لائیو, ایرانی میڈیا کا امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی تردید

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کیا تھا۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی بازیابی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

خلاصہ

  • غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملے، 34 افراد ہلاک
  • اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
  • آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام
  • ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ

لائیو کوریج

  1. ہم ایران کے ساتھ مذاکرات سے ابھی مطمئن نہیں، لیکن ہو جائیں گے: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے‘ اور ’ہم ابھی اس سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن (یہ کامیاب) ہو جائیں گے۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یا تو یہ اسی طریقے سے حل ہو جائے گا، یا پھر ہمیں اسے ختم کرنا پڑے گا۔‘

    ایرانی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں واپس جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کرنا پڑے۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی قیادت ’معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار ہے۔‘

  2. ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس وقت ایسا لگتا ہے کہ وہ (ایرانی) صرف معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا ملک جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

  3. ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں: ایرانی میڈیا

    ایران کے خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن (جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے کہا کہ: ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ابھی کچھ مسائل حل طلب ہیں، اور جب تک ایران سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو جاتے، کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘

    ذرائع کے مطابق ’اگر یہ باقی ماندہ معاملات مکمل طور پر حل ہو جائیں تو ایران خود باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان کرے گا۔‘

    فارس نیوز نے مزید لکھا کہ ’باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی یکطرفہ طور پر ایران-امریکہ معاہدے کے حتمی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عوامی رائے پر اثر انداز ہونے اور تنازع پوری طرح حل ہونے سے پہلے ہی معاہدے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  4. گذشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے 23 جہاز گزرے، پاسداران انقلاب

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی اجازت سے 23 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ پاسداران کی بحریہ نے ایک روز قبل بھی بتایا تھا کہ اس کی ہم آہنگی سے 25 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

    اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ابتدائی اور غیر رسمی مسودہ موصول ہوا ہے۔

    اس مبینہ مسودے کے مطابق ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔

  5. بریکنگ, ایرانی میڈیا کا امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کی تردید

    US, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسے تہران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ایک ابتدائی اور غیر سرکاری مسودہ موصول ہوا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ مفاہمت کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف میں تعینات اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔

    اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہازوں کے راستوں کے انتظام کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے گی۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سلامتی کے نائب سربراہ، علی باقری کنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر مشترکہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے شرائط اور طریقہ کار ایران سے متعلق تنازع سے پہلے کی صورتحال سے مکمل طور پر مختلف ہوں گے۔

    علی باقری کنی نے مزید کہا کہ ’جب تک ہم تمام مسائل پر اتفاق نہیں کر لیتے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں ہوا۔‘

    وائٹ ہاؤس سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی یہ رپورٹ درست نہیں ہے اور جس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو انھوں نے ریلیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہ مکمل طور پر من گھڑت ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات پر کسی کو یقین نہیں کرنا چاہیے۔ حقائق ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

  6. لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج: ’عید کے دن بھی خوشی میسر نہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Quetta

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کیا تھا۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔

    مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی بازیابی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

    مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، نیاز بلوچ اور بزرگ سیاسی رہنما مہیم خان بلوچ کے علاوہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    Quetta

    لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ملک بھر میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب وہ اپنے پیاروں کی جدائی کے باعث اس دن بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔

    ان کے مطابق برسوں گزر جانے کے باوجود ان کے عزیزوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم مطالبہ کرتی رہی ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، تاہم ان کے بقول حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    missing persons

    انھوں نے کہا کہ ’جب حکومت اس مسئلے کو حل نہیں کر رہی تو ہم اسے سول سوسائٹی کے سامنے لے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری میں متعارف کرائے گئے قانون کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    ان کے مطابق فروری سے اب تک ان کی تنظیم کے پاس مبینہ جبری گمشدگی کے 257 نئے کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری مراکز میں صرف محدود تعداد میں افراد موجود ہیں۔

    نصراللہ بلوچ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گذشتہ چند ماہ سے سرکاری حکام کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو ختم کروانے کے لیے کیمپ انچارج نیاز بلوچ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    Quetta

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

    دوسری جانب سرکاری حکام اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق حکومت نے قانون سازی کے ذریعے لاپتہ افراد کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت مشتبہ افراد کو تحویل میں لے کر مخصوص مراکز میں رکھا جائے گا اور ان کے اہلِ خانہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

  7. ’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا: ایرانی سفارتخانے کی لنڈسے گراہم پر تنقید

    Lendsy Graham

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپان میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے ایک ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی ایک خودمختار ریاست پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کے منافی ہے اور اسے اس کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بطور ثالث کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’کچھ عرصے سے میرے لیے یہ واضح ہے کہ پاکستان بطور ثالث ایک مشکل انتخاب ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ ’طویل عرصے سے جاری کشیدگی‘ ایک پس منظر ہے۔

    سینیٹر گراہم نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ایرانی فوجی طیاروں کو پاکستانی فضائی اڈوں پر رکھا جا رہا ہے‘، تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیرِ دفاع کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا عدم اعتماد ’تشویش کا باعث‘ ہے اور ان کے بقول یہ مؤقف تاحال برقرار ہو سکتا ہے۔

    سینیٹر گراہم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے مطالبے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

  8. اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس: اسحاق ڈار کے خطاب کے بعد پاکستان اور انڈیا کے مندوبین کے ایک دوسرے پر الزامات

    اقوام متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے تنازع کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے ذکر کے بعد انڈیا کے مندوب نے پاکستان کو الزامات کا نشانہ بنایا اور پاکستان کی مندوب نے بھی جوابی الزامات عائد کیے۔

    اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل تحت منعقد کردہ مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا موضوع تھا: ’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانا۔‘

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والے اس مباحثے میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا: ’تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع حل طلب ہے، حالانکہ اس بارے میں سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘

    پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جبر پر قائم نہیں ہو سکتا اور ’نہ ہی یہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پانی کے حوالے سے تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جبر، بے دخلی اور بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ کے ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

    جبکہ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب ہریش پرواتھنینی نے الزام لگایا کہ پاکستان سرحد پار جارحیت کرتے ہوئے ان انڈین علاقوں پر نظر رکھتا ہے جو انڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔

    انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان ’ہزار زخموں کے ذریعے انڈیا کو لہولہان کرنے‘ کے نظریے پر عمل کرتا ہے۔

    اس کا جواب اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت کار صائمہ سلیم نے دیا۔

    انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور ’اس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل در آمد سے انکار کر کے انڈیا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

    صائمہ سلیم نے بھی انڈیا پر پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا الزام لگایا اور پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کا سہولت کار انڈیا کو قرار دیا۔

  9. گذشتہ سال سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح رہا کر دیے گئے

    انڈیا کے بحری حکام نے اعلان کیا ہے کہ جولائی 2025 سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح ’مسلسل سفارتی کوششوں‘ کے بعد رہا کر دیے گئے ہیں۔

    انڈیا کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بتایا کہ گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے جہاز ایم وی ہاربر فینکس کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور جہاز پر سوار عملے کو قید کر لیا تھا۔

    اس ادارے نے ایک بیان میں کہا: ’یہ ملاح اب رہا ہو چکے ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں، انھیں جلد از جلد انڈیا واپس بھیجنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔‘

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے عملے کی گرفتاری یا جہاز کی ضبطی کی وجہ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز ایک آئل ٹینکر ہے جو پیٹرولیم مصنوعات لے جا رہا تھا اور پالاؤ کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔

  10. ایران میں تبریز ایئرپورٹ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے: سول ایوی ایشن تنظیم

    ایران میں تبریز ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہMehr News

    ایران کی سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان کے مطابق تبریز کا بین الاقوامی ہوائی اڈا، جو حالیہ جنگ کے دوران متاثر ہوا تھا، آج سے دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔

    مجید اخوان نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہوائی اڈے کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق، تبریز ایئرپورٹ 21 واں ہوائی اڈا ہے جو جنگ بندی کے بعد پھر سے فعال کیا جا رہا ہے۔

    ایران کے مقامی میڈیا نے گذشتہ ہفتوں میں رپورٹ کیا تھا کہ تبریز پر حملوں کے دوران اس ہوائی اڈے کا رن وے اور کنٹرول ٹاور متاثر ہوا تھا۔

    تبریز ایئرپورٹ ایران کے اہم ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور استنبول، بغداد، دبئی، باکو اور ہیمبرگ سمیت تقریباً نو بین الاقوامی مقامات کے لیے یہاں سے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔

    سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان نے خبر رساں ادارہ مہر سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 39 روزہ جنگ کے بعد ملک کے ہوائی اڈے بتدریج معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

  11. اسرائیل کے فضائی حملے میں 31 افراد ہلاک ہوئے: لبنان

    اسرائیل کے لبنان پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 31 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ بدھ کی صبح لبنان سے ایک میزائل داغا گیا جو اسرائیل کے اندر داخل ہو کر ایک کھلے علاقے میں گرا۔ اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ اس نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی فوجی لبنان میں ان علاقوں سے بھی آگے بڑھ رہے ہیں جہاں وہ گذشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تعینات تھے۔

  12. غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    غزہ میں اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والی تباہی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    مقامی امدادی کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق غزہ شہر کے ایک مصروف ترین بازار میں واقع رہائشی عمارت پر اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے مرکز میں واقع الکیالی عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد عید الاضحیٰ سے قبل خریداری کے لیے آئی ہوئی تھی۔

    امدادی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، لیکن شدید تباہی اور علاقے میں ہجوم کے باعث عمارت کی بالائی منزلوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ کم از کم پانچ میزائل تقریباً بیک وقت اور مختلف سمتوں سے عمارت پر آ گرے۔

    یہ غزہ پر اسرائیل کا تازہ ترین مہلک حملہ ہے۔

  13. اسرائیل کا غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو ہلاک کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا کہ محمد عودۃ 7 اکتوبر کے حملوں کے وقت حماس کی انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور انھیں عزالدین حداد کی موت کے بعد ایک ہفتے قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ محمد عودہ اسرائیلی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے ’قتل، اغوا اور انھیں زخمی‘ کرنے کے ذمہ دار تھے۔

    ’ہم ان تمام لوگوں کا پیچھا کرنا جاری رکھیں گے جنھوں نے 7 اکتوبر کے قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔ جلد یا بدیر اسرائیل ان سب تک پہنچے گا۔‘

    حماس نے تاحال محمد عودۃ کی موت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

  14. جنگ کے خاتمے کے لیے ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باوقار فریم ورک‘ کے حصول کے لیے تیار ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق منگل کو قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاسداری کی ہے۔‘

    ’اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔‘

    ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے کے لیے دستاویزات اور متون کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

  15. آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنے کی خبریں غلط ہیں: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM/X

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان میڈیا رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی رہنمائی یا معاونت کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے اور امریکی فورسز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظتی رہنمائی نہیں کر رہیں۔‘

  16. ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا: وزارت خارجہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

    منگل کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی ’غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں‘ جاری رکھیں۔

    بیان میں خاص طور پر گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ’سمندری قزاقی‘ کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے ’بدنیتی پر مبنی عزائم‘ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا امریکہ کے بارے میں ’گہرا عدم اعتماد‘ اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں ’منطقی اور حقیقت پسندانہ‘ ہے، اور یہ کہ ایرانی موقف میدانِ جنگ، عوامی سطح اور سفارتی سطح، تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان واقعات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’جارحانہ اقدام‘ کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔

    تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  17. اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں تیزی، حزب اللہ کا مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ حزب اللہ نے ’غیر ملکی سرپرستی‘ اور تقسیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے شہروں اور دیہاتوں میں اسرائیلی فضائی حملے شدت اختیار کر گئے، جب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو ’کچل دیا جائے‘۔

    ان بیانات کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی، کیونکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ ان علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے جنگجو مقبوضہ لبنانی علاقوں میں اسرائیلی افواج اور شمالی اسرائیل کے مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جنھیں حزب اللہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا ردعمل قرار دیتی ہے۔

    اپنی جانب سے، لبنانی حزب اللہ نے لبنانی آئین کے اجرا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر طائف معاہدے کے بعد ترمیم شدہ آئین کو تنازعات کے حل اور ریاستی امور کے نظم و نسق کے لیے بنیادی حوالہ قرار دینے پر زور دیا۔

    لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں جماعت نے ’تقسیم، وفاقیت اور آبادکاری‘ کے منصوبوں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ آئین کی روح اور لبنان کے اتحاد کے خلاف ہیں اور تنوع کو اختلاف اور تنازعے کا ذریعہ بناتے ہیں۔

    حزب اللہ کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ نظام اب ایک مستحکم اور منصفانہ ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہا، اور طائف معاہدے کی اصلاحات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا، خاص طور پر سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے اور ’شہری ریاست‘ کے قیام پر زور دیا۔

    جماعت نے مزید کہا کہ ’قابض کے خلاف مزاحمت‘ ایک جائز حق ہے جو لبنانی آئین اور عرب و بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، اور اسرائیلی خطرے کے پیش نظر لبنان سے ’طاقت کے عناصر‘ کو ختم کرنا طائف معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

    اسرائیل، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بیان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ’دشمنی، قبضے اور مسلسل خطرے‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے معمول کے تعلقات کو مسترد کیا گیا ہے۔

    حزب اللہ نے لبنان کو جارحیت اور بیرونی مداخلت سے بچانے اور ’خودمختاری، شراکت داری اور اصلاحات‘ کی بحالی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ لبنان ’صرف متحد، خودمختار، آزاد اور قابض کے خلاف مزاحمت کرنے والا ہو کر ہی باقی رہ سکتا ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ شمالی اسرائیل کے علاقے ساسا میں، جو لبنان کی سرحد کے قریب ہے، ’دشمن طیارے‘ کی ممکنہ دراندازی کے الرٹ سائرن بجائے گئے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے مشرقی لبنان کی وادیِ بقاع سمیت ملک بھر میں ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا، جب کہ نیتن یاہو نے پیر کی رات خطاب میں کہا کہ اسرائیل ’حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے‘ اور فوج کو اسے ’کاری ضرب‘ لگانے کی ہدایت دی ہے۔

    ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل میں تین فوجی بیرکوں اور ایک فوجی مقام پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    جماعت نے متعدد بیانات میں کم از کم چار ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں شمرا بیرک، شمالی اسرائیل کے دو شہروں میں واقع بیرکوں اور مصغاف عام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

    لبنان اور اسرائیل نے اسی ماہ جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس دوران جھڑپیں جاری رہیں۔

    ابتدائی جنگ بندی کے بعد اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان میں اسی عرصے کے دوران شدید اسرائیلی گولہ باری میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی تھی۔

    اسرائیل نے اس کے جواب میں پورے لبنان میں فضائی مہم شروع کی اور پھر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 3,185 افراد ہلاک اور 9,633 زخمی ہوئے۔

  18. ہم جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کے حق کو جائز اور یقینی سمجھتے ہیں: پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کا حق ’جائز اور یقینی‘ سمجھتے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمان نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں دفاعی نوعیت کے حملے کیے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان میں، ان حملوں کا براہِ راست ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ امریکی فوج نے ’خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ مہم جوئی اور جارحانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے خلیج فارس کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوئی‘، جس کے بعد پاسداران انقلاب کے دفاعی یونٹس نے ’محتاط انٹیلی جنس نگرانی کے بعد ایک MQ-9 ڈرون کی نشاندہی کر کے اسے مار گرایا۔‘

    پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اس نے ایک RQ4 ڈرون اور ایک F-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کی، ’جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو کر علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔‘ پاسداران نے ان حملوں کے وقت اور مقام کی وضاحت نہیں کی۔

    اس سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گذشتہ رات جنوبی ایران میں نئے حملے کیے، جن میں ایرانی میزائل سائٹس اور اُن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو ’بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘

    امریکی سینٹرل کمان کے بیان کے مطابق یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’ایرانی فورسز کی جانب سے درپیش خطرات سے امریکی افواج کا تحفظ‘ تھا۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے گذشتہ رات اطلاع دی کہ بندر عباس اور شہر کے ہوائی اڈے کے اطراف دھماکے کی آواز سنی گئی۔

    تیل کی قیمتیں، جو ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کی امیدوں کے بعد نمایاں حد تک کم ہو گئی تھیں، اب دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔

    تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر نئے حملوں کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔