آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے‘: پاکستان نے ریپ کے مجرم شبیر احمد کی واپسی کا امکان مسترد کر دیا
پاکستان کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ شبیر احمد ایک برطانوی شہری ہیں اور یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے۔
گذشتہ دنوں برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ شبیر احمد کی پاکستان واپسی کے لیے قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔
مگر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شبیر احمد سے برطانیہ کے قوانین کے مطابق ہی نمٹا جانا چاہیے اور اس معاملے سے حکومتِ پاکستان کا ’سرے سے کوئی تعلق نہیں‘ ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ اگر کسی شخص نے برطانیہ میں جرم کیا، برطانیہ میں ہی اسے سزا اور بعد ازاں رہائی ملی تو اس تمام معاملے کی ذمہ داری بھی برطانیہ پر ہی عائد ہوتی ہے اور پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شبیر احمد 1960 کی دہائی کے اواخر میں برطانیہ آئے تھے اور ان کے بعد برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی۔ مگر سنہ 2012 میں انھیں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ ریپ اور جنسی جرائم کا مجرم قرار دے کر اُن کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی۔
73 سالہ شبیر احمد، جنھیں اُن کے متاثرین ’ڈیڈی‘ کے نام سے جانتے تھے، کو رواں سال جون میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد شبیر احمد کو برطانیہ سے بے دخل کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔
اُس وقت متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ شبیر احمد کو پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 55 برس پرانے، 1971 کے امیگریشن ایکٹ کے تحت ان کی بے دخلی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا پاکستان انھیں قبول کرتا ہے یا نہیں۔
اس قانون کے مطابق چونکہ شبیر احمد سنہ 1973 سے پہلے برطانیہ پہنچے تھے اور بے دخلی پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال برطانیہ میں رہے ہیں، اس لیے ان کی ملک بدری پر پابندی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شبیر احمد کے معاملے پر برطانیہ اور پاکستان کے متضاد موقف
شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے مطالبات پر برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ نو عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے قانون تبدیل کرے گی۔
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اس ہفتے کہا کہ 1971 کا قانون برطانیہ میں طویل عرصے سے مقیم افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن ’شبیر احمد جیسے کیسز میں اسے ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
برطانوی وزارتِ داخلہ تسلیم کر چکی ہے کہ شبیر احمد کی بے دخلی کا انحصار پاکستان کے انھیں قبول کرنے پر ہے۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ شبیر احمد کے ’گھناؤنے جرائم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے بیرونی اسباب تلاش کرنے کے بجائے سنجیدہ نوعیت کی خود احتسابی کی جائے۔‘
انھوں نے اسے ’برطانیہ کا اندرونی معاملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ 'اس معاملے سے حکومتِ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے شبیر احمد کی حوالگی سے متعلق سوال اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بھی ہوا۔
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ متعلقہ فرد ایک برطانوی شہری ہے، جس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، جرم کا ارتکاب بھی اس نے برطانوی سر زمین پر کیا اور اسے سزا بھی ایک برطانوی عدالت نے سنائی۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ شبیر احمد ’چاہے کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں، اصل ذمہ داری اس جگہ پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ پلے بڑھے، جہاں ان کی تربیت ہوئی، اور جہاں بد قسمتی سے وہ بگڑ گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ایک فرد کی رہائی یا بعد ازاں برطانوی قانون کے تحت اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے لیے قانون میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے وزیرِ داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
اینڈی برنہم آئندہ وزیرِ اعظم کے طور پر سر کیئر سٹامر کی جگہ لینے والے ہیں۔ انھوں نے بھی کہا کہ وہ شبیر احمد کی ملک بدری چاہتے ہیں۔
اخبار ٹیلی گراف کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار کرتا ہے تو لیبر حکومت اس کے خلاف ویزا پابندیاں عائد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرم شبیر احمد کی ملک بدری کیسے یقینی بنائیں گی تو انھوں نے جواب دیا کہ حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
برطانوی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ ہاؤس آف کامنز کی خارجہ امور کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے ایویٹ کوپر نے کہا کہ حکومت ماضی میں تین افریقی ممالک، جمہوریہ کانگو، نمیبیا اور انگولا، کو پابندیوں کی دھمکی دے کر غیر ملکی مجرموں اور مسترد شدہ پناہ گزینوں کو واپس لینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہی تھی۔
جب اس معاملے میں پیشرفت سے متعلق برطانوی حکومت سے پوچھا گیا تو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ معاملہ اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا اور ہم غیر ملکی مجرموں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اس ملک میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا گذشتہ حکومتوں کے تجربے سے ظاہر ہے کہ اس ملک کی رضامندی لازمی ہوتی ہے جہاں متعلقہ شخص کو بھیجا جانا ہو اور یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ’تاہم ہم اس وقت حکومت کے مختلف شعبوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ شبیر احمد کو ملک سے نکالنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے گا لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے جس کے اثرات اس مخصوص واقعے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
اس سے قبل وزرا نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت بچوں کے ساتھ ریپ کے مرتکب مجرم کو پاکستان واپس بھیجنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ 73 سالہ شبیر احمد جیل سے رہا ہونے کے بعد اب 24 گھنٹے عملے کی نگرانی والی رہائش گاہ میں رہتے ہیں جہاں وہ جی پی ایس سے منسلک الیکٹرانک نگرانی کا ٹیگ پہنے ہوئے ہیں۔
ہوم آفس نے کہا ہے کہ اگر شبیر احمد نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو انھیں فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔
’بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے‘
آن لائن شائع ہونے والی دستاویزات میں کہا گیا کہ امیگریشن ایکٹ 1971 کی شقوں کے تحت شبیر کو پاکستان واپس بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔
اس قانون کے مطابق چونکہ شبیر احمد سنہ 1973 سے پہلے برطانیہ پہنچے تھے اور بیدخلی پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال برطانیہ میں رہے ہیں، اس لیے ان کی ملک بدری پر پابندی ہے۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد روچڈیل گینگ کے متاثرین میں سے ایک نے کہا کہ اب وہ ’اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ‘ محسوس کرتی ہیں۔
متاثرہ خاتون، جنھیں 12 سال کی عمر سے جنسی حملوں کا نشانہ بنانے کا آغاز کیا گیا تھا، نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ شبیر احمد روچڈیل، اولڈہم اور مڈلٹن میں اچھی طرح جانے جاتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ان علاقوں میں موجود نہ بھی ہوں، تب بھی وہ (شبیر) وہاں کے لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اختتام پر انھیں بتایا گیا تھا کہ سزا پوری ہونے کے بعد تمام مجرموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔
اُن کے بقول ’ہمیں بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے۔‘
’ایک پرتشدد غنڈہ‘
سنہ 2022 میں اینڈی برنہم، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سر کیئر سٹارمر کے بعد وزیر اعظم بن سکتے ہیں، نے کنزرویٹو حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گرومنگ گینگ کے ارکان کو بیدخل کرنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے۔
روچڈیل سے رُکن پارلیمان پال واغ نے ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا کہ ’روچڈیل کے لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں ملک سے باہر نکالا جائے اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ پاکستان کی حکومت انھیں واپس لینے سے انکار کر رہی ہے۔‘
’اگر شہریت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تو وزرا کو اس پر غور کرنا چاہیے۔‘
سنہ 2008 کے اوائل سے دو سال تک، شبیر احمد نے ایسے افراد کے گروہ کی قیادت کی جو روچڈیل میں 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو الکوحل اور منشیات دیتے اور پھر جنسی استحصال کے لیے ایک دوسرے کے حوالے کرتے تھے۔
اِن لڑکیوں کو ٹیک اویز کے اوپر کمروں میں اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا اور ٹیکسیوں کے ذریعے مختلف فلیٹس تک لے جایا جاتا تھا جہاں پیسے دے کر اُن کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔
عدالت میں شبیر احمد کو ایک ’پرتشدد، منافق غنڈہ‘ قرار دیا گیا تھا۔
مقدمے کے دوران انھوں نے جج کو ’نسل پرست‘ کہا اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے یورپی عدالتِ انسانی حقوق سے رجوع کیا کہ انھیں منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا۔
سنہ 2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ نے انھیں 19 سال قید کی سزا سنائی، وہ ان نو افراد میں شامل تھے جنھیں روچڈیل گرومنگ گینگ کے مقدمے میں پانچ لڑکیوں کے خلاف جرائم پر سزا ہوئی۔
مزید کارروائی میں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انھیں ایک لڑکی کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق شبیر احمد نے متاثرہ لڑکی کو اپنی ’ملکیت‘ کے طور پر استعمال کیا اور اسے باقاعدگی سے ریپ کا نشانہ بنایا۔
سنہ 2014 میں احمد نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم اپیل کورٹ نے اُن کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔
’متعدد ناکامیاں‘
پولیس کے مطابق اس گروہ سے متاثر ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 50 تک ہو سکتی ہے اور ان میں سے کئی غریب اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والی لڑکیاں تھیں۔
جج جیرالڈ کلیفٹن نے کہا تھا کہ متاثرین کے ساتھ ’ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ بے وقعت ہوں اور کسی احترام کے لائق نہ ہوں۔‘
گریٹر مانچسٹر پولیس نے اُس وقت کہا تھا کہ ان جرائم میں کوئی ’نسلی یا ثقافتی‘ عنصر نہیں تھا۔
بعد میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متعدد خدشات کے اظہار کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اور مقامی حکام کی جانب سے ’سنگین اور متعدد ناکامیاں‘ ہوئیں۔
شبیر احمد کا مقدمہ اسی نوعیت کی طویل قانونی لڑائی کے بعد دو دیگر گرومنگ گینگ ارکان، قاری عبدالروف اور عادل خان، کے مقدمات کے بعد سامنے آیا تھا۔
قاری عبدالرؤف اور عادل خان کی برطانوی شہریت 2022 میں ختم کر دی گئی تھی، یہ کارروائی ایک طویل قانونی جنگ کے بعد ممکن ہوئی تھی۔ دونوں نے یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل آٹھ، یعنی نجی اور خاندانی زندگی کے حق، کا سہارا لے کر ملک بدری سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
ہوم آفس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان دونوں کو برطانیہ سے بیدخل کیا گیا یا نہیں۔
ہوم آفس کے ترجمان نے کہا کہ ’احمد کے ہولناک جرائم گرومنگ گینگ کے سکینڈل کا مرکزی حصہ تھے، جو ہمارے ملک کی تاریخ کے تاریک ترین لمحات میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
’انتہائی کمزور افراد کا استحصال اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق مکمل سزا ملنی چاہیے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ احمد کو عمر بھر کے لیے جنسی مجرموں کے رجسٹر پر دستخط کرنا ہوں گے اور ان کی لائسنس شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں انھیں ’فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا‘۔