آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں ایف آئی اے کے چھاپے میں ’غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث‘ 258 غیر ملکی گرفتار
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ملک میں غیرقانونی قیام اور جاری کردہ ویزوں کی خلاف ورزی کرنے پر 250 سے زیادہ غیرملکیوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
گرفتار ہونے والے ان غیر ملکی افراد میں چین، ملائشیا، انڈونیشیا اور ویت نام کے شہری شامل ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک اہلکار کے مطابق گرفتار ہونے والی کسی بھی ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ ان کی عدالت میں آن لائن حاضری لگوائی گئی، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام ملزمان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
ان غیر ملکی ملزمان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیجنے کے بجائے گلُبرگ گرینز سوسائٹی میں واقع ایک پلازے میں رکھا گیا ہے، جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی درخواست پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے گلبرگ گرینز میں واقع ایک پلازہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سب جیل کے باہر سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری ایف آئی اے حکام کی ہو گی۔
ایف آئی آر میں غیرملکیوں پر کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟
ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کو ایک ذرائع نے خبر دی تھی کہ اسلام آباد کی علاقائی حدود مِیں ایک بڑی تعداد میں غیرملکی موجود ہیں، جن کی تعداد 200 سے 300 ہے اور وہ ویزہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں اور ملازمتیں فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے نے جب گلبرگ گرینز میں واقع پلازہ پر چھاپہ مارا تو وہاں 258 غیرملکی مقیم تھے، جو وزٹ، سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر آئے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’مقام کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں پر ایک بڑا کال سینٹر کی طرح کا کاروبار چلایا جا رہا ہے اور گلبرگ گرینز میں ملازمتیں فراہم کرنے اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں کی جا رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ غیرملکی شہری وزٹ، سیاحتی یا کاروباری ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور غیرقانونی طور پر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ایف آئی اے حکام کا کیا کہنا ہے؟
ایف آئی اے کے حکام نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد نہ صرف پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے بلکہ اسلام آباد میں اپنا کاروبار چلا رہے تھے، جس میں نمایاں کاروبار کال سینٹر کو چلانا شامل تھا، اس لیے ان کے خلاف نہ صرف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا بلکہ مزید شواہد سامنے آنے پر غیر قانونی کاروبار چلانے سے متعلق بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیر حراست غیر ملکیوں میں کچھ ملزمان فراڈ کرنے کے علاوہ مختلف ویٹ سائٹس بھی بنا رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش جب آگے بڑھے گی تو پھر مزید حقائق اور شواہد سامنے آئیں گے، جس کی روشنی میں مذید مقدمات درج کرنے کا فیصلہ ہو گا۔
اہلکارنے مزید بتایا کہ چھان بین کے بعد جو بھی ملزمان دیگر جرائم میں ملوث ہوئے ان کا متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ملزمان نے گلبرگ گرینز میں ایک پلازے کا ایک بڑا حصہ کرائے پر حاصل کر رکھا تھا اور وہ وہاں پر اپنا کاروبار چلا رہے تھے، تاہم جب تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا گرفتار ملزمان میں کوئی پاکستانی بھی ملوث ہے، تو اس بارے میں انھوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
دوسری جانب ایف آئی اے کے ایک اور اہلکار کے مطابق اس چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے ان غیر ملکیوں کو حراستی مرکز میں منتقل کرنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ ایف آئی اے کے حراستی مراکز میں اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کو رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے گرفتار ہونے والے ان غیر ملکیوں کو اس علاقے میں ایک نجی ملازہ میں منتقل کر کے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے اسے سب جیل قرار دیا ہے۔