روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں: امیشا پاٹیل کی تنقید اور انڈین کرکٹ بورڈ کی وضاحت

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’انھیں جبری ریٹائر کیا جا رہا ہے۔ روہت نے اپنی فیملی کو لندن بلا لیا ہے۔ لارڈز ون ڈے روہت کا آخری میچ ہو گا۔‘

یہ وہ قیاس آرائیاں تھیں جو گذشتہ چند روز سے انڈین سٹار بیٹر روہت شرما کے حوالے سے زیرِ بحث تھیں جو جمعے کی شب انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری کے بیان کے بعد دم توڑ گئیں۔

انڈین خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے ان قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میڈیا میں روہت شرما کے مستقبل کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی کہ روہت اتوار کو لارڈز میں اپنا آخری میچ کھیلیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ روہت انڈین ٹیم کے باقاعدہ رُکن ہیں اور جب تک وہ ٹیم کے منصوبوں کا حصہ رہیں گے، ملک کی نمائندگی کرتے رہیں گے، دوسرے لفظوں میں لارڈز کا ون ڈے میچ اُن کا آخری میچ نہیں ہو گا۔

انڈیا کے لیے 287 ون ڈے میچز کھیلنے والے 39 سالہ روہت شرما اب اسی فارمیٹ میں انڈیا کی نمائندگی کرتے ہیں، تاہم انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اُن کی ناقص کارکردگی پر سوال اُٹھائے جا رہے تھے۔

روہت شرما ون ڈے میچز میں انڈیا کی نمائندگی کرنے والے سب سے زیادہ عمر کے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ اس سے قبل مہندر امرناتھ کے پاس یہ ریکارڈ تھا۔

یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ انڈین ٹیم مینجمنٹ سنہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انڈیا کے لیے ون ڈے فارمیٹ کھیلنے والے روہت شرما اور وراٹ کوہلی کی ٹیم میں جگہ کے حوالے سے بحث شروع ہوئی ہو۔

اس سے قبل مئی میں سابق کپتان وراٹ کوہلی نے آئندہ برس ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اُن کی اہمیت پر سوال اُٹھایا گیا تو وہ ایسے ماحول میں نہیں رہنا چاہیں گے۔

ون ڈے سیریز میں ناقص کارکردگی اور ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں

ہٹ مین کے لقب سے مشہور جارح مزاج اوپننگ بلے باز روہت شرما انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔

ایجبیسٹن میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں اُنھوں نے 47 گیندوں پر صرف 26 رنز بنائے جبکہ کارڈف میں بھی وہ 21 گیندوں پر 11 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

ایجبیسٹن میں انڈیا نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کارڈف ون ڈے انگلینڈ نے جیت کر سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی تھی۔ سیریز کا آخری اور فیصلہ کن میچ اتوار کو لارڈز میں کھیلا جائے گا۔

روہت شرما اپنی بلے بازی کے دوران روایتی جارحانہ انداز کے بجائے دفاعی انداز میں کھیلتے ہوئے نظر آئے جس پر بعض صارفین نے اُن کی بڑھتی ہوئی عمر اور فارم پر سوال اُٹھاتے ہوئے بینچ پر بیٹھے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کے مطالبات کیے۔

کارڈف میں شکست کے بعد انڈین ٹیم کے بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے روہت شرما کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ روہت پر کوئی اضافی دباؤ نہیں ہے اور اُنھیں یقین ہے کہ وہ لارڈز میں شاندار کارکردگی دکھائیں گے۔

گذشتہ برس مارچ میں انڈیا نے روہت شرما کی قیادت میں ہی چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی، تاہم اکتوبر میں اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی نے اُنھیں ہٹا کر شھبمن گل کو کپتانی سونپ دی تھی۔

ون ڈے کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد سے تقریباً ہر سیریز میں ٹیم میں ان کی جگہ پر مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

انڈین میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق سلیکٹرز اگلے برس جنوبی افریقہ میں شیڈول ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے روہت شرما کے متبادل کے طور پر یشسوی جیسوال پر اعتماد کر رہے ہیں۔

روہت شرما سنہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈیا کی نمائندگی کریں گے یا نہیں، کرکٹ بورڈ نے یہ واضح نہیں کیا، تاہم سوشل میڈیا پر سابق کرکٹرز اور سپورٹس تجزیہ کار اس بحث کو انڈین کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔

’یہ انڈین کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے‘

سپورٹس کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے ایکس پر لکھا کہ یہ پورا معاملہ ایک غیر ذمہ دارانہ لیک سے شروع ہوا جس پر اعلی سطح کے عہدے دار کو وضاحت دینا پڑی، یہ انڈین کرکٹ اور ٹیم کے ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

راجیو نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ سارا معاملہ روہت شرما کے دوست صحافی دویندرا پانڈے کے ایکس پر بیان سے شروع ہوا جس میں اُنھوں نے دعوی کیا تھا کہ روہت ابھی مزید کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن سلیکٹرز اُنھیں ڈراپ کرنا چاہتے ہیں۔

روہت شرما سے متعلق قیاس آرائیوں پر بالی وڈ سٹارز بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

بالی وڈ اداکارہ امیشا پاٹیل نے ایکس پر لکھا کہ ’وہ اس بات پر شدید حیران اور دکھی ہوں کہ کرکٹ کے اس دور میں یا یوں کہوں کہ کرکٹ کے اس ’ظالمانہ‘ دور میں۔۔ کوہلی اور روہت شرما جیسے سینئر سپر سٹارز کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ واقعی شرمناک ہے۔‘

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق آف سپنر روی ایشون نے ایک ویڈیو انٹرویو میں روہت شرما کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی کھلاڑی کو یہ احساس ہو کہ اس کی ضرورت نہیں رہی، تو وہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیتا ہے۔

اُنھوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سیریز میں وہ اچھا نہیں کھیل سکے تھے، اس کے بعد مجھے احساس دلایا گیا کہ اب میری ضرورت نہیں رہی، مجھے بھی یہی محسوس ہوا کہ اب میری ضرورت نہیں ہے۔

سپورٹس تجزیہ کار وکرانت گپتا نے انڈین کرکٹ بورڈ کی وضاحت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ تکنیکی طور پر بورڈ یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ کوئی کھلاڑی کھیلے گا یا نہیں، یہ فیصلہ سلیکٹرز، کپتان اور کوچ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔

روہت شرما انڈیا کے لیے 287 ون ڈے میچز میں 33 سنچریوں اور 62 نصف سنچریوں کی مدد سے 11 ہزار 757 رنز بنا چکے ہیں۔

ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ 264 رنز بنانے کا ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے جبکہ وہ مجموعی طور پر ایک روزہ کرکٹ میں تین ڈبل سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔