آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی حملے، مصری فضائیہ اور اسرائیل: متحدہ عرب امارات کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہوئے؟
- مصنف, احمد روابہ
- عہدہ, بی بی سی عربی
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات شہ سرخیوں میں رہا ہے اور حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایک بار پھر ملک کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے چند دن قبل ہی اوپیک کو چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا جب کہ ملک کے اعلی حکام ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ملک اب نئی علاقائی حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے جو باقی خلیجی ممالک سے الگ ہو سکتی ہے۔
اس کی ایک مثال مصری فضائیہ کی تعیناتی سے بھی ملتی ہے جس کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی کا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب یو اے ای کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ شیخ محمد بن زاید نے مصری صدر کے ہمراہ مصری لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن کا دورہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تعیناتی کب ہوئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے بھی کچھ عرصہ قبل ہی سعودی عرب میں لڑاکا طیارے بھیجے ہیں۔
اس تحریر میں بی بی سی عربی نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کیوں کر اس نہج پر پہنچے اور اس کے پیچھے کون کون سے عوامل موجود ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے بعد سب سے بڑا خلیجی عرب ملک ہے۔ یہاں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں میں سے 90 فیصد غیر ملکی شہری ہیں جن کا تعلق 200 مختلف ملکوں سے ہے۔
آبادی کی اکثریت ملازمت کی غرض سے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے متحدہ عرب امارات آئی۔ انڈین تارکین وطن ملک کی آبادی کا 38.45 فیصد ہیں۔
2025 کے اعداد و شمار کے مطابق اماراتی شہریت رکھنے والی آبادی محض 13 لاکھ 10 ہزار ہے۔
ملک کی مجموعی آبادی میں مردوں کا تناسب 63.80 فیصد جبکہ خواتین کا 36.20 فیصد ہے۔ اس کی وجہ تارکین وطن مزدوروں کی بڑی تعداد ہے اور اکثر کے خاندان یہاں موجود نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا حجم 504 ارب ڈالر ہے اور فی کس جی ڈی پی، جسے قوتِ خرید بھی کہا جاتا ہے، 53 ہزار ڈالر ہے۔
متحدہ عرب امارات کی معیشت کا بڑا انحصار تیل پر ہے۔ یہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 30 فیصد اور آمدن کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔
ملک روزانہ 33 لاکھ 80 ہزار بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے اور اس کے ثابت شدہ ذخائر 113 ارب بیرل کے ہیں۔
اسرائیل سے تعلقات
2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔
امارات کا کہنا تھا کہ یہ قدم اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کے اصول کو بچانے کے لیے اٹھایا گیا۔
2022 میں دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد اماراتی۔اسرائیلی تعلقات مضبوط ہوئے۔
دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت 2020 میں 16 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 2.3 ارب ڈالر ہو گئی جس میں قیمتی پتھر، الیکٹرانک فٹنگز اور گاڑیاں شامل ہیں۔
غزہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی مذمت کی تھی۔ جبکہ اس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ’فوری اور دیرپا جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
غزہ جنگ کے باوجود امارات نے اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھی جس میں 2023 سے 2024 کے درمیان 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ایران کے ساتھ تعلقات
متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب، بحرین اور مصر کے ساتھ مل کر 2017 سے 2021 تک قطر کے بائیکاٹ اور ناکہ بندی میں حصہ لیا جس کی وجہ ’دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت‘ اور ’ایران کے ساتھ قریبی تعلقات‘ بتائی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات خلیج میں ایران کے زیر انتظام تین جزیروں کو خود مختار قرار دیتا ہے۔
ان چھوٹے جزیروں کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ آبنائے ہرمز میں واقع ہیں جہاں سے دنیا کی تیل کی بحری تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار بھی یہاں سے گزرتی ہے۔
تاہم 2023 اور 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے بعد متحدہ عرب امارات ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2020 اور 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 11 ارب ڈالر سے بڑھ کر 24 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔
خیال رہے کہ 2012 میں متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان تجارت محض 22 ارب ڈالر تھی۔
2016 میں تہران میں سعودی سفارت خانے کو نذر آتش کیے جانے پر سعودی عرب نے ایران سے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران میں اپنی سفارتی نمائندگی محدود کی تھی۔
تاہم 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان سلامتی اور معاشی تعلقات دوبارہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
ریاض نے تہران کے ساتھ تعلقات 2023 میں بحال کیے۔
یمن میں کردار
2015 میں متحدہ عرب امارات نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔
حوثیوں نے تہران کے فراہم کردہ میزائلوں سے اماراتی سرزمین کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا۔
2019 میں متحدہ عرب امارات نے یمن سے ’فوجی انخلا‘ کا اعلان کیا تاہم اس نے ’خصوصی دستے‘ برقرار رکھے جن کے بارے میں اس نے کہا کہ ان کا مقصد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ہے۔
ان میں زیادہ تر حملے اصلاح پارٹی کے رہنماؤں پر کیے گئے جو ایک سنی اسلام پسند جماعت ہے اور انتخابات کو تسلیم کرتی ہے۔ مگر ابو ظہبی کی حکمران قیادت اسے خطرہ سمجھتی ہے۔
متحدہ عرب امارات شہریوں کے قتل کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی کارروائیاں القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے عناصر کے خلاف ہیں۔
تاہم بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق اس نے القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے سابق جنگجوؤں کو یمن میں اپنے سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنایا۔
دسمبر 2025 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے جنوبی یمن کے شہر مکلا میں اسلحے کی ایک کھیپ پر فضائی حملے کیے۔ اتحاد نے کہا کہ یہ کارروائی متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف تھی۔
ابو ظہبی نے اسلحے کی منتقلی کی تردید کی اور سعودی الزامات پر ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا۔
سعودی عرب نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی علیحدگی پسندوں کو سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز پر حملوں کے لیے ’اُکسا رہا ہے‘ جسے اس نے سعودی عرب، یمن اور خطے کی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا۔
شام کے ساتھ تعلقات
2011 میں عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل کر دی اور سابق صدر بشار الاسد کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلح اپوزیشن کے ساتھ تنازع میں شہریوں کا تحفظ کرے۔
2018 میں متحدہ عرب امارات نے دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔
مارچ 2020 میں محمد بن زاید نے بشار الاسد سے فون پر بات کی اور کورونا وبا سے نمٹنے میں مدد کی پیشکش کی۔
اکتوبر 2021 میں دونوں ممالک کے وزرائے تجارت نے ملاقات کی اور ایک ماہ بعد وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید دمشق گئے۔
18 مارچ 2022 کو سابق شامی صدر نے کسی عرب ملک کا پہلا دورہ کیا جو کہ متحدہ عرب امارات کا تھا۔
یو اے ای نے اسد حکومت کی تنہائی ختم کرنے کی اپنی کوششیں اس وقت تک جاری رکھیں جب تک شام مئی 2023 میں دوبارہ عرب لیگ میں اپنی نشست پر واپس نہیں آ گیا۔ اس دوران اسد کے حماس کے ساتھ تعلقات، خاص طور پر 2011 سے پہلے، اور حزب اللہ کے ساتھ اتحاد، جسے خلیجی تعاون کونسل ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے، بھی آڑے نہیں آئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسد کے چیف اقتصادی مشیر یاسر ابراہیم نے ایک نجی طیارہ چارٹر کرنے میں کردار ادا کیا جس نے چار پروازوں کے دوران اسد، ان کے خاندان کے افراد، معاونین اور صدارتی محل کے عملے کے قیمتی سامان کو متحدہ عرب امارات منتقل کیا۔ یہ تفصیلات روئٹرز نے ایک درجن سے زائد ذرائع کی بنیاد پر مرتب کیں۔
لیبیا میں خلیفہ حفتر
2011 میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد ملک مختلف مسلح گروہوں کے درمیان کھلی جنگ کا شکار ہو گیا جنھوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔
یو اے ای اُن عرب اور مغربی ممالک میں شامل تھا جنھوں نے اقتدار کی کشمکش میں مخصوص دھڑوں کی حمایت کے لیے مداخلت کی۔
اگست 2014 میں اماراتی جنگی طیاروں نے مصر سے اڑان بھرتے ہوئے بن غازی ہوائی اڈے پر لیبیا ڈان بریگیڈز کے خلاف فضائی حملے کیے۔
اسلام پسند جماعتوں کی حمایت یافتہ لیبیا ڈان بریگیڈز خلیفہ حفتر کی افواج کے خلاف لڑ رہی تھیں جنھیں ’جنگی سردار‘ کہا جاتا ہے اور جن کی حمایت یو اے ای، فرانس اور روس کر رہے تھے۔
بی بی سی نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ امارات کی جانب سے تعینات ڈرونز نے جنوری 2020 میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک فوجی سکول میں 26 طلبہ کو ہلاک کیا۔ اس وقت طرابلس ’لیبین نیشنل آرمی‘ کی جانب سے محاصرے میں تھا جس کی قیادت حفتر کر رہے تھے۔
یو اے ای ماضی میں لیبیا میں کسی بھی فوجی مداخلت سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔
سوڈان میں خانہ جنگی
روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ یو اے ای نے سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز سے وابستہ ہزاروں جنگجوؤں کے لیے ایک فوجی تربیتی مرکز قائم کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ مرکز بینشانگول-گوموز کے علاقے میں گرینڈ ایتھوپین ریناسانس ڈیم کے قریب واقع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی مالی معاونت یو اے ای کر رہا ہے۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیق آٹھ مختلف ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور سفارتی لیکس پر مبنی ہے جن کے ذریعے ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت میں یو اے ای کی فوجی مداخلت کو دستاویزی شکل دی گئی۔ تاہم ابو ظبی سوڈان کی جنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتا ہے۔
سوڈانی حکومت نے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں یو اے ای پر نسل کشی میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ یو اے ای مغربی دارفور میں مسالیت نسلی گروہ کو ختم کرنے کے مقصد سے ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ اور بارود فراہم کر رہا تھا۔
یو اے ای نے سوڈانی حکومت کے الزامات کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر دیا کیونکہ یو اے ای نسلی امتیاز کے کنونشن کے آرٹیکل 9 سے دستبردار ہو چکا تھا اور اس شق کے تحت اس پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا تھا۔
صومالیہ اور اسرائیل
جنوری کے وسط میں صومالی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ یو اے ای کے ساتھ کیے گئے سکیورٹی تعاون اور بندرگاہ کے انتظام سے متعلق معاہدے کو منسوخ کر رہی ہے۔ ایک ٹیلی وژن خطاب میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے ابو ظبی پر ’ملک کی خودمختاری اور آزادی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا۔
خط میں اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیا گیا ہے جسے موغادیشو میں وفاقی حکومت اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ صومالیوں کا ماننا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے اس اقدام میں یو اے ای نے کلیدی کردار ادا کیا۔
گذشتہ دسمبر اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کیا۔ اس اعتراف کے بدلے علاقائی حکومت نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کرے گی۔
درحقیقت صومالی حکومت کے یو اے ای کے ’مشکوک کردار‘ سے متعلق شکوک 2024 سے جاری ہیں۔ صومالیوں کا ماننا ہے کہ ابو ظہبی نے صومالی لینڈ کے علاقے اور ایتھوپیا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کی حالانکہ موغادیشو کی وفاقی حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق یو اے ای کے اتحادی ایتھوپیا کو صومالی لینڈ کے ساحل پر بحری اڈہ قائم کرنے اور بربرہ بندرگاہ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا حق ملے گا۔ اس کے بدلے ادیس ابابا صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کرے گا، جیسا کہ پہلے اسرائیل کر چکا ہے۔
عرب لیگ نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کے اعتراف کی مذمت کی۔
صومالی وفاقی حکومت یو اے ای پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے ’یمنی علیحدگی پسند عیدروس الزبیدی کو سمگل کر کے‘ اس کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ بربرہ بندرگاہ پر بحری جہاز کے ذریعے پہنچے اور پھر وہاں سے ابو ظہبی کے لیے پرواز کی۔
الجزائر کے ساتھ تنازع
الجزائر اور یو اے ای کے درمیان اختلافات صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے استعفے کے بعد سے بار بار سامنے آتے رہے ہیں جنھیں ’متحدہ عرب امارات کا دوست‘ سمجھا جاتا تھا۔
الجزائر نے ابو ظہبی کے ساتھ فضائی سروسز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان اُس وقت کیا جب صدر عبدالمجید تبون نے یو اے ای پر اپنے ملک کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا۔
دونوں ممالک کے تعلقات الجزائری تشویش کے حامل کئی معاملات میں یو اے ای کے کردار کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔ ان میں الجزائر کی سرحد کے قریب جنوبی لیبیا میں خلیفہ حفتر کی حمایت اور ساحل کے کئی ممالک میں یو اے ای کے منصوبے اور تعلقات شامل ہیں۔
الجزائر کا یہ بھی خیال ہے کہ یو اے ای مراکش اور اسرائیل کے ساتھ مل کر علیحدگی پسند تحریک ایم اے کے کی ’حمایت اور مالی معاونت‘ کر رہا ہے، جو الجزائر کے علاقے کابلیہ کی آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔ الجزائری حکام اس تحریک کو، جس کے رہنما فرانس میں مقیم ہیں، ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتے ہیں۔
نرم سفارت کاری سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ تک
1971 میں شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے ہاتھوں قیام کے بعد سے یو اے ای خلیج اور عرب ہمسایوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے پُرامن اور خوشگوار تعلقات کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل 1981 میں ابو ظہبی میں قائم کی گئی اور اس کے قیام میں شیخ زاید کا نمایاں کردار تھا۔
یو اے ای کے پہلے صدر نے مفاہمت اور قربت کے لیے بڑی کوششیں کیں۔ 1980 میں انھوں نے لبنان میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی اپیل کی۔ کویت پر عراقی حملے کے دوران شیخ زاید مفاہمت کی دعوت دینے والے اولین عرب رہنماؤں میں شامل تھے۔
1994 میں یمن کی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد یو اے ای کے صدر نے فریقین کے درمیان ثالثی کی کوشش کی۔ انھوں نے 1987 کے عمان اجلاس میں مصر کی عرب لیگ میں واپسی کی بھی حمایت کی۔
متحدہ عرب امارات نے قیام کے بعد عرب اور اسلامی دنیا میں اپنے مالی وسائل فلاحی منصوبوں کے لیے فراہم کیے۔ شیخ زاید کے دور میں پاکستان، مصر، مراکش، سوڈان سمیت کئی ممالک میں ہسپتال، سکول، رہائشی منصوبے اور یتیم خانے قائم کیے گئے۔ لیکن 2011 کی ’عرب بہار‘ امارات کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ عرب بہار کی ہواؤں نے خطے میں کئی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا تھا۔
مصر، تیونس، یمن اور ترکی میں اسلام پسندوں اور اخوان المسلمون کے عروج کو ابو ظہبی اور دیگر خلیجی دارالحکومتوں میں اقتدار کے لیے ’خطرہ‘ سمجھا گیا۔
اخوان المسلمون کے امیدوار محمد مرسی کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد یو اے ای اور مصر کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ یو اے ای نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر اُس فوجی بغاوت کی حمایت کی جس کی قیادت اُس وقت کے وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی نے جمہوری طور پر منتخب صدر کے خلاف کی۔
اسلام پسندوں کے عروج نے خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان موقف کا اختلاف پیدا کیا۔ جہاں یو اے ای اور سعودی عرب نے مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف بغاوت کی حمایت کی، وہیں قطر نے ان کی حمایت کی۔
دوسری جانب سعودی عرب اور قطر نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے مظاہرین کی حمایت کی۔
2014 میں یو اے ای کے صدر خلیفہ بن زاید کو فالج ہوا جس کے باعث وہ معذور ہو گئے اور صدارتی فرائض مکمل طور پر انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔ ان کے سوتیلے بھائی محمد بن زاید عملی طور پر ملک کے حکمراں بن گئے۔ انھوں نے 2022 میں باضابطہ طور پر اقتدار سنبھالا۔
2017 میں یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے جنیوا میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں یورپی رہنماؤں پر اسلام پسندوں کے بارے میں ’نرمی‘ برتنے پر تنقید کی۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اس ’نرمی‘ کے نتیجے میں آنے والے برسوں میں ان کے ممالک میں انتہاپسندی کی لہر دیکھنے میں آئے گی۔
عبداللہ بن زاید نے یورپی رہنماؤں سے کہا کہ ’وہ دن آئے گا جب ہم یورپ میں ہچکچاہٹ اور نرمی کی وجہ سے زیادہ انتہا پسند اور دہشت گرد نکلتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی سمجھتے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور اسلام کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے بہت بڑی لاعلمی ہے۔‘
فرانس میں بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے رہنما میلنشوں نے یو اے ای پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک ایسی رپورٹ کی مالی معاونت کی جس میں فرانسیسی حکومت کو اخوان المسلمون کے ریاستی اور سماجی اداروں میں سرایت کرنے سے خبردار کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد پارلیمانی تحقیق شروع کی گئی۔
پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے میلنشوں نے اخوان المسلمون اور ان کے حامیوں کے خلاف ’غلط معلومات اور بدنامی‘ کی ایک مہم کی نشاندہی کی جو ان کے بقول ایک آن لائن جریدہ چلا رہا تھا اور جس کا مقصد ان کے خلاف تشدد پر اکسانا تھا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت حاصل تھی۔