سونے کی اینٹیں، لگژری گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں: امریکی جاسوس نے ’خفیہ اخراجات‘ کا بہانہ بنا کر کروڑوں ڈالر کا فراڈ کیسے کیا؟

Stacks of cash and gold bars were discovered at Rush's home in May. The items are seen in black cases on the floor
،تصویر کا کیپشنمئی میں رش کے گھر سے نقد رقم اور سونے کی اینٹوں کے ڈھیر برآمد ہوئے
    • مصنف, میکس ماتزا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک سابق افسر، جنھیں حکام کی جانب سے ان کے گھر سے سینکڑوں سونے کی اینٹیں برآمد ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، نے جعلی معاہدوں اور جائیداد کے سودوں پر مبنی 20 کروڑ ڈالر (15 کروڑ 10 لاکھ پاؤنڈ) کے ایک وسیع فراڈ کے ذریعے امریکی حکومت کو دھوکا دینے کا اعتراف کر لیا ہے۔

49 سالہ ڈیوڈ رش کو طے شدہ اعترافی معاہدے کے تحت حکومت کو رقم واپس کرنا ہو گی اور جرم سے منسلک لگژری جائیدادیں، گاڑیاں، گھڑیاں اور دیگر اثاثے ضبط کرانے ہوں گے۔

رش نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انھوں نے ایک غیر ملکی حکومت کو خفیہ معلومات فراہم کیں، جس سے قومی سلامتی کو ’شدید نقصان‘ پہنچ سکتا تھا۔

استغاثہ نے اعترافی معاہدے کی تفصیلات پر مبنی عدالتی دستاویز میں کہا: ’ملزم جرم قبول کرے گا کیونکہ وہ درحقیقت عائد کردہ جرم کا مرتکب ہے۔‘

بی بی سی نے رش کے وکیل سے رابطہ کیا، تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

رش پر ابتدا میں سرکاری فنڈز کی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا، لیکن اب انھوں نے وائر فراڈ کے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

ان کی گرفتاری کے وقت ان کے گھر پر چھاپے کے دوران 298 سونے کی اینٹیں برآمد ہوئی تھیں جو انھوں نے مبینہ طور پر ’کام سے متعلق اخراجات‘ کے لیے حاصل کی تھیں۔

معاہدے سے متعلق عدالتی دستاویزات میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق رش نے ایک ’خفیہ ذریعے‘ کے وجود اور تفصیلات ایک غیر ملکی اہلکار کو بتائی تھیں۔

David Rush seen in a mugshot photo
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ رش کی تصویر

استغاثہ نے دستاویز میں کہا: ’ایسی معلومات کو افشا کرنا انسانی ذریعے اور اس کے ساتھ کام کرنے والے امریکی سرکاری افسران کی سلامتی اور زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور امریکی حکومت کے نئے انسانی ذرائع بھرتی کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے، جو مکمل رازداری کی یقین دہانی پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘

ایک خبرنامے میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے کہا کہ رش نے ’اپنے منصب کا غلط استعمال کیا، عوامی اعتماد سے غداری کی اور انھیں اپنے اقدامات کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کے مطابق نومبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان رش نے بار بار ’کام سے متعلق اخراجات‘ کے لیے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور کروڑوں ڈالر مالیت کی سونے کی اینٹوں کی درخواستیں کیں۔

معاہدے کی وضاحت کرنے والی عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے: ’رش نے جنوبی فلوریڈا میں لگژری جائیدادوں کے حصول کو جائز قرار دینے کے لیے ایک انتہائی خفیہ پروگرام گھڑا تھا، جسے بعد میں وہ ذاتی منافع کے لیے فروخت کرنا چاہتے تھے۔‘

دستاویز کے مطابق رش ’عملی طور پر خود ہی منظوری دینے والے افسر کے طور پر کام کرتے رہے، جس سے وہ امریکی حکومت کا خطیر سرمایہ کسی بامعنی نگرانی کے بغیر خرچ کرنے کے قابل ہو گئے۔‘

بعد ازاں انھوں نے ’فراڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے‘ سرکاری فنڈز سے جنوبی فلوریڈا میں لگژری جائیدادیں خریدیں۔

عدالتی دستاویز کے مطابق اس فراڈ کا ایک حصہ ایک جائیداد کے لیے انٹیریئر ڈیزائنر کی خدمات حاصل کرنے اور 40 ہزار ڈالر مالیت کے باورچی خانے کے آلات خریدنے پر مشتمل تھا۔

وائر ٹرانسفر سے متعلق الزام جنوری 2026 میں شروع کی گئی 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی منتقلی سے متعلق تھا۔

اعترافی معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے انتہائی خفیہ معلومات ’ایک ایسے غیر ملکی حکومتی اہلکار کو فراہم کیں جو انھیں وصول کرنے کا مجاز نہیں تھا اور جسے ان کی ضرورت بھی نہیں تھی۔‘

luxury watches collection
،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سونے کی اینٹوں کے علاوہ رش کے پاس سے 20 لاکھ ڈالر نقد رقم اور 35 لگژری گھڑیاں بھی ملی تھیں۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ رش فنڈز کو ایسی اشیا میں منتقل کر رہے تھے جن کی آسانی سے خرید و فروخت ہو سکتی ہے، اور ان کے مطابق اس بات کے ’مضبوط شواہد‘ موجود ہیں کہ وہ رقم چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔

معاہدے کے تحت انھیں گھڑیوں اور دو بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کے ساتھ ساتھ نقد رقم اور ان کے بینک اکاؤنٹ سے ضبط کیے گئے تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بھی حوالے کرنا ہوں گے۔

ایک وفاقی جج بعد میں ان کی سزا کا تعین کرے گا، جبکہ سماعت 28 جنوری کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید ہے، تاہم استغاثہ نے نشاندہی کی کہ وفاقی قانون کے تحت اس مدت میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

جون میں امریکی مجسٹریٹ جج ولیم فٹز پیٹرک نے رش کے پیشہ ورانہ پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ فرار ہو سکتے ہیں اور مقدمے کے فیصلے تک انھیں جیل میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’وہ فرار ہونے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت کے لحاظ سے زیادہ تر لوگوں سے مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔‘

عدالتی ریکارڈ میں سی آئی اے کے لیے رش کے کام کی تفصیلات شامل نہیں، تاہم انھیں ورجینیا میں ایک امریکی سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جن کے پاس انتہائی خفیہ معلومات تک رسائی اور سکیورٹی کلیئرنس موجود تھی۔

امریکی میڈیا نے سی آئی اے میں ان کی سابقہ ملازمت کی تصدیق کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وہ ادارے کے ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سینئر ایگزیکٹو تھے، جو جدید جاسوسی آلات تیار کرتا ہے۔

ان پر اس سے قبل امریکی بحریہ سے باعزت سبکدوشی کے بعد تنخواہ سمیت فوجی رخصت دھوکے سے حاصل کرنے اور 2009 میں ملازمت کے لیے درخواست دیتے وقت اپنی تعلیم اور فوجی خدمات کے بارے میں غلط بیانی کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رش پر ملازمت دینے والوں کو یہ جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام تھا کہ وہ بحریہ کے پائلٹ رہ چکے ہیں۔

اعترافی معاہدے کی دستاویز میں کہا گیا ہے: ’رش کی فوجی اور تعلیمی کامیابیوں سے متعلق یہ اور دیگر بیانات غلط تھے۔‘

یہ واضح نہیں کہ وہ اپنی درخواست میں غلط معلومات دینے کے باوجود کیسے کامیاب ہوئے، تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کئی سی آئی اے اہلکاروں کو اس بات کی تحقیقات کے دوران رخصت پر بھیج دیا گیا ہے کہ وہ پس منظر کی جانچ سے کیسے گزر گئے۔

حکومت نے اس سے قبل مؤقف اختیار کیا تھا کہ فنڈز کے بڑے حصے کے متعلق اب بھی کوئی خبر نہیں ہے، تاہم رش کے وکیل نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔