’نیتن یاہو کو اسرائیل میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے‘, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ
موجودہ ایرانی حکومت کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’بڑا خطرہ‘ قرار دیتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جنگ نے اس حکومت کو کمزور ضرور کیا ہے مگر یہ تاحال اس کا خاتمے کا باعث نہیں بن سکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت پہلے سے زیادہ خوداعتماد اور شاید مزید جارحانہ نظر آتی ہے۔
ایسے اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فکرمند ہیں، اور اس ممکنہ معاہدے کو وہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایسی صورتِحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔
نیتن یاہو کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
حزب اللہ کے مسلسل حملوں پر بے اطمینانی کے باوجود لبنان میں جنگ جاری رکھنے کی حمایت موجود ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی حملے اس گروہ کو مزید کمزور کرنے کے لیے اور کیا حاصل کر سکتے ہیں، خصوصاً جب صدر ٹرمپ نے تنازع کو کم کرنے کی کوشش میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر رکھا ہے۔
اسرائیل میں اکتوبر سے پہلے انتخابات ہونا ہیں اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی جاری رہتی ہے تو وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنی حکومت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔