آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مکہ معاہدہ، ٹرمپ کی تعریف اور اردوغان کی مصر کو دعوت: انقرہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
- مصنف, ہلکن دوغان بوران
- عہدہ, بی بی سی نیوز، استنبول
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطی متحد ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ کیسے آخرکار ممالک معنی خیز انداز میں اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔‘
ٹرتھ سوشل نامی پلیٹ فارم پر صدر ٹرمپ نے مختصر تحریر میں لکھا کہ ’یہ بڑا، دلیرانہ اور اہم پہلا قدم ہے۔‘ انھوں نے تینوں ملکوں کی ’عظیم قیادت‘ کو مبارک باد بھی دی۔
واضح رہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں شریک ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ایسے میں یہ معاہدہ مختلف تجزیوں اور قیاس آرائیوں کی زد میں ہے اور اسے ’سنی اتحاد‘، ’مسلم نیٹو‘ جیسے نام بھی دیے جا رہے ہیں۔ چند تجزیہ کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ اتحاد اسرائیل اور ایران کے خلاف ہے۔
تاہم ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور ایسے تمام ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں جو خطے میں استحکام، امن اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ الجزیرہ چینل کو دیے جانے والے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر اردوغان نے کہا ہے کہ مصر اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
لیکن ترکی اس معاہدے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اور کیا یہ اتحاد ایران یا اسرائیل کے خلاف ہے؟
انقرہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے دفاعی شعبے میں تعاون میں اضافہ ہو گا۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ تینوں ممالک کے قومی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے کا تحریری متن سامنے نہ آنے کی وجہ سے سوالوں اور چہ مگوئیوں نے جنم لیا ہے۔
کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے؟
چند تجزیوں کے مطابق مکہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں تنازع اور امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا ردعمل ہے۔ اس تجزیے کے مطابق ایران کے دو ہمسائیہ ممالک، پاکستان اور ترکی، سمیت ایران مخالف تصور کیے جانے والے سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ایک طرح سے ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا عمل حالیہ تنازع سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ آٹھ اگست کو ترکی کے وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ مکہ معاہدے کے لیے مذاکرات دسمبر 2024 سے جاری تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
11 اگست کو صدر اردوغان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس معاہدے کو محض حالیہ تنازع سے جنم لینے والا واقعہ سمجھنا ایک غلطی ہو گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم اسے اور بڑھانا چاہتے ہیں اور اگر ممکن ہوا تو اس بات کو یقینی بنانا کہ ایک دن خطے میں تمام ممالک ایک دن اس چھتری کے نیچے اکھٹے ہو جائیں۔‘
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دس اگست کو بیان دیا تھا کہ ’اس پریشانی کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’تینوں ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ وہ امریکی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘
ایران ریسرچ سینٹر کے محقق اورال توگا نے بی بی سی ترکی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ترکی کی سفارتی تیاری کا نتیجہ ہے کیوں کہ انقرہ واضح طور پر اس بات کا خواہش مند تھا کہ اس معاہدے کو ایران کے خلاف کسی اتحاد کے طور پر نہ دیکھا جائے۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایرانی وزارت خارجہ کے اس بیان سے ایران میں سب متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق تہران سے مختلف قسم کی آوازیں سامنے آئی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’تہران میں ہونے والی بحث میں گھیراو کا نظریہ بھی شامل ہے۔ شمال مغرب میں ترکی واقع ہے، سعودی عرب جنوب مغرب میں اور پاکستان جنوب مشرق میں۔ ایران میں کچھ لوگ اسے تنہا کرنے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ایران میں اس نظریے کے مخالفین کا موقف ہے کہ سعودی عرب سے پہلے ہی پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہونے کے باوجود پاکستان نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ امریکہ سے بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کیا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس معاہدے کا تحریری متن بھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔
ترکی کیا چاہتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے تحت ترکی دفاعی شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے۔ ترک صدر اردوغان نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ مشترکہ سکیورٹی خطے سمیت آبنائے ہرمز میں استحکام کو بہتر بنائے گی۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’سکیورٹی اور معاشی ترقی کو الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
واشنگٹن میں واقع مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ترکی پروگرام کے ڈائریکٹر گونل تول کا ماننا ہے کہ ترکی کا بنیادی مقصد دفاعی شعبے کے لیے فنڈنگ حاصل کرنا اور اپنی دفاعی برآمدات کو بڑھانا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سرہت گوینک اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ اس معاہدے کو ترکی کے امریکہ اور یورپ سے سکیورٹی تعلقات کی ایک نئی شکل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انھوں نے ایران کی جانب سے ترکی اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف بیلسٹک میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میزائلوں کو امریکی جنگی جہازوں نے مار گرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ چاہے بھی تو شاید اس کے لیے دفاع کی ایسی چھتری فراہم کرنا ممکن نہ رہے جس میں ترکی بھی شامل ہو۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں مکہ معاہدہ ترکی کو ایک گارنٹی فراہم کرتا ہے کہ وہ تنہا نہیں رہے گا۔‘ ان کے مطابق اگر یورپ میں ایسا کوئی دفاعی معاہدہ ہوتا جس میں ترکی شامل ہوتا تو شاید انقرہ اس معاہدے میں شمولیت کا زیادہ خواہاں نہ ہوتا۔
اسرائیل
ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ مکہ معاہدہ اسرائیل کے خلاف اتحاد ہے۔ گونل تول کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کے ابراہیمی معاہدے پر اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہے جن کے تحت اسرائیل نے خطے کے ممالک سے تعلقات بحال کرنا شروع کیے تھے۔ اب تک متحدہ عرب امارات، سوڈان، مراکش اور قزاقستان ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔
مئی میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی، سعودی عرب، قطر، پاکستان، مصر اور اردن کو بھی اس معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔
گونل تول کے مطابق غزہ جنگ کی وجہ سے ابراہیمی معاہدہ متاثر ہوا اور خصوصی طور پر سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کا عمل مشکل ہو گیا۔
سرہت گونیک اسرائیل کی جانب سے ترکی کو نیا ایران قرار دینے کے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے تجزیہ کرتے ہیں کہ ’یونان اور قبرص سے اسرائیل کے عسکری تعلقات کو دیکھتے ہوئے مکہ معاہدہ بظاہر اسرائیلی گھیراؤ کی حکمت عملی کا ردعمل لگتا ہے۔‘
مصر مکہ معاہدے میں کیوں شامل نہیں ہوا؟
مصر مکہ معاہدے کا حصہ نہیں بنا تاہم ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے جھڑپوں کے خدشات کی وجہ سے اس معاہدے کا حصہ نہیں بنا جبکہ اسے ایسے دفاعی معاہدے میں شمولیت سے ہچکچاہٹ بھی ہے جس میں سعودی عرب شامل ہے۔
گونل تول کا کہنا ہے کہ مصر کا اسرائیل سے ایک معاہدہ ہے اور اسے اس معاہدے کی پاسداری کرنی پڑے گی۔ ان کے مطابق مصر کے متحدہ عرب امارات اور انڈیا سے بھی تعلقات ہیں۔
پروفیسر سرہت گونیک کا کہنا ہے کہ اگر مصر اس معاہدے کا حصہ بنتا تو یہ کافی سنجیدہ معاہدہ بن سکتا تھا اور پھر اسے واقعی ترکی کے اسرائیل سے جڑے خدشات کا ردعمل سمجھا جاتا۔
پاکستان اور انڈیا کا تنازع
بین الاقوامی امور کے ماہر ایسوسی ایٹ پروفیسر عمیر انس کا کہنا ہے کہ ’مکہ معاہدہ کی وجہ سے انڈیا بھی کافی بے چین ہو گیا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے جبکہ امریکہ بھی انڈیا کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔‘
ان کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع کے دوران ترکی اور انڈیا میں بھی تلخیاں بڑھ گئی تھیں کیوں کہ یہ الزام لگایا گیا کہ ترکی نے پاکستان کو عسکری مدد فراہم کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدے کے ردعمل میں انڈیا اسرائیل سے تعلقات کو مذید گہرا کرے گا۔
ان کے مطابق ’انڈیا سعودی عرب سے یہ وضاحت مانگ سکتا ہے کہ کیا یہ معاہدہ ان کے خلاف تو نہیں اور اگر انڈیا کو کسی قسم کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے تو نئی دہلی کا ردعمل مختلف بھی ہو سکتا ہے۔‘
مشترکہ دفاع کتنا قابل عمل ہے؟
مکہ معاہدے کے تحت مشترکہ دفاع کا معاملہ بھی زیر بحث ہے کیوں کہ ترکی کے وزیر دفاع نے نیٹو کے آرٹیکل پانچ کا حوالہ بھی دیا۔
سرہت گونیک کہتے ہیں کہ ’یہ ارادے کا اظہار تو ہے لیکن عملی طور پر یہ کیسے ہو گا، یہ تب ہی جاننا ممکن ہے اگر معاہدے کے تحریری نکات سامنے ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’نیٹو میں سرمایہ بھی امریکہ کا ہے اور اسلحہ بھی۔‘ اس کے برخلاف ان کے مطابق مکہ معاہدہ برابری کا معاہدہ دکھائی دیتا ہے جس میں کوئی برتر نہیں کہ وہ اپنی شرائط منوا سکے۔
ان کے مطابق ’یہ اچھا بھی ہے اور برا بھی کیوں کہ سب کچھ بات چیت سے ہو گا اور ہر کوئی اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔‘