لائیو, ایران اور امریکہ کی جانب سے جلد معاہدے کے اشارے، خام تیل کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر

ایران اور امریکہ کے درمیان جلد امن معاہدے طے پائے جانے کے امکانات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے متعلق ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اور یہ اگلے ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی
  • متحدہ عرب امارات کی ایران کو رقوم کی منتقلی کی خبروں کی تردید
  • امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق
  • امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. انڈین فضائیہ کا اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ آسام میں گر کر تباہ, دلیپ کمار شرما، بی بی سی ہندی

    انڈین فضائیہ کا اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہAvik

    انڈین فضائیہ کا ایک اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سنیچر کے روز انڈین ریاست آسام میں واقع جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے فضائیہ کے ترجمان وِنگ کمانڈر جے دیپ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اے این-32 طیارہ جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر گیا ہے، تاہم اس بارے میں مکمل معلومات ابھی جمع کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بارے میں انڈین فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ طیارہ لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہوا اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کی جا رہی ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔

    ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر ائیر بیس کمپلیکس میں ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال اس حادثے مرنے یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    اے این-32 ایک دو انجنوں پر مشتمل ٹربو پروپ فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو اصل میں سوویت یونین (اب یوکرین کے انتونوف ڈیزائن بیورو) نے تیار کیا تھا۔

    یہ طیارہ بنیادی طور پر انڈین فضائیہ کے بیڑے کا اہم حصہ ہے اور اسے فوجیوں کی نقل و حمل، امدادی سامان کی ترسیل اور پیرا ٹروپرز کو فضا سے اتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  2. امریکہ اور ایران میں جلد معاہدے کا امکان، تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

    تیل کی قیمت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پائے جانے کی امید کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں مارچ کے اوائل کے بعد سے اپنی کم ترین سطح (تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح) پر پہنچ گئی ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 87.33 ڈالر فی بیرل تک ہو گئی ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 3.05 ڈالر (یا 3.4 فیصد) کم ہے۔

    امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی کم ہو کر 84.88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 2.83 ڈالر یا 3.2 فیصد کم ہے۔ یہ اپریل کے بعد ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی کم ترین قیمت ہے۔

    سرمایہ کاری فرم ’اگین کیپیٹل‘ کے شراکت دار جان کیلڈف کے مطابق مارکیٹ میں کمی کی بڑی وجہ ایرانی حکام کے وہ بیانات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت ہونے کے قریب ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔

    بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔

  3. شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں چار کمانڈرز سمیت 21 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج وزیرستان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی اور اس کے گرد و نواح کے علاقے میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران گذشتہ 72 گھنٹوں میں 21 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق مارے جانے والوں میں چار شدت پسند کمنڈرز بھی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے شدت پسند کمانڈرز دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں بشمول سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے تھے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 48 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

  4. انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر جے ایس شنکر کا مارکو روبیو سے احتجاج: ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف ایسی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں‘

    جے ایس شنکر مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے وزیرِ جے ایس شنکر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمان کے ساحل کے نزدیک جہاز پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے سامنے اٹھایا ہے۔

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایکس پر جاری ایک بیان میں جے ایس شنکر کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں میں تین انڈین شہریوں کی ہلاکت پر ایک بار پھر احتجاج کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ، ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف اس طرح کی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں۔‘

  5. امریکہ نے ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا

    سینٹرل افریقہ ریپبلک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے ایک ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا ہے۔

    خاتون کی وکیل نے جمعہ کے روز خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے امریکی اقدام کو ایسے ملک میں ’انتہائی خطرناک‘ منتقلی قرار دیا ہے جہاں سے ان کی مؤکلہ کا کوئی تعلق نہیں۔

    حمعرات کے روز ایرانی امریکن لیگل ڈیفنس فنڈ نے بتایا تھا کہ ایران سے فرار ہونے والی تین ایرانی خواتین کو امریکہ سے بے دخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہے۔

    ایرانی جموریت نوaز کارکن کی وکیل ایملی ٹروسٹل نے بتایا کہ جمعرات کی شب لوئیزیانا سے روانہ ہونے والی پرواز میں تینوں میں سے صرف یہی خاتون کارکن سوار تھیں۔ انھوں نے اس بات کا امکان مسترد نہیں کیا کہ دیگر خواتین کو بھی بعد میں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔

    ہیومن رائٹس فرسٹ کے زیر انتظام آئس (آئی سی ای) فلائٹ مانیٹر کے مطابق، طیارہ گھانا کے دارالحکومت اکرا میں کچھ دیر رکنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے سینٹرل افریقہ ریپبلک کے دارالحکومت بانگوئی پہنچا۔

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو کہاں رکھا جائے گا یا سینٹرل افریقہ ریپبلک میں انھیں کتنے عرصے تک رہنے کی اجازت ہوگی۔

    سینٹرل افریقہ ریپبلک ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، تشدد اور غربت کا شکار ہے۔ سینٹرل افریقہ ریپبلک نے حال ہی میں امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کو قبول کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

  6. حزب اللہ کا اسرائیلی افواج پر حملوں کا دعویٰ، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے تین دیہاتوں سے انخلا کا حکم جاری کر دیا

    حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کا جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا ہے۔

    گروہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے جمعرات کی شام اسرائیلی افواج پر کئی راکٹ داغے جس کے باعث وہ پسپا ہو گئے، اور پھر جمعہ کو ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں اور راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے ان پر مزید حملے کیے۔

    حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف دیگر حملے بھی کیے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تین دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے جبکہ لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصوں میں مختلف علاقوں پر حملوں کی خبر دی ہے۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے بھی شہر نبطیہ کے قریب شدید دھماکوں اور توپ خانے کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے۔

  7. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال پانچویں روز بھی جاری، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    مظفرآباد

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پرہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے جبکہ کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست وزارتِ داخلہ نے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے گذشتہ رات کوہالہ سے مظفر آباد جانے والے راستے کو پتھر اور درختوں کے تنوں رکھ کر کردیا تھا جسے پولیس اور انتظامیہ نے کلیر کروا لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دوکانیں پانچویں روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خردونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔ فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف انے والے تمام راستے کلیر ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

    انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خرودنوش کی دوکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دوکان کو سیل کردیا ہے۔

    منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دوکانیں کھلی رہیں جبکہ دودہ دہی کی دوکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دوکان د کو زبردستی اپنی دوکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

    کمشنر مظفرآباد نے دعویٰ کیا کہ جیسے کرونا کے دنوں میں لوگ اپنی دوکانوں کے شٹر نیچے کیے ہوتے تھے اور گاہک اتا تو شٹر اوپر کرکے گاہک کو چیزیں فراہم کرتے تھے، وہی صورت حال مظفر آباد کے کچھ علاقوں میں بھی ہے۔

    منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے کے ادارے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

    مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد پانچ سو کے قریب تھی اور انھوں نے مظفر اباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسے طاقت کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

    دوسری جانب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عید گاہ کے علاوہ پتن کے قریب بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان جمع ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دریک عید گاہ کے قریب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

    سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولاکوٹ انے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرلیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمت عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

    کمشنر پونچھ کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مخلتف مقامات پر چھاپے مار کر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال

    دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

  8. بنوں میں آندھی اور بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک، 16 زخمی

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پختونخوا کے ضلع بنوں میں آندھی اور موسلادھار بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق ضلع بنوں میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش کے باعث مختلف مقامات پر دیواریں، مکانات اور دکانیں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حادثات کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو مرد اور دو بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں چار مرد، پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہی۔

    پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کمزور اور خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں اور اس کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر دیں۔

  9. امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے حملہ آور ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کئی یک طرفہ حملہ آور ڈرونز لانچ کیے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بلا رکاوٹ جاری ہے۔‘

    اس سے قبل اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے کئی ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرون تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔

  10. متحدہ عرب امارات کی ایران کو رقوم کی منتقلی کی خبروں کی تردید

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بعض بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ایران کو مالی وسائل کی منتقلی یا فراہمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ایران کو رقوم کی منتقلی سے متعلق دعوے بشمول تین ارب ڈالر کی منتقلی کی رپورٹس ’غلط‘ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو ایران کے منجمد اثاچے واپس کیے گئے ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کو اربوں ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ان رقوم کا کچھ حصہ تہران کو فراہم بھی کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘

  11. امریکہ کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ہم پہلے کبھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھے اور یہ اگلے ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے یا اگلے کچھ دنوں میں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر ملک کے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کریں جو ’ماحول خراب کر سکتی ہیں اور اس موقع کو متاثر کر سکتی ہیں۔‘

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’یہ مفاہمتی یادداشت ڈیڑھ یا دو صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر دو ماہ سے زائد عرصے تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس کی ہر شق اور ہر جملے کا کئی بار جائزہ لیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اس متعلق قومی سلامتی کونسل اور سکیورٹی اداروں کو بروقت رپورٹس پیش کی گئی ہیں، جبکہ افواج نے بھی اہم معاملات بشمول آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے پر نظر رکھی ہے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایرانی عوام کے مفادات میں ہے۔

    عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے، اور اب تک یہ خدمات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ ’لیکن ایران کا حتمی فیصلہ ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقۂ کار ماضی سے مختلف ہوگا۔‘

  12. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لانگ مارچ کے شرکا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ میں شریک افراد کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز دی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹریٹ کو لکھے گئے ایک خط میں محکمۂ داخلہ نے راولاکوٹ سے مظفر آباد لانگ مارچ میں شریک ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کی منظوری طلب کی ہے۔

    اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل میپنگ اور جیو فینسنگ کے ذریعے لانگ مارچ کے شرکا کی فہرست تیار کی جائے اور انھیں کالعدم تنظیم کے فریم ورک میں شامل کرنے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔

    اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو کریکٹر سرٹیفکیٹس دینے پر پابندی عائد کی جائے، ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے جائیں اور پاسپورٹس بلاک کر دیے جائیں۔

    دیگر تجاویز میں موبائل اکاؤنٹس کی معطلی اور ممکنہ غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی شامل ہیں۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ چیف سیکریٹریٹ کی منظوری کے بعد کارروائی شروع کی جائے گی۔

  13. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کے دوران ’مسلسل غلط معلومات کی مہم‘ بھی سامنے آ رہی ہے، جو بقول ان کے امن عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان تمام خبروں سے قطع نظر، ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امن معاہدے کا حتمی اور باہمی طور پر متفقہ متن طے پا چکا ہے۔‘

    وزیرِاعظم کے مطابق پاکستان اب فریقین کے ساتھ قریبی تعاون میں اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امن اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اس وقت ہے۔‘

    شہباز شریف کے بیان میں اس امن عمل سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  14. ایران کو معاہدے پر دستخط یا اجلاس میں شرکت کے عوض رقم یا فنڈز نہیں دیے جا رہے: امریکہ

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں جے ڈی وینس نے لکھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق کسی ممکنہ معاہدے پر بہت سی غلط معلومات سامنے آ رہی ہیں۔

    ان کے بقول یہ معاہدہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خدشات کو ترجیح دی جائے اور اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اقتصادی فوائد ایران اور پورے خطے کو حاصل ہوں گے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے کو ازسرِنو تشکیل دینے اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بن سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران آنے والی خبروں میں کچھ عجیب باتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایک طرف وہ افراد، جو ایک ماہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے رہے تھے، اب غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوسری جانب وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بظاہر غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کر رہے ہیں۔ تاہم صدر ہر صورت میں ایک مثبت نتیجہ حاصل کریں گے۔‘

  15. ’اسلام آباد معاہدہ مفاہمت یادداشت حتمی مرحلے کے قریب نہیں، میڈیا قیاس آرائی نہ کرے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoU) حتمی مرحلے کے قریب نہیں، جب تک یہ فائنل نہیں ہوتا میڈیا کو اس کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ہماری ذمہ دارانہ اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔‘

  16. ایرانی میڈیا میں معاہدے کے متن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر دی جانے والی تفصیلات کا تحریری طور پر طے شدہ شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کا معاہدے سے متعلق ایک کمزور اور بے بنیاد بیان پر مبنی دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

    یاد رہے کہ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان نئی مفاہمتی یادداشت کے ’عمومی خدوخال‘ بیان کیے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ارنا نےممکنہ معاہدے کے متن سے متعلق دعویٰ کیا ہے ’ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مقرر کردہ ’تمام ریڈ لائنز‘ کو متن میں شامل کیا گیا ہے اور یہ سب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی مسلسل نگرانی کے دائرے میں کیا گیا ہے۔‘

    ارنا کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر اختتام پذیر ہوگی۔

    خبر رساں ادارے ن یہ دعویٰ بھی کیا کہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام کا ’غیر فعال‘ ہونے کا ذکر ہے لیکن ایران کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ ارنا کے مطابق جوہری مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 60 دن کے اندر کیے جائیں گے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے میں ان دعووں کےسامنے انے کے بعد امریکی صدر نے اپنے بیان میں ان خبروں کو فیک نیوزقرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز سے نکلنے والے انڈین جہازوں پر گزشتہ رات ہونے والا ڈرون حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’ایران کو فوری طور پر اپنے رویے کو درست کرنا ہو گا۔‘

  17. ممکنہ معاہدے کے متن کو ابھی تک ایرانی حکام نے منظور نہیں کیا: ایرانی میڈیا

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسداران انقلاب سے منسلک تسنیم اور فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے متن کو ’ایران کے مجاز حکام سے ابھی تک حتمی منظوری نہیں ملی ہے۔‘

    خبر رساں ادارے تسنیم نے ’ باخبر ذرائع‘ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حالیہ دنوں میں دباؤ، دھمکیاں اور فوجی کارروائی شروع کر کے اور قطری ثالث کے دباؤ کے ذریعے دونوں طرف سے ایران کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن بالآخر ایران نے نئی تبدیلیوں کو قبول نہیں کیا۔‘

    خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’تاہم، اس متن کا ایران میں متعلقہ اداروں کو جائزہ لینے اور اسے حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے اور اس وقت تک دیگر قیاس آرائیاں اور خبریں درست نہیں ہیں۔‘

    فارس نیوز ایجنسی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’امریکہ کچھ مطالبات پر پیچھے ہٹا ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ معاہدے پر دستخط یا آمنے سامنے ملاقات کے بارے میں کوئی بھی قیاس آرائیاں غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔‘

    گذشتہ رات ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بیانات کے بعد، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’معاہدے کے وقت اور جگہ کے بارے میں دعوے محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور جب تک حکومت کے متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر جزو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، اس کے دستخط کی شکل اور مقام کے بارے میں کوئی نقطہ نظر نہیں ہے۔‘

    تاہم چند گھنٹے قبل امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور ’ہم نے ایران کے ساتھ جنگ ​​ختم کر دی ہے۔‘

    انھوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ طور پر معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے چند دنوں میں کسی یورپی شہر میں ہوں گے۔

  18. لکی مروت میں مسجد کے قریب دھماکے میں بچی سمیت دو افراد ہلاک، 10 زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    لکی مروت میں مسجد کے قریب دھماکے

    ،تصویر کا ذریعہRescue1122

    خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے قریب دھماکے میں ایک بچی سمیت دو افراد کی جان چلی گئی ہے جبکہ اس دھماکے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ تھانہ غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں آج جمع نماز کے وقت پیش آیا ہے۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ کہ ایک مشتبہ موسٹر سائکل سوار راستے سے گزر رہا تھا جس پر وہاں تعینات امن کمیٹی کے لوگوں کو شک ہوا۔

    ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے بارود موٹر سائکل پر نصب کیا تھا۔ ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ’دور ہو جاؤ یہ پھٹ سکتا ہے۔‘

    غزنی خیل تھانے کی پولیس ایس ایچ او محمد عرفان نے بتایا ہے کہ علاقے میں امن کمیٹی کے لوگ اور مقامی لوگ بھی جمعہ نماز یا دیگر ایسے مواقع پر چوکیداری کرتے ہیں۔

    عینی شاہد نے کیا دیکھا

    ایک مقامی شخص ساجد نے بتایا ہے کہ مسجد میں جمعہ نماز ادا کی جا رہی تھی اور جیسے ہی امام مسجد نے سلام پھیرا اس وقت تک حملہ آور بارود سے بھری موٹر سائکل لے کر مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا اور کوشش تھی کہ موٹر سائیکل مسجد کے اندر لے جائے۔

    اس دوران وہاں چوکیداری پر معمور ایک شخص نے موٹر سائکل سوار پر فائر کیا اور اس دوران دھماکہ ہوا ۔

    حملہ آور فائرنگ سے ہلاک

    مسجد کے دروازے پر تین سالہ عاصمہ گل بیٹھی تھی۔ وہ اپنے والد کے ساتھ آئی تھی ان کے والد جمعہ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ والد کے انتظار میں بیٹی تھی۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ اد دھماکے میں عاصمہ گل اور ایک ایک نوجوان اسد علی کی جان چلی گئی ہے۔

    اسد علی کی عمر 21 سال تک بتائی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پونے تین بجے اطلاع موصول ہوئی کہ مسجد بیخانخیل، میں ایک موٹر سائیکل میں بارودی مواد نصب کرکے دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کو علاقے کے لوگوں نے فائرنگ کرکے موقع پر ہلاک کر دیا ہے۔

    گزشتہ روز لکی مروت کے علاقے پہاڑ ِخیل پکہ میں دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا۔

    اس واقعہ کے بعد جمعیت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے لکی مورت میں احتجاج کیا ہے اور لکی مروت سے دیگر علاقوں کا جانے والے راستے احتجاج کے طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں۔

  19. مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی کارروائیوں پر فلسطینیوں کا غصہ: ’انھوں نے مستقبل تباہ کر دیا‘, یولیندا نیل، بی بی سی نیوز

    یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یروشلم کے قدیم فصیل بند شہر البستان کے نیچے ایک پہاڑی سے بڑا اسرائیلی ایکسکیویٹر ایک فلسطینی گھر کو گراتا دکھائی دیتا ہے جس کا شور گونج رہا ہے۔

    یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے اور اسرائیل-فلسطین تنازعے کا مرکز بھی۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا اور بعد میں اسے ضم کر لیا، جسے زیادہ تر ممالک تسلیم نہیں کرتے۔

    2023 کے آخر سے سلوان کے علاقے البستان میں اب تک 59 جائیدادیں مسمار کی جا چکی ہیں۔ غزہ، ایران اور لبنان کی جنگوں کی وجہ سے عالمی توجہ ہٹنے کے دوران مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    وہاں کے رہائشی 58 سالہ فایز عواد کہتے ہیں کہ ’اب کوئی مستقبل نہیں رہا۔ انھوں نے مستقبل اور سب کچھ تباہ کر دیا۔ ہم نے ساری زندگی یہ گھر بنانے میں لگا دی، اور اب ہمیں پھر صفر پر لے آئے ہیں۔‘

    گزشتہ دو دہائیوں سے یروشلم البستان کو بائبل سے منسوب پارک میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں عدالتوں کے احکامات کے تحت انہدامی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

    بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری اور جبری نقل مکانی غیر قانونی ہے۔ مقامی بلدیہ کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام شہریوں کے مفاد‘ میں کام کر رہی ہے اور کھلی جگہوں کی کمی کے باعث پارک بنانا چاہتی ہے۔

    فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انھیں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں یروشلم میں منظور ہونے والی نئی رہائش کا صرف 7 فیصد فلسطینیوں کے لیے تھا، حالانکہ وہ آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔

    اب تک البستان کے نصف مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ بہت سے رہائشی بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے خود ہی اپنے گھروں کو گرانے پر مجبور ہیں۔

    مقامی کارکن فخری ابو دیاب کہتے ہیں کہ ’ہمیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ باقی گھروں کو بھی جلد گرا دیا جائے گا۔‘

    مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل نے تقریباً 160 بستیاں قائم کی ہیں جہاں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں، جبکہ موجودہ اسرائیلی حکومت اس خیال کی مخالفت کرتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 200 فلسطینی خاندان بے دخلی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    یروشلم

    اسرائیلی قوانین کے تحت 1948 سے پہلے یہودیوں کی ملکیت والی جائیدادوں کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، مگر فلسطینیوں کو اس طرح کا حق حاصل نہیں۔

    سلوان، مسجد اقصیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے اسرائیلی حکام اور آبادکار گروہوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    ایک اور کیس میں باشا خاندان کو بھی بے دخلی کا سامنا ہے۔ 76 سالہ مفید باشا کہتے ہیں کہ ’ہم کہاں جائیں؟ ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں۔‘

    عدالت نے عارضی طور پر ان کی بے دخلی روک دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق نئی زمین رجسٹریشن پالیسی کو بھی زمین کے حصول اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماہر اویو تاتارسکی کہتے ہیں کہ ’آج یروشلم میں فلسطینی خود کو اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق اسرائیلی حکومت شہر میں ایسی حقیقت کو مضبوطی سے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں فلسطینی حقوق اور موجودگی کے لیے بہت کم گنجائش ہو۔

  20. ایران پر حملے کی دھمکی سے معاہدوں کی بات چیت تک، واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو روز میں کیا کچھ ہوتا رہا

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے اور ایران پر مزید حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تیسرے دن یہ اعلان کر کے صورتِ حال بدل دی کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کو ’قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی حتمی نہیں ہوا اور امریکہ نے نئے مطالبات پیش کیے ہیں۔

    تاہم اس صورتحال تک پہنچنے سے قبل ان دونوں میں ایک دوسرے پر حملے اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    ایران پر ’سخت حملے‘ کی دھمکی سے ’معاہدے کے قریب تک‘

    حالیہ اعلان سے پہلے دو راتوں کے دوران امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیجی ریاستوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا۔

    امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران پر کارروائی کو اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردِعمل میں ’متناسب جواب‘ قرار دیا۔

    جمعرات کو امریکی صدر نے حملے جاری رکھنے اور ایرانی تیل و گیس تنصیبات پر قبضے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بمباری کرے گا، بہت سخت"، اور کہا کہ ایران اپنی زیادہ تر دفاعی صلاحیت کھو چکا ہے۔‘

    اس کے ردِعمل میں ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اور ایرانی میڈیا کے مطابق خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔‘

    گزشتہ دو راتوں میں امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

    تاپم پھر صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ وہ حملے نہیں کریں گے اور ایک ’بہترین معاہدہ‘ قریب ہے، جس پر ممکنہ طور پر یورپ میں دستخط ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ معاہدے کے اہم حصے تقریباً تیار ہیں لیکن وہ اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    امریکہ نے اس سے قبل ایران کے ساتھ کب ’معاہدے ہونے کے قریب‘ کا بیان دیا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کئی بار معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں تاہم اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔

    ٹرمپ نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ معاہدہ ’جلد‘ ہو جائے گا۔ جس کے بعد 6 مئی کو کہا کہ جنگ ’جلد ختم‘ ہو جائے گی اور 14 نکاتی یادداشت قریب ہے۔

    23 مئی کو بتایا کہ معاہدے پر ’وسیع بات چیت‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چند روز بعد کہا کہ وہ شرائط سے خوش نہیں۔ 28 مئی کو جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے یہاں تک کہ 29 مئی کو ٹرمپ نے ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ اور اب پطر ان کا دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاہدے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہوں۔

    ان پیش رفتوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران پابندیوں کے خاتمے، اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور علاقے سے امریکی افواج کے انخلا کی ضمانت چاہتا ہے۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کشیدگی میں کمی کے مطالبات

    دوسری جانب اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی پر عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

    حالیہ حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔

    انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔

    پاکستان، روس، چین، ترکی، انڈیا اور سعودی عرب نے بھی کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔