حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو ہم نے اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا: ایرانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے اپنے ایک حالیے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’فوج کے جنگی ڈھانچے میں نئے سازوسامان، بالخصوص فضائی دفاعی نظام کو فوج کے حوالے کیا گیا ہے، جس سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘
اتوار کے روز اپنے بیان میں جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ’فوج نے حالیہ جنگ بندی کے عرصے کو اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور مضبوطی کے لیے استعمال کیا، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’مرمت کیے گئے دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ نئے آلات کو حال ہی میں فوج کے آپریشنل ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے، جس سے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔‘
جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ’ہم نے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ جنگ بندی کا عرصہ ہماری دفاعی منصوبہ بندی، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں، ایک اچھا موقع ثابت ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مسلح افواج تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار ہیں اور دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جارحیت کی جنگ میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ’واشنگٹن کے اہداف، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور ایرانی مسلح افواج کے عزم کو متاثر کرنا شامل تھے، پورے نہیں ہو سکے۔‘
جنرل اکرمینیا نے خبردار کیا کہ ’امریکہ کی جانب سے مسلسل جارحانہ اقدامات تنازع کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ایرانی مسلح افواج نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں تیار کر لی ہیں۔‘