پاکستان مقروض ممالک کے گروپ کا سربراہ مقرر: ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کیا ہے اور خود پاکستان پر کتنا قرض ہے؟

محمد اورنگزیب
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب 12 اکتوبر 2026 کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے سلسلے میں تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں موجود ہیں
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کو قرض لینے والے ممالک کے گروپ ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کی گورننگ کونسل کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پیر کو تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں عالمی بینک (ورلڈ بینک) گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا سالانہ اجلاس ہوا۔

پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری تفصیلات کے مطابق، اس اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ’باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ قبول کی۔‘

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ پلیٹ فارم کو ’مل کر سیکھنے‘ اور ’تکنیکی تعاون‘ کے فروغ کا ذریعہ بننا چاہیے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب نے باروئرز پلیٹ فارم کو سال 27-2026 کے لیے پاکستان کی ترجیحات بھی بتائیں۔ انھوں نے قرضوں کے انتظام کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے، اصلاحات کے لیے ایک دوسرے سے سیکھنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ قرض کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ایک ذریعہ بننا چاہیے۔

تجارت اور ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) نے بھی باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کے پہلے اجلاس سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔

ادارے کی پریس ریلیز کے مطابق یہ اجلاس گذشتہ روز (12 اکتوبر) کو ہوا، جس میں ترقی پذیر ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی پلیٹ فارم میں شامل نئے رکن ممالک سے خطاب کیا۔

انھوں نے کہا: ’ترقی پذیر ممالک کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تنازعات، تجارت اور موسمیاتی دباؤ، مناسب مالی معاونت کی کمی اور قرضوں کی ادائیگی کے بھاری بوجھ جیسے متعدد چیلنجز کا بیک وقت سامنا ہے۔

’باروئرز پلیٹ فارم اپنے اراکین کو اس طوفان سے نمٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘

یو این سی ٹی اے ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق اب تک 31 ترقی پذیر ممالک با ضابطہ طور پر اس پلیٹ فارم میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

خود پاکستان پر کتنا قرض ہے؟

صحافی تنویر ملک کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے اگست 2026 کے اختتام تک 82 ہزار 953 ارب روپے کا قرض واجب الادا تھا، جو ایک سال قبل اگست 2025 کے اختتام پر 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔ اس مجموعی قرضے میں اندرونی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں۔ مجموعی قرضے میں بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 87 ارب ڈالر ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، ایک سال مدت کے بیرونی قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ممالک کے 5.2 ارب ڈالر، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے 43.5 ارب ڈالر اور مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 14 ارب ڈالر کے قرضے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان نے یورو بانڈز، سکوک اور دیگر مالیاتی بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں (کیپیٹل مارکیٹ) سے تقریباً چھ ارب ڈالر حاصل کر رکھے ہیں، جبکہ 6.4 ارب ڈالر کمرشل قرضوں کی صورت میں واجب الادا ہیں۔

ایک سال سے کم مدت کے قرضوں میں 8.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ایک ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم تقریباً 11 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے باروئرز پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالی

باروئرز پلیٹ فارم کیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تجارت اور ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) کے مطابق باروئرز پلیٹ فارم ایک ایسا بین الاقوامی فورم ہے جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو قرضوں اور مالیاتی مسائل پر ایک دوسرے سے سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور تکنیکی تعاون کا موقع فراہم کرنا ہے۔

یو این سی ٹی اے ڈی کا کہنا ہے کہ قرض لینے والے ممالک ہی اس پلیٹ فارم کے رکن ہیں، اور وہی اس کی قیادت کرتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے قرض لینے والے ممالک کو ایک ایسا خصوصی فورم فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ اکٹھے ہو سکیں، معلومات کا تبادلہ کر سکیں، ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکیں اور قرضوں سے متعلق امور پر اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کر سکیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کے مطابق باروئرز پلیٹ فارم قرض لینے والے ممالک کو عالمی مالیاتی نظام سے متعلق معاملات پر زیادہ مؤثر انداز میں اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیتا ہے۔

یو این سی ٹی اے ڈی کی جاری کردہ تفصیلات میں درج ہے کہ باروئرز پلیٹ فارم کا مقصد قرض لینے والے ممالک کو ’اجتماعی سودے بازی کے لیے اکٹھا کرنا نہیں‘ بلکہ انھیں ’قرضوں کے بہتر انتظام، پالیسیوں کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور ترقیاتی مالیات کے نئے طریقوں پر مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔‘

ادارے کے مطابق باروئرز پلیٹ فارم اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ قرض لینے والے ممالک اپنے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کریں، ساتھی رکن ممالک کو بتائیں کہ مختلف مسائل انھوں نے کیسے حل کیے اور قرض کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی اپنی صلاحیت بہتر بنائیں۔

پلیٹ فارم کے اغراض و مقاصد میں یہ بھی درج ہے کہ رکن ممالک قرض سے متعلق مباحث میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کر سکیں، اپنی اجتماعی آواز کو زیادہ مؤثر بنا سکیں، اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکیں اور ایک دوسرے کو تکنیکی معاونت فراہم کر سکیں۔

یہ پلیٹ فارم 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق مصر کو اس پلیٹ فارم کا عبوری چیئرمین بنایا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کی تفصیلات کے مطابق ابتدائی ورکنگ گروپ میں مصر کو چیئرمین اور پاکستان کو نائب چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کولمبیا، ہونڈوراس، مالدیپ، نیپال اور زامبیا بھی ورکنگ گروپ میں شامل تھے، جنھوں نے پلیٹ فارم کے اغراض و مقاصد، نظم و نسق کے ڈھانچے اور رکن ممالک کی شرکت کے طریقۂ کار سے متعلق عملی خاکے کا مسودہ تیار کیا۔

باروئرز پلیٹ فارم کے اجلاس کے موقع پر لیا گیا گروپ فوٹو
،تصویر کا کیپشنباروئرز پلیٹ فارم کے اجلاس کے موقع پر لیا گیا گروپ فوٹو

باروئرز پلیٹ فارم کیوں بنایا گیا؟

یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھا ہے، جس کے باعث ان کے لیے صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے جیسے شعبوں پر اخراجات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق: 2024 میں ترقی پذیر ممالک کا بیرونی قرض 11.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ ان ممالک نے 2024 میں اپنی حکومتی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد حصہ بیرونی قرض دہندگان کو سود کی ادائیگی میں صرف کیا۔ کم ترقی یافتہ ممالک اپنی آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بیرونی قرض دہندگان کو ادا کرتے ہیں۔ 3.4 ارب آبادی والے 46 ممالک ایسے ہیں جو صحت یا تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی کی سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپین کے مطابق: ’یہ 3.4 ارب لوگ بہتر نتائج کے حق دار ہیں۔ وہ خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ ایسا منصفانہ نظام چاہتے ہیں جہاں مالیات ترقی میں مددگار ہوں، نہ کہ اس کی راہ میں رکاوٹ۔‘

یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق مسئلہ صرف قرضوں کے حجم کا نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے ڈھانچے کا بھی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے مسائل کا سامنا صرف اپنی داخلی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کی ساختی کمزوریوں کے باعث بھی رہا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق قرض دہندگان کی قیادت میں قائم موجودہ رابطہ کاری اور مذاکراتی نظام قرض لینے والے ممالک کی مشترکہ ضروریات کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔

اس پسِ منظر میں اپریل 2026 میں باروئرز پلیٹ فارم کا آغاز کیا گیا، تاکہ قرض لینے والے ممالک کو ایک مشترکہ فورم فراہم کیا جا سکے۔