آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عباس عراقچی کا یوکرین پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے اور یورپ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کا الزام

ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ’یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘

خلاصہ

  • آبنائے ہرمز میں ماحولیاتی خدمات اور نقصانات کی فیس وصول کرنے کے قواعد تیار لیے: ادارۂ تحفظِ ماحولیات ایران
  • امریکہ نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں: ایرانی فوج
  • ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور نافذ، خلاف ورزی کرنے والے 12 جہازوں کا رُخ موڑا: امریکی فوج
  • برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کی تو وہ ایک جائز اور یقینی ہدف ہو گا: ترجمان پاسداران انقلاب
  • ٹرمپ پر تنقید کرنے کے لیے تیار ہوں 'اگر یہ برطانیہ کے مفاد میں ہوا': اینڈی برنہم
  • شام میں ٹریفک حادثہ، 35 افراد ہلاک، 30 زخمی
  • جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تقریب کے دوران گاڑی ہجوم پر چڑھ دوڑی، ایک شخص ہلاک، 16 زخمی

لائیو کوریج

  1. آئی اے ای اے کے سربراہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ: امید ہے اسلام آباد معاہدے کے بعد متعلقہ فریقین مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھیں گے، رافیل گروسی

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نےاتوار کے روز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارت کاری، مکالمے اور تعمیری روابط کا تسلسل ناگزیر ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ رافیل گروسی نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد متعلقہ فریقین مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھیں گے تاکہ ایک پائیدار اور پرامن حل تک پہنچا جا سکے۔

    گفتگو کے دوران رافیل گروسی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری کے بارے میں بھی نائب وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

  2. بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ گیس باؤزر ٹرک نذرآتش کر دیے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ گیس باؤزر ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا۔

    انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سے کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان باؤزر کو نوکچاہ کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔

    اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تاہم آگ کی وجہ سے ان ٹرکوں کے انجنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ یہ گیس باؤزرز خالی تھے جو ایران کے سرحدی شہر تفتان ایل پی جی لینے جا رہے تھے۔

    بلوچستان میں گذشتہ چند ماہ سے ایران سے ایل پی جی لانے والے گیس باؤزرز کے علاوہ معدنیات لے جانے والے مال بردار گاڑیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

    اب تک ان حملوں میں درجنوں باؤزرز، ٹرک اور کنٹینرز کو نقصان پہنچا ہے۔

    تاجر رہنما صلاح الدین خلجی نے بتایا کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ہونے والے حملوں کے علاوہ ایران کے ساتھ بارڈر مسائل کی وجہ سے سرحدی شہر تفتان میں 400 کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز قافلے کی صورت میں بعض مال بردار گاڑیوں کو تفتان سے کوئٹہ لانے کی کوشش کی گئی لیکن نوشکی کے قریب ان پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ گاڑیاں تاحال صوبائی دارالحکومت نہیں پہنچ سکیں۔

    کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ سمیت دیگر شاہراہوں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے تاجر اور ٹرانسپورٹرز تشویش میں مبتلا ہیں۔

    گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کا کہنا ہے اہم قومی شاہراہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان شاہراہوں میں چمن سے کراچی، تفتان سے کوئٹہ، اور کوئٹہ سے جیکب آباد اور ژوب تک کے راستے شامل ہیں۔

    دوسری جانب ضلع واشک میں نامعلوم مسلح افراد نے شمسی کے علاقے میں متحدہ عرب امارات کے شیوخ کے فارم ہاؤس پر حملہ کر کے چھ گاڑیاں چھین کر لے گئے۔

    ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ دو روز قبل ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خیال رہے کہ اس علاقے میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے شیوخ سردیوں کے موسم میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔

  3. عباس عراقچی کا یوکرین پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے اور یورپ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کا الزام

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

    وزیرِ خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ’یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس اور روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ’کئیو میں موجود مفت خور‘ کا اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے بحیره قزوین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کے بعد تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر لیا۔

    اتوار کی صبح وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر اور یوریشیا امور کے ڈائریکٹر جنرل منوچہر مرادی نے یوکرینی سفارتی اہلکار کو طلب کر کے اس واقعے پر ایران کا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، جسے انھوں نے ’مجرمانہ اقدام‘ قرار دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

    ملاقات کے دوران منوچہر مرادی نے کہا کہ بحیرہ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی، جارحیت کا مظہر اور ساحلی ریاستوں کی سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرینی حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے اور اسے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

    مرادی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اپنے شہریوں کی جان و مال پر ہونے والے حملوں کو ’جواب دہ ٹھرایا جائے گا۔‘

    ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام ایران کے خلاف یوکرین کے ’غیر دانشمندانہ اور دشمنانی پر مبنی رویے‘ کا تسلسل ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور ’جارحیت‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  4. برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر حملہ کرنے والا ملزم لبنانی نژاد جرمن شہری ہے: حکام

    جرمن حکام نے برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر گاڑی چڑھا کر اور خنجر سے حملہ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور 29 افراد کو زخمی کرنے والے 21 سالہ شخص کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

    اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے جرمنی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ جو اب تک کی صورتحال دیکھ کر ’لگتا ہے کہ یہ ایک اسلامی دہشتگرد حملہ تھا۔‘

    حکام کے مطابق 21 سالہ مشتبہ حملہ آور عبدالبلوط ایک لبنانی نژاد جرمن شہری ہیں۔

    جرمن وزیرِ داخلہ نے تصدیق کی کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مشتبہ حملہ آور نے پہلے ’ہجوم پر گاڑی چڑھائی‘ اور بعد میں گاڑی سے اتر کر ’ایک چاقو نما چیز‘ سے لوگوں پر حملہ کیا۔

    جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بھی اس حملے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ان شدت پسندوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں‘ اور جرمنی ’دہشتگردی کے اس زہر‘ کو معاشرے پر اثرانداز نہیں ہونے دے گا۔

    ’ہم اپنی آزادی کا دفاع کریں گے۔‘

  5. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر میں زور دار دھماکا، بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی اطلاعات

    ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹنے کے بعد بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آئل ٹینکر ایران کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ بحری راہداری سے بچ کر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، حالانکہ اسے اس سے قبل متعدد بار وارننگ بھی دی گئی تھی۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں غیر ملکی بحری بیڑوں اور بعض قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    تاحال اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ دو روز سے امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ رکا ہوا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق ثالثی کرنے والے فریق دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنے رابطوں اور پیغامات کے تبادلے میں تیزی لے آئے ہیں۔

  6. حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو ہم نے اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا: ایرانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ

    ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے اپنے ایک حالیے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’فوج کے جنگی ڈھانچے میں نئے سازوسامان، بالخصوص فضائی دفاعی نظام کو فوج کے حوالے کیا گیا ہے، جس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘

    اتوار کے روز اپنے بیان میں جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ’فوج نے حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’مرمت کیے گئے دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ نئے آلات کو حال ہی میں فوج کے آپریشنل ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے، جس سے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔‘

    جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ’ہم نے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ جنگ بندی کا عرصہ ہماری دفاعی منصوبہ بندی، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں، ایک اچھا موقع ثابت ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مسلح افواج تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار ہیں اور دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جارحیت کی جنگ میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ’واشنگٹن کے اہداف، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور ایرانی مسلح افواج کے عزم کو متاثر کرنا شامل تھے، پورے نہیں ہو سکے۔‘

    جنرل اکرمینیا نے خبردار کیا کہ ’امریکہ کی جانب سے مسلسل جارحانہ اقدامات تنازع کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ایرانی مسلح افواج نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں تیار کر لی ہیں۔‘

  7. لبنانی فوج کا جنوبی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار

    لبنانی فوج نے ملک کے جنوبی حصے میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات گزشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    لبنانی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قابض اسرائیلی افواج مسلسل حملے کر رہی ہیں اور موجودہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فورسز جنوبی علاقوں میں گھروں کو تباہ کرنے، بمباری کرنے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ سمیت مختلف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    لبنانی فوج نے مزید کہا کہ ’ان حملوں کا جاری رہنا معاہدوں کے مطابق فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اور مقامی شہریوں کو اپنے دیہات اور شہروں میں واپس جانے سے روک رہا ہے۔‘

  8. سعودی عرب کے لیے استعمال ہونے والا ترک ساختہ ڈرون مار گرایا: یمنی حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروپ کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’سعودی فوج کی جانب سے صوبہ الجوف کی فضائی حدود میں ’دشمن کی جانب سے اپنی کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کیے جانے والے ترک ساختہ بیرقدار آقنچی جاسوس ڈرون کو ’مناسب ہتھیار‘ کے ذریعے مار گرایا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حوثی اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘

    دوسری جانب حوثیوں نے گزشتہ روز بھی دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات اور ینبع آئل ٹرمینل کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

  9. مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے دو مساجد، متعدد گاڑیوں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی، جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق علاقے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہ تازہ حملے دو روز قبل گاؤں تال کے قریب اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد سامنے آئے، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد مغربی کنارے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر ایسے حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

    فلسطینی حکام کے مطابق گزشتہ رات مقبوضہ مغربی کنارے کے دو دیہات پر آبادکاروں نے حملے کیے، جن کے دوران گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، چوری اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے اور عمارتوں کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے تحریر کیے گئے۔

    قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے زیرِ تعمیر ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر ’بدلہ‘ سمیت نفرت انگیز الفاظ بھی سپرے پینٹ کی مدد سے لکھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ قصرہ میں فوجی دستے روانہ کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس واقعے کی تحقیقات اور شواہد اکٹھا کر رہی ہے۔

    فلسطینی حکام کے مطابق ایک اور واقعے میں آبادکاروں نے ’کور‘ نامی قصبے میں واقع ایک اور مسجد کو بھی نذرِ آتش کیا اور اس کی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے تحریر کیے۔

    فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ’تال‘ میں ہونے والی جھڑپ کے بعد مغربی کنارے کے مختلف دیہات میں آبادکاروں کی جانب سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ادھر اسرائیلی دفاعی افواج نے مغربی کنارے میں کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ’انسدادِ دہشت گردی‘ آپریشن کا حصہ ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تال کے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے ’سخت اور مؤثر کارروائی‘ کرنے کے احکامت جاری کیے، جس میں مبینہ طور پر واقعے میں ملوث دو فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

  10. کویت، عراق مرکزی سرحدی گزرگاہ ڈرون حملے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی

    عراقی بارڈر کراسنگز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ عراق اور کویت کے درمیان واقع مرکزی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

    کویت کے شمالی علاقے الجہرا گورنریٹ میں واقع عبدلی بارڈر کراسنگ کو گزشتہ جمعرات ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق حملوں سے صرف مالی نقصان ہوا جبکہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    عبدلی بارڈر کراسنگ عراق اور کویت کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت اور تجارتی نقل و حمل کے لیے ایک اہم زمینی راستہ تصور کی جاتی ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرون حملوں کے پیچھے کون تھا اور نہ ہی کسی گروہ یا تنظیم کی جانب سے اس واقع کی ذمہ داری قبول کی گئی تاہم حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  11. ایران کے معاملے پر تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں: وائٹ ہاؤس

    امریکی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کے بعد کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی ’تمام آپشنز‘ موجود ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا: ’صدر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو (ڈونلڈ ٹرمپ) اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’ایران کی معیشت کو مفلوج کر دینے والی کامیاب پابندیوں اور اس کی بار بار کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں فوجی اہداف پر 13 روز تک مسلسل حملوں کے بعد دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کا رخ کرے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

    نیویارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کو اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں کے رکنے کے بعد اس کی افواج نے اپنی کارروائیاں بھی بند کر دی ہیں۔

  12. آبنائے ہرمز میں ماحولیاتی خدمات اور نقصانات کی فیس وصول کرنے کے قواعد تیار لیے: ادارۂ تحفظِ ماحولیات ایران

    ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط‘ تیار کر لیے گئے ہیں اور منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں۔

    ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں جس سے خلیج فارس میں آلودگی پھیلتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آلودگی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونا چاہیے۔

    ادارۂ تحفظ ماحولیات کے مطابق جو قواعد تیار کیے گئے ہیں وہ سمندری قوانین سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی شقوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    اس منصوبے کے تحت اگر ماحولیاتی خطرات پیدا ہوتے ہیں تو ایران سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ان کی نوعیت، سامان کی مقدار، بحری ریکارڈ اور آلودگی پھیلانے کی سابقہ تاریخ کی بنیاد پر فیس وصول کی جا سکے گی۔

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی قسم کی فیس یا محصول وصول کرنا آزادانہ جہاز رانی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

    دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا جائز ہے۔

  13. امریکہ نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ دو راتوں کے دوران اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔

    ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے؟ ترجمان ایرانی فوج نے کہا: ’امریکہ سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے۔ اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔ یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ’ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز‘ تھے، تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔

    اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ ’امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید وسیع حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی اس فیصلے کی وجوہات میں شامل ہے۔

  14. جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تقریب پر گاڑی چڑھانے والے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    جرمنی کے دار الحکومت برلن میں پولیس نے ہم جنس پرستوں کی سالانہ تقریب پر گاڑی چڑھا کر ایک شخص کو ہلاک اور 16 کو زخمی کرنے کے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔

    برلن پولیس کے مطابق ٹیئرگارٹن کے علاقے میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے بعد فرار ہونے والے ملزم 21 سالہ عبدل بی ہیں۔

    پولیس کے مطابق عبدل بی دبلی جسامت کے ہیں، ان کے بال سیاہ ہیں اور انھوں نے سیاہ رنگ کی ہُوڈی اور سفید رنگ کی پتلون پہن رکھی ہے۔

    پولیس نے مزید کہا: ’اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ متعدد افراد چاقو جیسے نوکیلے ہتھیاروں سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔‘

    پولیس نے عبدل بی کو ’مسلح اور خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ نظر آئیں تو ان کے قریب جانے کی کوشش نہ کریں۔

  15. ٹرمپ پر تنقید کرنے کے لیے تیار ہوں ’اگر یہ برطانیہ کے مفاد میں ہوا‘: اینڈی برنہم

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے بڑے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر برطانیہ کے قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

    بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں برنہم نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کی پہلی بات چیت خوشگوار رہی اور انھوں نے امریکی صدر کو ’واقعی گرم جوش‘ شخص پایا۔

    تاہم جب ان سے دو بار پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر پر اعتماد کرتے ہیں، تو برطانوی وزیر اعظم نے براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا: ’دنیا بدل رہی ہے اور حالات جیسے جیسے سامنے آئیں، ویسے ہی ان کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔‘

    انٹرویو میں برنہم نے کہا: ’میں کسی بھی مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان سے مختلف رائے نہیں رکھوں گا یا برطانیہ کے مفاد میں کوئی مختلف مؤقف اختیار نہیں کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا: ’میری طاقت عوام کے قریب رہنے میں ہے اور وزیرِ اعظم بننے کے بعد بھی یہ نہیں بدلے گا۔‘

    اس سوال پر کہ اگر ضروری ہوا تو کیا وہ ٹرمپ پر تنقید کریں گے، برنہم نے جواب دیا: ’بالکل۔ آپ کو ہر چیز سے پہلے اپنے قومی مفاد کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ ذمہ داری درست طریقے سے نبھانا چاہتے ہیں تو آپ سے یہی تقاضا کیا جاتا ہے۔‘

    برنہم نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے امریکی صدر کے فیصلے پر انھیں ’تشویش‘ تھی اور وہ ’جو بات درست سمجھتے ہیں، اسے کہنے سے گریز نہیں کریں گے۔‘

    مکمل انٹرویو پیر کو نشر کیا جائے گا۔

  16. برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کی تو وہ ایک جائز اور یقینی ہدف ہو گا: ترجمان پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کرتا ہے تو وہ ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور خلیج فارس کے ممالک سمیت کوئی بھی ملک جو تنازع میں امریکہ کی حمایت کرے گا، ایران کی نظر میں ایک جائز ہدف ہو گا۔

    محبی نے یہ بھی کہا کہ امریکی بمبار طیاروں نے حال ہی میں برطانیہ کے ایک فوجی اڈے کو استعمال کیا ہے۔

    انھوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی صدر کو اکسا کر اور غلط معلومات فراہم کر کے خطے میں امریکہ کی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور امریکی فوجی طاقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی اور ایران نے اپنی توجہ اسرائیل پر حملوں پر مرکوز کر دی تو اسے کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  17. ٹرمپ کا فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ: امریکی ذرائع ابلاغ

    امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کے روز اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔

    وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

    جمعے کی رات تقریباً دو ہفتوں میں پہلی رات تھی جب امریکہ نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا، جبکہ سنیچر کی رات بھی کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  18. جنگ اور جنگ بندی کے دوران 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا: ایرانی وزارتِ تیل

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کی وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ جنگ اور اس کے بعد نافذ ہونے والی جنگ بندی کے دوران مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر مالیت کا تیل فروخت کیا۔

    وزارت کے بیان کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران 11 ارب 50 کروڑ ڈالر اور جنگ بندی کے عرصے میں 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا تیل فروخت کیا۔ وزارتِ تیل نے کہا کہ یہ رقم رواں مالی سال کے بجٹ میں متوقع تیل کی آمدنی کے 60 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے۔

    یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور ایران کے سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جولائی کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے تقریباً 50 سے 60 روزہ محاصرے کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محاصرہ ختم ہونے کے بعد ایران کی تیل برآمدات دوبارہ بڑھ گئی ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جبکہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں بیشتر لڑائی رک گئی تھی۔

    تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق اختلافات میں شدت آنے کے بعد یہ جنگ بندی جولائی کے آغاز میں ختم ہو گئی تھی۔

    پابندیوں کے دباؤ میں ایران نے کیا حکمتِ عملی اپنائی؟ جاننے کے لیے یہ رپورٹ پڑھیں۔

  19. ایران میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے 12 جہازوں کا راستہ تبدیل کر دیا: امریکی فوج

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے اور اس نے خلاف ورزی کرنے والے 12 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی فوج نے احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو جہازوں پر چڑھ کر تلاشی لی۔

    سینٹکام نے بتایا کہ سنیچر کے روز امریکی افواج نے بحیرۂ عرب میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر چارمینار پر سوار ہو کر جانچ پڑتال کی اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس تیل بردار بحری جہاز کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

    بیان کے مطابق امریکی افواج نے 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر لاوین کو ناکارہ بنا دیا، کیونکہ اس کے عملے نے متعدد بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی اور امریکی افواج کی بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا۔

    امریکہ نے 14 جولائی سے ان جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے جو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جاتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔

  20. کیٹی پیری نے ایران پر حملے کی ویڈیو میں اپنے گانے کے استعمال پر وائٹ ہاؤس پر اعتراض کر دیا

    امریکی گلوکارہ کیٹی پیری نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی فوجی حملوں کی ویڈیو میں ان کے گانے ’فائر ورک‘ کے استعمال پر وہ ’حیران ہیں اور کراہت محسوس‘ کر رہی ہیں۔

    ٹک ٹاک پر شائع کی گئی اس ویڈیو میں بم دھماکوں کی تصاویر کو گانے کے اس حصے کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے جس میں کیٹی پیری ’بوم، بوم، بوم‘ گاتی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ گانا اصل میں امید، شفا یابی اور اندرونی طاقت کے بارے میں ایک ترانے کے طور پر لکھا گیا تھا اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کا استعمال اس مفہوم کے منافی ہے جس کی یہ گانا نمائندگی کرتا ہے۔

    اس سے قبل بھی متعدد گلوکار، جن میں اولیویا روڈریگو اور آریانا گرانڈے شامل ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض کر چکے ہیں۔