قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی‘: سپیکر کے پی کا وزیر اعظم شہباز شریف کو خط
خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں صوبے میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں 2025 کے امن جرگہ اعلامیہ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان سے متعلق رپورٹ ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی۔‘
خط کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری سے ایک خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد سکیورٹی صورتحال پر جامع رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دیا گیا۔
سپیکر نے لکھا کہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے گورنر، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں کی قیادت، منتخب نمائندوں، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں سے رابطہ کیا۔
خط کے مطابق اس مشاورتی عمل کے تسلسل میں 12 نومبر 2025 کو ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا جس میں 30 سے زائد سیاسی رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔
بابر سلیم سواتی کے خط میں تحریر ہے کہ جرگے نے شدت پسندی، سکیورٹی اور پائیدار امن سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا تھا، جو وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا گیا۔
خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی نے سکیورٹی سے متعلق سرکاری محکموں اور اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کیں، تاہم کور کمانڈر الیون کور کے دفتر کی جانب سے بریفنگ نہیں دی گئی۔
سپیکر کے مطابق کمیٹی کا مقصد سکیورٹی اداروں کے آپریشنل امور میں مداخلت نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کو ان معاملات سے آگاہ رکھنا ہے جو براہ راست ان کے ووٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔
سپیکر کے مطابق مجوزہ رپورٹ کو قومی ایکشن پلان میں شمولیت کے لیے وفاقی حکومت اور شدت پسندی کے مؤثر تدارک کے لیے صوبائی حکومت کو بھجوایا جانا تھا، تاہم ’کور کمانڈر الیون کور کی عدم دستیابی کی وجہ سے رپورٹ مکمل نہیں کی جا سکی۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی کمیٹی اب بھی متعلقہ فریقوں اور کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے رابطے میں ہے تاکہ مشاورت کے بعد رپورٹ مکمل کی جا سکے۔
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے خط کے مطابق رپورٹ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کی جائے گی اور پھر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رہنما پالیسی دستاویز کے طور پر شیئر کی جائے گی۔
انھوں نے مزید لکھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی نمائندوں کی قیادت اور سرپرستی میں رائے عامہ کو منظم کر کے شدت پسندی پر قابو پانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
سپیکر کے مطابق رپورٹ تیار ہونے اور صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم کو بھجوا دی جائے گی ’تاکہ اسے نیشنل ایکشن پلان میں شامل کیا جا سکے۔‘
بابر سلیم سواتی نے خط کا متن اور عکس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کیا ہے۔