آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بچوں کی آیا کے قتل کے بعد پراسرار طور پر غائب ہونے والا نواب: برطانوی تاریخ کا وہ معمہ جو آج تک حل نہ ہو سکا
- مصنف, فیونا مکڈونلڈ
- عہدہ, بی بی سی کلچر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سات نومبر 1974 کی رات برطانوی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لارڈ لوکن مبینہ طور پر لندن کے علاقے بیلگریویا میں واقع اپنے گھر کے تہہ خانے کے کچن میں اندھیرے میں چھپے ہوئے تھے۔
ان پر الزام تھا کہ وہ علیحدگی اختیار کرنے والی اپنی اہلیہ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، مگرغلط شناخت کے باعث انھوں نے 29 سالہ آیا سینڈرا ریوِٹ کو وحشیانہ حملے میں قتل کر دیا۔
اس کے بعد انھوں نے لیڈی لوکن پر بھی حملہ کیا۔ لیڈی لوکن کسی نہ کسی طرح بچ نکلیں اور مدد کے لیے شور مچایا، جبکہ لارڈ لوکن فرار ہو گئے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے نیوہیون کے قریب سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ ان کی لاش کبھی نہیں ملی، تاہم بعد میں دنیا کے مختلف حصوں سے، انٹارکٹیکا کے علاوہ ہر براعظم سے، ان کے دیکھے جانے کی خبریں آتی رہیں۔
فرار اور شواہد کے درمیان اٹھتے سوالات
شواہد اور اس حقیقت کی بنیاد پر کہ لارڈ لوکن فرار ہو گئے تھے، بظاہر یہ مقدمہ ان کے خلاف انتہائی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ 19 جون 1975 کو سینڈرا ریوِٹ کی موت کی تحقیقات کے دوران کورونر کی عدالت نے صرف 31 منٹ میں لارڈ لوکن کو قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
لیکن غور سے دیکھا جائے تو اس پر سوال زیادہ اور جواب کم نظر آتے ہیں۔
کیا کوئی ایسا شخص جو خون دیکھ کر گھبرا جاتا ہو، اتنا پرتشدد حملہ کر سکتا ہے؟
وہ حملے کے دوران ریویٹ کو اپنی بیوی سمجھنے کی غلطی کیسے کر سکتے تھے اور لیڈی لوکن کو قریبی پب جا کر مدد مانگنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تمام سوالات اس واقعے کو برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے حل طلب جرائم کے رازوں میں سے ایک بنا دیتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ لارڈ لوکن کو ایک نجی چڑیا گھر میں شیروں کو کھلا دیا گیا۔
مورخ الیکس وان ٹنزل مین کے مطابق، جو 'دی لوکن آبسیشن' پوڈکاسٹ کی میزبان ہیں، اس رات پیش آنے والے واقعات کے بارے میں لارڈ اور لیڈی لوکن دونوں کے بیانات ’قابلِ سوال‘ ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے کے مرکز میں کوئی ایسی ٹھوس حقیقت موجود ہی نہیں جس پر مکمل بھروسا کیا جا سکے، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں اور نظریات کی گنجائش نکال لیتے ہیں۔ یہ ان رازوں میں سے ایک ہے جو حل نہیں ہو سکے، اور میرا خیال ہے کہ شاید کبھی حل بھی نہ ہو سکے۔'‘
یہ معاملہ برطانوی معاشرے میں طبقاتی رویوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
رچرڈ جان بینگھم، جو ارل آف لوکن ہفتم تھے، انھوں نے 1963 میں ویرونیکا سے شادی کی جو ایک سابق ماڈل اور سیکریٹری تھیں۔
وہ ایٹن سے تعلیم یافتہ ایک پیشہ ور جواری تھے، اور ’لکی‘ کے لقب کے باوجود قتل کے وقت قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔
جب وہ لاپتہ ہوئے تو یہ قیاس آرائیاں سامنے آئیں کہ شاید ان کے دولت مند دوستوں نے انھیں فرار ہونے میں مدد دی ہو۔ ان دوستوں کے گروہ کو برکلے سکوائر میں واقع اس جوئے خانے کے نام پر ’کلیئرمونٹ سیٹ‘ کہا جاتا تھا جہاں وہ اکثر جایا کرتے تھے۔
ان کی گمشدگی کے بارے میں ایک غیرمعمولی نظریہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے خود کو گولی مار لی اور وصیت کی کہ ان کی لاش کو ان کے دوست اور کلیئرمونٹ کلب کے مالک جان سپینل کے نجی چڑیا گھر میں شیروں کو کھلا دیا جائے۔
ایک شادی جو بری طرح ناکام ہو گئی
اس کیس میں ابہام کی وجہ سے عوام کی دلچسپی اس میں برقرار رہی۔
مورخ روزمیری ہل کہتی ہیں کہ ’حقائق اتنے ضرور ہیں کہ ایک کہانی ترتیب دی جا سکے، لیکن ساتھ ہی شکوک و شبہات کے لیے بھی بہت سی پُراسرار گنجائش چھوڑ جاتے ہیں۔‘
فان ٹونزل مین کے مطابق اگر آج یہ مقدمہ چلتا تو فیصلہ ’اتنا سیدھا نہیں ہوتا۔‘
اس مقدمے نے عوامی توجہ اس لیے بھی حاصل کی کیونکہ اس نے ایک ایسی شادی کی دردناک اور خوفناک تصویر پیش کی جو بری طرح ناکام ہو چکی تھی۔
فان ٹونزل مین کہتی ہیں کہ ’یہ ایک بہت بگڑا ہوا تعلق تھا، جو بھی کچھ ہو رہا تھا، صورتحال بہت خراب تھی۔‘
جنوری 1973 تک دونوں الگ ہو چکے تھے، اور لارڈ لوکن گھر چھوڑ کر قریبی فلیٹ میں رہنے لگے تھے۔ انھوں نے اپنے تین بچوں کی تحویل کے لیے سخت لیکن ناکام قانونی جنگ لڑی۔۔ بچوں کی تحویل کا یہ تنازع، اور اس کے ساتھ ان کی قریب آتی دیوالیہ پن کی صورتحال، قتل کے ممکنہ محرکات میں شامل سمجھے جاتے تھے۔
اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
ویرونیکا اپنی پوری زندگی ذہنی صحت کے مسائل کا شکار رہی تھیں اور اپنے شوہر کے لاپتا ہونے کے چند سال بعد ان کے بچوں کو ان کی تحویل سے لے لیا گیا۔
لیڈی لوکن نے 1980 میں بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’میرے شوہر اب بھی زندہ ہیں، اور مجھے اس کے برعکس یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ ان کی لاش کبھی نہیں ملی۔‘
نومبر 1974 کے واقعات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’میرے لیے یہ بس ایک مختصر سا واقعہ تھا جسے میں بھول چکی ہوں۔ میں اس سے نکل آئی ہوں۔ یہ بس ایک ازدواجی معاملہ تھا۔‘
وہ 2017 میں اپنی وفات تک اپنے بچوں سے الگ رہیں۔
’خبردار، میرے موتیوں کے ہار کو ہاتھ مت لگانا‘
وان ٹنزلمن کے مطابق آج شاید ان کی کہانی کو زیادہ چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ انھوں نے کچھ کیا بس یہ کہ ممکن ہے وہ مکمل سچ بیان نہیں کر رہی تھیں۔‘
تاہم صحافی اور مصنف جیمز فاکس نے لندن ریویو آف بکس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ لیڈی لوکن نے ’بڑی تفصیل سے مجھے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے اس قاتلانہ حملے سے کیسے بچیں، برسوں کے دوران وہ اپنے بیان پر قائم رہیں اور اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔‘
’ایک تفصیل اتنی غیرمعمولی تھی کہ بظاہر اسے جھوٹ نہیں کہا جا سکتا۔ جب وہ ان کے گلے پر جھپٹے تو وہ بمشکل یہ کہہ سکیں کہ ’خبردار، میرے موتیوں کے ہار کو ہاتھ مت لگانا‘۔‘
ریویٹ کے قتل کی رات پیش آنے والے واقعات کے بارے میں قیاس آرائیاں اسی طرح جاری رہیں اور اس کے بعد کے دنوں میں لوکن کے ساتھ کیا ہوا، اس بارے میں بھی مختلف نظریات سامنے آتے رہے ہیں۔
اگلی صبح کے اوائل میں ان کی آخری تصدیق شدہ موجودگی سسیکس میں اپنے دوستوں میکسویل سکاٹس کے گھر پر تھی۔ وہاں رہتے ہوئے انھوں نے خطوط لکھے جن میں انھوں نے اپنی بے گناہی پر زور دیا اور کہا کہ یہ ’ناقابلِ یقین اتفاقات سے بھری ایک تکلیف دہ رات‘ تھی۔
ان خطوط میں انھوں نے دوستوں کو بتایا کہ وہ اتفاقاً اپنے سابقہ گھر کے پاس سے گزر رہے تھے جب انھوں نے ایک شخص کو وہاں گھستے دیکھا، جس کے بعد وہ اپنی بیوی کی مدد کے لیے اندر دوڑ پڑے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ لیڈی لوکن ان پر حملے کا الزام لگائیں گی، اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے ’چھپے رہیں۔‘
تین دن بعد ان کی مستعار لی گئی فورڈ گاڑی جنوبی ساحل پر نیوہیون کے مقام پر لاوارث ملی۔ گاڑی کے اندر سے ملنے والے خون کے نمونے ریویٹ اور لیڈی لوکن کے خون سے مطابقت رکھتے تھے، جبکہ ڈِگی میں قتل کے ہتھیار جیسی ایک سیسے کی سلاخ بھی ملی۔
’کیا امیر دوستوں نے تحفظ دیا؟‘
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ لوکن کے امیر دوستوں کے حلقے نے انھیں بچانے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ سسیکس پولیس کے ڈیٹیکٹو(جاسوس) ڈیرک ولکنسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کوئی اور شخص گاڑی یہاں لایا اور چھوڑ گیا۔ میرے خیال میں یہ محض گمراہ کرنے کا طریقہ تھا۔‘
بظاہر یہ خیال کیا گیا کہ ’کلیئرمونٹ سیٹ‘ نے لارڈ لوکن کو تحفظ فراہم کیا ہو گا، میڈیا میں اس گروہ کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی جسے ڈیلی ایکسپریس نے قریبی حلقے اور خفیہ مگر مضبوط تعلق کے طور پر بیان کیا۔
جان سپینل نے بھی ان تاثرات کو تقویت دی۔ انھوں نے 1994 میں بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’میں اس کے لیے وہی کرتا جو وہ کہتا اور اگر لوکن نے پناہ مانگی ہوتی تو انھیں مل جاتی۔‘
سنہ 2012 میں خود کو سپینل کی سابق ذاتی معاون قرار دینے والی ایک خاتون نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ انھوں نے 1979 سے 1981 کے درمیان کسی وقت لوکن کے دو بڑے بچوں کے لیے افریقہ کے ٹکٹ بک کیے تھے تاکہ ان کے والد ان سے ان کی لاعلمی میں مل سکیں۔
ان کے بقول ’وہ انھیں دیکھتے اور مشاہدہ کرتے۔ وہ بس دور سے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ بچے کیسے بڑے ہو رہے ہیں، یہ بالکل واضح تھا کہ وہ نہ ان سے ملنا چاہتے تھے، نہ ان سے بات کرنا، اور نہ ہی اپنی شناخت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔‘
ٹیٹلر کے مطابق ’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس کی بات سنتے ہیں، کچھ کے مطابق ارل کو کلیئرمونٹ سیٹ کے ایک رکن نے ملک سے باہر نکال دیا تھا اور وہ آج تک ’پرانے نوآبادیاتی علاقوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘
یہ بات لارڈ لوکن کی ایک مبالغہ آمیز تصویر پیش کرتی ہے، ایک ایسے امیر اور مفرور ارل کی، جن کے پڑدادا نے ’چارج آف دی لائٹ بریگیڈ‘ کا حکم دیا تھا، اور جو اپنی زندگی کا بڑا حصہ سپیڈ بوٹس چلانے، بوب سلیڈ ریسنگ کرنے اور ریس کے گھوڑے خریدنے جیسے شاہانہ مشاغل میں گزارتے رہے۔‘
اس معمہ کے مرکز میں دراصل متاثرہ خاتون ہیں، لیکن ان کے بارے میں اکثر کم بات کی جاتی ہے، حالانکہ دی ٹائمز نے اس معاملے کو ایک جنون قرار دیتے ہوئے اسے ’نیشنل گیم آف آف کلوئیڈو‘ کہا تھا۔
وان ٹنزلمن کہتی ہیں کہ ’اس مقدمے میں سینڈرا رِیوِٹ کی اپنی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ زیادہ تر لوگ انھیں صرف آیا کہتے ہیں، ان کا نام بھی نہیں لیتے اور ساری توجہ ایک ناکام شادی پر رہتی ہے۔ لیکن کسی مورخ یا صحافی کے لیے یہ بدلنا مشکل ہے، کیونکہ ہمارے پاس ان کی اپنی بات کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ ‘
’ہم نہیں جانتے کہ وہ خود اس بارے میں کیا کہتیں یا کیا محسوس کرتیں۔ ان کا اپنا مؤقف ہمارے سامنے نہیں ہے۔‘