یہ صحفہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
یہ صحفہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین کوریج کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے کہا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ صحفہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین کوریج کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔
مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔
آبنائے باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستے کے جنوبی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کا اعادہ کیا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر انحصار کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے۔
حوثیوں، یمنی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت آنے سے تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن میں حوثیوں کے زیر اثر علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یمن کے بندرگاہی شہر مخا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب حکومت نواز افواج کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد حوثی جنگجو شہر میں داخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
شہر کے رہائشی ایک شخص نے بی بی سی عربی کے پروگرام مڈل ایسٹ لائف لائن کو بتایا کہ ’شہر پر قبضہ اچانک ہوا، کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ زخمی افراد سڑکوں پر پڑے تھے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔‘
ایک اور شخص نے بتایا کہ جمعرات کو حوثی جنگجو مخا شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے، جبکہ سرکاری دفاتر اور دکانیں بند تھیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت ہمیں نہیں معلوم کہ انصار اللہ (حوثی) کیا کرے گی۔ ہر شخص اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔‘
بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان مشرق کی جانب شہر عدن کا رخ کر رہے ہیں، جہاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدارتی کونسل اور حکومت قائم ہیں۔
ایک خاتون نے بی بی سی عربی کو بتایا ’ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھاگ نکلے اور مسلسل دوڑتے رہے۔ ہمارے پاس نہ بستر ہے، نہ گھر اور نہ ہی کوئی سامان۔ ایک گھنٹے کے اندر سب کچھ تباہ ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں نہ کوئی موقع دیا اور نہ ہی پہلے سے خبردار کیا تھا۔‘
’ہم ایسی خواتین ہیں جن کے پاس اپنا دفاع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں اور ہمارے ساتھ معصوم بچے بھی ہیں۔‘
تاہم حوثیوں کی جانب سے مخا پر قبضے کی باضابطہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔
حوثیوں سے منسلک المسیرہ ٹی وی کے مطابق انصار اللہ کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی دشمن کے حمایت یافتہ دستوں کو باہر نکالنے کے بعد مغربی ساحلی اضلاع میں جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں۔‘
یمنی حکومت کی حامی نیشنل رنزسٹنس فورسز کے سربراہ طارق صالح نے بھی کہا کہ انہوں نے مغربی ساحل پر واقع اپنا کمانڈ سینٹر ایک ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فورسز نے ’حالیہ دنوں میں ایران کی منصوبہ بندی اور حمایت سے ہونے والی حوثیوں کی پیش قدمی کا سامنا کرتے ہوئے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘
دوسری جانب ایک یمنی فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو مخا سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے راکٹ فائر کیے اور کشتیوں کے ذریعے زمینی حملے کے بعد جزیرے کا کنٹرول حاصل کیا۔
اس دوران یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد علیمی نے عرب ممالک اور دیگر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ یمن کے ساحلی علاقوں کے تحفظ اور ملک پر ریاستی کنٹرول کی بحالی میں مدد فراہم کریں۔
حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ’(یمن کی) خودمختاری اور علاقائی پانیوں کے دفاع کے اپنے حق‘ پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی کروائی کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی بدستور محفوظ ہے۔
تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی بحری جہازوں پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے مغربی صوبوں تعز، الحدیدہ، مأرب اور الجوف میں 64 فضائی حملے کیے۔
سعودی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بدھ کی شام کو کہا تھا کہ وہ جنوب مغربی سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور جازان پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کا جواب دیں گے۔
سعودی حکام کے مطابق منگل کو حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے اور کئی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے ان کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملے حالیہ دنوں میں ہونے والی درجنوں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔
ان کارروائیوں میں پیر کے روز صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ایک جیل پر حملہ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں کم از کم 23 شہری ہلاک ہوئے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔
چار سال سے جاری غیر رسمی جنگ بندی جولائی میں کمزور پڑنا شروع ہوئی، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری پابندی‘ کا اعلان کیا اور سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں موجود آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی پابندیوں کے ساتھ ساتھ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کا جواب دے رہے ہیں، جس کا الزام انہوں نے سعودی عرب پر عائد کیا۔
پاسداران انقلان کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی سیل ڈرون (بحری ڈرون) کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ خبر 10 ستمبر کو ایرانن کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نیوز نے نشر کی ہے۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’دشمن کے بغیر پائلٹ بحری جہازوں میں سے ایک‘، یعنی 5838 نمبر ہُل رکھنے والے ایک سیل ڈرون کو، آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر نشانہ بنایا اور ’دشمن کے جارحانہ مشن کو ناکام بنا دیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری ڈرون تعینات کیے تھے کیونکہ اسے ایرانی فورسز کے قریب آنے یا ان کے ساتھ تصادم کا خدشہ تھا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہزمز ’بند ہے اور مکمل انٹیلی جنس نگرانی میں ہے۔‘
پاکستان کی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزی کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کر دہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے 37 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی فی لیٹر قیمت 398 روپے چار پیسے ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرول کی قیمت میں تین روپے پانچ پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 370 روپے 80 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔
بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ان تمام خواتین میڈیکل آفیسرز کو جان بوجھ کر ملازمت سے غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔
ان ڈاکٹروں میں سے 17 کی ملازمت کوئٹہ میں تھی جبکہ باقی خواتین ڈاکٹروں کی تعیناتی دیگر علاقوں میں تھی۔
محکمہ صحت کے ایک اور نوٹیفیکیشن کے مطابق محکمہ صحت کے پانچ ملازمین کو دہری ملازمت کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
دہری ملازمت کی بنیاد پر برطرف کیئے جانے والوں میں ایک خاتون سمیت چار میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔
دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے محکمہ صحت کی جانب سے 25 خواتین میڈیکل آفیسرز کو ’نامکمل اور متضاد انتظامی ریکارڈ‘ کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ امر انتہائی افسوسناک اور محکمہ صحت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محکمہ اپنے ہی ڈاکٹرز کی پوسٹنگ، تعیناتی اور حاضری سے متعلق بنیادی ریکارڈ درست رکھنے میں ناکام رہا ہے، لیکن اپنی اس نااہلی اور ناقص نظام کا ملبہ ان ڈاکٹرز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے کہا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق علیمی کا کہنا تھا کہ ’باب المندب کے گرد و نواح میں عسکری صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کو یمن کا محض داخلی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
’باب المندب کو لاحق کوئی بھی خطرہ براہِ راست بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور عالمی تجارت کو متاثر کرے گا۔‘
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ کے مطابق یمن کے ساحلی علاقوں کا تحفظ اور ملک کی سرزمین اور آبی گزرگاہوں پر حکومت کی خودمختاری کی بحالی ’ایک مشترکہ بین الاقوامی مفاد‘ ہے۔
یمن میں علیحدگی پسند مسلح تنظیم ساؤدرن ٹرانزشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ایس ٹی سی سے منسلک فورسز پہلے ہی الضالع اور لحج صوبوں کے جنوبی محاذ پر حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔
تاہم ایس ٹی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کرنے، آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔
یمن میں تین ستمبر کے بعد سے شدید ترین لڑائی اس وقت دیکھنے میں آئی جب حوثیوں نے بندرگاہی شہر مخاکی جانب زمینی کارروائی شروع کی۔
اس حملے کے نتیجے میں متعدد محاذوں پر جنگ چھڑ گئی اور حکومتی افواج نے ملک بھر میں نئے محاذ کھول دیے۔
باغیوں نے 10 ستمبر کو مخا پر قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے۔ ایران جنگ کے دوران سعودی تیل کی ترسیل کے لیے یہ ایک اہم بحری راستہ بن گیا ہے۔
حکومت نے اس نئی لڑائی کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد چار سالہ غیر رسمی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پورے ملک پر ریاستی کنٹرول بحال کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو ’مخا بندرگاہ‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیت زیدی شیعہ برادری سے ہے اور یہ گروہ اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں ملتی ہیں، جہاں اس کی بنیاد معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی۔
ایران نے امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے تہران پر یمن میں دخل اندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود لیتے ہیں اور وہ کسی ملک کی پراکسی نہیں ہیں۔
جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’مارکو روبیو کا جھوٹ حقائق کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انصار اللہ (حوثی) ایک آزاد تحریک ہے، جو اپنے فیصلے خود لیتی ہے۔ وہ کسی سے احکامات نہیں لیتے اور نہ ہی کسی کی پراکسی ہیں۔‘
اس سے قبل امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حوثی ایران کے ایجنٹس اور پراکسی ہیں۔ (یمن میں جاری) کشیدگی کے پیچھے ان (ایران) کا ہی ہاتھ ہے۔‘
خیال رہے سعودی عرب، یمن میں اس کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان گذشتہ کئی ہفتوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔
سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ حوثیوں نے مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس اقدام سے آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں عالمی جہازرانی کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ اسے ایران میں واقع پک ایکس ماؤنٹین میں تعمیراتی سرگرمیوں کے آثار نظر آئے ہیں۔
پک ایکس ماؤنٹین وہ مقام ہے جہاں سکیورٹی سخت انتظامات دیکھنے میں آئے ہیں اور اس مقام کو ایران کی جوہری سرگرمیوں سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔
آئی اے ای اے کو سرنگوں پر مشتمل اس کمپلیکس کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ تاہم اس کے سربراہ رافیل گروسی نے نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا ہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں اس مقام پر تعمیراتی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کے آثار نظر آئے ہیں۔
پک ایکس ماؤنٹین تہران کے جنوب میں واقع ایران کے مرکزی یورینیم افزودگی پلانٹ کے قریب ہے۔
اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے بدھ کو کہا تھا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ پک ایکس میں کچھ سرگرمی ہو رہی ہے۔ میں ایران کو مشورہ دوں گا کہ زیادہ چالاکی نہ دکھائے کیونکہ پھر ہمیں ان پر بہت سخت حملہ کرنا پڑے گا۔‘
ٹرمپ کم از کم جولائی کے وسط سے پک ایکس ماؤنٹین پر حملوں کی دھمکیاں دیتے آ رہے ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے لندن میں ایران کی انٹیلی جنس سروس کو معاونت فراہم کرنے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
60 سالہ ایک مرد اور 42 سالہ خاتون کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت مبینہ جرائم کی تحقیقات کے سلسلے میں بدھ کے روز لندن میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دونوں مشتبہ افراد کو ایک غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی معاونت کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں سخت شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کی ضمانت اکتوبر کے آخر تک برقرار رہے گی۔
پولیس نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اس سال کے آغاز میں لندن بھر میں یہودی اور ایرانی برادریوں سے متعلق واقعات یا حملوں میں سے کسی سے بھی ’منسلک نہیں ہیں۔‘
میٹروپولیٹن پولیس نے مزید بتایا کہ یہ گرفتاریاں جون میں شمالی اور شمال مغربی لندن میں واقع دو املاک کی تلاشی کے بعد سامنے آنے والی تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئیں۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ لندن کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلیناگن نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ’ان گرفتاریوں کی خبر بعض افراد کے لیے باعثِ تشویش ہوگی۔‘
تاہم انہوں نے کہا ’گذشتہ ایک سال کے دوران قومی سلامتی اور ریاست کو درپیش خطرات سے متعلق ہمارے کام کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ تحقیقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔‘
’جیسا کہ ہم نے اس معاملے میں دکھایا ہے اگر ہمیں شبہ ہو کہ کوئی سرگرمی برطانیہ یا عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے تو ہم کارروائی کرنے سے ہرگز نہیں ہچکچائیں گے۔‘
الجزائر نے ’اشتعال انگیز اور معاندانہ‘ اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الجزائر کی جانب سے ان ’اقدامات‘ کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
الجزائر کے اعلان کے فوراً بعد اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ سفارتی تعلقات کی بنیاد ’عقلیت پسندی، رابطوں اور مفادات کی شفافیت‘ پر ہونی چاہیے، نہ کہ ’ایسی پہیلیوں اور اشاروں پر جنہیں سمجھنے کے لیے تشریح درکار ہو۔‘
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ الجزائر کے میڈیا کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس پر خطے میں اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کرنے کا الزام لگایا ہے۔
الجزائر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں مزید قابلِ قبول یا قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا اور الجزائر ’دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے تمام ذرائع استعمال‘ کر چکا ہے۔
دوسری جانب انور قرقاش نے الجزائر کا نام لیے بغیر کہا کہ کامیاب سفارت کاری واضح مؤقف اور مفادات و اختلافات کے مؤثر انتظام پر منحصر ہوتی ہے۔
الجزائر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت میں طلب کر کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔
الجزائر اور متحدہ عرب امارات کئی علاقائی معاملات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور الجزائر کے علاقائی حریف مراکش نے 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ابراہمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ’60 منٹس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والی تباہی اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے تاریخی ہے۔‘
سی بی ایس نیوز کی اینکرپرسن نے جب ان سے پوچھا کہ امریکہ کے لیے ایران کے خلاف جیت کی صورت کیا ہوگی، تو ہیگسیتھ نے جواب دیا: ’اس نتیجے کی شکل و صورت کے بارے میں مکمل اختیار ہمارے پاس ہے اور صدر نے ہمیں ایک انتہائی مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو ’مخا بندرگاہ‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
مخا بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق مخا بندرگاہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔
حوثیوں نے گذشتہ ماہ (دس اگست) کو بھی مخا بندرگاہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں آٹھ یمنی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اُس حملے کے بعد حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ ’حملے میں مخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا تھا کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘
یاد رہے کہ حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اور مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا اقدام آبنائے باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
جمعرات کے روز بھی حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائیہ نے یمن میں اُن (حوثیوں) کے اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
کشیدگی میں اس حالیہ اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
المخا شہر اور بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
حوثیوں کی جانب ’مخا‘ کا کنٹرول سنبھالنے کے دعوے کے بعد یہ بندرگاہ ایک مرتبہ پھر سے خبروں میں ہے۔
مخا بندرگاہ لمخا شہر ہی میں واقع ہے جس کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار کی وجہ سے ہوئی۔ 16ویں صدی سے مخا بندرگاہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگی، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔
17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ ’مخا‘ کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی ’کافی‘ کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس ’کافی‘ اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں ’موکا‘ کے نام سے معروف ہے۔
بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف ’کافی‘ تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔
مخا شہر میں واقع المخا بندرگاہ
یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں ’کافی‘ کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔
ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعاء اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔
مخا بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔
بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور عملے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔
یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں تھی۔
ستمبر 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔
ایران نے تیل، گیس اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ (مال برداری) فیس کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ایرانی فریٹ پر اضافی محصول موصول کر رہا تھا اور یہ 10 فیصد کی کمی اسی اضافی محصول پر کی گئی ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی سمندری راستے سے تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
فارس نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانی حکام کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس چارج کی وصولی اُس وقت تک روک دی جائے جب تک حکومت ان مصنوعات کی فہرست کی منظوری اور اشاعت نہیں کر دیتی جن پر یہ اضافی فیس لاگو ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافی چارج نے تیل، گیس اور دیگر مائع مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ حکام کا خیال ہے کہ اس کی معطلی سے ترسیلی اخراجات میں کمی آئے گی اور غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو ایران آنے یا ایران سے سامان لے جانے کی مزید ترغیب ملے گی۔
ایران کے سرکاری بینک، بینک سپہ، کی جرمن شاخ کو جرمن حکومت کی جانب سے قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے قاصر قرار دے دیا گیا ہے۔
جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے نے آج اس خبر کا اعلان کیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بینک سپہ اب ’اپنے صارفین کی جمع شدہ رقوم واپس کرنے کے قابل نہیں رہا۔‘
بینک سپہ کی جرمن شاخ فرینکفرٹ میں واقع ہے، جسے یورو زون کا مالیاتی دارالحکومت اور سب سے بڑا بینکاری مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یورپی مرکزی بینک بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے نے تقریباً ایک دہائی قبل نومبر 2017 میں اعلان کیا تھا کہ فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی شاخ کو اگلے حکم تک اپنے صارفین کو قرضے جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس وقت یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی تشویش بینک کی جانب سے دیے گئے قرضوں کے ممکنہ حجم سے متعلق تھی یا معاملہ صارفین کے قرضوں کی واپسی کے معاہدوں سے متعلق تھا۔
مشرقی چین میں ایک غیر ملکی پرچم بردار مال بردار جہاز میں آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جہاز میں سوار 42 افراد میں سے 12 کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ پانچ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس سے قبل تلاش اور امدادی کارروائیوں کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی، جبکہ وزیر اعظم لی چیانگ نے پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر بچانے پر زور دیتے ہوئے ثانوی حادثات سے بچنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔
یہ جہاز چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں واقع ایک شپ یارڈ میں مرمت کے عمل سے گزر رہا تھا جب مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11:15 بجے آگ بھڑک اٹھی۔
سی سی ٹی وی کے مطابق آگ پر تین گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں قابو پالیا گیا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے کسی فوجی کارروائی پر فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ ’وقت آنے پر پاکستان معاہدے کے تحت اپنا کردار ادا کرے گا۔‘
اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بات زیرِ غور نہیں ہے۔
انھوں نے کہا ’فی الحال اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی۔ جب وقت آئے گا تو ہم معاہدے کے تحت کارروائی کریں گے۔‘
یہ سوال اس تناظر میں اٹھایا گیا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد اپنی ذمہ داریاں کس طرح پوری کرے گا۔
اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت نے اس ہفتے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ جمعرات تک یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دوسرا محاذ بن چکے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں مصروف پاکستان نے ان حملوں کی مذمت تو کی، تاہم یہ نہیں بتایا کہ دفاعی معاہدے کی شرائط کے تحت وہ کیا ردعمل دے سکتا ہے۔
سجاد حیدر خان نے یہ بھی کہا کہ مکہ اتحاد کو مزید وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جبکہ امریکا خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی پڑے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس اقدام سے آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں عالمی جہازرانی کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
اس سے قبل یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپوں نے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے تھے۔
ادھر سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے دار الحکومت دہلی جائیں گے۔
12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں 18واں برکس سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دعوت پر شی جن پنگ 12 اور 13 ستمبر کو برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کا دورہ کریں گے۔
اس موقع پر دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس نے کہا ہے کہ تغلق روڈ کے علاقے میں تقریباً 500 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
برکس دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے ایک گروپ کا نام ہے۔
برکس انگریزی حروف B, R, I, C, S سے مل کر بنا ہے، جن میں ہر حرف ایک ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ ہیں۔