے جہاں لانگ مارچ میں شامل لوگوں موجود ہیں۔

    بیشتر لوگ رات مختلف مقامات پر چلے گئے تھے اور اب کوہاٹ روانگی کے لیے پنڈال میں پہنچ رہے ہیں۔

    مظاہرین کے لیے پنڈال میں رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ کرک کے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ آنے والے لانگ مارچ کی یہاں کرک سے روانگی کا وقت تو 12 بجے دوپہر کا بتایا گیا تھا لیکن اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کس وقت روانگی ہوتی ہے۔ کرک اور قریبی علاقوں میں موبائل فون سروس اور موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ ’آج پانچ اکتوبر کو قافلہ رات کے وقت کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں پڑاؤ کرے گا۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق ‏چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔

    متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    اتوار کو ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا اغاز شام سے تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا اور یہ مارچ 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے رات دیر سے کرک پہنچ گیا تھا۔

    اس لانگ مارچ میں بنوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت ٹانک اور دیگر قریبی علاقوں کے لوگ بھی شام ہوئے تھے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان سے انفرادی طور پر لوگ پہنچ گئے تھے لیکن جس قافلے کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کر رہے تھے وہ نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں بلوچستان سے ایک قافلہ ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا اور وہ بھی یارک کے مقام پر رکاوٹ عبور کرکے مارچ میں شامل ہو گیا تھا۔

    اس لانگ مارچ کے آغاز لیے جنوبی اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو تجزیہ کار ایک بہتر فیصلہ قرار دے رہے تھے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں ہیں اور اس مرتبہ انھیں ساتھ لانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ خود جنوبی اضلاع کے مرکزی پوائٹ گنڈی چوک پہنچے۔

  19. راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا اپنے شوہر پر تشدد کا الزام، مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کی درخواست پر اُن کے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    تھانہ ویمن پولیس نے اے ڈی سی ہیڈ کوارٹر ملیحہ سحر کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق ملیحہ سحر نے درخواست میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد کی شکایت کی تھی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر کا کہنا ہے کہ اُن کے دو بچے ہیں اور کئی ماہ سے شوہر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق دو اکتوبر کی شام شوہر نے تشدد کا نشانہ بناکر کمرے میں بند کردیا اور موبائل فون بھی چھین لیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق شوہر نے حبس بیجا میں رکھ کر فیملی اور بچوں سے ملنے سے روک دیا۔ شوہر خوف زدہ کرکے اذیت دیتا رہا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’میرے جسم پر زخموں کے نشانات اور جائے وقوعہ پر شواہد حاصل کرکے دستاویزی شکل دی جائے۔‘

  20. یمنی حکومت کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1,122 حملے کرنے کا دعویٰ

    یمنی حکومت کے حامی فورسز کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 1,122 حملے کیے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حملوں میں ناشنہ بننے والے اہداف میں توپ خانے کی پوزیشنیں، راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم اور کمانڈ مراکز شامل ہیں۔

    ماجد عبداللہ نزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ حملے جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور نشانہ بازوں کی مدد سے صعدہ، الجوف، تعز اور یمن کے ساحلی علاقوں میں کیے گئے۔‘

    بیان میں یہ بپی دعویٰ کیا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران تقریباً 1,747 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔