کیا مودی سابق ایرانی رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایران جا سکیں گے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

رواں برس فروری میں اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اگلے مہینے ادا کی جائیں گی جس میں دنیا بھر کے کئی رہنماؤں سمیت لاکھوں غیر ملکی شہریوں کی شمولیت متوقع ہے۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف خامنہ ای کے جنازے اور تدفین میں ایک ملکی وفد کی شمولیت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ جبکہ انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ ایران کی جانب سے ان تقریبات میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

ایران نے اب تک کسی بھی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو مدعو کرنے کی تصدیق تو نہیں کی ہے لیکن اس سے قبل تہرانی بلدیہ میں ثقافتی و سماجی امور کے نائب صدر محمد امین توکلی زادہ کے مطابق چار، پانچ، چھ، سات اور آٹھ جولائی کو علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کی تقریبات میں ’دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ تا دو کروڑ سے زیادہ افراد کی متوقع شرکت کے پیش نظر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا اور اخبار دی ہندو سمیت انڈین ذرائع ابلاغ نے ’سفارتی ذرائع‘ کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ مودی کو ایران کی طرف سے خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

اس پر ملک میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ مودی ایران جائیں گے یا نہیں؟

تاہم انڈین حکومت نے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہونے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

خامنہ ای کی ہلاکت پر مودی کی خاموشی

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں سے صرف دو دن قبل اسرائیل کے دورے پر تھے اور نئی دہلی نے 28 فروری کو ان حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت بھی نہیں کی تھی۔

انڈیا میں اپوزیشن جماعت کانگرس نے اس معاملے پر بی جے پی کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

یکم اپریل کو ایک بیان میں کانگرس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا تھا کہ ان کی جماعت 'ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر وزیرِ اعظم مودی کی مجرمانہ خاموش کی مذمت کرتی ہے۔'

کانگرس کے ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ایرانی سفارتخانہ وزیرِ اعظم کے دفتر سے صرف چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن پھر بھی مودی تعزیت کے لیے وہاں نہیں گئے۔

بی جے پی حکومت کی جانب سے ان الزامات کا باضابطہ جواب تو نہیں دیا گیا لیکن وزیرِ خارجہ ایس جےشنکر نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا تھا کہ ’انڈیا امن کا حامی ہے‘ اور وزیرِ اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے اپنی بات چیت میں درخواست کی ہے کہ وہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کریں کیونکہ اس سے پوری دنیا کی معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔

مودی کو ایران جانے چاہیے یا نہیں، سوشل میڈیا پر بحث

انھی وجوہات کی بنا پر کچھ انڈین تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید وزیرِ اعظم مودی ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات میں شرکت نہ کریں، جبکہ کچھ انھیں ایران جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

انڈیا نے سرکاری طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن اس تنازع کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی کچھ افراد کے مطابق ’غیر جانبداری‘ پر مبنی رہی ہے۔

انڈین تجزیہ کار پروین سواہنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’وزیرِ اعظم نرین مودی کا ایران کے سابق رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کے شرکت کرنا یا نہ کرنا انڈیا کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم امتحان ہوگا، جسے عالمی رہنما غور سے دیکھیں گے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے یقین ہے کہ مودی اس میں شرکت نہیں کریں گے (غلط ثابت ہونے پر مجھے خوشی ہوگی)۔۔۔ کیونکہ عوامی سطح پر یہ تسلیم کرنے کے لیے ہمت چاہیے کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی غلط تھی۔‘

دیگر تجزیہ کار بھی اسے انڈیا کی خارجہ پالیسی کا ایک امتحان قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر برہما چیلانی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس معاملے نے ’نئی دہلی کو ایک غیرمعمولی سفارتی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایک طرف فروری میں امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد خاموشی اختیار کرنے کے سبب انڈیا کو ممکنہ طور پر ’سفارتی قرض‘ کا سامنا ہے۔ دوسری طرف جنازے میں نمایاں سطح پر شرکت واشنگٹن اور تلِ ابیب کو ناراض کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔‘

وزیرِ اعظم مودی کی حکومت پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کا دباؤ صرف تجزیہ کاروں کی جانب سے نہیں آ رہا، بلکہ کئی انڈین سیاستدان بھی سمجھتے ہیں کہ انڈیا کو اس موقع پر تہران میں اپنی شرکت یقینی بنانی چاہیے۔

انڈین پارلیمنٹ کے رکن اسد الدین اویسی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ’وزیرِ اعظم کو جانا چاہیے۔‘

’کیونکہ وزیرِ اعظم نے اسرائیل میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوں، تو وزیرِ اعظم کو اب ایران کے پاس بھی جانا چاہیے۔‘

’ہماری خارجہ پالیسی یہ رہی ہے کہ ہم سب کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہم اپنے ملک کا فائدہ دیکھتے ہیں۔‘

بی جے پی حکومت نے اس معاملے پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم جب اس کی اتحادی جماعت شیو سینا کے ترجمان سے اس حوالے سے سوال گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران جانا ہے یا نہیں، یہ وزیرِ اعظم طے کریں گے۔ یہ ان کا اختیار اور اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ وزیرِ اعظم مودی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ’ایک اچھا موقع‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

متعدد کتابوں کی مصنفہ صبا نقوی کہتی ہیں کہ ’امن کی حالیہ کوششوں میں اپنے کردار کے بعد پاکستان خود کو اسلامی دنیا میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کر رہا ہے، روایتی طور پر ایران ہمیشہ سے انڈیا کے لیے نرم مؤقف رکھتا تھا۔‘

’لیکن ہم نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کے باعث اس صورتحال کو نقصان پہنچایا۔‘

انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ایران سے ’اگر اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جاتی ہیں تو ایران کے اندر ہمارے لیے تجارتی اور انسانی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر برہما چیلانی بھی ایسا ہی مؤقف رکھتے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں ’کسی سینیئر نمائندے کو بھیجنا یہ پیغام دے گا کہ نئی دہلی اپنی ایران پالیسی کو مکمل طور پر امریکہ یا اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دینا چاہتا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ انڈیا نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ میں نمایاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔‘

خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں

ایران نے سابق رہبرِ اعلی کی آخری رسومات کے لیے چار روزہ تقریبات کا شیڈول جاری کیا ہے۔

حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق کابینہ نے تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل کی منظوری دی ہے، جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی تاکہ ملک بھر سے لوگ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔

شیڈول کے مطابق تہران میں چار اور پانچ جولائی کو ’الوداعی تقریب‘ ہو گی، جس کے بعد تہران میں چھ جولائی اور قُم میں سات جولائی کو جلوس نکالے جائیں گے۔

علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہوگی۔