لائیو, امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار اور فروخت پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق عارضی لائسنس جاری کر دیا
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری نتیجہ خیز مذاکرات کے سلسلے میں، ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے، جس کے بعد یہ عارضی لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
خلاصہ
ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی، لیکن مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر
امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا
ایران امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق، بات چیت جاری رہے گی
ایران کے صدر منگل کو پاکستان آئیں گے: پاکستانی دفترِ خارجہ کی تصدیق
امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
اُمید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے: ترجمان چینی وزارتِ خارجہ
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
لائیو کوریج
جوہری توانائی ایجنسی سے معمول کے مطابق بات چیت جاری رہے گی: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ اسلامی مشاورتی اسمبلی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے فیصلوں کے مطابق رابطہ جاری رہے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں 18 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران جوہری معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران نے کوئی نیا وعدہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے اندر جوہری مذاکرات کا آغاز یادداشت کی شق نمبر 13 کے نفاذ سے مشروط ہے۔
مفاہمت کی یادداشت کے پیرا گراف 13 کے مطابق پیراگراف 1، 4، 5، 10 اور 11 کے نفاذ کے بعد حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع ہوں گے۔
یادداشت کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ ضروری ہے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعوی کیا تھا کہ ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
اسرائیل کی فوج جب تک ضروری ہوا جنوبی لبنان میں موجود رہے گی: وزیرِ اعظم نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty
اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک ہم چاہیں گے اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔
ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’جنوبی لبنان میں ہماری افواج کو اپنے یا شمال کے باشندوں کے خلاف کسی بھی براہ راست خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے کارروائی کی مکمل آزادی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج پر اس سلسلے میں کوئی پابندی نہیں ہے۔
نیتن یاہو نے کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جب تک ضروری ہو جنوبی لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ میں موجود رہے گی۔
ایران کے صدر منگل کو پاکستان آئیں گے: پاکستانی دفترِ خارجہ کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے اور اُن کے ہمراہ ایرانی وزرا اور دیگر اعلی حکام سمیت ایک سطح کا وفد بھی ہو گا۔
دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں گے جبکہ اُن کی چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے۔
بطور صدر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق دورے کے دوران پاکستان اور ایران دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی تبادلے اور علاقائی روابط کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ ’اسلام آباد مفاہمت یادداشت‘ پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت ہوگی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت، امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینے پر اتفاق کیا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
اس لائسنس میں خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ایران سے نکلنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی امریکہ میں درآمد بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا تھا کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری نتیجہ خیز مذاکرات کے سلسلے میں، ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہX/@SecScottBessent
واضح رہے کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ مفاہمتی یادداشت کے نکتہ سات میں تھا۔
اس میں درج تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔
دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو 'فوری طور پر' حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم 'آپریشن اکنامک فیوری' کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔
’دُشمن کے ساتھ تعاون‘ کا الزام، ایران میں تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا
ایرانی عدلیہ کے مطابق ’دُشمن کے ساتھ تعاون‘ کے الزام میں ایران میں تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار کیے گئے ان ’دُشمن کے ساتھیوں‘ میں 684 افراد نے اسرائیل کے لیے ’آپریشنل کارروائیاں‘ کیں اور 1258 نے ’سیاسی پروپیگنڈہ‘ اور ’میڈیا سرگرمیاں‘ کیں۔
اصغر جہانگیر کے مطابق اس سلسلے میں 1061 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور غداروں کی سینکڑوں جائیدادوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی عدلیہ نے ’جاسوسی کی سزا کی شدت‘ کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے، ’دشمن کے ساتھ تعلق یا تعاون‘ کے الزام میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے یا ان کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ جنوری کے مظاہروں کے دوران ایران کے اندر بعض معروف شخصیات کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئی تھیں۔
گنج شاہد مسجد، صدر زرداری کا بیان اور انڈیا کا سخت ردعمل: تنازع کیا ہے؟, مہتاب عالم، بی بی سی اردو، دہلی
،تصویر کا ذریعہRK
گذشتہ ہفتے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کی جانب سے انڈین شہر وارانسی میں واقع گنج شاہد مسجد کے متعلق دئے گئے ایک بیان پر انڈین وزارت خارجہ نے سخت اعتراض درج کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی صدر کے بیان کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’پاکستان کے صدر کے بے بنیاد تبصروں کو انڈیا پوری طرح سے مسترد کرتا ہے۔ ویسے بھی، انھیں انڈیا کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ سنیچر کے روز پاکستانی صدر کے ایکس پر ایک پوسٹ میں انڈیا کے تاریخی مسلم مذہبی مقامات، بشمول وارانسی میں ہزار سال پرانی مسجد گنج شاہد کے انہدام اور دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
انھوں نے انڈیا سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے کو کہا اور خبردار کیا کہ یہ انڈیا میں انتشار اور دائمی افراتفری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے فوری طور پر اقلیتی حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
انڈین وزارت خارجہ کا ردعمل
اس کے جواب میں انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ تبصرے اس لیے بھی احمقانہ ہیں کیونکہ انسانی حقوق کے معاملے میں پاکستان کا اپنا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے، جس پر دنیا بھر میں بحث ہوتی رہی ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’مختلف مذاہب کی اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور ان پر ظلم کرنے کی پاکستان کی طویل تاریخ ہر کسی کو معلوم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی صدر کے تبصرے کو صرف ایک جان بوجھ کر کیا گیا سیاسی حملہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام لگایا کہ ایسے بیانات پاکستان کی شدت پسندی اور نفرت کی قومی پالیسیوں سے متاثر ہیں۔
،تصویر کا ذریعہ@PressOfPakistan
گنج شاہدہ مسجد کا معاملہ کیا ہے؟
وارانسی میں کاشی ریلوے سٹیشن کے توسیع اور ترقیاتی منصوبے کے تحت ریلوے انتظامیہ نے سٹیشن کے مرکزی انڑی گیٹ کے قریب واقع گنج شاہدہ مسجد انتظامیہ کو نوٹس جاری کر کے 20 جون تک احاطہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریلوے اہلکاروں نے جمعرات کو بتایا کہ انھوں نے کاشی ریلوے سٹیشن کے مرکزی داخلی دروازے پر واقع گنج شاہدہ مسجد کی دیوار پر ایک نوٹس لگایا ہے۔ اس نوٹس میں سٹیشن کی توسیع کی قانونی کارروائی کے تحت 20 جون تک جگہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق، کینٹ ریلوے سٹیشن کے سپرٹنڈنٹ ارپِت گپتا نے کہا کہ سٹیشن کی توسیع اور مجوزہ تعمیراتی کاموں کے لیے کاشی ریلوے سٹیشن کے آس پاس کی زمین کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانا ضروری ہے۔
مسجد انتظامیہ کمیٹی کا کیا کہنا ہے ؟
مسجد انتظامیہ کمیٹی نے اس نوٹس کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار پریرنا کو بتایا، ’یہ مسجد تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔ اس کی تعمیر 1034 میں ہوئی تھی۔ اس کا نام گنج شہید اس لیے ہے کیونکہ یہاں جن لوگ کی قبر ہے، ان میں سے کئی آزادی کی لڑائی میں شامل رہے ہیں۔ اس لیے اس کا تاریخی اہمیت بھی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ریلوے تو 1887 میں آئی ہے، ان کے نوٹس کا ہم جواب دے رہے ہیں۔ ڈسٹرک مجسٹریٹ وارانسی ستیندر کمار سے بھی یقین دہانی ہوئی ہے۔ تین دن پہلے ہماری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انھوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مسجد کو زبردستی نہیں توڑا جائے گا۔‘
مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنہ 1883-84 کے بندوبست کے نقشے اور اس سے پہلے کے نقشوں میں بھی مسجد کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق، ’جس مقدمے کے خارج ہونے کی بات نوٹس میں لکھی گئی ہے وہ مسجد کے باہر مشرق کی زمین سے متعلق تھا۔ مسجد سے اس مقدمے کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ نوٹس گمراہ کن ہے۔'
،تصویر کا ذریعہRK
خود انڈین حکومت نے پاکستان میں اقلیتوں کے حالات پر تبصرہ کرنے کو معمول بنا لیا ہے'
اس معاملے میں سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن نے جہاں صدر زرداری کے بیان کو صرف ’ایک دکھاوا‘ کہا ہے وہیں ان کا کہنا ہے انڈین وزارت خارجہ کا جواب بھی غیر منصفانہ ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’خود انڈین حکومت نے پاکستان میں اقلیتوں کے حالات پر تبصرہ کرنے کو معمول بنا لیا ہے، لہٰذا انڈیا کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے انڈیا میں اقلیتوں کے بارے میں ایسا ہی کرنے پر تنقید کرے۔‘
انھوں نے مزید کہا حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو انڈیا اور پاکستان دونوں میں امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا ہے اور دونوں حکومتیں اس میں شریک جرم ہیں۔
دریں اثنا مسجد انتظامیہ کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے پاکستانی صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان کے صدر اپنے یہاں کے مسائل دیکھیں، ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ہم اپنے مسائل خود دیکھ لیں گے۔ وہ معاملے کو اور پیچیدہ ہی کر رہے ہیں۔‘
صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان جائیں گے: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کو پاکستان جائیں گے۔
ارنا کے مطابق دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستانی حکام سے بات چیت کریں گے۔
ایرانی صدر کے ترجمان حبیب عباسی کے مطابق یہ دورہ ممکنہ طور پر ایک روز پر مشتمل ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر گذشتہ دوروں کی قراردادوں پر عمل درآمد، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور پاکستان کے کردار کی تعریف کے لیے پاکستان آئیں گے۔
ایرانی صدر نے اس سے قبل اگست 2025 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات کے لیے وزارتِ خارجہ کی ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود رہے گی: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ایک ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود رہے گی۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے مقصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کی طرف سے دکھائے جانے والے تعمیری جذبے کی بھی تعریف کرتا ہوں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے پر میں قطر کی ریاست کا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں۔
سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ مذاکرات کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف واپسی کے لیے روانہ
،تصویر کا ذریعہPMO
وزیرِ اعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان روانہ ہوگئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطح مذاکرات میں شرکت کی۔
زیورخ ایئرپورٹ پر سوئس حکام اور سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر مرغوب سلیم بٹ نے وزیراعظم کو الوداع کیا۔
ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی، لیکن مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹے بہت اچھے رہے ہیں، لبنان میں امن رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اتوار کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے واک آوٹ کی دھمکی دی تھی یا سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، لیکن اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے تک بات چیت جاری رہی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز ایران جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا ایران ابتدائی معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچیں اور اس معاملے کا مستقل حل ہو، لیکن اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ میں نے رات دو بجے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو ٹیلی فون کیا، لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں ک رات دو بجے بہت کم لوگ فون اُٹھاتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس ہفتے انسپکٹرز ایران جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہم آج اُن سے بات کر سکتے ہیں۔
لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے سوال پر امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہو۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں جانے سے قبل امریکی وفد نے چار اہداف طے کیے تھے اور چاروں حاصل کر لیے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلا ہدف یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور سٹریٹجک آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع کو وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا جائے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور مذاکرات کاروں نے مستقبل میں اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع سے بچاؤ کے لیے ایک فریم ورک بنایا ہے۔
اُن کے بقول دوسرا ہدف علاقائی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایسے مواصلاتی چینلز قائم کرنے کے لیے کام کیا جو تشدد بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور اس کے لیے علاقائی سٹیک ہولڈرز کو استعمال کیا جا سکے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’اگر لڑائی شروع ہو تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے کیسے روکنا ہے۔‘
امریکی نائب صدر کے بقول تیسرا ہدف یہ تھا کہ ایران عالمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران آنے کی اجازت دے۔ اُن کے بقول اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ایران ان انسپکٹرز کو واپس بلائے گا۔ یہ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے گذشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور 12 روزہ جنگ کے بعد عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے پہلے توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت تھی۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ چوتھا مقصد یہ تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو آنے والے ہفتوں میں جاری رکھا جائے۔ وینس نے کہا کہ امریکی، ایرانی، قطری اور پاکستانی حکام نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار عمل اور نگرانی کے ڈھانچے کو قائم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے وینس نے زور دیا کہ مذاکرات کار ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’حتمی معاہدہ ایک گھر ہے اور ہم نے اس گھر کی کامیاب بنیاد رکھ دی ہے۔‘
امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اتوار کو امریکہ، ایران مذاکرات کے بعد پیر کو تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تکنیکی مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہوں گے۔
ایرانی وفد کی سربراہی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کریں گے۔
اُمید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے: ترجمان چینی وزارتِ خارجہ
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین اُمید کرتا ہے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے۔
پیر کو نیوز کانفرنس کے دوران سوئٹزرلینڈ مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان چینی وزارتِ خارجہ گو جیا کھون کا کہنا تھا کہ چین کو اُمید ہے کہ دونوں ممالک بات چیت میں مثبت پیش رفت کے لیے ٹھوس کوششیں کرتے رہیں گے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چین پاکستان، قطر اور دیگر فریقوں کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ، ایران مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’مثبت اور تعمیری ماحول‘ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔
ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بات چیت میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے جس میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق ہوا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران اعلی سطح کی کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے جو سیاسی نگرانی اور مزید تکنیکی مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت کی جانب سے تعمیری بات چیت کے مسلسل عزم کی ستائش کرتا ہوں اور اس تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں تمام برادر اور دوست ممالک کی حمایت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر برادر ملک قطر کے شکرگزار ہیں جس نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات کے لیے تعاون کیا اور ان مذاکرات کی میزبانی میں سہولت فراہم کرنے پر سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اُن کا کہنا تھا میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکرگزار ہوں، جن کی انتھک کوششوں سے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔ ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابل ستائش ہے جس کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی تھی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا دفتر خارجہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ سفارتی کوششوں پر دل کی گہرائیوں سے تعریف اور شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی محنت کو بھی دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں جنھوں نے ان مذاکرات کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو پرامن اور دیرپا حل کی جانب آگے بڑھانے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
ششی تھرور کا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ، مقامی حکومت کی تعریف اور کانگریس کی ناراضی, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے سینئیر رہنما اور
رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے گذشتہ روز انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا دورہ کیا جس کے
دوران انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے
ملاقات کی۔
تھرور نے سنہا کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ، ’خطے میں تیزی سے حالات معمول پر آرہے ہیں، اور یہاں
حوصلہ افزا ترقی دیکھی جاسکتی ہے۔‘ اس بیان نے
کانگریس پارٹی کے اندرونی حلقوں اور سیاسی میدان میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا
ہے۔
ششی تھرور ’نالندہ ڈائیلاگز‘ میں شرکت کے لیے سرینگر پہنچے تھے۔
کانگریس کی مقامی قیادت نے ششی تھرور کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا
ہے۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان رویندر شرما نے نے تھرور کو تنقید
کا نشانہ بناتے ہوئے کہ، ’کشمیر کے عوام
کو امید تھی کہ آپ زمینی حقائق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان سے ملاقات کریں
گے۔
آپ کے پاس اُن پارٹی کارکنوں سے ملنے کا وقت نہیں جو پچھلے سات برسوں سے
چھینی گئی ریاست کی بحالی کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کو نظرانداز کر کے ایل جی
انتظامیہ کی تعریف کرنا افسوسناک ہے۔
مقامی کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی بی جے
پی حکومت نے جموں و کشمیر کا درجہ گھٹا کر اسے وفاق کے زیرانتظام علاقہ بنا دیا اور تھرور کا یہ بیان بی جے پی کے اس دعوے کو
تقویت دیتا ہے کہ خطے میں سب کچھ ٹھیک ہے۔‘
بی جے پی اور دیگر سیاسی حلقوں کا ردعمل
دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ بی جے پی کے
ترجمان ابھیجیت جسروٹیا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ششی تھرور کے بیان نے کانگریس کے
دہرے معیار اور اندرونی تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ ’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پتھراؤ کے
واقعات ختم ہو چکے ہیں اور کشمیر امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جس کا اعتراف اب
خود کانگریس کے سینئر رہنما بھی کر رہے ہیں۔‘
تنازع کی وجہ اور پس منظر
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس مسلسل مودی حکومت کی کشمیر
پالیسی پر تنقید کر رہی ہے۔ تھرور کی جانب سے ایل جی منوج سنہا کی تعریف اور وادی
میں ’مثبت تبدیلیوں‘ کا تذکرہ پارٹی کے لیے سیاسی
طور پر نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ تھرور نے واضح کیا کہ خطے میں اب بھی بہت
سے چیلنجز باقی ہیں، لیکن ان کے مثبت تاثرات نے کانگریس کے اندر ایک نیا سیاسی
طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
مودی کی سفارتی پالیسی کی تعریف
ششی تھرور کا حالیہ دورہ اور ایل جی منوج سنہا سے ملاقات، دراصل ان کے ان
مسلسل بیانات کا تسلسل ہے جس میں انھوں نے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے
معاملات پر مودی حکومت کی تعریف کی ہے۔ اس کا سب سے بڑا پس منظر آپریشن سندور کے
بعد کی صورتحال ہے۔ 2025 میں پہلگام میں مسلح حملے دوران 26 سیاحوں کی ہلاکت کے جواب میں انڈیا نے پاکستان
کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی تھی۔
اس فوجی کارروائی کے بعد مودی حکومت نے عالمی سطح پر انڈیا کا موقف پیش
کرنے کے لیے ایک کل جماعتی سفارتی وفد تشکیل دیا تھا جس کی قیادت کے لیے ششی تھرور کو منتخب
کیا گیا تھا۔ تھرور نے امریکہ کئی ممالک کا دورہ کر کے انڈین کارروائی کا دفاع
کیا۔ انھوں نے ایک اخباری مضمون میں مودی کی کھلے عام تعریف کی اور کہا کہ قومی
سلامتی کے معاملے پر ملک کو سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔
کشمیر کے حالیہ دورے سے ٹھیک ایک دن پہلے بھی تھرور نے امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں انڈیا کے نجی سمندری جہازوں کے عملے کی حفاظت کا معاملہ
اٹھانے پر پی ایم مودی کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کی بھرپور ستائش کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ مودی نے عوامی اور نجی ملاقاتوں میں انڈیا کا موقف انتہائی
مضبوطی سے پیش کیا ہے۔
اندرونی اختلافات
ششی تھرور کی جانب سے مودی حکومت کی مسلسل تعریف اور انڈیا کے زیرانتظام
کشمیرمیں زندگی معمول پر واپس آنے کے دعووں پر آل انڈیا کانگریس کے مرکزی رہنماؤں
نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے تھرور پر طنز کرتے ہوئے انھیں ’مہا مانو مودی‘ کا بھکت قرار دیا۔ پون کھیڑا نے کہا کہ ’مودی-ٹرمپ ملاقات کے سرکاری اعلامیے میں انڈین ملاحوں کا
کوئی تذکرہ نہیں لیکن تھرور کو وہ باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں جو مودی نے کبھی کہی
ہی نہیں۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ تھرور کی مودی کے لیے عقیدت اب مادی دنیا کی حدود
سے تجاوز کر چکی ہے۔
اگرچہ پارٹی نے ابھی تک تھرور کے خلاف کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی نہیں
کی، لیکن پارٹی کی مرکزی قیادت میں ان کے
رویے کو لے کر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
کانگریس کی مرکزی قیادت کا ماننا ہے کہ جہاں راہول گاندھی اور دیگر رہنما
مودی حکومت کی کشمیر اور خارجہ پالیسی کو ناکام ثابت کرنے میں لگے ہیں، وہیں ششی
تھرور کے یہ بیانات بی جے پی کو کانگریس کے خلاف ایک بڑا سیاسی ہتھیار فراہم کر
رہے ہیں۔
ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل: 60 روز میں حتمی معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق، ایرانی وفد وطن واپس روانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات
کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد مذاکراتی مقام یعنی سوئٹزرلینڈ سے وطن
واپس روانہ ہو گیا ہے، جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات رواں ہفتے برگن سٹاخ میں جاری
رہیں گے۔
اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور
پاکستان نے چند گھنٹے قبل مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘
کے تحت اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاخ میں
اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق برگن سٹاخ ریزورٹ میں
تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے جاری رہیں گے۔
ثالث ممالک کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان
ایک ایسے روڈ میپ پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے جس کے تحت آئندہ 60 روز میں حتمی
معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
قطر اور پاکستان نے مزید بتایا کہ تہران اور
واشنگٹن آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ واقعے یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے ایک
"مواصلاتی رابطہ نظام" (لائن آف کمیونیکیشن) قائم کرنے پر بھی متفق ہو
گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی
رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں
"نمایاں پیش رفت" کا اعلان کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل
مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں اور بحری ناکہ بندی کا
خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے بعض منجمد اثاثے بھی جاری کر
دیے گئے ہیں۔
ایران، امریکہ مذاکرات کے دوران کانفرنس روم میں کیا ہوتا رہا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو ایک طویل کوشش کے بعد ایران اور امریکہ کے وفود ایک کمرے میں بات چیت کے لیے جمع ہوئے۔ مقام تھا سوئٹزرلینڈ کا شہر برگن سٹاخ جہاں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد نے مذاکرات کیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے ’60 روزہ روڈ میپ‘ پر اتفاق خوش آئند ہے: سوئٹزر لینڈ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئٹزرلینڈ نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان کی جانب
سے 22 جون کو جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کا خیرمقدم کیا ہے۔
سوئس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں خاص طور پر اس بات کا خیرمقدم کیا ہے کہ ’فریقین نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ روڈ میپ نئے تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ثالث ممالک، ایران اور امریکہ کے درمیان 21 اور 22 جون کی شب برگن سٹاخ میں جاری
رہنے والے انتہائی اہم سفارتی مذاکرات کے دوران ہونے والی تعمیری پیش رفت حوصلہ
افزا ہے۔‘
سوئس حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ فریقین کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی
بنیاد پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، جو سیاسی اور تکنیکی
عمل کے اگلے مرحلے کو منظم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سوئس حکومت نے اس عمل میں اپنی سفارت کاری کے تحت
تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی کوشش ہے کہ سفارتی
اقدامات کشیدگی میں کمی، استحکام اور پائیدار امن کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔‘
آبنائے ہرمز ایران کی خودمختاری کی علامت ہے، حتمی فیصلہ ایران کرے گا: ابراہیم عزیزی
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن
کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران
آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیان سامنے آیا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ
’آپ دھمکیاں دیتے ہیں، ہم کارروائی کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز نہ تو آپ کا ذاتی جوا
خانہ ہے اور نہ ہی جدید دور کے قزاقوں کا علاقہ۔ یہ ایرانی خودمختاری کی علامت ہے اور
اس حوالے سے حتمی فیصلے کا اختیار ایران کے عظیم عوام اور اس کی بہادر مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔‘
ایران کی جانب سے سنیچر کے روز علاقائی جنگ بندی سے
متعلق تنازعات کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد اس
اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ابراہیم عزیزی کو ایرانی پارلیمان میں خارجہ پالیسی
کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جوہری پروگرام
اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مسلسل سخت گیر مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہIRNA
لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے
سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ’ایران اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کو
ختم کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور امریکی و اسرائیلی منصوبے کی ناکامی کے
بعد ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’شیخ نعیم
قاسم نے اتوار کے روز لبنانی مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ جنگ کے بعد
ایران مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے بڑی قربانیاں
دینے کے باوجود یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘
حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان لبنان میں اتوار
کے روز چھڑپوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے جب تک ضروری
ہوا تب تک جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔‘
دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے جنوبی
لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حزب اللہ اپنی
دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گی۔‘
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے استعفے کا امکان، اہم اعلان متوقع
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر ممکنہ طور پر آج ہی
ڈاؤننگ سٹریٹ چھوڑنے یا استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
چار برسوں میں تیسری بار برطانیہ ایک ایسے مرحلے پر
پہنچتا دکھائی دے رہا ہے جہاں وزیرِ اعظم عام انتخابات میں شکست کے باعث نہیں بلکہ
اپنی ہی جماعت کے دباؤ کے تحت اقتدار چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حکومت اور لیبر پارٹی کے اندر موجود متعدد بااثر
شخصیات کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر جلد، ممکنہ طور پر آج ہی، اپنے
عہدے سے علیحدگی کے منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
لیبر پارٹی کے کئی رہنماؤں کے نزدیک سٹارمر کی
وزارتِ عظمیٰ گزشتہ چند ماہ سے مایوس کن ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے
ضمنی انتخاب میں اینڈی برنہم کی کامیابی اور اس کی غیرمعمولی شدت نے لیبر پارٹی کے
اندر موجود اختلافی آوازوں کو مزید تقویت دی، جو انتخابی مہم کے دوران دب کر رہ
گئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے سنیچر اور اتوار کا بیشتر
وقت اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور ممکنہ آپشنز پر غور کرتے ہوئے گزارا، جبکہ انھیں یہ
احساس بھی تھا کہ ان کے پاس راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کابینہ کے کم از کم چار وزرا، جن
میں وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ بھی شامل ہیں، کیئر سٹارمر کو مشورہ دے چکے ہیں
کہ وہ اپنی روانگی کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کریں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق آج صورتِ حال واضح ہونے کا
امکان ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ سٹارمر نہ صرف اپنے استعفے بلکہ اقتدار اپنے
جانشین کے حوالے کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کریں گے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل چند
ہفتوں میں مکمل ہوگا یا اس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ لیبر پارٹی کی قیادت کے
لیے باقاعدہ انتخابی مقابلہ ممکن ہے، تاہم اینڈی برنہم کی بلا مقابلہ نامزدگی کے
امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اینڈی برنہم آج دوپہر ہاؤس آف کامنز میں رکنِ پارلیمنٹ
کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں۔