آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں سکول کھولنے سے متعلق فیصلہ: ’شفقت محمود اب بچوں کے وزیراعظم نہیں رہے‘
کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی التجا تو کبھی مایوسی، یہ اتار چڑھاؤ دو دوستوں کے تعلق کا نہیں ہے، نہ ہی دو محبت کرنے والوں یا والدین اور بچوں کا بلکہ یہ رنگ تو پاکستان بھر کے طلبہ اور ملک کے وزیر تعلیم شفقت محمود کے درمیان کورونا وائرس کے سبب پھلتے پھولتے رشتے کا ہے۔
یہ بوجھنا مشکل تو ہر گز نہیں کہ آخر سکول اور کالجوں کے ان بچوں کا موڈ وزیر تعلیم کے کسی بیان سے کیوں بدل جاتا ہے؟
اس کی تازہ مثال تو آج بھی دیکھی گئی جب پاکستان کے وزیر تعلیم نے بچوں کے سکول کھولنے کے حوالے سے اہم بیان دیا۔
جہاں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران پاکستان بھر میں تعلیم کا نظام متاثر ہوا ہے وہیں ملک کے وزیر تعلیم شفقت محمود بچوں کے لیے کبھی ہیرو تو کبھی ولن کے روپ میں سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے وزیر تعلیم نے تمام تعلیمی اداروں میں کلاسز کی بحالی کے حوالے سے اپنے اعلان میں واضح کیا ہے کہ گذشتہ سال کے برعکس رواں برس بچے امتحانات کے بغیر اگلی جماعت میں نہیں جا سکیں گے۔
26 نومبر کو تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے اپنے فیصلے کے بعد شفقت محمود ’بچوں کے وزیر اعظم‘ کہلائے جا رہے تھے۔ لیکن اب طلبہ کی جانب سے اس بیان کے ردعمل سے یوں لگ رہا ہے جیسے بچوں نے انھیں اس عہدے سے معزول کر دیا ہے۔
شفقت محمود نے سکول کھولنے کے حوالے سے کیا کہا؟
جمعے کو ایک اعلیٰ اجلاس کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں وزیر تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ نویں جماعت سے بارھویں جماعت کے طلبہ کے امتحانات ہوں گے اور ان کے لیے تعلیمی ادارے (جن میں سکولز اور کالجز شامل ہیں) 18 جنوری سے کھول دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح 6.10 ہے۔ ’ایک بات واضح ہے کہ تعلیم سے وابستہ افراد کو احساس ہے کہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کی تعلیم کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن صحت کا خیال بھی ضروری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کی کلاسز کا آغاز یکم فروری کو ہوگا جبکہ مڈل اور ہائی کلاسز تک کے تعلیمی اداروں کو بھی یکم فروری سے ہی کھولا جائے گا۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ آئندہ یہ غور کیا جائے گا کہ جہاں انفیکشن ریٹ زیادہ ہے وہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ جہاں انفیکشن ریٹ زیادہ ہے وہاں تعلیمی ادارے نہیں کھولے جائیں گے۔
'شفقت محمود اب بچوں کے ہیرو نہیں رہے'
نویں سے 12ویں جماعت کے جن طلبہ کی کلاسز 18 جنوری سے دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہیں، وہ سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں ’شفقت محمود کی بے وفائی‘ کا رونا رو رہے ہیں۔
عامر شہزاد نامی صارف نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ’شفقت محمود سر اب بچوں کے وزیراعظم نہیں رہے۔‘
پہلی سے آٹھویں جماعت تک جن بچوں کے سکول یکم فروری سے کھل رہے ہیں وہ فی الحال وزیر تعلیم کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔
ایک طالب علمی نے ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو اپنے والدین کو ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ سکول بے شک کھل جائیں لیکن ’میں لکھ کر دیتا ہوں، کوئی نہیں آئے گا۔‘
لیکن انہی بچوں کے والدین خوش ہیں کہ اب ان کی تعلیم معمول پر آسکے گی۔
سوشل میڈیا پر میمز میں والدین کو مٹھائیاں بانٹتے دکھایا جا رہا ہے۔ فہمیدہ یوسفی لکھتی ہیں کہ ’والدین کے لیے شفقت محمود سے بہتر اب کوئی نہیں۔‘
بعض والدین بالآخر اپنے بچوں کے سکول کھلنے کے فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ تاہم کچھ والدین اس کے باوجود بچوں کی صحت کے حوالے سے پریشان ہیں۔
نجیب الرحمن لکھتے ہیں کہ ’سکول بند ہونے سے والدین کو سب سے زیادہ ٹینشن مفت کی فیسیں دینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔۔۔ فیسوں کا بہت بوجھ ہے۔‘
شفقت محمود اپنے حالیہ فیصلے سے بچوں کے ہیرو بن گئے یا ولن، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے، وہ یہ کہ پاکستان کے وزیر تعلیم نے بچوں کی خبروں میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔
ان میمز کے تو خود شفقت محمود بھی فین ہیں۔ دی کرنٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ بچوں کی جانب سے بنائے گئے کچھ میمز کافی ’اوریجنل‘ ہوتے ہیں۔ ’جیسے ایک اوریجنل میم تھا جس میں لکھا تھا کہ اللہ کرے آپ بازار جائیں تو آپ کو پھل سستے ملیں، آپ کا خربوزہ میٹھا ہو، آپ کو روزہ نہ لگے۔‘ انٹرویو کے دوران یہ بتاتے ہوئے وہ خود بھی ہنس پڑتے ہیں۔
تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند
کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر کے پیش نظر پاکستان میں گذشتہ سال 26 نومبر سے تمام تعلیمی ادارے بند جبکہ آن لائن کلاسز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہوم ورک آن لائن ہوگا اور جہاں یہ نہیں ہوسکتا وہاں اساتذہ اور والدین اس کا طریقہ طے کریں گے۔
اس دوران باضابطہ کلاسز نہیں دی گئی تھی جس کی وجہ سے والدین کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سنہ 2021 میں بھی ان کے بچوں کی تعلیم عالمی وبا کی وجہ سے متاثر ہوسکتی ہے۔