ہیٹی اور کینیا میں ’طالبان‘ کہاں سے آئے اور کیا ان کا افغانستان سے کوئی تعلق ہے؟

    • مصنف, علی حسینی
    • عہدہ, بی بی سی پشتو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایک ویڈیو میں ایک نوجوان کسی باسکٹ بال ٹیم کی جرسی اور پشتون انداز کی چپلیں پہنے ہوئے ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے اور اسی لمحے ایک ہیلی کاپٹر بھی فضا میں پرواز کر رہا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ نوجوان اپنی علاقائی زبان میں کچھ کہتے ہوئے سنائی دے رہا ہے اور اس کے جملوں میں ایک لفظ ہماری توجہ حاصل کرتا ہے۔

وہ لفظ ہے طالبان۔ کچھ ویڈیوز میں دیواروں پر بھی انگریزی زبان میں طالبان اور اس کے آگے کچھ اور الفاظ بھی لکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

میرے خیال میں اس ویڈیو اور اس میں نظر آنے ولے افراد کا افغانستان اور پاکستان کے طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پھر دیوار پر بنی ہوئی تصویر پر طالبان کا ذکر کیوں؟

میں نے تصویر میں نظر آنے والے ان چند الفاظ کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے ترجمہ کیا اور اس مطلب کچھ یوں نکلا: ’طالبان نیچے ہیں یا زمین پر ہیں۔‘

یہ سب ہیٹی میں ہو رہا تھا اور اوپر درج کیا گیا فقرہ دراصل ہیٹی کی کریول زبان میں بھی لکھا گیا تھا۔

میں نے خود سے سوال کیا کہ شمالی امریکہ کے قریب واقع ایک ملک میں ’طالبان‘ کیا کر رہے ہیں؟

گذشتہ دو یا تین ہفتوں کے دوران کیریبین ملک ہیٹی میں عسکریت پسندو گروہوں کی سرگرمیوں کا معاملہ پہلے سے کہیں زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ نو ماہ کے عرصے کے دوران ملک میں باغی گروہوں کی جانب سے یا ان کے خلاف تشدد کے نتیجے میں 5,700 سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اسی عرصے میں 230,000 سے زیادہ افراد کو اغوا کیا گیا اور اندازہ ہے کہ کم از کم 1,000 خواتین اور لڑکیوں کا ریپ کیا گیا ہے۔

تشدد پسند گروہ کئی دہائیوں سے ہیٹی میں طاقت اور اثر و رسوخ رکھتے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک خود کو ’طالبان‘ کہتا ہے۔

میں افغانستان اور پاکستان میں طالبان سے متعلق خبریں برسوں سے رپورٹ کر رہا ہوں اور اسی سبب ہیٹی میں خود کو ’طالبان‘ کہنے والے گروہ نے میری توجہ حاصل کی۔ تھوڑی سی تحقیق کے بعد مجھے دیگر ویڈیوز بھی ملیں، جن میں عام کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد اپنی گفتگو میں ’طالبان‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔

میں نے کئی پاپ گانے بھی سنے جن میں ’طالبان‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔

کیا ہیٹی میں استعمال ہونے والا لفظ ’طالبان‘ افغان طالبان کے نام سے ماخوذ ہے؟

میں نے ہیٹی کے ایک آن لائن میڈیا ادارے کے مدیرِ اعلیٰ سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ آیا یہ ’طالبان‘ وہی نام ہے جو افغانستان میں استعمال ہوتا ہے، یا یہ محض لفظی مشابہت ہے۔

ان کا جواب یہ تھا ’یہ نام براہِ راست افغان طالبان کے نام سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک افغان طالبان ایک باغی اور بہادر گروہ ہیں جو کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ خطرے سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے طالبان کا نام منتخب کیا۔‘

بعد میں انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا ایک لنک بھیجا اور کہا کہ یہ طالبان گروہ کے رہنما جیف گویرا کا اکاؤنٹ ہے۔

ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ آبادی والا ملک ہیٹی معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ وہاں گذشتہ دس برسوں سے انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔ اس کے صدر کو پانچ سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی دوران ان تخریبی گروہوں نے حکومت کے لیے چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس وقت یہ تخریبی گروہ ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے 80 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

ہیٹی کو درپس بڑا بحران: تشدد پسند گروہ

بین الاقوامی فاؤنڈیشن برائے بین الاقوامی اور بین السرحدی جرائم میں ہیٹی اور کیریبین خطے کی نگرانی کے شعبے کے سربراہ رومن لو کے مطابق ان گروہوں کی تعداد 150 سے 200 کے درمیان ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اندازاً ہر گروہ کے 8,000 سے 20,000 ارکان ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

لو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ دارالحکومت کی طرف جانے والی تمام سڑکوں پر قابض ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ دارالحکومت جانا چاہتے ہیں تو آپ کو دہشت گرد گروہوں کی چوکیوں سے گزرنا ہوگا۔ وہ بندرگاہیں جہاں سے سامان دارالحکومت منتقل کیا جاتا ہے، دہشت گرد گروہوں کی چوکیوں سے گزرتی ہیں اور آپ کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔‘

’بین الاقوامی ہوائی اڈے بند ہیں۔ انھوں نے صوبوں کے بہت سے ایسے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جہاں پولیس داخل نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے قوانین نافذ کر رہے ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے ان گروہوں کو ’باغی گروہ‘ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے ارکان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ’انصاف اور برابری‘ کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ان ہی گروہوں میں سے ایک کے ایک رہنما نے تو ہیٹی کی سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی بھی حاصل کی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں ہیٹی کے طالبان گروہ کا بھی کئی دیگر گینگز کے ساتھ ذکر کیا گیا اور کہا گیا ’یہ گروہ مجرمانہ تنظیموں کے طور پر کام کرتے ہیں اور مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جن میں اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ، تیل کی غیر قانونی تجارت، پناہ گزینوں پر ظلم و ستم، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔‘

ایف ایم ریڈیو

میں نے رومن لو سے یہ بھی پوچھا کہ یہ گروہ خود کو ’طالبان‘ کیوں کہتا ہے۔

انھوں نے جواب دیا ’لوگوں نے ہمیں بتایا ہے کہ لفظ طالبان، شاید گلی محلوں کی بول چال کی زبان میں، ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بہت مضبوط، باوقار اور طاقتور ہو۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ لفظ لوگوں کی زبان میں کیسے داخل ہوا، لیکن عام لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔‘

’ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ یہ گروہ کسی نہ کسی طرح ایک مزاحمتی گروہ، ایک بہت مضبوط گروہ کے طور پر جانا جاتا ہے جو ریاست اور کسی حد تک جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔‘

تین سال قبل طالبان گروہ نے میرابالے میں ایک ریڈیو سٹیشن کا کنٹرول سنبھال لیا اور اس کا نام تبدیل کر کے ’طالبان ایف ایم‘ رکھ دیا۔ اس ریڈیو کے ذریعے وہ اپنے پروپیگنڈے اور اپنے رہنما جیف گووے کی تقاریر نشر کرتے تھے۔

کینیا اور پیرو میں تخریبی ’طالبان‘ گروہ

ہیٹی میں ’طالبان‘ گروہ پر رپورٹنگ کرتے ہوئے میری توجہ اس بات کی جانب بھی گئی کہ یہ صرف اسی ملک کی کہانی نہیں ہے، بلکہ مشرقی افریقی ملک کینیا میں بھی ایک گروہ خود کو ’طالبان‘ کہتا ہے۔

یہ گروہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ’بغداد بوائز‘ نامی گروپ سے الگ ہو کر تشکیل پایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی سرگرمیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیورز سے بھتہ وصولی، منشیات کی سمگلنگ، ڈکیتی اور سیاسی جلسوں کے لیے لوگوں کو جمع کرنا شامل ہے۔

یہاں جنوبی امریکی ملک پیرو کا بھی ذکر کرنا چاہیے۔ ’لوس طالبان‘ ایک پرتشدد گینگ ہے، جو ٹروخیو شہر میں سرگرم ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ گروہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے بھتہ وصول کرنے، ڈرائیوروں کو دھمکیاں دینے اور حریف گینگز کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں ملوث رہا ہے۔ پیرو کی پولیس نے گذشتہ سال اس گروہ کے ارکان کی گرفتاری اور اس کے ایک ذیلی نیٹ ورک کے خاتمے کی اطلاع دی تھی۔

کینیا اور پیرو دونوں میں ان گروہوں کی سرگرمیاں ہیٹی کے ’طالبان‘ جیسے تخریبی گروہوں کی کارروائیوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔

ہیٹی کے امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ان گروہوں نے ایک منصفانہ اور مساوی نظام کے دائرے میں کچھ مبہم مطالبات پیش کیے ہیں، لیکن حقیقت میں ان تخریبی گروہوں نے دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں عام لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔