یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں، جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں ایک طرف سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو متوقع طور پر شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کی اطلاعات چل رہی ہیں، وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے متعدد رہنما کارکنان سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہسپتال کے سامنے جمع نہ ہوں۔
پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔‘
اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’جو واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دو اضلاع پشین اور کچھی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک پولیس تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ ایک تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا ہے۔
پولیس تھانے کو تباہ کرنے کا واقعہ ضلع پشین کے علاقے سرانان میں پیش آیا۔
پشین میں پولیس کے ایک اہلکار انور خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جمعرات کو سرانان بازار آئے اور انھوں نے تھانے کے عملے پر قابو پالیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا گیا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
سرانان میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ
سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سرانان اور ضلع پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔
قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت زیارت، سنجاوی اور ہرنانی میں رونما ہونے والے بدامنی کے بعض واقعات کی مذمت کی ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھ سکیں۔
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کہاں نذرآتش کیا گیا؟
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کھٹن کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔
کچھی پولیس کے ایک اہلکار زاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد آئے اور انھوں نے تحصیل آفس کو نذرآتش کیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل آفس اور اس میں موجود سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ضلع کچھی میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
سابق وزیراعظم عمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں، جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
حکام کے مطابق ہسپتال کی جانب جانے والے اہم راستوں پر بیریئرز لگا دیے گئے ہیں اور آمد و رفت کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی اقدامات کے باعث ہسپتال کے گرد و نواح میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خطے کے اہم ممالک ہیں اور شام مستقبل میں اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام اور اسرائیل کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے 18 اگست کو حلب کے قریب ابو الظہور فضائی اڈے پر حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا تھا کہ شام اس اڈے پر ترک افواج کی تعیناتی کی اجازت دے کر سکیورٹی سے متعلق موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے جا رہا تھا۔
اس حوالے سے سوال کے جواب میں شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترکی گذشتہ 14 برسوں کے دوران شام اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور وہ شام کا اہم اتحادی ہے۔
انھوں نے کہا، ’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا کوئی حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘
ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق ایک سوال پر اسعد الشیبانی نے کہا کہ ان کے دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد کی جانب سے شام اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران شام اور اس کے عوام کے ساتھ اپنے ماضی کے کردار کو تسلیم کرے اور اس کے بعد پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے تو دمشق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرنے والے اپنے اعلان پر قائم ہے اور اگر ان کے علاج کے لیے ضرورت پڑی تو انھیں بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کی کسی سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست میں حکومت صرف یہ وضاحت چاہتی ہے کہ نجی ہسپتال میں منتقلی سے متعلق حکم تمام قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی پابند ہے کہ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرے۔ ’اگر سرکاری ہسپتال میں نہیں تو کسی دوسرے ہسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے گی، اور اگر ضرورت ہوئی تو بیرونِ ملک بھی بھیجیں گے۔ ہم صرف سپریم کورٹ سے رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا یہ فیصلہ ایک قیدی ہے یا تمام آٹھ ہزار قیدیوں کے لیے۔‘ ان کے مطابق ’اس وقت مروجہ قوانین کے مطابق سزا یافتہ مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگر جو سہولیات سرکاری ہسپتال میں موجود نہیں ہیں تو حکومت پابند ہے کہ انھیں شفا بھیجیے یا بہتر سہولیات دے۔ عمران خان کے بارے میں بیرون ملک جانے کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت کا قطعی یہ مقصد نہیں ہے کہ انھیں علاج سے دور رکھیں۔‘
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا اور جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے بقول اس حوالے سے تمام شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں اور جن افراد کو سزائیں دی گئی ہیں، وہ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے اور عدالت ہی سزاؤں سے متعلق ریلیف دے سکتی ہے۔
وزیر پارلیمانی امور نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کے لیے قابلِ احترام ہیں، تاہم 9 مئی کے واقعات کے بعد وہ کور کمانڈر ہاؤس کے باہر پائی گئی تھیں۔ اس بیان پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یاسمین راشد سے متعلق پنجاب حکومت سے بات کریں گے اور یہاں تفصیلات بتائیں گے۔
اس سے قبل قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا تھا کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور سینیٹر اعجاز چوہدری کی صحت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انھیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر تک پہنچ گئی ہے اور محدود پیداوار، درآمدی مشکلات اور ذخائر پر دباؤ کے باعث صورتحال ایک ’فوری اور نازک مسئلہ‘ بن چکی ہے۔
ایران کی انرجی آپٹیمائزیشن اینڈ سٹریٹیجک مینجمنٹ آرگنائزیشن کے نائب سربراہ یاسر مرزائی کے مطابق ’جنگی حالات اور معاشی مشکلات‘ کے باوجود پٹرول کی کھپت اسی بلند سطح پر برقرار ہے۔
دوسری جانب نیشنل ایرانی آئل ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے دفتر برائے نظمِ صرف کے سربراہ نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والی بیشتر پیداواری صلاحیت بحال کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافے اور پیٹروکیمیکل شعبے کی اضافی استعداد کے استعمال سے ایران کی پٹرول پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 130 ملین لیٹر یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ کھپت اور پیداوار کے درمیان فرق بدستور برقرار ہے۔ انھوں نے اس کی وجوہات میں پٹرول کے استعمال میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ، کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال میں کمی اور عوامی نقل و حمل کے نظام کی خستہ حالی کو شامل کیا۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکومت پٹرول کی تقسیم کا نظام تبدیل کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ فیول کنزمپشن آپٹیمائزیشن آرگنائزیشن کے سربراہ اسماعیل ثاقب اصفہانی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ جنگی حالات اور پابندیوں کے باعث پٹرول کی کھپت کو پیداوار کے برابر لانا ضروری ہے۔
زیرِ غور تجاویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یومیہ پیداوار کی ایک مخصوص حد پوری ہونے کے بعد پٹرول کی فراہمی روک دی جائے، جبکہ ایک اور تجویز کے تحت ہر شہری کے لیے تقریباً 30 لیٹر ماہانہ پٹرول کا کوٹہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVideograb
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا ریلیف قانون کے مطابق نہیں تھا، جس کے خلاف حکومت دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ حکومت نے دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے اور توقع ہے کہ اس پر آج یا کل فیصلہ آ جائے گا۔‘
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست پر فیصلہ آنے دیا جائے، اس کے بعد صورتِ حال مزید واضح ہو جائے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے ماتحت عدالتوں پر لازم ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول حکومت کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے فوجداری نظامِ انصاف پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا پھر ہر قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟‘ ’اس طرح ایک ہزار درخواست آ جائے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بصورتِ دیگر ماتحت عدالتوں کے لیے ایسی درخواستوں کو مسترد کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
ان کے مطابق حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرے گی۔
رانا ثناء اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں جیل سے سرکاری سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے بقول ایک میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو بیرونِ ملک علاج کرانے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد حکومت نے انھیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی۔
مذاکرات سے متعلق گفتگو
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر بات چیت کی پیشکش کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر بھی تیار ہیں۔ میں نے خود بھی اپوزیشن سے کہا ہے کہ اگر وہ مذاکرات چاہتے ہیں تو ان کے وقت کا تعین کروا دیتے ہیں۔‘
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لبنان نے معزول شامی صدر بشار الاسد کے دور میں خدمات انجام دینے والے ایک سابق میجر جنرل کو شام کے حوالے کر دیا ہے۔ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی حوالگی ہے۔
67 سالہ میجر جنرل عادل عیسیٰ پر الزام ہے کہ انھوں نے شامی خانہ جنگی کے دوران متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔ شام کی خانہ جنگی کا اختتام دسمبر 2024 میں اس وقت ہوا تھا جب باغی گروہوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا اور بشار الاسد ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
عادل عیسیٰ کو 8 اگست کو بیروت میں شامی سفارت خانے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ بعض دستاویزات مکمل کرنے گئے تھے۔ بدھ کے روز انھیں شامی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ اقدام شام کی نئی حکومت کی جانب سے لبنان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ شام نے لبنان سے مطالبہ کیا تھا کہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد سرحد پار فرار ہونے والے سابق فوجی اور سکیورٹی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شام کی وزارت داخلہ کے مطابق عادل عیسیٰ 2016 تک مشرقی صوبے دیر الزور میں زمینی افواج کے کمانڈر رہے تھے۔
وزارت کے مطابق ان پر جان بوجھ کر قتل، جرم میں معاونت، دو سے زائد افراد کے قتل، تشدد کے نتیجے میں ہلاکتوں اور ایسے جارحانہ اقدامات کے الزامات ہیں جن کا مقصد خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔
عدالتی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ عادل عیسیٰ نے گرفتاری کے وقت اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی۔
ان کی حوالگی کا فیصلہ شام اور لبنان کے درمیان 1951 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔
اب ان کا مقدمہ دمشق میں ایک ریفرل جج کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا کیس کو فوجداری عدالت میں بھیجا جائے یا نہیں۔
جنوری میں شام نے لبنان کو 200 سے زائد سابق اعلیٰ فوجی افسروں کی فہرست فراہم کی تھی جن کے خلاف کارروائی یا مقدمات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
صدر احمد الشرع کی قیادت میں قائم نئی شامی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسد دور کے درجنوں سابق عہدیداروں کے خلاف مقدمات شروع کیے ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں دمشق کی ایک عدالت نے بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو خانہ جنگی کے دوران مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مقدمات میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ دونوں افراد حکومت کے خاتمے کے بعد ماسکو فرار ہو گئے تھے۔
اسد خاندان کے رشتہ دار وسیم الاسد اور عاطف نجیب کو بھی شام میں گرفتار کر کے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہHIT
پاکستان کی دفاعی اور سٹریٹجک کمان کے نظام میں ترامیم کے لیے دو نئے قوانین، پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) ایکٹ کے مسودے سامنے آ گئے ہیں۔ ان مجوزہ قوانین کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا نیا عہدہ قائم کرنے، دفاعی افواج کے لیے ایک مرکزی ہیڈکوارٹر بنانے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے جمعرات کو ان دونوں مسودوں کی منظوری دے دی ہے، جن کی اب پارلیمان سے منظوری لی جائے گی۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کے مطابق موجودہ قانون میں جہاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ذکر ہے وہاں چیف آف ڈیفنس فورسز کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے رکن ہوں گے۔
مسودے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کو بھی نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں شامل کیا جائے تاکہ سٹریٹجک فورسز سے متعلق امور میں نمائندگی اور رابطہ کاری کو باضابطہ قانونی حیثیت دی جا سکے۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق قانون پارلیمنٹ سے منظوری کے فوری بعد نافذ العمل ہوگا، تاہم اس کا اطلاق 27 نومبر 2025 سے تصور کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق یہ ترامیم پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں تجویز کردہ نئے دفاعی کمانڈ ڈھانچے سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کے مسودے میں آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ، مشترکہ منصوبہ بندی اور آپریشنل ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
بل کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے نام سے ایک مرکزی ادارہ قائم کیا جائے گا جو مسلح افواج کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز اس کے سربراہ ہوں گے اور اس کے انتظامی و عملی امور کی نگرانی کریں گے۔
مسودے کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی تنظیم، مشترکہ آپریشنل صلاحیت، جنگی تیاری اور قومی سلامتی سے متعلق امور کے حوالے سے اختیارات حاصل ہوں گے۔ انھیں مسلح افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ کارروائیوں کے لیے ضروری ہدایات اور احکامات جاری کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔
بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق اہم معاملات پر وزیراعظم کو مشورہ دینے کی ذمہ داری سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہوں گے جبکہ بعض معاملات میں وزیراعظم کی منظوری بھی ضروری ہوگی۔
مسودے میں چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر سروس چیفس سے متعلق بعض امور کی وضاحت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو اعلیٰ فوجی افسران سے متعلق بعض انتظامی اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے وفاقی حکومت کو قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار دیا جائے گا جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہدایات اور ضوابط جاری کر سکیں گے۔ مسودے کے مطابق اگر ایکٹ پر عمل درآمد کے دوران کوئی عملی دشواری پیش آئے تو وفاقی حکومت اسے دور کرنے کے لیے اقدامات کر سکے گی اور ضرورت پڑنے پر صدرِ مملکت کے حکم کے ذریعے بھی معاملہ حل کیا جا سکے گا۔
بل میں ایک عبوری شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت نئے قانون کے نفاذ سے پہلے جاری کیے گئے احکامات، اعلانات اور ہدایات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک وہ نئی قانون سازی سے متصادم نہ ہوں۔
مجوزہ قانون میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ موجودہ قانونی فریم ورک کو نئے دفاعی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ مسودے کے مطابق سابقہ قوانین کے تحت کیے گئے اقدامات صرف اسی صورت متاثر ہوں گے جب وہ نئے ایکٹ کی دفعات سے متصادم ہوں۔
مجوزہ قوانین کی منظوری کی صورت میں پاکستان کے دفاعی اور سٹریٹجک کمانڈ نظام میں ایک نیا انتظامی و قانونی ڈھانچہ وجود میں آ سکتا ہے، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے مابین رابطہ کاری، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی، قومی سلامتی اور سٹریٹجک سطح کے امور میں مرکزی کردار حاصل ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراضات میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ نظرثانی درخواست کے ساتھ جمع کرایا گیا فائل ورک نامکمل تھا۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے چیف کمشنر کے ذریعے بدھ کو سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت سابق وزیراعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو علاج کی غرض سے دو روز کے اندر اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی ڈائری برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست کو ڈائری نمبر جاری ہو چکا تھا، اس لیے درخواست گزار اپنی جانب سے اسے واپس نہیں لے سکتا۔
ادھر سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان کو کسی بھی وقت علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بی بی سی کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اہلکار کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کے تعاون سے اس فلور کی بھی سکیورٹی کلیئرنس اور سکیننگ کی گئی ہے جہاں سابق وزیراعظم کو زیرِ علاج رکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو ترقی دے سکیں۔
جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں ایک بار پھر اس فورم سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے اور جمہوریت کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئیں ’بیٹھ کر بات چیت کریں۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب ان (اپوزیشن) پر منحصر ہے کہ وہ کتنے جلدی تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
حکومت اور تحریکِ انصاف کی قیادت میں اپوزیشن کے درمیان 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے اختلافات برقرار ہیں۔ تحریکِ انصاف مئی 2023 اور نومبر 2024 کے احتجاجی واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جبکہ نومبر 2024 میں اسلام آباد میں ان کی رہائی کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا گیا تھا۔ دونوں مواقع پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے تھے۔
گذشتہ کچھ عرصے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافی امور میں اضافہ ہوا ہے، جن میں تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی شامل ہے۔ تاہم حکومتی رہنما متعدد مواقع پر اپوزیشن سے مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں۔
وزیراعظم کی یہ تازہ پیشکش چند روز بعد سامنے آئی ہے جب وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بدستور موجود ہے اور اپوزیشن وقت اور مقام طے کرے تو بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔
اسی روز وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس سے ملاقات کی تھی۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی، جو وفاق میں مسلم لیگ ن کی اتحادی ہے، پاکستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران تحریکِ انصاف سے باضابطہ رابطے بھی کر چکی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں کمی
وزیراعظم نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر کمی کا بھی ذکر کیا اور اسے وزارتِ پیٹرولیم کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے آغاز پر وفاقی حکومت نے عوام کو سہولت دینے کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے بجٹ میں 128 ارب روپے کی کمی کی تھی، جبکہ صوبوں نے بھی اس عمل میں تعاون کیا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔
آئی ٹی برآمدات اور گوگل دفتر کا ذکر
وزیراعظم نے کہا کہ جولائی میں آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس پر انھوں نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹیم کو مبارکباد دی۔
ان کا کہنا تھا کہ گوگل کے نئے دفتر کا پاکستان میں افتتاح بھی ایک اہم پیشرفت ہے اور حکومت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل اقدامات کے ساتھ ساتھ نظامِ حکمرانی کو بھی ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ حکومت اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کی حامی ہے اور سیاسی استحکام ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو رات 12 بجے تک ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف پی ٹی آئی عدالت جائے گی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو دو دن کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم، اس حکم پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر انھیں آج رات 11 بج کر 59 منٹ تک منتقل نہ کیا گیا تو عدالت خود توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے، اور ایسا کرنا بجا ہو گا۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ ایسا نہیں کرتی تو ان کی قانونی ٹیم نے ایک درخواست تیار کر رکھی ہے جو کل صبح دائر کی جائے گی۔
اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ’عمران خان کو فی الفور شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ پر دعویٰ کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے نظر ثانی درخواست واپس لے لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی عذر نہیں کہ حکومت اب سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل نہ کرنے کا۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز (18 اگست کو) پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
تاہم گذشتہ روز پاکستان کی وفاقی حکومت نے عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی تھی۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر کے توسط سے دائر کی گئی اِس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریقۂ کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026 (ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026) کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلے کیے گئے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ پارلیمان کے موجودہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی بھی منظوری دی۔ سرکاری بیان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس قانون میں تبدیلی کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 کا ترمیم شدہ مسودہ بھی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حالیہ حملے میں تنزانیہ کے پرچم بردار ایک تجارتی جہاز پر زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح بحفاظت پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں انھوں نے بتایا کہ ’افسوسناک طور پر جان سے جانے والے دو پاکستانی ملاحوں کی میتیں بھی پاکستان منتقل کر دی گئی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’متعلقہ تمام اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ان کی محفوظ، باوقار اور جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنائی جائے۔‘
’میں جدہ میں پاکستان کے قونصل خانے اور ریاض میں ہمارے سفارت خانے کی فوری اور مخلصانہ کوششوں کو سراہتا ہوں، جنہوں نے یمن میں پاکستانی سفارتی مشن نہ ہونے کے باوجود زخمیوں کی واپسی اور مارے جانے والوں کی میتوں کو یمن سے پاکستان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کو بھی سراہتا ہوں، جنہوں نے ان کی پاکستان آمد اور بعد کے انتظامات کو آسان بنایا۔‘
انھوں نے کہا ’میں سعودی وزارتِ خارجہ کے تعاون کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جس میں جدہ میں فراہم کی گئی طبی امداد اور دیگر انتظامات شامل ہیں۔‘
انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ ’پاکستان اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہے کہ سمندری کارکنوں کی حفاظت اور سلامتی ہر وقت یقینی بنائی جانی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ’عمران خان کو فی الفور شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ پر دعویٰ کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے نظر ثانی درخواست واپس لے لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی عذر نہیں کہ حکومت اب سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل نہ کرنے کا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر کے توسط سے دائر کی گئی اِس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریقۂ کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
بدھ کی دوپہر دائر کی گئی نظر ثانی درخواست میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر (سابق وزیر اعظم کو) درخواست گزار کو سُنے بغیر ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا گیا ہے جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز (18 اگست کو) پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں عدالت نے تنبیہ کی تھی کہ اگر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس یا صحت پر سیاست کی گئی تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کیے گئے نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام دراصل اپنی ہی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ کا ’اقتصادی ڈی ڈے‘ اس کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کا ایک طریقہ ہے۔
بدھ کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘ (معاشی محاذ پر فیصلہ کن کارروائی) شروع کر رہے ہیں، کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اس کے بعد عباس عراقچی نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور سود کی ادائیگیوں پر بڑھتے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانی اور ناکام پالیسیوں کو دہرانے سے امریکہ کو آئندہ بھی شکست اور ایرانی عوام کی ناراضی ہی حاصل ہوگی۔
انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی معاشی دہشت گردی پوری دنیا کی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبروں کے مطابق امریکہ کا قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست تک مجموعی قومی قرض تقریباً 40.05 ٹریلین ڈالر تھا۔ یعنی گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران امریکہ کا قرض دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہge
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انھوں نے ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور موقع دیا تھا، لیکن ایران ’اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’آج میں ایسی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں جو اب تک کسی بھی ملک کے خلاف کی گئی ہے۔ یہ ایک معاشی جنگ اور غیر معمولی پیمانے پر تنہائی کی مہم ہوگی۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی اور معاشی صلاحیت کو تباہ کرنے سے متعلق اپنے سابقہ بیانات دہراتے ہوئے لکھا کہ ’جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کو کسی بھی قسم کی مالی مدد فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے تیل کی سمگلنگ، تیل بردار جہازوں کی تبدیلی، نقد رقم کی منتقلی، کرنسی ایکسچینج مراکز کا استعمال، اور فرضی کمپنیوں کے نام پر جہازوں کی رجسٹریشن جیسے معاملات کا ذکر کیا۔
ایران کی عدلیہ کی خبر ایجنسی میزان نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2026 کے مظاہرین میں سے ایک اور، قائم حسینی، کی سزائے موت پر جمعرات کی صبح عمل درآمد کر دیا گیا۔
عدلیہ نے انھیں ’غیر ملکی شہری‘ قرار دیا ہے، لیکن ان کی قومیت کا ذکر نہیں کیا۔
ان پر ’اصفہان کے علیخانی میدان کے واقعے میں ملوث ہونے‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔
میزان کے مطابق ان پر دیگر الزامات میں ’ہتھیار نکالنا اور خوف و ہراس پھیلانا، عوامی سطح پر بدامنی پیدا کرنا، بڑے پیمانے پر عدم تحفظ پیدا کرنا، افراد کی جسمانی سلامتی اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائی‘ شامل ہیں۔
عدلیہ کے اعلان کے مطابق، قائم حسینی کے مقدمے کا سپریم کورٹ میں اپیل کے بعد جائزہ لیا گیا، لیکن وہاں بھی اس فیصلے کی من و عن توثیق کر دی گئی۔
میزان کی خبر میں کہا گیا ہے کہ قائم حسینی، جو ’آرین‘ کے نام سے معروف تھے، نے مقدمے کی سماعت کے دوران اصفہان کے علیخانی میدان کے احتجاج میں اپنی موجودگی کا اعتراف کیا تھا اور ان کے پاس ایک ہتھیار بھی موجود تھا۔
اس سے پہلے ابوالفضل سپاہی، امیرحسین صفری، عرفان اسفندیاری اور گل محمد محمدی کو بھی اسی مقدمے میں پھانسی دی جا چکی ہے۔
شروین باقریان، امیرحسین ملکی اور علیرضا سپاہی اس مقدمے کے دیگر سزا یافتہ افراد ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد ہمتی، ولی اللہ صفری، حسین رمضانی اور علی خشوعی وہ چار اہلکار تھے جنہیں 18 جنوری 2026 کو احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے علیخانی میدان بھیجا گیا تھا اور سرکاری بیان کے مطابق مظاہرین کے گھیراؤ میں آنے کے بعد وہ ہلاک ہو گئے تھے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز ہو گئی ہے، اور عدلیہ نے ’جاسوسی‘ اور ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون‘ سمیت مختلف الزامات کے تحت درجنوں افراد کو پھانسی دی ہے۔
ان میں جنوری 2026 کے ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وفاقی حکومت نے بدھ کی رات کو ڈیزل کی قیمت میں 32.63 روپے کی بڑی کمی کا اعلان کیا۔ اس کمی پہلے ڈیزل کی قیمت میں کئی روز سے مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تعین کے بعد ڈیزل کی قیمت 395.69 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی۔ گذشتہ ہفتے ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ نے پٹرولیم مصنوعات خاص کر ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے کے خلاف ہڑتال بھی کی تھی۔
گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات اور وفاقی وزیر پٹرولیم کی جانب سے پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل کی قیمت میں آج رات بڑی کمی کی جائے گی۔
انھوں نے کہا ملک میں تیل پیدا کرنے والی ریفائنریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کر کے صارفین کو ریلیف فراہم کریں جس کے بعد اوگرا نے ڈیزل کی نئی قیمت کا اعلان کیا، جس کے مطابق اس کی قیمت 395 روپے 69 پیسے سے کم ہو کر 363 روپے 06 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 97 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 337 روپے 51 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
بی بی سی اردو نے اس سلسلے میں پاکستان میں ریفائنری شعبے کے افراد سے بات کر کے معلوم کیا کہ ایک دن میں ڈیزل کی قیمت میں اتنی بڑی کمی کیسے کی گئی۔
اس شعبے کے مطابق حکومت نے ڈیزل پر ریفائنریوں کے مارجن (نفع) کو 68 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں 41 ڈالر فی بیرل تک محدود کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ کمی ممکن ہوئی۔
پاکستان میں کام کرنے والی ایک ریفائنری کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت کا تعین ان کی عالمی مارکیٹ میں قیمت پر ہوتا ہے۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ملک میں ڈیزل و پٹرول کی قیمت کا تعین خام تیل کی قیمت پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اس وقت خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل پر ہے جب کہ دوسری جانب ڈیزل کی قیمت 158 ڈالر فی بیرل پر ہے جس کی وجہ سے ریفائنریوں کو 68 سے 70 ڈالر کا مارجن مل رہا ہے۔
انھوں نے کہا حکومت کا مؤقف تھا کہ ملک میں استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تقریباً 70 فیصد حصہ خام تیل درآمد کرنے والی چار مقامی ریفائنریوں میں تیار ہوتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو صارفین تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے ریفائنریوں کا تعاون ضروری تھا۔
انھوں نے کہا کہ معمول کے قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے تحت عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کا تقریباً 68 ڈالر فی بیرل کا مارجن مقامی ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا۔ تاہم حکومت اور ریفائنریوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد مارجن کو 41 ڈالر فی بیرل تک محدود کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا ایک بڑا حصہ مقامی قیمت کے تعین کے فارمولے سے نکل گیا جس کی وجہ سے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر تک کی کمی ممکن ہوئی۔