آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ’پاکستان، اس کے عظیم وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں‘: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ لبنان کی جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، اس کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے بعد بیدخل ہونے والے لبنانی شہریوں کی گھروں کو واپسی جاری ہے
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں، آج کا دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے
  • امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی اطلاعات اور ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کے عندیے کے بیچ اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں
  • ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو 'میں شاید خود چلا جاؤں۔'
  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے برطانیہ اور فرانس کی میزبانی میں اجلاس آج ہو گا

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے میڈیا کو دیے انٹرویوز میں کیا بتایا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صحافیوں سے گفتگو کے دوران متعدد انٹرویوز دیے، جن میں ایران سے متعلق مذاکرات پر تفصیل سے بات کی۔ ان کے بیانات کے اہم نکات یہ ہیں:

    • صدر ٹرمپ نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران نے ’ہر چیز پر اتفاق‘ کر لیا گیا ہے جس میں ایران سے جوہری مواد نکالنا بھی شامل ہے۔
    • فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں اب کوئی بڑا رکاوٹی نکتہ باقی نہیں رہا اور تحریری معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔
    • بلومبرگ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کی جانب سے منجمد رقوم کی واپسی کے بغیر ہی اپنا جوہری پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • صدر ٹرمپ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کو اپنی حدود میں داخل ہونے اور افزودہ یورینیم اکٹھا کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ مل کر ’آہستگی سے‘ کارروائی کرے گا اور بڑے آلات کی مدد سے یہ مواد نکال کر امریکہ لے جایا جائے گا۔
    • صدر ٹرمپ نے ایگزیوس کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر مذاکرات کار اس ہفتے کے اختتام پر دوبارہ ملاقات کر سکتے ہیں۔ اسی خبر رساں ادارے نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران افزودہ یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر کی منجمد رقوم کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    • ایرانی مطالبے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیے گئے اعلانات کو ہی مستند سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ گمنام ذرائع کو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے مگر مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں کیے جائیں گے۔
    • ایران کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے بیان کردہ نکات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مذاکرات میں اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افزودہ یورینیم کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔
  2. آبنائے ہرمز کھول دی گئی مگر ایران نے کیا حد برقرار رکھی ہے؟

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر کھلی‘ ہے۔ یہ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونا ہے۔

    عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ تجارتی جہازوں کو ایران کی جانب سے پہلے اعلان کردہ ’مربوط راستے‘ کے ذریعے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ان کا اشارہ غالباً اس نقشے اور دو بحری راستوں کی طرف ہے جنھیں پاسدارانِ انقلاب نے جاری کیا اور جن کے بارے میں گذشتہ ہفتے ایرانی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کی گئی تھی۔

    اس نقشے کے مطابق خلیج کی سمت جانے والے جہازوں کو ایران کے جزیرے لارک کے شمال سے گزرنا ہو گا جبکہ خلیج عمان کی طرف جانے والے بحری جہاز جزیرے کے جنوب میں واقع راستہ اختیار کریں گے۔

    نقشے میں خلیج اور خلیجِ عمان کو ملانے والے آبی راستے کے وسطی حصے کو ’خطرناک علاقہ‘ قرار دیا گیا ہے جہاں سے گزرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔

    ایران نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ جو جہاز مقررہ راستوں پر عمل نہیں کریں گے انھیں بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے یا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

    اگرچہ جمعے کے روز خلیج میں جہازرانی کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی تاہم بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی سروسز کے مطابق بہت کم جہاز درحقیقت آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ بعض جہازوں کو واپس مڑتے یا رک جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

  3. معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کی۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ہفتے کے اختتام تک بھی چلتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثبت پیش رفت ہو رہی ہیں جن میں لبنان سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کی جانب سے دیے گئے ان بیانات کو بھی کم اہم قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اختلافات ہیں بھی تو انھیں دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے کہ اختلافات بہت زیادہ یا بنیادی نوعیت کے ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے تو امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔

  4. امریکی وفد چند دنوں میں دوبارہ پاکستان آ سکتا ہے: سی بی ایس نیوز

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام چند دنوں کے اندر ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔

    سی بی ایس نے ’مشاورت سے واقف متعدد افراد‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اعلیٰ امریکی حکام کو دوبارہ پاکستان بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات پیر کے روز سے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم امن معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ جنگ بندی کے موجودہ معاہدے میں توسیع کی کوششوں کے تحت جمعرات کو پاکستان کے آرمی چیف نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات بھی کی۔

  5. آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کے بیان اور ایران کی وضاحت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    کہا جاتا ہے کہ اصل بات باریکیوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    اور جب معاملہ جنگ، امن اور علاقائی سلامتی کا ہو تو یہ بات اور بھی زیادہ درست ثابت ہوتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ آج کے دن کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو غیر معمولی طور پر مثبت انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم جب تفصیلات کی بات آتی ہے تو اب بھی کئی ابہام موجود ہیں اور ایرانی موقف میں بھی تضاد دکھائی دیتا ہے۔

    امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلے ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن بعد ازاں ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس اہم بحری راستے پر کچھ حدیں برقرار ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے زیادہ توجہ ’مربوط راستوں‘ پر مرکوز رکھی ہے اور عراقچی کے بیان سے اس حصے کو نظر انداز کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ’مکمل طور پر کھلی‘ رہے گی۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ یہ صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران اپنا جوہری مواد امریکہ کے حوالے کرے گا۔ لیکن امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مذاکرات جو آمنے سامنے نہیں بلکہ فاصلے سے کیے جا رہے ہیں، اب بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار نظر آتے ہیں۔

    صدر کا پُرامید انداز درست بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب ان کے بیانات عملی حقائق سے آگے نکل گئے ہوں۔

  6. امریکہ اور ایران کے درمیان کچھ ہی معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور معاہدے کے لیے محض کچھ ہی معاملات پر اتفاق ہونا باقی رہ گیا ہے۔

    انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’دونوں فریقین کے درمیان محض چند معاملات پر اتفاق ہونا باقی رہ گیا ہے۔ ہم نے اب تک امید نہیں ہاری ہے اور ہم (معاہدہ) طے کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں کیونکہ اس سے پوری دنیا کا فائدہ ہوگا۔‘

    اسحاق ڈار نے لبنان میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایرانی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم حل طلب معاملات پر اتفاق پیدا کرنے اور خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور اب اچھی خبر یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو غیر مشروط طور پر بحال کر دیا ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ہم بہت پُرامید ہیں‘ کہ بقیہ مذاکراتی عمل بھی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

  7. یہ اعلان درست سمت میں ایک قدم ہے: اقوام متحدہ کے سربراہ

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان درست سمت میں ایک قدم ہے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے حقوق اور آزادیوں کی مکمل بحالی ضروری ہے اور تمام فریقوں کو ان کا احترام کرنا چاہیے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتونیو گوتریس کو امید ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ یہ اقدام فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے گا اور پاکستان کی سہولت کاری سے جاری مکالمے کو مزید مضبوط کرے گا۔

  8. ٹرمپ کے پیغام پر شہباز شریف کا بھی شکریہ

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کی جانب سے پیغام پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’جناب صدر، میں پاکستان کے عوام، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اپنی جانب سے آپ کے مہربان اور شائستہ کلمات پر دلی اور گہرے احساسِ تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔‘

  9. آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی اجازت لازمی ہو گی: ایرانی سرکاری ٹی وی, غنچہ حبیبی زادہ، بی بی سی فارسی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کے باقی عرصے کے دوران آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر کھلی رہے گی۔

    تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک ’سینئر فوجی عہدیدار‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان جہازوں کو مخصوص راستے کے ذریعے اور پاسدارانِ انقلاب نیوی کی اجازت سے گزرنا ہو گا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ مخصوص راستہ ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے طے کیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے مزید کہا ہے کہ فوجی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بدستور ممنوع ہو گی۔

  10. فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے مشن کی قیادت کریں گے: سٹارمر

    برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول رہا ہے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ یہ ایک دیرپا اور قابلِ عمل حل ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی رہنما ایک متحد پیغام دینے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ آبنائے کو بغیر کسی ٹول ٹیکس اور بغیر پابندیوں کے کھلا رکھا جائے۔

    سٹارمر نے مطالبہ کیا کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، جہاز رانی کو بحال کیا جائے تاکہ معاشی جھٹکے کو سنبھالا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ ایک بین الاقوامی مشن کی قیادت کریں گے تاکہ جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ کیا جا سکے، ’جیسے ہی حالات اجازت دیں، یہ مشن مکمل طور پر پرامن اور دفاعی نوعیت کا ہو گا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے لندن میں ایک کانفرنس ہوگی، جس میں ایک درجن ممالک اس مشن کے لیے وسائل فراہم کریں گے۔

    آخر میں انھوں نے کہا: ’ہمارے شہریوں کو امن اور استحکام کی واپسی نظر آنی چاہیے۔‘

  11. بریکنگ, ٹرمپ کا دعویٰ: ایران بارودی سرنگیں ہٹا رہا ہے اور آئندہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہ کرنے پر متفق ہو گیا ہے

    امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ختم ہونے کے بعد انھیں نیٹو کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں مدد کی پیشکش کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے نیٹو کو واضح طور پر کہا کہ دور رہیں، جب تک کہ وہ صرف اپنے جہازوں میں تیل بھرنے کے خواہش مند نہ ہوں۔ انھوں نے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’کاغذی شیر‘ قرار دیا۔

    ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کی مدد سے سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹا رہا ہے یا ہٹا چکا ہے۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر بھی متفق ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرے گا۔

  12. اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا، امریکہ کی جانب سے اسے اس عمل سے روک دیا گیا ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اپنے بی ٹو بمبار طیاروں کی جانب سے پیدا ہونے والی تمام جوہری ’گرد‘ حاصل کرے گا اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا مالی لین دین نہیں ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ لبنان سے کسی طور منسلک نہیں، تاہم امریکہ الگ سے لبنان کے ساتھ کام کرے گا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب طریقے سے حل کرے گا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا اور امریکہ کی جانب سے اسے اس عمل سے روک دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اب بہت ہو چکا۔‘

  13. بریکنگ, ’پاکستان، اس کے عظیم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، اس کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا: ’پاکستان اور اس کے عظیم وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں۔‘

  14. بریکنگ, آبنائے ہرمز کے کھلنے کا اعلان: تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی, تھیو لیگٹ، بین الاقوامی کاروباری نمائندہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے آبنائے ہرمز جنگ بندی کی ’باقی مدت‘ کے دوران تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھولے جانے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    اس اعلان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ دن کے اوائل میں یہ 98 ڈالر سے زائد تھی۔

    این وائی میکس لائٹ سویٹ کروڈ، جو امریکہ کا معیاری خام تیل ہے، اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    تنازعے سے قبل برینٹ خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔

    مارچ کے اوائل میں یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اسی مہینے کے آخر میں 119 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا۔

  15. آبنائے ہرمز کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

    یہ ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔

    اس آبنائے کی جغرافیائی حیثیت نے اس جنگ کے دوران ایران کو اسے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا موقع دیا، جہاں اس نے تنگ آبی راستے سے بعض جہازوں کو گزرنے سے روکا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    یہ آبنائے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوڑائی داخلی اور خارجی مقامات پر تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) ہے، جبکہ سب سے تنگ مقام پر یہ تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ خلیج کو بحیرۂ عرب سے جوڑتی ہے۔

    یہ آبنائے اتنی گہری ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکر اس سے گزر سکتے ہیں، اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل اور ایل این جی پیدا کرنے والے ممالک اور ان کے خریدار استعمال کرتے ہیں۔

    امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے اندازوں کے مطابق، 2025 میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جو سالانہ تقریباً 600 ارب ڈالر (447 ارب پاؤنڈ) کی توانائی تجارت کے برابر ہے۔

    یہ تیل صرف ایران سے نہیں بلکہ دیگر خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔

  16. بریکنگ, ’شکریہ!‘: آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر ٹرمپ کی پوسٹ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کی ہے، جس میں انھوں نے آبنائے ہرز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمدورفت کے لیے تیار ہے۔ شکریہ!‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر ایک اور فالو اَپ پوسٹ سامنے آئی ، جس میں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار کے لیے تیار ہے‘۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’لیکن ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!

  17. بریکنگ, ایران کا تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھونے کا اعلان کیا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ بندی کے تناطر میں (امریکہ اور ایران کے درمیان) جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔‘

    امریکہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا، جب ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے ردِعمل میں دنیا کی مصروف ترین تیل بردار بحری گزرگاہ کو کئی ہفتوں تک عملاً بند کر دیا تھا۔

    اس حوالے سے امریکے کی جانب سے تاحال کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔

  18. ڈونلڈ ٹرمپ کے عرب اور افریقی امور سے متعلق سینیئر مشیر کی شہباز شریف سے ملاقات

    امریکی صدر کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر، مسعد بولوس نے آج ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقدہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقعے پر پاکستانی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے خیرسگالی ملاقات کی۔

    پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اس خوشگوار ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق ’انھوں نے صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہا، جس کے نتیجے میں گذشتہ سال پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے دہانے پر پہنچ جانے کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی۔‘

    وزیرِ اعظم نے لبنان میں جنگ بندی کے کامیاب اختتام پر بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی۔

    دونوں فریقوں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جن میں پاکستان کی امن کی کوششیں، جنگ بندی، اور تاریخی اسلام آباد مذاکرات شامل تھے۔

    وزیرِ اعظم نے پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعاون، اور کثیرالملکی سفارت کاری میں باہمی دلچسپی کے امور پر۔

    مسعد بولوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم کو نیک تمنائیں پہنچائیں اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔

    انھوں نے انسدادِ دہشت گردی، اقتصادی ترقی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے سمیت مشترکہ ترجیحات پر پاکستان کے ساتھ روابط مزید گہرے کرنے میں امریکہ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

    اس ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھے۔

  19. اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی سے لبنانی عوم خوش

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بیروت اور دیگر شہروں میں عوام نے جشن منایا۔ نقل مکانی کرنے والی افراد نے واپس آنا شروع کر دیا ہے جبکہ اسرائیل کی طرف سے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے پلوں کی مرمت کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

  20. حزب اللہ کے خلاف مہم ’ابھی مکمل نہیں ہوئی‘: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنے والے ہزاروں بے گھر لبنانی شہریوں کو، اگر دوبارہ لڑائی شروع ہوئی، تو ایک بار پھر وہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔

    وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں کیے گئے حملوں سے ’کئی کامیابیاں‘ حاصل ہوئی ہیں، لیکن حزب اللہ کے خلاف مہم ’ابھی مکمل نہیں ہوئی‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو جو رہائشی سکیورٹی زون میں واپس آئیں گے، انھیں مشن کی تکمیل کے لیے دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑے گی۔‘

    روئٹرز کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج اُن تمام مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھے گی جنہیں اس نے ’کلییڑ کر کے اپنے قبضے میں لے لیا ہے‘‘۔

    جمعرات کو جنگ بندی کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے حزب اللہ نے کہا ’کسی بھی جنگ بندی کو لبنان کے پورے علاقے پر لاگو ہونا چاہیے اور اسرائیلی دشمن کو کسی قسم کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘