’ماہواری کے خون کو چہرے پر لگا کر طالبان سے جان بچائی‘، ایورسٹ سر کرنے والی ذکیہ احمد کی کہانی

ذکیہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انھیں بہت حمایت حاصل ہو رہی ہے

،تصویر کا ذریعہSandro Gromen-Hayes

،تصویر کا کیپشنذکیہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انھیں بہت حمایت حاصل ہو رہی ہے
    • مصنف, نوین سنگھ کھڈکا
    • عہدہ, بی بی سی کے ماحولیاتی نمائندہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

کوہ پیما ذکیہ احمد ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی افغان خاتون بن گئی ہیں۔آسٹریلیا میں بطور پناہ گزین رہنے والی 30 سالہ ذکیہ نے 21 مئی کو 8,848 میٹر بلند چوٹی پر قدم رکھ کر تاریخ رقم کی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دنیا کی چھت کہی جانے والی اس چوٹی پر چڑھنے کے بعد مجھے بہت طاقتور محسوس ہو رہا تھا۔‘

وہ اپنی کامیابی کے ذریعے افغانستان کی خواتین کو پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ نہایت مشکل حالات سے بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔

ذکیہ احمد طالبان کے دوسرے دورِ حکومت میں کسی طرح اپنی جان بچا کر انڈیا پہنچیں اور پھر آسٹریلیا چلی گئیں۔

اس سے پہلے وہ افغانستان کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھیں لیکن پابندیوں نے انھیں شدید متاثر کیا۔

بعد میں آسٹریلیا پہنچنے کے بعد ان کے بھائی کی اچانک موت نے انھیں ایک اور بڑا صدمہ دیا۔ اس دوران دریاؤں نے انھیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے ذکیہ احمد اب ’ریور احمد‘ کے نام سے بھی پہچانی جانے لگی ہیں۔

چڑھائی سے قبل ذکیہ احمد نے کہا تھا کہ ’میں ایک مقصد کے لیے، آزادی اور تعلیم کے لیے یہ چڑھائی کر رہی ہوں۔‘

افغانستان کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے کا مقصد

وہ اس کامیابی کے ذریعے دنیا کے سامنے افغانستان کی صورتحال پیش کرنا چاہتی ہیں۔

2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ہم نے اس مہم کے دوران ذکیہ احمد سے بیس کیمپ میں ملاقات کی۔

ایورسٹ کے اس بیس کیمپ سے کوہ پیما چوٹی کی طرف اپنی چڑھائی کا آغاز کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایورسٹ کے اس بیس کیمپ سے کوہ پیما چوٹی کی طرف اپنی چڑھائی کا آغاز کرتے ہیں

کیمپ فور اس راستے کا سب سے بلند کیمپ ہے، جو 7,950 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

یہاں سے چوٹی (8,849 میٹر) تک کا سفر ’ڈیتھ زون‘ سے گزرتا ہے، جہاں آکسیجن سمندر کی سطح کے مقابلے میں صرف 30 فیصد رہ جاتی ہے۔

ذکیہ احمد کہتی ہیں کہ ’اس مشکل چڑھائی کے دوران میری زندگی کے تجربات مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے رہے۔‘

’ان میں طالبان کے حملے سے بچ نکلنے کی یادیں بھی تھیں اور آسٹریلیا جا کر نئی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے کی یادیں بھی شامل تھیں۔‘

مرنے کا ڈرامہ کرنا پڑا

اس سے پہلے وہ افغانستان میں یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھیں، لیکن پابندیوں نے انھیں گہرا صدمہ دیا تھا۔

ذکیہ احمد کی پیدائش طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں ہوئی تھی، جب لڑکیوں کی تعلیم پر سخت پابندیاں تھیں۔

لیکن 2001 میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد لڑکیوں کو دوبارہ سکول جانے کا موقع ملا۔

خواتین کے اعلیٰ تعلیم اور کام کرنے کے مواقع بھی بڑھ گئے۔

افغانستان میں طالبان سیکورٹی اہلکار

،تصویر کا ذریعہPhoto by AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان سیکورٹی اہلکار

افغانستان کے جنوب مشرقی علاقے غزنی میں ان کی پرورش ہوئی، جو ہندوکش پہاڑوں کے جنوب میں واقع ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میں روزانہ سکول جانے کے لیے پہاڑوں اور برف میں سے چار گھنٹے پیدل سفر کرتی تھی۔‘

2014 میں کابل یونیورسٹی جانے کے لیے انھوں نے اپنے خاندان کی اجازت حاصل کی۔ وہ بس میں واحد خاتون مسافر تھیں۔

ان کے مطابق اسی دوران طالبان کے مسلح افراد نے بس کو روک کر فائرنگ شروع کر دی۔

ذکیہ احمد بتاتی ہیں کہ یہ واقعہ ان کے ماہواری کے دنوں میں پیش آیا اور اس دوران انھوں نے فوراً اپنے چہرے پر تھوڑا سا خون لگا لیا۔

وہ خاموشی سے وہیں پڑی رہیں یہاں تک کہ حملہ آور انھیں مردہ سمجھ کر چلے گئے۔

اس کے بعد ان کا خاندان کابل منتقل ہو گیا۔

وہاں انھوں نے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور ایک فرضی نام سے ریڈیو صحافی کے طور پر کام کیا۔

2019 میں وہ انڈیا آئیں اور تین سال بعد آسٹریلیا چلی گئیں۔ وہاں انھوں نے انگریزی سیکھی اور ایک فرنیچر کمپنی میں کام کیا۔

ریڈیو صحافت سے کوہ پیمائی تک کا سفر

ذکیہ احمد کو کوہ پیمائی کا شوق ایک حادثے کے بعد پیدا ہوا۔

آسٹریلیا آنے کے صرف چھ ماہ بعد ان کے 20 سالہ بھائی نے خودکشی کر لی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد وہ خود کو ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی تھیں۔

اسی دوران انھوں نے اپنا پہلا نام ذکیہ بدل کر ریور رکھنے کا فیصلہ کیا، جو آسٹریلیا کے دریاؤں سے متاثر تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’دریا صاف ہوتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جا سکتا، وہ مسلسل بہتے رہتے ہیں۔ مجھے لگا کہ مجھے بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

ذکیہ احمد اپنے اس کارنامے کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہیں

،تصویر کا ذریعہRiver Ahmad

،تصویر کا کیپشنذکیہ احمد اپنے اس کارنامے کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہیں

انھوں نے سڈنی ہاربر برج پر ایک اجتماعی چڑھائی مہم میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے بلندی پر بہت خوشی اور اطمینان محسوس ہوا، تب مجھے احساس ہوا کہ مجھے کوہ پیمائی کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے تربیت شروع کی، جم جانا شروع کیا اور میلبورن کے اطراف پہاڑیوں پر چڑھائی کرنے لگیں۔

انھوں نے اپنی مہم کے لیے 85 ہزار ڈالر جمع کرنے کی بھی کوشش کی۔

ان کے مطابق اس میں سے تقریباً ایک چوتھائی رقم انھوں نے اپنی بچت سے دی اور باقی ایک فاؤنڈیشن سے قرض لیا۔

’فنڈ جمع کرنا بہت مشکل ہے۔ اس مہم کے لیے مجھے کوئی سپانسر نہیں ملا‘ تاہم وہ امید رکھتی ہیں کہ اس کامیابی کے بعد مستقبل کی مہمات کے لیے انھیں زیادہ مدد ملے گی۔

چڑھائی میں رکاوٹ بننے والی بھیڑ

ذکیہ احمد ان 500 کوہ پیماؤں میں شامل تھیں جنھیں اس سال ایورسٹ سر کرنے کی اجازت دی گئی۔

نیپال کی حکومت نے اس سال ریکارڈ تعداد میں اجازت نامے جاری کیے ہیں۔

ذکیہ کے مطابق اس بڑی تعداد کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا۔

کوہ پیماؤں کی قطاریں بن جانے کی وجہ سے صورتحال مزید چیلنجنگ ہو گئی

،تصویر کا ذریعہPemba Sherpa

،تصویر کا کیپشنکوہ پیماؤں کی قطاریں بن جانے کی وجہ سے صورتحال مزید چیلنجنگ ہو گئی

کوہ پیماؤں کی قطاریں بن جانے کی وجہ سے صورتحال مزید چیلنجنگ ہو گئی۔

ہر کوہ پیما کے ساتھ کم از کم ایک معاون ہوتا ہے، جس کی وجہ سے چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر معاون نیپال کے شرپا کمیونٹی سے ہوتے ہیں۔

دوسری جانب اس سال تبت کے راستے، چین کی جانب سے، غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے بند ہونے کی وجہ سے نیپال کے راستے پر زیادہ بھیڑ رہی۔

ہر سال ایورسٹ سر کرنے کے لیے موافق موسم کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے، جو عام طور پر مئی کے دوسرے پندرہ دنوں میں ہوتا ہے۔

ذکیہ احمد کہتی ہیں کہ ان چند دنوں میں لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں اور ان کے دو شرپا گائیڈز کو چوٹی کے قریب چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا، جب درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سیلسیس سے بھی کم تھا۔

’وہ ٹریفک جام بہت خوفناک تھا، میں بہت ڈر گئی تھی۔‘

انھیں خدشہ تھا کہ یہ انتظار ان کی چڑھائی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ایورسٹ پر ٹریفک جام کا خطرہ

ماہرین کے مطابق ایسی قطاریں ان کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں جو اپنے ساتھ کافی آکسیجن نہیں لے جاتے۔

سخت حالات میں زیادہ وقت گزارنے سے فروسٹ بائٹ اور برف کی چمک سے آنکھوں کو نقصان (سنوبلائنڈنس) کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ذکیہ احمد کے مطابق ایک دن میں 274 افراد نے چوٹی سر کر کے ریکارڈ قائم کیا۔

اگلے دن 160 افراد چوٹی تک پہنچے، جن میں نیپال کا معاون عملہ بھی شامل تھا۔

اگلے دن نیچے اترتے ہوئے دو انڈین کوہ پیماؤں کی موت ہو گئی۔

2019 کی ایک تصویر ظاہر کرتی ہے کہ لمبی قطاریں کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP / GETTY / PROJECT POSSIBL

،تصویر کا کیپشن2019 کی ایک تصویر ظاہر کرتی ہے کہ لمبی قطاریں کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

ایورسٹ کے راستے پر بڑھتے رش کے باعث تشویش کے بعد نیپال کی حکومت نے حالیہ برسوں میں اجازت ناموں کی فیس بڑھا دی اور قواعد بھی سخت کیے جا رہے ہیں۔

ذکیہ احمد کہتی ہیں کہ ’چوٹی پر پہنچنے اور وہاں سے نیچے اترنے کے بعد مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی کیونکہ مجھے زمین کے سب سے اونچے مقام سے فطرت کو دیکھنے کا تجربہ حاصل ہوا۔‘

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے تعریف کی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

افغان عوام کی جانب سے اس کامیابی پر ’حیرت انگیز‘ ردعمل سامنے آیا۔

ذکیہ احمد کے مطابق سابق صدر حامد کرزئی نے بھی اسے افغان خواتین کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے سراہا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو یہ پیغام ملا کہ ہم (افغان خواتین) سب سے مشکل کام بھی کر سکتے ہیں۔

لیکن ان کا بنیادی پیغام کوہ پیمائی سے آگے بڑھ کر ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آج بھی لاکھوں افغان لڑکیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں اور ہمیں اس رکاوٹ کے پہاڑ کو عبور کرنا ہے۔‘

طالبان حکومت نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کہا تھا کہ لڑکیوں اور خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر عائد پابندی عارضی ہوگی۔

حال ہی میں بی بی سی نے اس معاملے پر حکومت کے نائب ترجمان سے سوال کیا تو انھوں نے یہ سوال وزارت تعلیم سے کرنے کو کہا تاہم وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

ذکیہ احمد کہتی ہیں کہ وہ افغانستان کی خواتین کی حمایت کے لیے فنڈ جمع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

وہ اپنے ملک کی خواتین کو یہ پیغام دیتی ہیں، ’مضبوط رہیں۔ خود پر یقین رکھیں کہ آپ اس تاریخ کے سب سے مشکل دور سے نکل سکتی ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔‘