آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو 'بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے': جے ڈی وینس
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف
  • امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے‘: جے ڈی وینس

    اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ’آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے‘ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ خطہ میری پوری زندگی کے دوران اور اس سے پہلے سے بھی مسائل کا شکار رہا ہے۔‘

    وینس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ایران کے خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ اب ’مشرقِ وسطیٰ میں خوشحالی اور کامیابی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنا ممکن ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم اس خطے سے امریکی عوام کے لیے بھی خاصی خوشحالی پیدا کر سکتے ہیں۔

  2. تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی فٹبال ٹیم اپنے افتتاحی میچ کے لیے لاس اینجلس پہنچ گئی

    ایران کی فٹ بال ٹیم فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ گئی ہے۔ ایرانی ٹیم اس وقت لاس اینجلس ایئرپورٹ پر اتری جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ایرانی ٹیم کے نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں اس کے افتتاحی ورلڈ کپ میچ سے صرف ایک روز قبل طے پایا ہے۔ اس سے مزید کشیدگی کے خدشات تو کم ہوئے ہیں تاہم ٹیم کے حوالے سے پائے جانے والے تنازعات اب بھی موجود ہیں۔

    ایرانی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر مہدی طارمی نے بی بی سی کو بتایا کہ جاری کشیدگی نے ٹیم کی آمد کے لمحے سے ہی ٹورنامنٹ کو متاثر کیا ہے۔

    تیاریوں میں بھی خلل پڑا ہے۔

    ایرانی ٹیم کو ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اپنا ورلڈ کپ بیس کیمپ میکسیکو منتقل کرنا پڑا۔

    جب ایرانی ٹیم لاس اینجلس میں میدان میں اترے گی تو شہر میں مقیم ایرانیوں کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے موجود نہیں ہو گی۔

    کچھ افراد فیفا کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے ’شیر و خورشید‘ کے پرچم پر پابندی کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اس ٹیم کو ایک ایسے نظام کی نمائندہ سمجھتے ہیں جسے وہ ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    کھلاڑیوں کا اصرار ہے کہ وہ یہاں ایرانیوں کو متحد کرنے اور فٹ بال پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے آئے ہیں۔

    لیکن اس ٹیم کے لیے سیاست سے بچنا ممکن نہیں رہا۔

  3. ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے سفارتی مذاکرات، پابندیوں اور معائنوں کا مرکز رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اسے امریکہ کی جانب سے فروری کے اواخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل مسلسل اس دعوے کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

    2015 میں طے پانے والے ایک جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک محدود کر دی تھی۔ افزودگی کی یہ سطح جوہری بجلی گھروں کے لیے ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم ہتھیاروں کے لیے یورینیم کو 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ کرنا پڑتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایران نے کھلے عام یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ شروع کر دیا۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق گذشتہ سال جون تک ایران 60 فیصد تک افزودگی کر رہا تھا اور اس نے 400 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔

    آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے کہا کہ وہ حال ہی میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر ’معمول کا معائنہ‘ کرنے میں کامیاب رہی، تاہم دیگر جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی کو تقریباً ایک سال گزر چکا تھا۔

  4. مزید عالمی رہنماؤں کا امریکہ‑ایران معاہدے کا خیرمقدم

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ ’امریکہ اور ایران ایک امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔‘

    انتونیو گوتریس کے ترجمان کے مطابق، ’یہ تنازع کے پُرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘

    جاپان کی وزیرِ اعظم سانی تکائیچی نے بھی اس معاہدے کو سراہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جاپان کو امید ہے کہ ’آبناۓ ہرمز کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے گا، اور ایران کے جوہری مسئلے اور دیگر معاملات پر جلد از جلد حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔‘

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے یہ معاہدہ ’پائیدار اور دیرپا امن‘ کا باعث بنے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے پرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا مگر اس اہم تجارتی راستے کی بحالی توانائی کی قیمتوں اور معیشتوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

    نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ وِنسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو ’اہم اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کی جانب قدم ہے جو عالمی معاشی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

  5. امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    • ایران اور امریکہ میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط سوئٹزرلینڈ میں 19 جون کو ہوں گے۔ ہم اس بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں:
    • اتوار اور پیر کی درمیانی شب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
    • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر ایک ٹیلیفونک گفتگو میں اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘
    • خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔
    • قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
    • برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 3.8 فیصد کمی کے بعد 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا ہے۔
  6. عالمی تیل کے ذخائر فوری طور پر بحال نہیں ہوں گے, ڈیوڈ واڈل، بی بی سی

    عالمی تیل کے ذخائر کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

    اگرچہ کچھ آئل ٹینکرز پہلے ہی خلیج کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن کئی شپنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر معاہدے پر عملی طور پر عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی کے واضح آثار کا انتظار کریں گی۔

    متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مربوط امن معاہدہ ہو جائے تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل آئندہ برس کی پہلی یا دوسری سہ ماہی تک بحال نہیں ہو سکے گی۔

    مارچ میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے رکن ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کریں گے۔ اس میں سے ایک تہائی سے زیادہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

    اگرچہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سب سے پہلے عالمی طلب (تقریباً 104 ملین بیرل یومیہ) کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

  7. تجزیہ: یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار برائے امریکی محکمہ خارجہ

    یہ معاہدہ ہونا تو طے تھا۔

    پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث امریکہ میں مہنگائی تین برس کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب طویل المدتی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت امریکہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھی۔

    دونوں فریقوں کو ایک وقفے کی ضرورت تھی۔

    اس معاہدے کی ترجیح آٹھ اپریل کو ہونے جنگ بندی کی مدت اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جب تک دونوں فریق مذاکرات جاری رکھتے ہیں اس دوران مزید 60 دن تک جنگ بندی، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ہمیں ابھی اس معاہدے کا مکمل متن موصول نہیں ہوا، مگر گذشتہ ہفتے کے اواخر میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کی بنیاد پر یہ معاہدہ ان مسائل کو حتمی طور پر حل نہیں کرتا جو بظاہر ٹرمپ کے ابتدائی حملے کا سبب بنے تھے، اور نہ ہی ان عوامل کو جو ایران کے سخت ردعمل کی وجہ بنے۔

    ایسے معاہدہ تک پہنچنے کے لیے جسے ہر فریق اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے، ٹرمپ کو تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر طویل مدتی (کم از کم 20 سال) کی قابلِ تصدیق پابندی درکار ہے۔

    دوسری جانب ایران کو خوب پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی چاہیے۔ تاہم یہ امور ہمیشہ سے بنیادی اختلاف کا باعث رہے ہیں۔

    اگرچہ اس معاہدے میں ان معاملات پر مزید بات چیت کے وعدے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق ان پر بامعنی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔

    اور اس کے علاوہ اسرائیل اور واشنگٹن میں سخت مؤقف رکھنے والے ریپبلکنز کے ان مطالبات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو چاہتے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے روایتی ہتھیاروں کے پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کی مالی معاونت کو بھی محدود کیا جائے۔

  8. تقریباً 15 گھنٹوں کی مسلسل بات چیت کے بعد معاہدہ طے پایا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کے ثالثوں نے تہران میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کیے۔

    کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس مذاکراتی عمل میں بہت وقت لگا۔‘

    ’قطری وفد گذشتہ روز تہران میں موجود تھا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن پر بات چیت کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘

    ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جس کے دوران ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متن میں حتمی ترامیم پیش کیں۔ بالآخر ان ترامیم کو قبول کر لیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر 60 روز کے اندر مذاکرات ہوں گے، جس کے دوران ایران کو ’کئی امور پر بات کرنی ہے‘ اور اس کی اولین ترجیح اس پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

  9. تجزیہ: ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    آبناۓ ہرمز کو کھولنے کے لیے ہونے والی کوئی بھی پیش رفت نہ صرف عالمی بحری صنعت اور وسیع تر عالمی معیشت بلکہ خود ایران کے لیے بھی خوش آئند ہو گی۔

    ایران بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ نہ معلوم ہونے دے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے اسے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت کو اس سے بھاری نقصان ہوا ہے۔

    تاہم کسی بھی ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں۔

    کیونکہ جنگ سے قبل تک خلیجی تیل، گیس، کھاد، ہیلیم اور دیگر اشیا بغیر کسی روک ٹوک کے آبنائے ہرمز سے گزر رہی تھیں۔ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں یہ ترسیل بحال ہو گئی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس معاہدے سے صرف جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے۔

    اصل طویل مدتی امتحان یہ ہو گا کہ آیا جیسا کہ امریکی صدر دعویٰ کرتے ہیں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے میں واقعی کمی ہوئی ہے یا نہیں۔

    یا پھر، جیسا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے، پاسدارانِ انقلاب کے اندر تقویت پانے والے سخت گیر عناصر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کی کوششیں تیز کر دیں گے جو ان کے مطابق ایران کے لیے بہترین دفاعی حکمت عملی ہو گی تاکہ دوبارہ اس طرز کے کسی بھی حملے سے بچا جا سکے۔

  10. امریکہ 30 روز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا: ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شامل نکات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو 30 دن کے اندر ختم کرنا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد سے نو جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے جبکہ 135 کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

  11. امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اب یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔

    پاکستان کے مطابق اس امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  12. ایرانی سرکاری میڈیا امریکہ کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے کون سے نکات رپورٹ کر رہا ہے؟

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ ایسی خبریں نشر کر رہے ہیں جنھیں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے مسودے کی تفصیلات قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم ان نکات کی تاحال باضابطہ طور پر کسی بھی ملک کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں:

    • لبنان سمیت تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی
    • امریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
    • امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
    • 30 دن کے اندر ’ایرانی انتظام‘ کے تحت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا
    • امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرنا
    • ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی توثیق
    • امریکہ کا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرنے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ

    مہر نیوز ایجنسی نے مزید رپورٹ کیا کہ ’حتمی مذاکرات اُس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم نصف حصہ جاری نہیں کر دیا جاتا، ایران پر عائد تیل کی پابندیاں معطل نہیں کی جاتیں، اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔

  13. ’آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کتنی تیزی سے ہوگی، اس کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں‘, جوناتھن جوزف، بی بی سی بزنس رپورٹر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم توقع ہے کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، کیونکہ شپنگ کمپنیاں پہلے اس بات کا یقین کرنا چاہیں گی کہ معاہدہ مؤثر اور پائیدار ہے۔

    دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اُن کے عملے اور جہازوں کی سلامتی اُن کی اولین ترجیح ہے۔

    ابتدائی طور پر جہازوں کی نقل و حرکت آبنائے ہرمز کی مشرقی سمت میں ہونے کا امکان ہو گا کیونکہ تقریباً 2,000 بحری جہاز، جن پر قریباً 20,000 ملاح سوار ہیں، فروری کے آواخر سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

    اس ضمن میں سب سے موزوں مثال 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی بندش ہے، جس کے بعد بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں تقریباً دو سال کا وقت لگا تھا۔

    تاہم امکان ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اس سے کہیں زیادہ تیز ہوگی، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے زیادہ اہم ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔

    اس کے باوجود یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ عمل کتنی جلدی مکمل ہوگا۔

  14. امریکہ، اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا: خاتم الانبیا فورس, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان، خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اور خطے میں تہران کے حامی گروہوں اور اتحادیوں کے تعاون سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس ’شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔‘

    خاتم الانبیا فورس کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اس بیانیے کے عین مطابق ہے، جو ایران کا سرکاری ٹیلی ویژن اس معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے لیے اختیار کیے ہوئے ہے۔

    اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔

    اپنی وفات سے چند ہفتے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ’دانشمندانہ‘ فیصلہ نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے ایران سے مسائل ’حل‘ ہو پائیں گے۔

  15. جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی آزادانہ نقل و حمل شروع ہو جائے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے وہ کامیابی حاصل کی ہے جس میں دیگر رہنما ناکام رہے ہیں۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لے کر آئے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’بہت سے (امریکی) صدور نے ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی، مگر مجھ سے پہلے والے تمام (صدرو) ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار ایک ایسا صدر (یعنی ٹرمپ) ملا ہے جو انھیں حقیقی امن حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل شروع کیا جا سکے، اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے لیے تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو جائے گی۔‘

  16. برطانوی وزیرِ اعظم نے امن معاہدے کو ’نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ثالثوں کو اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے خواہاں تھے اور یہ وہ پیش رفت ہے جس کی ہمیں امید تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں بلامعاوضہ اور آزادانہ جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے، تاکہ گذشتہ کئی ماہ سے برطانیہ اور دنیا بھر پر پڑنے والے شدید معاشی اثرات میں کمی آ سکے۔‘

    سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ضرورت پڑنے پر دفاعی اور خودمختار کثیرالجہتی مشن کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کی منصوبہ بندی میں برطانیہ اور فرانس اب تک قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے متفقہ تعاون فراہم کرنے کے لیے۔‘

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پائیدار امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ کیے گئے وعدے، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق، مضبوط، قابلِ تصدیق اور مکمل طور پر نافذ العمل ہوں۔ برطانیہ کا مؤقف مستقل اور واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔‘

  17. قطری وزیر اعظم کا پاکستان کا شکریہ: ’تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں‘

    قطر کے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور اسے آگے بڑھایا جا سکے۔‘

  18. جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں: اے ایف پی

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے پر بالمشافہ دستخط کے لیے جے ڈی وینس سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں۔

  19. تجزیہ: معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک غیر متوقع مگر خوش آئند سالگرہ کا تحفہ ثابت ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یوم پیدائش 14 جون ہے۔

    اس معاہدے کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکہ بھی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔

    صدر ٹرمپ نے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو‘ یعنی تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہنے دو!

    تاہم اس کے علاوہ اس معاہدے کی دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

    بظاہر ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، جو کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کی بنیادی وجہ تھا، اب بھی مزید مذاکرات کا متقاضی ہے۔

    گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اس کے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ حتیٰ کہ اگر کسی مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارتی مذاکرات کا فریم ورک طے بھی پا جائے، تو پیش رفت کی کوئی یقینی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

    تاہم کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن معاہدہ جاری تنازع کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے گا تاہم کسی حد تک اسے کم کرنے میں ضرور مدد دے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں بھی کچھ کمی لا سکتی ہے۔

    یہ معاہدہ حالات کو کسی حد تک جنگ سے قبل کی حالت کی طرف واپس لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔

  20. صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اِس کی تصدیق کر دی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر اُن کا کہنا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر کے جہاز، اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو۔‘ (یعنی تیل کی فراہمی جاری رہنے دو)