لبنان پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا تھا، اور اب بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے نے ان سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ضاحیہ لبنان کا وہ علاقہ ہے کہ جسے ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان میں جاری جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق مذاکراتی عمل میں اسرائیل خود کو کسی حد تک نظرانداز محسوس کر رہا ہے۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ اور ایران سے متعلق تنازع دو الگ معاملات ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حق میں خاصی عوامی حمایت موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران لبنان اور ایران کے معاملات کو ایک ہی سفارتی پیکج کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل پر لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیاں محدود یا بند کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملے کا وقت اتفاقی نہیں تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط کی توقعات بڑھ رہی تھیں۔
مجوزہ معاہدے کا مکمل متن ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کی تمام شقوں پر دونوں فریق مکمل طور پر متفق ہو چکے ہیں یا نہیں۔ تاہم اسرائیل میں عمومی تاثر یہی ہے کہ معاہدے کی موجودہ شکل ملک کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ فوجی کامیابیوں کو ابھی تک ایسی سیاسی یا سٹریٹجک کامیابی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا جو اسرائیل کے مقاصد کو پورا کرتی ہو۔
معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے اخبار ’معاریو‘ سے گفتگو میں اس مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کے لیے ’بہت برا‘ اور ’تباہ کن‘ قرار دیا۔
اسی طرح ایک دفاعی عہدیدار نے اسرائیلی نشریاتی ادارے این 12 کو بتایا کہ ’اسرائیل نے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے کسی کو بھی معاہدے میں فوری طور پر پورا نہیں کیا گیا۔‘
دوسری جانب ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ بیروت پر کسی بھی حملے کا جواب اسرائیل کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ ایسے میں وہ معاہدہ، جسے چند روز قبل تک مُمکن اور دستخط کے قابل قرار دیا جا رہا تھا، ایک بار پھر خطرات سے دوچار دکھائی دیتا ہے اور اس کے تعطل کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔