آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , سعودی عرب کا مکہ پر ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے مکہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات پر عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک ڈالر 20 سینٹ بڑھ کر 116 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے۔ جمعے کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک ڈالر 20 سینٹ بڑھ کر 116 ڈالر ہو گئی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اس ماہ کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 11 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

  2. ایران اور یوکرین کی جنگ کے سائے میں جی 20 وزرائے خارجہ کا اجلاس

    جی 20 کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں منعقد ہونے والا ہے۔

    یہ اجلاس امریکہ کے اہم وسط مدتی انتخابات سے صرف چند روز قبل ہو رہا ہے، اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اپنے جی 20 ہم منصبوں کی میزبانی کریں گے، جن میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی شامل ہیں۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب شرکا کے درمیان اہم امور پر شدید اختلافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ یوکرین اور ایران سے متعلق جنگوں کے ساتھ ساتھ توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے نے ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    توقع نہیں کی جا رہی کہ جی 20 کا یہ اجلاس، جس میں چین، انڈیا، روس، جاپان، جرمنی اور فرانس سمیت بڑی معیشتیں شامل ہیں، کوئی نمایاں پیش رفت حاصل کر سکے گا، کیونکہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ اور ایران سے متعلق تنازع کے اثرات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ، جو جلد جی 20 کی گردشی صدارت برطانیہ کے حوالے کرنے والی ہے، کا مؤقف ہے کہ یہ فورم اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گیا ہے۔

    واشنگٹن نے وعدہ کیا ہے کہ جی 20 کو دوبارہ اپنے اصل مقصد، یعنی عالمی اقتصادی ترقی کے فروغ، کی طرف واپس لایا جائے گا۔ امریکی حکام کا استدلال ہے کہ سلامتی اور اقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتیں اور دونوں کا گہرا تعلق ہے۔

  3. سعودی قیادت کے اتحاد کا مکہ میں حوثیوں کے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ مکہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔

    اتحاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون مکہ کے علاقے میں روکا گیا اور تباہ کر دیا گیا۔‘

    اتحاد کے مطابق ڈرون کو مکہ کے فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  4. کرپٹو کی بڑی کمپنی بائنانس ممکنہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا شکار

    کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے ایک ایسے سائبر حملے سے متاثر ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک ثابت ہو سکتا ہے۔

    دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج نے بتایا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔‘

    بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں حملہ آور کو غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کرنے کا موقع ملا۔

    دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کے ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔

    مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائنانس پر حملے کی کئی خصوصیات ماضی کے شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں، بشمول بائی بٹ ہیک، سے مشابہت رکھتی ہیں۔

    ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بائنانس پر حملہ ’ایک اہم موڑ‘ ہے اور اس نوعیت کا واقعہ ماضی میں کرپٹو صنعت نے نہیں دیکھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حملہ آور اب بھی چوری شدہ اثاثوں کی ایک بہت بڑی مقدار اپنے قبضے میں رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رقوم کا سراغ لگانے اور انھیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔

    ایک اور کرپٹو تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس نے بھی کہا ہے کہ اسے ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ شمالی کوریا کا یہی گروہ اس حملے میں ملوث ہے۔

    چین اینالیسس کے سربراہ برائے تحقیق ایرک جارڈین نے تمام کرپٹو ایکسچینجز کو چوکس رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اثاثوں کی بھاری مالیت انھیں ہیکرز کے لیے انتہائی پرکشش ہدف بناتی ہے۔

    بائنانس نے بی بی سی کے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا جن میں حملے کے شمالی کوریا سے ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تاہم کمپنی نے کہا ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

    یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارم بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا ہے کہ امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا اس کا پلیٹ فارم اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوا۔

  5. کینیڈا کی خلیج فارس میں تین جزائر پر متحدہ عرب امارات کے ملکیت کے دعوے کی حمایت

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے خلیج فارس کے تین متنازع جزائر پر متحدہ عرب امارات کے دعوۂ ملکیت کی حمایت کی ہے۔

    یہ حمایت ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کے کینیڈا کے دورے کے موقع پر سامنے آئی۔

    اس ملاقات کے بعد 28 اکتوبر کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کی آخری شق میں تنبِ بزرگ، تنبِ کوچک اور ابوموسی کے جزائر کا ذکر کرتے ہوئے ان پر اماراتی دعوے کی حمایت کی گئی اور ایران کی جانب سے ان جزائر کے مبینہ ’قبضے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ’دونوں ممالک تنبِ بزرگ، تنبِ کوچک اور ابوموسی کے جزائر پر قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اسے متحدہ عرب امارات کی قومی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔‘

    دوسری جانب، ایران ان تینوں جزائر کو اپنے ملک کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ یہ جزائر ماضی میں برطانوی قبضے میں تھے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل ان سٹریٹیجک اہمیت کے حامل جزائر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

  6. ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔

    انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکومت کی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا مطلب ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت نہیں ہے۔

    وینس ٹیکساس کی ریاست کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست میں گفتگو کر رہے تھے، جسے فاکس نیوز نے نشر کیا۔

    وہ ایک رپبلکن ووٹر کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جس نے پوچھا تھا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نے بیرونِ ملک مہنگی جنگوں کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے یا نہیں۔

    امریکی نائب صدر نے عراق میں اپنی فوجی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی سے متعلق عوام کی مایوسی کو سمجھتا ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم تقریباً سات ماہ سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کے معاملے میں مصروف ہیں۔ امریکہ 47 برس سے ایران سے نمٹ رہا ہے، اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے کو ایک لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔‘

    وینس نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک طویل فوجی مداخلتوں کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ فوجی طاقت کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرے۔

    انھوں نے زور دیا کہ ٹرمپ امریکی اہداف حاصل کریں گے اور اس کے بعد حکومت اپنی دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کر سکے گی۔

  7. امریکہ کے وسط مدتی انتخابات: قبل از وقت ووٹنگ میں ریکارڈ اضافہ، ’4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں‘, میکس مٹزا، بی بی سی نیوز

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے، اور یہ انتخابات آئندہ دو برس کے لیے یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس سے قبل ہی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔

    یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گذشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔

    ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

    مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔ ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے، جہاں کے نتائج یہ طے کر سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے باقی عرصے میں سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔

    ان ریاستوں کے اعداد و شمار جہاں ووٹرز کو سیاسی وابستگی درج کرانا ضروری ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رپبلکن ووٹرز کی قبل از وقت ووٹنگ کی تعداد مجموعی طور پر 2022 کے برابر ہے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی جانب سے بھی قبل از وقت ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔

    جمعرات کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریباً نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے۔

    شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق، ’یہ فطری بات ہے کیونکہ نسلی اقلیتوں کی برادریاں زیادہ تر ڈیموکریٹک اتحاد کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ سفید فام ووٹرز عموماً ریپبلکن اتحاد سے وابستہ ہوتے ہیں۔‘

    ٹیکساس میں ووٹرز کے لیے سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت درج کرنا ضروری نہیں، تاہم اعداد و شمار میکسیکو کی سرحد سے متصل بعض اضلاع میں ووٹنگ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی ہسپانوی نژاد افراد پر مشتمل ہے۔

    میک ڈونلڈ کہتے ہیں، ’جب میں ان اضلاع کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض صرف قبل از وقت ووٹنگ ہی کے دوران 2022 کے مجموعی ٹرن آؤٹ سے آگے نکل جائیں گے۔‘

    حالیہ برسوں میں قبل از وقت ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کووڈ وبا تھی، جب مزید ریاستوں نے ذاتی طور پر اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سمیت قبل از وقت ووٹنگ کی سہولتیں فراہم کیں۔

    2020 کے انتخابات میں، جب امریکی ووٹرز ایک ساتھ صدر اور قانون سازوں کا انتخاب کر رہے تھے، تمام ووٹوں میں سے دو تہائی سے زیادہ قبل از وقت ڈالے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف ووٹ ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے تھے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق، اب ووٹرز قبل از وقت ووٹنگ کے باوجود زیادہ تر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ پہلے کے مقابلے میں اپنے ووٹ بھی زیادہ جلدی جمع کرا رہے ہیں۔

  8. لیجنڈری اداکار سر پیٹرک سٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسے

    معروف سٹیج اور سٹار ٹریک کے لیجنڈری اداکار سر پیٹرک سٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسے ہیں

    ان کی وفات پر دنیا بھر سے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

    سر ایئن میک کیلن نے انھیں ایسا شخص قرار دیا ’جس کی تعریف کی جا سکتی تھی اور میرے معاملے میں، جس سے محبت بھی کی جا سکتی تھی۔‘

    سٹار ٹریک میں ان کے ساتھی اداکاروں نے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ولیم شیٹنر نے کہا کہ سٹیورٹ ’ہماری بہترین اقدار کی نمائندگی کرتے تھے‘، جبکہ جارج ٹاکی نے انھیں ’ایسا لیجنڈ قرار دیا جس کا کوئی متبادل نہیں۔‘

    سٹیورٹ کا ایوارڈ یافتہ کیریئر سات دہائیوں پر محیط تھا، اور فلم و ٹی وی کے علاوہ انھوں نے ویسٹ اینڈ اور براڈوے کے سٹیج پر بھی نمایاں کردار ادا کیے۔

    رائل شیکسپیئر کمپنی، جہاں انھوں نے اپنے فنکارانہ سفر کے ابتدائی دن گزارے، نے انھیں ’عظیم الشان شخصیت‘ قرار دیا ہے، جبکہ لاس اینجلس میں مداح ہالی ووڈ واک آف فیم پر موجود ان کے ستارے کے پاس جمع ہو رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق سر پیٹرک سٹیورٹ بدھ کے روز لاس اینجلس میں اپنے گھر پر وفات پا گئے۔

    اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کچھ غیر معمولی تھا کہ سر پیٹرک سٹیورٹ انتہائی طاقتور کرداروں کو بھی گہری انسانی خصوصیات کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘

    آسکر ایوارڈز پیش کرنے والی اکیڈمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سر پیٹرک سٹیورٹ نے اپنے کرداروں میں ایسی نرمی اور حساسیت پیدا کی کہ ہمیں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم انھیں ذاتی طور پر جانتے ہوں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ’اس منفرد اور پہچانی جانے والی آواز کے پیچھے ایک ایسا اداکار تھا جو سمجھتا تھا کہ عظیم ترین ہیرو بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں، کہ طاقت اور کمزوری ایک ساتھ موجود ہو سکتی ہیں، اور یہ کہ ہمدردی کبھی کمزوری نہیں ہوتی۔‘

    اگرچہ سر پیٹرک سٹیورٹ نے کبھی آسکر ایوارڈ نہیں جیتا، لیکن انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد اعزازات حاصل کیے، جن میں ایک گریمی ایوارڈ اور دو لارنس اولیویئر ایوارڈز شامل ہیں۔

  9. اربوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی مشتبہ بائنانس ہیک کے بعد منجمد

    کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے تقریباً 3 ارب ڈالر (2.24 ارب پاؤنڈ) مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے ہیں تاکہ سکیورٹی سے متعلق ایک مسئلے کی تحقیقات کے دوران انھیں چوری ہونے سے روکا جا سکے۔

    کمپنی نے آن لائن جاری کیے گئے متعدد اعلانات میں بتایا کہ سکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک تمام ڈپازٹس اور رقم نکالنے کی سہولت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی‘۔

    بائنانس کے سابق سربراہ چانگ پینگ ژاؤ، جو اب بھی کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈر ہیں، نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ بائنانس پر واقعی ہیکر حملہ ہوا ہے۔‘

    کرپٹو کرنسی کی دو دیگر بڑی کمپنیوں، ٹیتھر اور سرکل، نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے بائنانس پر ممکنہ ہیکر حملے کے جواب میں مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

    بائنانس نے کہا کہ منجمد کیے گئے فنڈز کی مالیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی ٹیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مزید اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    کمپنی نے کہا، ’ہم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔ تازہ معلومات کے لیے صرف بائنانس کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔‘

    کمپنی نے مزید کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔

    بائنانس روزانہ لین دین کے حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے۔

    ان اعلانات کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً پانچ فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایتھیریم اور سولانا سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر گر گئیں۔

    سرکل کے چیف ایگزیکٹو جیریمی الیئر نے کہا کہ ان کی کمپنی ’بائنانس سے متعلق ممکنہ سکیورٹی خلاف ورزی کی رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘ اور اس واقعے سے منسلک 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے منجمد کر چکی ہے۔

    سرکل یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسی کی جاری کنندہ اور شریک تخلیق کار کمپنی ہے، جو دنیا کی بڑی امریکی ڈالر سے منسلک کرپٹو کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔

    ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو آردوئنو نے کہا کہ ان کی کمپنی نے ’بائنانس ایکسچینج پر ممکنہ ہیکر حملے سے متعلق‘ تقریباً 1.6 ارب ڈالر منجمد کر دیے ہیں۔

    انھوں نے کہا، ’صنعت اور اپنے شراکت داروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

    ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی نامی کرپٹو کرنسی جاری کرتی ہے۔

    بائنانس کی جانب سے حملے کی تصدیق سے چند گھنٹے قبل ہی کرپٹو صنعت کے متعدد مبصرین ممکنہ ہیکر حملے کے بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔

    حملے کے اصل حجم اور اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

    2025 میں ہیکرز نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کر لی تھی۔ اس ریکارڈ ساز حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر عائد کیا گیا تھا۔

  10. ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں: امریکہ کے سفیر برائے ترکی

    ترکی میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔

    باراک نے جمعرات کو دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا، ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں‘۔

    باراک نے قطر، پاکستان اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انھوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایک جامع معاہدہ ممکن نہیں، تاہم دشمنی میں وقفہ پیدا کرکے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

    ان کے مطابق اس وقت مقصد یہ ہے کہ فریقین پہلے کشیدگی کی شدت کم کریں، پھر خطے کے ممالک کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رفتار اور حالات کے مطابق زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

    باراک نے یہ بھی کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جسے امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن اس وقت تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایسی کسی کارروائی سے بچا جا سکے۔

  11. آبنائے ہرمز کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں: ارنا کی رپورٹ

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم کے سمندری علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ارنا کے قشم میں موجود نمائندے کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سمندر کی سمت سے سنائی دیں، جبکہ جزیرے کے متعدد رہائشیوں نے آسمان میں روشنیاں دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران بعض مقامی ذرائع نے جزیرہ قشم میں فضائی دفاعی نظاموں کی سرگرمی کی اطلاعات دی ہیں۔

    غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق امکان ہے کہ سنی جانے والی آوازیں ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کے باعث پیدا ہوئی ہوں جن پر مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کا الزام ہے۔

    تاہم ان آوازوں کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی یا انتباہی فائرنگ سے متعلق رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  12. اسرائیل میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی مکمل: حکومت کیسے بنے گی؟

    اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسے ہی ہے، جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اتحادی جماعتیں 53 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کا اتحاد 48 سیٹوں پر کامیاب ہوا ہے۔

    ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔

    نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔

    اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں۔

    اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔

    اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔

    سنہ 2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 میں سے 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں انھوں نے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کی اور حکومت تشکیل دی تھی۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں ایک گھر میں ہونے والے دھماکے کے دوران چار خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔ سرکاری حکام نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
    • فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں گے۔
    • قطر اور ترکی نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کے الزامات کو ’دو ٹوک‘ انداز میں مسترد کر دیا ہے۔
    • اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی ’جامع اور مکمل‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ایسی تحقیقات سے اسرائیل کی پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
    • اسرائیل کے عام انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے حریف اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پر معمولی برتری رکھتے ہیں، تاہم وہ اب بھی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے دور ہیں۔
    • امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا جس میں زور دیا ہے کہ امریکہ کے ممکنہ فوجی حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات ’جوہری معاملے پر بات چیت‘ کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے۔
    • ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ 24 گھنٹوں کے دوران تین آئل ٹینکر، جنھوں نے ایران کے مقرر کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں آگ کی زد میں آ گئے ہیں۔
    • بنگلہ دیش میں پابندی کا سامنا کرنے والی عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محبوب العالم حنیف کو انسانیت کے خلاف جرائم کے ایک مقدمے میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل-2 نے سزائے موت سنائی ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ضلع تھرپارکر کے بی ایچ یو پلس ڈانو ڈنڈھل میں کھڑی ایک ایمبولینس میں آتشزدگی کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے۔