آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اسرائیل الیکشن: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ میں سخت مقابلہ، عرب جماعتوں کو فیصلہ کن نشستیں ملنے کا امکان

اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق بظاہر نہ ہی تجربہ کار وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ دوسری جانب انتخابات میں شامل دو عرب جماعتوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، نو مبینہ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 26 اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع کچھی اور ضلع وڈھ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دو الگ الگ کارروائیاں کرتے ہوئے نو مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ضلع کچھی میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک مبینہ دہشت گرد ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات مبینہ شدت پسند مارے گئے۔ فورسز نے موقع سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع وڈھ میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مبینہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انھیں روک لیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں مزید دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ اس کارروائی میں بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی دوسرے مبینہ شدت پسند کو تلاش کر کے گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔

    فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا کہ ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

  2. اسرائیلی انتخابات: کوئی بلاک واضح اکثریت حاصل نہ کر سکا، عرب جماعتیں کنگ میکر بننے کی پوزیشن میں

    اسرائیل میں عام انتخابات کے 66.3 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کسی سیاسی اتحاد کو کنیسٹ (پارلیمان) میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

    جزوی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ نیتن یاہو کے حامی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو مجموعی طور پر 54 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے سات نشستیں کم ہیں۔

    دوسری جانب سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت یشار 21 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    جزوی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ جوائنٹ لسٹ 12 جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ چھے نشستوں پر آگے ہے، جس کے بعد عرب جماعتوں کی مجموعی نمائندگی 18 نشستوں تک پہنچ سکتی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو عرب جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ نہ نیتن یاہو کا بلاک اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد اپنے طور پر پارلیمانی اکثریت حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جو حالیہ برسوں میں غیرمعمولی طور پر بلند شرح قرار دی جا رہی ہے۔ اب حتمی نتائج اور بعد ازاں اتحادی مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کون تشکیل دیتا ہے۔

  3. اسرائیل میں معلق پارلیمان کی صورت میں حکومت کیسے بنتی ہے؟

    اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔

    ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔

    نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔

    اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں۔

    اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔

    اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔

    سنہ 2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 میں سے 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں انھوں نے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کی اور حکومت تشکیل دی تھی۔

  4. اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے متضاد دعوے, پروشلم سے مشرقِ وسطیٰ کی نامہ نگار یولینڈ نیل

    اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے معاملے پر وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے ایک دوسرے سے متضاد دعوے کیے ہیں۔

    نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دائیں بازو کے اتحاد کو صہیونی اور یہودی عوام کی واضح اور فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے ایک مضبوط قومی اور دائیں بازو کی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے، اس لیے اب ایسی حکومت کی تشکیل ہونی چاہیے۔ تاہم انھوں نے انتخابی فتح کا باضابطہ اعلان کرنے سے گریز کیا۔

    دوسری جانب سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور نیتن یاہو کی قیادت کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکمران اتحاد عوام کا اعتماد کھو چکا ہے اور ووٹرز نے نیتن یاہو کے بطور وزیرِاعظم برقرار رہنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

    آئزنکوٹ نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے جو مستحکم ہو اور تمام اسرائیلی شہریوں کی نمائندگی کرے۔ انھوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہونا چاہیے تاکہ قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کو بحال کیا جا سکے۔

    عرب قیادت والی جماعتیں ’کنگ میکر‘ بن سکتی ہیں

    اسرائیلی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود توقعات سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ تاہم ان کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں کا بلاک تاحال 120 رکنی کنیسٹ میں 61 نشستوں کی واضح اکثریت سے کچھ فاصلے پر دکھائی دیتا ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی ووٹوں کی گنتی ایسے علاقوں سے ہوئی ہے جہاں روایتی طور پر دائیں بازو کی حمایت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے حتمی نتائج آنے تک صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود انتخابات میں 77 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ نے سیاسی مقابلے کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔

    دوسری جانب نیتن یاہو کے اہم حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کے لیے عرب قیادت والی جماعتوں کی حمایت کے بغیر پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جزوی نتائج کے مطابق عرب جماعتیں اپنی سابقہ ریکارڈ نمائندگی برقرار رکھنے یا اس میں اضافہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

    انتخابی مہم کے دوران بیشتر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ دونوں کے سیاسی نظریات میں نمایاں فرق ہے۔ تاہم اگر حکومت سازی کا عمل تعطل کا شکار ہوتا ہے تو یہی عرب جماعتیں اقتدار کے توازن کا فیصلہ کرنے والی ’کنگ میکر‘ ثابت ہو سکتی ہیں۔

    اس انتخاب میں عرب اسرائیلی ووٹروں کی شرکت غیرمعمولی طور پر زیادہ دیکھی گئی۔ اسرائیل کی تقریباً ایک پانچواں آبادی پر مشتمل یہ عرب اقلیت خود کو اکثر فلسطینی نژاد اسرائیلی شہری کے طور پر شناخت کرتی ہے۔ بہت سے ووٹروں نے اس انتخاب کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت کو شکست دینے یا برقرار رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کن معرکہ قرار دیا ہے۔

  5. مصر اور سعودی عرب کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر مشاورت، قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

    مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری بحران پر قابو پانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ مصری وزارت خارجہ کے مطابق بدر عبدالعاطی اور شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک نے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر کی پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرنے کی اجازت دی ہے۔

    دوسری جانب یمنی حوثیوں کے ایک عہدیدار نے اس فیصلے کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا ہے۔

  6. ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ثالثی کی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرے اور عوامی بیانات دیتے وقت زیادہ احتیاط سے کام لے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ محمود مالکی کا یہ ردِعمل قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم الہاشمی کے حالیہ بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

    قطری عہدیدار نے کہا تھا کہ قطر اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک متعدد بار علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے قیام کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، اور اب تہران پر لازم ہے کہ وہ مجوزہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عملی طور پر اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کرے۔

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ مثبت بیانات کے باوجود ایران کو اپنے مؤقف کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے، ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہیے۔

    اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی اہلکار نے کہا کہ تہران قطر سمیت تمام ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل میں باہمی خیرسگالی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اقدامات، خصوصاً ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی قوتوں کو اپنی سرزمین یا تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا، علاقائی اعتماد کے منافی ہے اور اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

    ایران اور قطر کے تعلقات حالیہ مہینوں میں اس وقت کشیدہ ہوئے جب ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں قطر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تہران کا مؤقف تھا کہ اس کے حملوں کا ہدف قطر نہیں بلکہ امریکی فوجی تنصیبات تھیں، تاہم دوحہ نے ایسے اقدامات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

    قطر، پاکستان کے ساتھ، ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

  7. پرنسپل کے بارے میں پوچھ گچھ کے بعد مسلح افراد کی فائرنگ، تین طالبات زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    نوشکی شہر کے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں تین طالبات زخمی ہوئیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں سے دو طالبات کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تین نقاب پوش مسلح افراد کالج میں داخل ہوئے اور کالج کی پرنسپل کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ان کے مطابق اس وقت پرنسپل اپنے دفتر میں موجود نہیں تھیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد واپسی کے وقت فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بعض گولیاں عمارت کی چھت سے ٹکرانے کے بعد طالبات کو لگیں، جس کے نتیجے میں تین طالبات زخمی ہو گئیں۔

    زخمی طالبات کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کیا گیا، جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ بعد ازاں دو طالبات کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    ٹیچنگ ہسپتال نوشکی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی تینوں طالبات کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق دو طالبات کو گولیاں لگی تھیں، جبکہ تیسری طالبہ معمولی زخمی ہوئی اور اسے خراشیں آئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انھوں نے رخشان ڈویژن میں تمام تعلیمی اداروں، خصوصاً گرلز کالجوں، کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

  8. اسرائیلی انتخابات میں تاریخی ووٹر ٹرن آؤٹ: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ میں سخت مقابلہ

    اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز جو تصویر سامنے آ رہی ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ نہ ہی تجربہ کار وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

    دو اسرائیلی نشریاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور ان کے ’تبدیلی اتحاد‘ میں شامل تین دیگر یہودی اپوزیشن جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ میں 51 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی یہودی اتحادیوں کے بھی 51 نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایک تیسرے نشریاتی ادارے کے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تین نشستوں کی برتری دی گئی ہے۔

    اب کافی کچھ دو عرب جماعتوں پر منحصر ہوگا، جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

    منگل کو ووٹنگ میں عوامی شرکت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر رہی۔

    مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے پر ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تھا، جو 1999 کے بعد اس وقت تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ تناسب ہے۔

    سرکاری نتائج رات تک آنا شروع ہو جائیں گے، تاہم تقریباً 6 لاکھ غیر حاضری میں ڈالے گئے ووٹ، جو زیادہ تر فوجی اہلکاروں کے ہیں ہیں اور کل ووٹوں کا لگ بھگ 10 فیصد بنتے ہیں، جمعرات تک مکمل طور پر شمار نہیں کیے جائیں گے۔

    حتمی نتائج کی تصدیق اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس جماعت کے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انھیں لگے گا کہ وہ حکومتی اتحاد تشکیل دینے کے لیے سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

    اگر وہ رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہے تو بالآخر دوبارہ انتخابات کروانا پڑیں گے۔

  9. انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ، ایک شہری ہلاک, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ سرحدی آبادی میں مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق 27 اکتوبر کی شب افغان طالبان نے انگور اڈہ بازار اور سرحدی علاقے میں واقع شہری گھروں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔

    بیان کے مطابق ایک طالبان مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے ایک نہتے شہری کی موت واقع ہوئی جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ گولہ باری سے بازار کی متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے اس اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا ہے۔

    جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان جانب سے مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے دوران شہری علاقوں میں بھی گولے گرے۔ ان کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

    انگور اڈہ کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ منگل کی دوپہر اچانک شدید گولہ باری شروع ہوئی۔ ان کے بقول ایک گولہ ایک رہائشی مکان پر آ گرا جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔

    انگور اڈہ کے قومی جرگے کے رکن مولانا تسبیح اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد پر کشیدگی تو پہلے سے موجود تھی، تاہم گذشتہ روز اچانک فائرنگ اور گولہ باری شروع ہو گئی۔ ان کے مطابق کئی گولے شہری آبادی میں گرے اور ایک مکان کو براہِ راست نشانہ بننے سے جانی نقصان ہوا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ایک گولہ لکڑیوں کے ایک ٹال پر بھی گرا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے قریبی دکانوں تک پھیل کر مالی نقصان پہنچایا۔

    دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر سنائپر رائفلوں سمیت چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت سے رابطہ کرنے پر انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزارتِ دفاع کے ترجمان ہی باضابطہ مؤقف دے سکتے ہیں۔

    اُدھر مقامی ذرائع کے مطابق بُدھ کی صبح دونوں جانب صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی۔ مولانا تسبیح اللہ کا کہنا ہے کہ مقامی جرگے نے دونوں ممالک کی فورسز سے فائرنگ روکنے کی اپیل کی تھی تاکہ زخمیوں کو محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق فی الحال علاقے میں فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ دو برس سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف سرحدی مقامات پر جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

  10. اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا: یاشر پارٹی کی رہنما

    سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی جماعت ’یاشر‘ کی رہنما اوریت فرکاش ہاکوہن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انتخابات میں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید بنیامین نیتن یاہو کی قیادت نہیں چاہتے۔

    ان کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو تقریباً 20 نشستوں کا نقصان ہوا ہے اور اب ان کے پاس پارلیمان میں اکثریت نہیں رہی، جس کے باعث وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں انھوں نے مزید کہا، ’اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو دوٹوک انداز میں بتا دیا ہے کہ وہ اب ان کی قیادت قبول نہیں کرتے۔‘

    اوریت فرکاش ہاکوہن نے کہا کہ ووٹرز نے مختلف ترجیحات اور ایک نئی طرز کی قیادت کے حق میں فیصلہ دے کر تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

  11. آج نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

    اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا‘ اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ’واضح شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں۔ ہم اکثریت میں ہیں۔ جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس پر ایسا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ اب ترجیح ایک نئی ’صیہونی حکومت‘ کی تشکیل ہونی چاہیے، چاہے وہ ابتدا میں مکمل یا وسیع اتحاد پر مشتمل نہ ہو۔ ان کے بقول بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔

    یائر لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور کنیسٹ اراکین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک بہادر ساتھی اور دوست ہیں، اور میں اس سے بہتر شراکت دار کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو قیامِ ریاست کے بعد کے شاید سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کا قیام، فوجی بھرتی میں مساوات اور قومی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔

    اپنے بیان کے اختتام پر یائر لیپڈ نے کہا کہ ’ہمارا سفر آج ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جسے درست سمت میں لے جانا ہے اور ایک ایسا معاشرہ ہے جس کی بحالی ضروری ہے۔‘ انھوں نے قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی پر بھی زور دیا۔

    عوام نے نیتن یاہو کی حکمرانی کے خاتمے کے لیے ووٹ دیا، نئی حکومت بنانے کی کوشش کروں گا: سابق آرمی چیف

    اسرائیل میں انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اور وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔

    اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔

    انھوں نے نیتن یاہو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئزن کوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی یا ہنگامی صورتحال سے حکومت سازی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک پر معمولی برتری حاصل ہے، تاہم دونوں میں سے کوئی بھی فریق کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  12. اسرائیلی حکومت کے قیام کے چار ممکنہ منظرنامے کیا ہیں؟

    کنیسٹ میں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کے 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے بعد، اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے چار اہم امکانات زیرِ غور ہیں:

    1- مخلوط (اتحادی) حکومت کی تشکیل

    سیاسی جماعتیں اکثریتی اتحاد قائم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر سکتی ہیں۔ اس عمل میں عرب جماعتیں گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کے لیے فیصلہ کن حمایت فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ بنیامین نیتن یاہو کو دائیں بازو کی بعض چھوٹی جماعتوں کی ناکامی کے باعث نئے اتحادی تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    2- اقلیتی حکومت کا قیام

    گادی آئزن کوٹ ایسی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں جو پارلیمان میں موجود بعض جماعتوں، بالخصوص عرب جماعتوں، کی بیرونی حمایت پر انحصار کرے۔ اس صورت میں حمایت کرنے والی جماعتیں حکومت کا حصہ بنے بغیر اسے برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں گی۔

    3۔ قومی اتحاد کی حکومت

    ایک اور امکان یہ ہے کہ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر مرکزی اور دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں۔ تاہم، سیاسی وعدوں اور باہمی عدم اعتماد کے باعث اس آپشن کو خاصی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    4۔ نئے انتخابات

    اگر کوئی جماعت یا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جا سکتا ہے۔ حکومت سازی کے لیے نامزد امیدوار کو پہلے 28 دن اور ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی مہلت دی جا سکتی ہے۔ اگر اس مدت میں بھی اتفاقِ رائے نہ بن سکا تو نئے انتخابات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

  13. اسرائیل میں انتخابات: ’تاریخی‘ ٹرن آؤٹ کے بعد ووٹنگ باضابطہ طور پر ختم

    اسرائیلی انتخابات میں ’تاریخی‘ ٹرن آؤٹ کے بعد ووٹنگ کا عمل باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تک پہنچ گیا، جو 1999 کے بعد پولنگ کے اختتام پر ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔

    کمیٹی نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے تک 56 لاکھ 95 ہزار 682 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔

    انتخابی حکام کے مطابق ووٹرز کی یہ بھرپور شرکت گذشتہ تقریباً تین دہائیوں میں کسی بھی اسرائیلی عام انتخاب کے اختتامی وقت پر دیکھی جانے والی بلند ترین شرح ہے، جسے ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

  14. نیتن یاہو کے لیے مشکل رات، اسرائیلی انتخابات کا نتیجہ تاحال غیر یقینی

    • اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ ابھی کسی بھی فریق کی فتح کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
    • نظرِ ثانی شدہ دو ایگزٹ پولز کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور ان کے حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
    • ایک تیسرے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے۔
    • بعض اندازوں کے مطابق عرب جماعتیں اپنی تاریخ کی بہترین انتخابی کارکردگی دکھاتے ہوئے کم از کم 17 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
    • نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ حتمی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے ایک ’مضبوط دائیں بازو کی حکومت‘ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
    • دوسری جانب آئزن کوٹ نے اپنی جماعت کے مرکز میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے‘۔
    • ووٹوں کی سرکاری گنتی جاری ہے اور مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے تک تقریباً ایک چوتھائی ووٹ شمار کیے جا چکے تھے۔
    • مبصرین نے ابتدائی نتائج کو نیتن یاہو کے لیے ’انتہائی مایوس کن اور سخت دھچکہ دینے والی رات‘ قرار دیا ہے۔
  15. نیتن یاہو کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ’ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘ کے ایک ’منفرد موقع‘ کا ذکر

    اپنی تقریر کے اختتام پر بینیامن نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اسرائیل کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ’ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘ کا ایک ’منفرد موقع‘ موجود ہے۔

    اسرائیل اور امریکہ نے 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے مشترکہ حملے کیے تھے، جبکہ رواں سال فروری میں دونوں ممالک نے ایران پر ایک اور مشترکہ حملہ کیا تھا جس کے بعد موجودہ تنازع شروع ہوا۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے حکومت نیتن یاہو کے اتحاد کی بنے یا ان کے حریف گاڈی آئزنکوٹ کے اتحاد کی، ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اسرائیل کی موجودہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

  16. نیتن یاہو نے ’عرب حمایت‘ سے حکومت بنانے کا امکان مسترد کر دیا

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت قائم کرنے کا امکان مسترد کر دیا ہے ہے۔

    لیکوڈ پارٹی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فی الحال کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، اور وہ کسی بھی فیصلے سے پہلے ’حقیقی نتائج‘ کا انتظار کریں گے۔

    موجودہ اندازوں کے مطابق ان کے اتحاد اور ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد کے درمیان برابر کا مقابلہ جاری ہے۔

    تاہم اپنے حامیوں سے خطاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’لیکود سب سے بڑی جماعت ہے۔‘

    ’ہمیں ایک مضبوط دائیں بازو کی قومی حکومت قائم کرنی چاہیے۔‘

    نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایسی کسی حکومت کے تحت نہیں چلایا جا سکتا جو ’عرب حمایت‘ کے سہارے قائم ہو۔

    دوسری جانب عرب جماعتوں کے لیے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کرنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ دونوں بڑے اتحاد اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں تک پہنچنے سے ابھی دور نظر آ رہے ہیں۔

  17. اسرائیل میں حکومت کیسے بنتی ہے؟

    اسرائیل میں آج تک کوئی بھی سیاسی جماعت پارلیمان میں اتنی نشستیں حاصل نہیں کر سکی کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے، اسی لیے وہاں ہمیشہ اتحادی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

    ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل کے صدر مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں انھیں لگتا ہے کہ اس کے پاس اکثریت حاصل کرنے کا بہتر موقع ہے۔

    اس امیدوار کو اتحادی حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر مزید وقت درکار ہو تو وہ 14 روز کی توسیع کی درخواست بھی کر سکتا ہے۔

    اگر مقررہ مدت میں حکومت نہ بنائی جا سکے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو اپنی اتحادی حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔

    اگر دوسری کوشش بھی ناکام ہو جائے تو کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے ارکان صدر سے درخواست کر سکتے ہیں کہ کسی تیسرے رہنما کو حکومت سازی کی کوشش کا موقع دیا جائے۔ اگر وہ بھی کامیاب نہ ہو تو پھر نئے انتخابات کروائے جاتے ہیں۔

    2019 سے 2022 کے درمیان سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات اور اتحاد بنانے میں ناکامی کے باعث اسرائیل میں پانچ مرتبہ انتخابات کرائے گئے تھے۔

    2022 کے انتخابات میں بییامن نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 رکنی کنیسٹ میں 32 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے کئی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد قائم کیا، جس کے نتیجے میں ان کے اتحاد کو 64 نشستوں کی اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔

  18. اسرائیلی انتخابات کے نئے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے اتحادوں میں برابر کی ٹکر

    اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان 11 اور چینل 13 کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ایگزٹ پولز کے مطابق دونوں حریف اتحادوں کے 51، 51 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    چینل 12 نے بھی اپنے ایگزٹ پول میں نظرِ ثانی کی ہے، جس کے مطابق آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد 50 نشستوں کے ساتھ معمولی فرق سے پیچھے ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 52 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسی چینل کے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو مخالف اتحاد کو موجودہ وزیرِ اعظم پر معمولی برتری حاصل دکھایا گیا تھا۔

    حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کو کنیسٹ میں کم از کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

    دریں اثنا، اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے سرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اب تک تقریباً 2.5 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

  19. نیتن یاہو مخالف ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں حامیوں کا جشن

    تل ابیب میں نیتن یاہو مخالف گاڈی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں موسیقی زوروں پر ہے۔

    جیسے ہی بڑی سکرین پر ’ایگزٹ پولز‘ (انتخابی نتائج کے ابتدائی اندازے) دکھائے گئے، وہاں موجود کچھ حامی رقص کرنے، گانے گانے اور اسرائیلی پرچم لہرانے لگے۔

    تاہم، ابھی تک کسی بھی پارٹی کے نمائندے سٹیج پر نہیں آئے ہیں اور ہال بھی ابھی آدھا خالی ہے۔ ٹی وی عملے اور دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے سامنے، جو یہاں نتائج جاننے کے لیے موجود ہیں، کافی جگہ خالی پڑی ہے۔

    آئزنکوٹ کا ’تبدیلی کا بلاک‘ نیتن یاہو کے بلاک کے مقابلے میں بڑا دکھائی دے رہا ہے، لیکن پھر بھی یہ اکثریت حاصل کرنے سے کافی دور ہے۔

    اس رات کی اصل کہانی عرب جماعتوں کے گرد گھومتی ہے، جن کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ تقریباً 17 یا 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

  20. اسرائیلی انتخابات کے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو کی جماعت سب سے بڑی پارٹی، مگر اپوزیشن اتحاد نشستوں میں آگے

    اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز ظاہر کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اسرائیلی انتخابات میں سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    یہ حکمران اتحاد سے تو آگے ہے، لیکن اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد سے کافی کم نشستیں ملی ہیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے۔

    اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔

    اسرائیلی چینلز 11، 12 اور 13 کی جانب سے نشر کیے گئے ابتدائی اندازوں کے مطابق، سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کیمپ 52 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے کیمپ جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    عرب اسرائیلی جماعتوں نے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔

    سرکاری نتائج کا اعلان اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد کر دیا جائے گا، تاہم تقریباً چھ لاکھ ’غیر حاضری والے ووٹ‘ جن میں سے تقریباً تمام فوجیوں کے ہیں اور جو کل ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل نہیں ہو سکے گی۔

    تمام نتائج سامنے آنے اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس پارٹی رہنما کو حکومت سازی (اتحادی حکومت بنانے) کی دعوت دیں گے جن کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔

    یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔