لائیو, سوئٹزرلینڈ میں ایران - امریکہ مذاکراتی عمل جاری: عراقچی نے لبنان جنگ بندی کو ’پہلا امتحان‘ قرار دے دیا

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے دونوں مُمالک پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام امور پر تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے کے دوران برگن سٹاخ میں ہی جاری رہیں گے۔‘ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’مذاکراتی عمل کا پہلا حقیقی امتحان لبنان میں قائم کیے جانے والا ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ یعنی تنازعات کے تدارک اور رابطہ کاری کے مرکز‘ کی کارکردگی ہوگا۔‘

خلاصہ

  • ایران امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق، بات چیت جاری رہے گی
  • امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
  • وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے 'وقار' کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔

لائیو کوریج

  1. لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ’ایران اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کو ختم کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور امریکی و اسرائیلی منصوبے کی ناکامی کے بعد ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’شیخ نعیم قاسم نے اتوار کے روز لبنانی مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران نے بڑی قربانیاں دینے کے باوجود یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘

    حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان لبنان میں اتوار کے روز چھڑپوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے جب تک ضروری ہوا تب تک جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔‘

    دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حزب اللہ اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گی۔‘

  2. برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے استعفے کا امکان، اہم اعلان متوقع

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر ممکنہ طور پر آج ہی ڈاؤننگ سٹریٹ چھوڑنے یا استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    چار برسوں میں تیسری بار برطانیہ ایک ایسے مرحلے پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے جہاں وزیرِ اعظم عام انتخابات میں شکست کے باعث نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے دباؤ کے تحت اقتدار چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    حکومت اور لیبر پارٹی کے اندر موجود متعدد بااثر شخصیات کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر جلد، ممکنہ طور پر آج ہی، اپنے عہدے سے علیحدگی کے منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    لیبر پارٹی کے کئی رہنماؤں کے نزدیک سٹارمر کی وزارتِ عظمیٰ گزشتہ چند ماہ سے مایوس کن ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں اینڈی برنہم کی کامیابی اور اس کی غیرمعمولی شدت نے لیبر پارٹی کے اندر موجود اختلافی آوازوں کو مزید تقویت دی، جو انتخابی مہم کے دوران دب کر رہ گئی تھیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے سنیچر اور اتوار کا بیشتر وقت اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور ممکنہ آپشنز پر غور کرتے ہوئے گزارا، جبکہ انھیں یہ احساس بھی تھا کہ ان کے پاس راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق کابینہ کے کم از کم چار وزرا، جن میں وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ بھی شامل ہیں، کیئر سٹارمر کو مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنی روانگی کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کریں۔

    حکومتی حلقوں کے مطابق آج صورتِ حال واضح ہونے کا امکان ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ سٹارمر نہ صرف اپنے استعفے بلکہ اقتدار اپنے جانشین کے حوالے کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کریں گے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل چند ہفتوں میں مکمل ہوگا یا اس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے باقاعدہ انتخابی مقابلہ ممکن ہے، تاہم اینڈی برنہم کی بلا مقابلہ نامزدگی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اینڈی برنہم آج دوپہر ہاؤس آف کامنز میں رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں۔

  3. قطر کے راس لفان گیس کمپلیکس میں دھماکہ 54 افراد زخمی، 18 لاپتہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر کے اہم ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس کے پروسیسنگ مرکز راس لفان انڈسٹریل سٹی میں حکام کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں۔

    قطر انتظامیہ کے مطابق راس لفان انڈسٹریل سٹی میں پیش آنے والے ایک تکنیکی حادثے کے باعث پہلے دھماکہ ہوا اور پھر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اُٹھی۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ پر کُچھ ہی دیر کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔‘

    قطر کی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق دھماکہ ایک ’تکنیکی حادثے‘ کے باعث ہوا اور اس کے نتیجے میں کسی قسم کا ایسا گیس اخراج نہیں ہوا جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

    وزارتِ داخلہ نے مزید بتایا کہ قطری انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس ٹیموں کے تعاون سے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔

    قطر انرجی نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھماکے سے پلانٹ کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔ یہ پلانٹ قطر کی مقامی مارکیٹ کو گیس فراہم کرتا ہے۔

    ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کی زور دار آواز دارالحکومت دوحہ میں بھی سنی گئی، جو راس لفان فیسلٹی کے جنوب میں واقع ہے۔

  4. ایران امریکہ مذاکرات: بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، امریکی سفارتکار

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوئے اور جس کے بعد اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے دونوں مُمالک یعنی پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ عمل رواں ہفتے جاری رہے گا۔

    سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباق عراقچی کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور قطر کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    تاہم امریکہ کی جانب سے کوئی واضح ردِ عمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے مگر مذاکرات میں شریک ایک سینئر امریکی سفارتکار نے بتایا کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز اتوار کے روز ہوا تھا، جب گزشتہ ہفتے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    اتوار کی شب امریکی سفارتکار نے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی سے متعلق ایران کے بعض ’غیر واضح پیغامات‘ کی وضاحت، جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ اور جوہری معاہدے کے مختلف نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے لبنان میں اسرائیل کے ساتھ جاری جھڑپوں کے دوران حزب اللہ کی حمایت بند نہ کی تو امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ایران نے اس انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے۔

    امریکی سفارتکار کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں وفود آج کی پیش رفت کو آئندہ تکنیکی مذاکرات کی بنیاد کے طور پر استعمال کریں گے۔

    گزشتہ ہفتے طے پانے والے ابتدائی معاہدے میں 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے، تمام محاذوں پر لڑائی کے خاتمے، بشمول لبنان اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے وعدے شامل تھے۔

    تاہم اس کے بعد جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ گئی، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    صورتحال میں کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکہ نے جمعے کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود جاری جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد ایران نے سنیچر کے روز آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

  5. امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خلیجی ممالک کا دو روزہ دورہ، اہم علاقائی امور پر بات چیت ہوگی: امریکی وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 23 جون سے شروع ہونے والے دو روزہ دورے کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں اہم رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو اپنے دورے میں خطے سے متعلق متعدد اہم امور پر بات چیت کریں گے، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی مکمل، آزاد اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کی کوششیں اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت شامل ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں خطے کے ممالک کی مشترکہ ترجیحات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

  6. پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور قطر کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’اس پیش رفت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی دی گئی ہے، ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے، منجمد اثاثوں کا ایک حصہ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کے لیے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس عمل کا پہلا حقیقی امتحان لبنان میں قائم کیے جانے والے ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ یعنی تنازعات کے تدارک اور رابطہ کاری کے مرکز‘ کی کارکردگی ہوگا۔‘

  7. ایران، امریکہ مذاکرات: لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق، بات چیت جاری رہے گی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سوئٹرزلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر امریکہ اور ایران میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈمیپ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

    فریقین میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

    پاکستان اور قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے پہلے اجلاس کا اختتام سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے دو ممالک قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔‘

    اعلامیے میں درج ہے کہ سربراہی اجلاس ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا، جبکہ ’مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کے قیام سمیت حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر فریقین نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو ثالثی کے عمل کے لیے سیاسی نگرانی فراہم کرے گی۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں درج ہے کہ ’مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے، نیز دیگر امور پر بھی کام کریں گے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈمیپ پر اتفاق کیا ہے، جو مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد فراہم کرے گا۔‘

    ’اس کے علاوہ مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ میں بیان کردہ مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے اور واقعات و غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف نمبر پانچ میں درج ہے کہ اس یادداشت پر دستخط کے بعد ایران 60 دن تک بغیر کسی فیس کے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے انتظامات کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کے انتظامات کے مستقبل کے حوالے سے عمان کے ساتھ مکالمہ کرے گا۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فریقین نے ڈی کنفلیکشن سیل (تنازع کم کرنے والا سیل) بنانے پر اتفاق کیا ہے جو ’فریقین کے درمیان، لبنان کے ساتھ اور ثالثوں کی معاونت سے قائم کیا جائے گا، تاکہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

    اعلامیے کے مطابق تمام امور پر تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے کے دوران برگن سٹاخ میں جاری رہیں گے، اس دوران ’ثالثی کرنے والے فریق مذاکرات کو تعمیری ماحول میں جاری رکھنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘

  8. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    • حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جنوبی لبنان میں سکیورٹی (بفر) زون میں اسرائیلی افواج کے تعینات رہنے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کا لبنان میں رہنا ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کے لیے کوئی سیکیورٹی زون نہیں ہے، ہمارے پاس ایک قومی فوج ہے جو ملک کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور ہم اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘
    • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے
    • اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’جب تک ملک کے شمال میں رہنے والوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گا، ہم جنوبی لبنان میں سکیورٹی (بفر) زون میں رہیں گے۔‘
    • پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو حالیہ بحران سے نمٹنے کے انداز پر سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نےخطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے ’وقار‘ کا مظاہرہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔