آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, انڈین کوسٹ گارڈ کا 30 ارب روپے سے زائد مالیت کی 526 کلوگرام منشیات کی برآمدگی اور پانچ پاکستانی شہریوں کی گرفتاری کا دعویٰ

انڈین کوسٹ گارڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گجرات کے انسدادِ دہشت گردی سکواڈ اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران بحیرۂ عرب میں لکشدیپ کے مغرب میں ایک مشتبہ ایرانی کشتی کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی۔ ’کارروائی کے دوران 526 کلوگرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین برآمد کی گئی، جن کی مالیت تین ہزار کروڑ انڈین روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. قطری ثالثوں نے ایران کو سات روزہ منصوبے پر امریکی ردعمل پہنچا دیا، عراقچی آج تہران میں جائزہ لیں گے

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کی ایک نئی کوشش کے تحت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کی شب دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جہاں انھیں مجوزہ سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل سے آگاہ کیا گیا۔

    مذاکرات سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ عراقچی بدھ کے روز تہران میں متعلقہ حکام کے ساتھ امریکی جواب کا جائزہ لیں گے اور آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا اور جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے زیادہ جامع اور مضبوط ورژن کی جانب واپسی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلاف اب بھی اس بات پر برقرار ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کس ترتیب اور ٹائم فریم کے تحت نافذ کیے جائیں۔ ایران اور امریکہ اصولی طور پر بعض اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار اور ترجیحات کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری ثالث دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکراتی تعطل ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  2. قطر کو معاہدے کی امید، مگر ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات برقرار

    قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی کی کوششوں کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنا اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانا ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہفتے ہونے والی بات چیت میں صرف ’محدود‘ پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں جانب سے کسی بڑی رعایت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو کہا کہ فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بقول قطر ایک ایسے معاہدے کے لیے کام کر رہا ہے جو تنازع کے اثرات کو کم کرے اور خطے میں استحکام کو فروغ دے۔

    انھوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں فطری ہوتی ہیں اور ثالث کا کردار انھی مشکلات کو دور کرکے فریقین کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا ہوتا ہے۔ ماجد الانصاری کے مطابق موجودہ کوششوں کا محور ایک ایسا پرامن حل تلاش کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی اور خطے کے ممالک کے سکیورٹی خدشات کے ازالے میں مدد دے۔

    دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے مذاکرات سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطری ثالثی کے باوجود بات چیت میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کوئی بھی فریق اہم معاملات پر رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن تہران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی پر غور کر رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں نئی فوجی کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو آئندہ سیاسی حالات کے تناظر میں سخت اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پیر کے روز قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ اس دوران ایک دو صفحات پر مشتمل قطری تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان موجود بنیادی اختلافات کو کم کرنا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ فارمولے میں ایران کے اس مطالبے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس پر عائد امریکی بحری پابندیاں ختم کی جائیں، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید رعایتوں کا خواہاں ہے۔

    بعد ازاں قطری نمائندے نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جزوی شرکت کی، تاہم وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    پیر کی صبح امریکی حکام نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر کچھ لچک دکھائی ہے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی قسم کی نئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔

    مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق بات چیت اس وقت تعطل کا شکار ہے کیونکہ ایران ایسے مطالبات کر رہا ہے جنھیں واشنگٹن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں اسے کسی بڑی رعایت کی ضرورت نہیں۔

    ادھر پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نئی رعایت پر غور نہیں کرے گا جب تک امریکہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھانے پر رضامند نہ ہو۔

    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ تہران اپنی شرائط واشنگٹن تک پہنچا چکا ہے۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ فیصلہ کن پوزیشن اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ’نہ مؤثر مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ ہی تصادم کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔‘

  3. مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

    ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، دونوں افراد کو رواں برس جنوری میں شمال مشرقی شہر مشہد میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

    ایران کی عدلیہ کے میڈیا سینٹر نے بتایا کہ بُدھ کی صبح ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ بیان کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھنے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پھانسی دی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں کردار ادا کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

  4. انڈین کوسٹ گارڈ کا 30 ارب روپے سے زائد مالیت کی 526 کلوگرام منشیات برآمد اور پانچ پاکستانی شہریوں کی گرفتاری کا دعویٰ

    انڈین کوسٹ گارڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گجرات کے انسدادِ دہشت گردی سکواڈ اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران بحیرۂ عرب میں لکشدیپ کے مغرب میں ایک مشتبہ ایرانی کشتی کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی۔

    انڈین حکام کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کشتی کا سراغ لگایا گیا اور مسلسل نگرانی کے بعد اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے روک لیا گیا۔ بعد ازاں سکیورٹی اہلکاروں نے کشتی پر چڑھ کر کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک مبینہ بین الاقوامی منشیات سمگلنگ نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا۔

    انڈین کوسٹ گارڈ کے بیان کے مطابق کارروائی کے دوران 526 کلوگرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین برآمد کی گئی، جن کی مالیت تین ہزار کروڑ انڈین روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔

    حکام نے بتایا کہ کشتی پر موجود پانچ پاکستانی عملے کے ارکان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد اور ضبط شدہ کشتی کو مزید تفتیش کے لیے ممبئی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں مختلف ادارے مشترکہ تحقیقات کریں گے اور قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

    انڈین کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ وہ بحری سرحدوں کی حفاظت، منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خاتمے اور بین الاقوامی منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  5. ڈیرہ بگٹی میں مسلح حملہ، چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ سرکاری حکام کے مطابق اہلکار سوئی سے سندھ کے شہر کشمور جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

    کوئٹہ اور ڈیرہ بگٹی میں تعینات دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ پیر کے روز پیر عنایت شاہ دربار کے قریب پیش آیا۔ سکیورٹی اہلکار ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی۔ حملے میں گاڑی کا ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔

    یہ واقعہ ضلع ڈیرہ بگٹی کے شمالی علاقے لوٹی میں دو روز قبل ہونے والی جھڑپوں کے بعد پیش آیا۔ سرکاری حکام اور مقامی قبائلی عمائدین کے مطابق لوٹی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی گیس کمپنی کے کیمپ اور ڈسٹرکٹ کونسل ڈیرہ بگٹی کے چیئرمین وڈیرہ غلام نبی شمبانی کے گھر پر حملہ کیا، جس کے بعد امن فورس کے رضاکاروں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

    کوئٹہ میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی میں آٹھ حملہ آور مارے گئے، جبکہ امن فورس کا ایک رضاکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے سکھر منتقل کیا گیا۔

    وڈیرہ غلام نبی شمبانی نے بتایا کہ حملہ آوروں نے براہِ راست ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ ان کے بقول، رات اور اگلی صبح ہونے والی جھڑپوں میں حملہ آوروں کا تعاقب کیا گیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور سات کو گرفتار کر لیا گیا۔

    لوٹی حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے میڈیا کو جاری بیان میں اپنے چھ جنگجوؤں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    دریں اثنا، ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر واقع مدینہ ہوٹل کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

  6. کوئٹہ سے کراچی منتقل کیے جانے والے 61 قیمتی باز لسبیلہ میں پکڑے گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں پاکستان کوسٹ گارڈز نے 61 نایاب اور قیمتی شکاری باز برآمد کر لیے، جنھیں بعد ازاں محکمہ جنگلی حیات کے حوالے کرنے کے بعد آزاد کر دیا گیا۔

    ضلع لسبیلہ میں محکمہ جنگلی حیات کے اسسٹنٹ کنزرویٹر حاصل بلوچ کے مطابق کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے یہ شکاری پرندے اوتھل چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران اپنی تحویل میں لیے۔ نایاب باز کوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسوں سے برآمد ہوئے، جہاں انھیں خفیہ طور پر منتقل کیا جا رہا تھا۔

    حاصل بلوچ نے بتایا کہ پرندوں کو کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم ضبط کیے جانے کے بعد انھیں محکمہ جنگلی حیات کے سپرد کر دیا گیا۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام 61 بازوں کو ان کے قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ نایاب شکاری پرندوں، خصوصاً بازوں، کی خلیجی ممالک میں بڑی مانگ پائی جاتی ہے اور انھیں تربیت دے کر شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سردیوں کے موسم کے دوران آنے والے عرب شیوخ بھی تلور کے شکار میں انھی تربیت یافتہ شکاری پرندوں سے مدد لیتے ہیں، جس کے باعث ایسے پرندوں کی سمگلنگ ایک منافع بخش مگر غیر قانونی کاروبار سمجھی جاتی ہے۔

  7. قطری ثالثوں کی امریکہ۔ایران سفارتی پیش رفت کی کوششیں تعطل کا شکار

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق، قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی، جبکہ مذاکرات سے آگاہ تین ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر، 26 اکتوبر کو نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے اپنا مجوزہ منصوبہ واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ منگل کے روز اس تجویز پر اپنا باضابطہ جواب دے گی۔

    دوسری جانب، ایگزیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطری حکام دونوں ممالک کے درمیان خلیج کم کرنے کی کوششیں بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور دونوں فریقوں کے سخت مؤقف کے باعث ثالثوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، قطر اب بھی رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کسی فوری بریک تھرو یا معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے جواب اور دونوں جانب کے ردعمل سے مذاکرات کے مستقبل کا تعین ہوگا۔

  8. آبنائے ہرمز کی بندش، عراق کا شام کے راستے ایندھن درآمد کرنے کا فیصلہ

    آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراق نے شام کے راستے ایندھن کی درآمد شروع کر دی ہے، جس کے تحت عراقی ٹینکر بنیاس بندرگاہ سے پٹرول حاصل کر رہے ہیں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب پوری کی جا سکے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معطلی کے بعد عراق نے متبادل راستوں کی تلاش تیز کر دی ہے اور شام کی بحیرۂ روم پر واقع بنیاس بندرگاہ کے ذریعے پٹرول درآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عراقی ایندھن بردار ٹینکروں نے بنیاس سے پٹرول لوڈ کیا تاکہ ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کی جا سکے۔

    آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ راستہ بند ہونے کے باعث ممالک متبادل سپلائی روٹس تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، شام نے اس صورتحال کو معاشی موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بنیاس بندرگاہ کو علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے متبادل راستے کے طور پر پیش کیا ہے۔ عبوری صدر احمد الشریعہ کی حکومت کے تحت شام اپنی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، اور امریکہ سمیت یورپی منڈیوں سے وابستہ بعض تجارتی اداروں نے بھی اس بندرگاہ سے استفادہ کیا ہے۔

    حالیہ مہینوں میں عراق آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے بنیاس کے راستے زمینی نقل و حمل کے ذریعے تیل بیرونی منڈیوں تک پہنچاتا رہا ہے۔ اب بغداد اور دمشق کے درمیان ہونے والے تین ماہ کے معاہدے کے تحت عراق نے شام کے راستے پٹرول کی باقاعدہ درآمد بھی شروع کر دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت درآمد کی گئی پٹرول کی پہلی کھیپ گذشتہ جمعرات کو عراق پہنچ گئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  9. امریکہ کا پاسداران انقلاب کے تین کمانڈروں کی معلومات پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان

    امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے تین سینیئر کمانڈروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 15 ملین ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے قومی سلامتی ڈویژن نے منگل کو اپنے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کے تحت اعلان کیا کہ جو شخص ان کمانڈروں کی شناخت، مقام یا سرگرمیوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے گا، اسے مجموعی طور پر 15 ملین ڈالر تک کا انعام دیا جا سکتا ہے۔

    اعلان میں سب سے پہلے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ محرابی کا نام شامل ہے، جو پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے جہاد ریسرچ اینڈ سیلف سفیشنسی آرگنائزیشن کے سربراہ ہیں۔ دوسرا نام احمد جعفرآبادی کا ہے، جنھیں ایرو اپیس فورس کے سینیئر کمانڈر اور آپریشنل امور کے نگران کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس سے مراد ایرو سپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جعفرآبادی ہیں یا کوئی اور شخصیت۔ تیسرے کمانڈر علی اصغر نوروزی ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب میں تیاری اور سپورٹ کے نائب کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    اسی روز امریکہ نے ایرانی وزارتِ دفاع سے وابستہ قرار دیے جانے والے 10 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے جاری فہرست میں ایران، چین، پاکستان اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے افراد اور ادارے شامل ہیں۔

    یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ واشنگٹن حالیہ مہینوں میں تہران کے خلاف دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے، جس میں نئی اقتصادی پابندیاں اور بعض ایرانی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

  10. نورستان میں پاکستان سے آنے والے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ختم ہو گیا: افغان طالبان

    طالبان حکومت کے وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا ہے کہ نورستان ولایت کے ضلع کامدیش میں ’پاکستانی فوجی حکومت کی مدد‘ سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے آنے والے شرپسند اور داعش سے وابستہ فتنہ گروں کے خلاف افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز کا آپریشن آج مکمل ہو گیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ترجمان نے یہ الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ان عناصر کے خلاف کی گئی جو مبینہ طور پر پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار کرکے نورستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغان سکیورٹی اور دفاعی اداروں نے آپریشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اپنے اہداف کے حصول کے بعد مکمل کر لی گئی ہے۔

    پاکستان پر نورستان میں دراندازی کرانے کا الزام، افغان وزارتِ خارجہ کا احتجاج

    افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے نورستان کی سمت ڈیورنڈ لائن عبور کرنے والے مسلح عناصر کے معاملے پر ایک سخت احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق 24 ستمبر نورستان کے ضلع کامدیش کی سمت شرپسند عناصر اور داعش سے وابستہ جنگجوؤں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوجی حکام کی براہِ راست مدد اور رہنمائی سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہونے اور تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کی۔ تاہم افغان سکیورٹی فورسز نے ان کی پیش قدمی روک دی اور انھیں اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کرنے دیا۔

    یہ بیان افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کا فوجی نظام اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں مسلح عناصر کی بھرتی، تنظیم، تربیت اور مسلح کرنے کے مراکز قائم کرنے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے اور بعد ازاں انھیں براہِ راست رہنمائی کے ساتھ ڈیورنڈ لائن پار کرواتا ہے۔ افغان حکام نے ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات افغانستان کی خودمختاری اور سرحدی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اسلامی، بین الاقوامی، انسانی اور ہمسائیگی کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو ان کے منفی نتائج کی تمام تر ذمہ داری پاکستان کے فوجی نظام پر عائد ہوگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

  11. امریکہ اور اسرائیل ایران میں اندرونی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فوجی ذرائع سے ایران کو جھکانے میں ناکامی کے بعد اب ملک کے اندرونی اختلافات کو ہوا دینے اور تقسیم پیدا کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کے میئرز سے ملاقات کے دوران صدر پزشکیان نے کہا کہ ’ایرانی عوام کو جنگ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد دشمنوں نے اپنی پوری توجہ اندرونی اختلافات پیدا کرنے اور انھیں بڑھانے پر مرکوز کر دی ہے۔‘

    انھوں نے قومی اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو کمزور کرنے کے بجائے تمام شہریوں کی شرکت اور تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

    مسعود پزشکیان کے بقول، ’کسی گروہ کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسی بنیاد پر ملک کو کمزور کرے۔ تمام شہریوں کی عوامی شرکت سازشوں کا مقابلہ کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔‘

  12. برنی سینڈرز کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ

    امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ امریکہ میں عوام اور قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، اور ان کے بقول سینیٹ میں حالیہ ووٹنگ اس رجحان کا واضح ثبوت ہے۔

    امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد کو مسترد کر دیا جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں اور امریکی شہریوں کے خلاف تشدد سے متعلق رپورٹ پیش کرنا ہوتی۔ تاہم، قرارداد کے خلاف 51 اور حق میں 47 ووٹ پڑے، جسے سینڈرز نے اسرائیل سے متعلق پالیسی پر رائے میں نمایاں تبدیلی قرار دیا۔

    سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جنوری 2024 میں میں نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ووٹنگ کرائی تھی، جس کی حمایت صرف 11 سینیٹرز نے کی تھی۔ آج ویسٹ بینک میں اسرائیل کے اقدامات کی تحقیقات سے متعلق ملتی جلتی قرارداد کے حق میں 47 سینیٹرز نے ووٹ دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی عوام کی آواز سنیں، اسرائیل کو مزید فوجی امداد نہیں دی جانی چاہیے۔‘

  13. کشمیر میں سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو ، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام ہماچل پردیش کی سرحد سے متصل علاقے بسوہلی کے گاؤں مشکا میں قائم سیوا تھری ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کے سکیورٹی کیمپ میں پیش آیا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کی تبدیلی کے دوران اہلکاروں کے درمیان کسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی۔ الزام ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل اودھیش کمار سنگھ نے طیش میں آ کر اپنی سرکاری اے کے 47 رائفل سے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں چار اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ انھیں فوری طور پر ہماچل پردیش میں این ایچ پی سی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور کمپنی کمانڈر انکت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، اور کانسٹیبل محمد رفیق اور سندیپ کمار شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد کیمپ میں موجود دیگر اہلکاروں نے ملزم کو قابو کر لیا اور بعد ازاں اسے جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطح کورٹ آف انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

  14. چار اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، پہلے مرحلے میں صوابی جائیں گے: سہیل آفریدی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ چار اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت ہو گا۔

    چیف منسٹر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران سہیل آفریدی سے سوال کیا گیا کہ ’چار اکتوبر کو کہاں سے نکلیں گے اور اسلام آباد بھی جائیں گے یا نہیں جائیں گے؟‘

    اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’پہلے مرحلے میں ہم صوابی جائیں گے، اور صوابی کے بعد آگے ضرور جائیں گے۔‘

    یہ جواب دینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مسکرانے لگے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران وفاقی حکومت نے کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا تو اسے ’بہت بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کے وزرا پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار لانگ مارچ میں شریک افراد کی تعداد حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم 25 ستمبر کو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لانگ مارچ کو چار اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

  15. صومالیہ کے قریب پانچ ماہ قبل اغوا ہونے والے بحری جہاز کی بازیابی کا دعویٰ، پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی، وزارتِ خارجہ

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افریقی ملک جبوتی میں پاکستانی مشن کو ایک ایسے بحری جہاز کو قزاقوں سے چھڑانے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے چند ماہ قبل ’پنٹ لینڈ‘ کے علاقے میں بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

    اس سے قبل صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دھارین بار‘ کے ساحل کے قریب سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    میری ٹائم پولیس نے دعوی کیا ہے کہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ بحری قزاقوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    میری ٹائم پولیس کے مطابق یہ جہاز اب پنٹ لینڈ حکومت کی تحویل میں ہے۔

    خیال رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی بحری جہاز کو رواں برس اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ عملے میں انڈونیشین، سری لنکن، انڈین اور میانمار کے شہری بھِی شامل ہیں۔

    پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

  16. یمن کے معاملے پر کئی ماہ کے اختلافات کے بعد سعودی اور اماراتی رہنماؤں کی ریاض میں ملاقات

    یمن کے معاملے پر مہینوں کے اختلافات کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی ریاض میں ملاقات ہوئی۔

    ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل، سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمن میں باغیوں کی حمایت کر کے سعودی قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

    منگل کی یہ ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان کے درمیان ہوئی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس موقع پر ملک کے وزیرِ دفاع خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔

    سعودی عرب حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مدد حاصل کرنے کی غرض سے کئی ہفتوں سے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔

    ایران کے اتحادی حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بحیرہ احمر میں اس کے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی بار بمباری کی ہے۔

  17. جموں و کشمیر پر ترک صدر کا حوالہ مسترد کر دیتے ہیں: انڈیا

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ترک صدر رجب طیب اروغان نے جموں و کشمیر پر جو حوالہ دیا، ’انڈیا اسے مسترد کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ’مسئلہ کشمیر‘ سمیت تمام تنازعات کو ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔‘

    اس خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے آج انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کا ’معاملہ انڈیا کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری سے متعلق ہے‘ اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس پر بات کا اختیار نہیں۔

  18. تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنے کی سکت نہیں رکھتے، لیکن اگر پی ٹی آئی نے یہ کوشش کی تو انھیں اسلام آباد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہو رہے ہیں، لہذا ان کے لیے ان حالات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو متحرک کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی ممالک کے سفارتخانے ہیں، یہاں غیر ملکی وفود آتے ہیں، کیا پاکستان کا یہ تاثر جانا چاہیے کہ یہاں جلاؤ گھیراؤ ہوتا رہتا ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ تاہم وہاں فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی پر بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ حکومت گھر جائے۔

  19. ایران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی شرائط امریکہ کو بتا دی ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔‘

    آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم، جو تہران کے دورے پر آئے تھے، سے ملاقات میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ’ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر سکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘

    محسن رضائی نے کہا کہ ’ایران کی شرائط امریکہ کو بتا دی گئی ہیں، لیکن ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں، اور امریکہ نے فوجی جنگ میں بے بسی کے باعث فضائی ناکہ بندی کا سہارا لیا ہے۔‘

    اس سے چند گھنٹے قبل، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک سے تہران واپسی کے موقع پر کہا تھا کہ اس دورے میں ان کا مشن امریکہ کو ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا تھا، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ’اس حوالے سے ایران کے پاس ایک منصوبہ موجود ہے، اس کی شرائط مکمل طور پر منصفانہ اور منطقی ہیں، اور اگر امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی معاہدے یا پرامن حل کے خواہاں ہیں، تو ہم یہ حل پیش کر چکے ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے فریق ان سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔