آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’عمران خان خوشی سے منتقل ہوں گے‘: بی بی سی نے ’نامکمل‘ اسلام آباد ماڈل جیل میں کیا دیکھا؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سنہ 2009 میں اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر کے لیے شروع کیے جانے والے منصوبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ 17 سال گزرنے کے بعد مکمل ہوا ہے۔
اس ماڈل جیل میں کمرے، قیدیوں کے لیے بیرکس اور دیگر بلاکس تو تعمیر ہو چکے ہیں، تاہم اس حصے میں تمام مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے اور اسے مکمل طور پر آپریشنل ہونے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق وزیر اعظم اسلام آباد کی ماڈل جیل کا افتتاح کریں گے، تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں ابھی تک محکمہ جیل خانہ جات کا وجود ہی نہیں ہے۔ پنجاب سے محکمہ جیل خانہ جات کے افسر علی اکبر کو ماڈل جیل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا ہے اور وہ ایک سال سے اسلام آباد میں تعینات ہیں، جبکہ سکیورٹی اور جیل کے عملے میں اسلام آباد پولیس کے ایک سو سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ملک کے دیگر صوبوں میں محکمہ جیل خانہ جات کا الگ آئی جی ہوتا ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ عارضی طور پر اس جیل کی سکیورٹی کے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔
ماڈل جیل کے سپرنٹنڈنٹ علی اکبر ناصر کے مطابق اسلام آباد کے محکمہ جیل خانہ جات کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہو جائے گا، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر ہی محکمہ جیل خانہ جات کے امور کو دیکھیں گے۔
ماڈل جیل میں کتنے قیدی رکھے جا سکیں گے؟
اگر آپ ایم ٹو پر اسلام آباد سے لاہور جائیں تو ٹول پلازہ سے پہلے دائیں جانب یہ جیل نظر آتی ہے۔ یہ اسلام آباد کا سیکٹر ایچ 16 ہے اور اس سیکٹر میں ماڈل جیل کے علاوہ ابھی کوئی اور عمارت تعمیر نہیں ہوئی۔
90 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس ماڈل جیل میں جیل حکام کے مطابق موجودہ بیرکس میں ساڑھے سات سو قیدیوں کو رکھا جا سکتا ہے، تاہم اس گنجائش کو 1500 تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق جیل میں تین بیرکس تعمیر کی گئی ہیں اور ہر بیرک میں 260 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ماڈل جیل میں 12 بائی 18 کی 32 بیرکس بنائی گئی ہیں، جن میں سزائے موت کے قیدیوں کے علاوہ ایسے قیدیوں کو بھی رکھا جائے گا جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔
عوامی سطح پر یہ سوال بھی موجود ہے کہ اس ماڈل جیل میں پہلا قیدی کون ہوگا؟ اس بارے میں وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی پوچھا گیا کہ کیا عمران خان کو بطور پہلے قیدی اس جیل میں منتقل کیا جائے گا، تاہم انھوں نے اس بارے میں کھل کر بات نہیں کی۔
تاہم وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ماڈل جیل کی سکیورٹی تسلی بخش ہے اور ان قیدیوں کو بھی یہاں منتقل کیا جائے گا جنھیں اسلام آباد کی مختلف عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان بھی ان قیدیوں میں شامل ہیں اور جتنی سہولتیں اس ماڈل جیل میں ہیں وہ خوشی سے اس جیل میں منتقل ہو جائیں گے۔
ان کے بقول قیدی کے پاس کوئی چوائس نہیں ہوتی اور چونکہ انھیں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سزا سنائی ہے، اس لیے وہ بھی اسلام آباد کی ماڈل جیل میں منتقل ہو جائیں گے۔
قیدیوں کے لیے ہسپتال اور سہولتیں
اس ماڈل جیل میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں جدید مشینری نصب کی گئی ہے۔ جیل حکام کے مطابق قیدیوں کی منتقلی کے بعد ہسپتال کام شروع کرے گا۔
ان کے مطابق جیل میں قائم ہسپتال میں قیدیوں کو ایسی جدید طبی سہولتیں میسر ہوں گی جو بقول حکام نجی ہسپتالوں میں بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ ہسپتال میں ایک آپریشن تھیٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔
قیدیوں کے لیے روٹیاں تیار کرنے کے عمل کو بھی جدید مشینری سے منسلک کیا گیا ہے۔ آٹا گوندھنے سے لے کر روٹیاں پکانے تک کا عمل مشینی انداز میں ہوگا اور جیل حکام کے مطابق اس کے لیے صرف تین افراد کی ضرورت ہوگی، جبکہ پنجاب کی متعدد جیلوں میں یہ کام قیدی انجام دیتے ہیں۔
اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی مرحلہ وار منتقلی
جیل سپرنٹنڈنٹ علی اکبر کے مطابق اس وقت اڈیالہ جیل میں اسلام آباد کے مقدمات میں نامزد قیدیوں کی تعداد تقریباً 3500 ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان قیدیوں کی مرحلہ وار منتقلی کی جائے گی اور ہر ہفتے قریب ایک سو قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ابتدائی طور پر ان قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا، جن کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کے بارے میں انھوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسلام آباد کی ماڈل جیل کے تعمیر شدہ ایک تہائی حصے میں ابھی تک سزائے موت کے قیدیوں کے بیرکس تعمیر نہیں کیے گئے، جبکہ جیل میں پھانسی گھاٹ بھی موجود نہیں۔
اس کے علاوہ یہ شاید اب تک کی واحد جیل ہے جہاں خواتین اور بچوں کے بیرکس بھی تعمیر نہیں کیے گئے۔
جیل ٹرائل، ملاقاتی نظام اور سکیورٹی
جیل میں کورٹ روم کے علاوہ ججز کے ریٹائرنگ رومز بھی بنائے گئے ہیں اور اسلام آباد کے جن قیدیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے، انھیں یہاں منتقل کیے جانے کے بعد ان کا جیل ٹرائل بھی اسی ماڈل جیل میں ہوگا۔
جیل عملے کے لیے رہائشی گھروں کی تعمیر کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے، تاہم جیل حکام کے مطابق ان کی تکمیل آخری مراحل میں ہے۔
ملاقاتیوں کے لیے الگ باکس بنائے گئے ہیں جہاں قیدی اور ملاقاتی ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں اور انٹرکام پر بات بھی کر سکتے ہیں، تاہم وہ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے اور نہ ہی کسی چیز کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر جیلوں میں ایسا نظام موجود نہیں ہے۔
دورۂ جیل کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملاقاتیوں کے ویٹنگ ایریا میں رکھا گیا فرنیچر اسی نوعیت کا ہے جو جیل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر عملے کے کمروں میں موجود ہے۔
اس جیل میں ایسے کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں جو خودکار طریقے سے جیل عملے اور اجنبی افراد کی شناخت کر لیتے ہیں۔
جیل کے بیرکس والے حصے کے گرد کنکریٹ کی بلند دیواریں تعمیر کی گئی ہیں اور ان پر بجلی والی تاریں نصب ہیں جن میں ہر وقت کرنٹ موجود رہتا ہے۔
حکام کے مطابق تعمیر شدہ حصے میں سکیورٹی کی چھ تہیں موجود ہیں جنھیں عبور کرنا کسی بھی قیدی کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جب یہ جیل مکمل طور پر آپریشنل ہو جائے گی تو وہاں رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔