ٹرمپ نے میڈیا کو دیے انٹرویوز میں کیا بتایا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صحافیوں سے گفتگو کے دوران متعدد انٹرویوز دیے، جن میں ایران سے متعلق مذاکرات پر تفصیل سے بات کی۔ ان کے بیانات کے اہم نکات یہ ہیں:
- صدر ٹرمپ نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران نے ’ہر چیز پر اتفاق‘ کر لیا گیا ہے جس میں ایران سے جوہری مواد نکالنا بھی شامل ہے۔
- فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں اب کوئی بڑا رکاوٹی نکتہ باقی نہیں رہا اور تحریری معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔
- بلومبرگ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کی جانب سے منجمد رقوم کی واپسی کے بغیر ہی اپنا جوہری پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
- صدر ٹرمپ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کو اپنی حدود میں داخل ہونے اور افزودہ یورینیم اکٹھا کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ مل کر ’آہستگی سے‘ کارروائی کرے گا اور بڑے آلات کی مدد سے یہ مواد نکال کر امریکہ لے جایا جائے گا۔
- صدر ٹرمپ نے ایگزیوس کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر مذاکرات کار اس ہفتے کے اختتام پر دوبارہ ملاقات کر سکتے ہیں۔ اسی خبر رساں ادارے نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران افزودہ یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر کی منجمد رقوم کا مطالبہ کر رہا ہے۔
- ایرانی مطالبے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیے گئے اعلانات کو ہی مستند سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ گمنام ذرائع کو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے مگر مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں کیے جائیں گے۔
- ایران کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے بیان کردہ نکات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مذاکرات میں اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افزودہ یورینیم کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔