آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اسرائیلی فضائیہ کا ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ: ایران نے دوبارہ اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ’کچھ دیر قبل‘ اسرائیل کی جانب دوبارہ میزائل داغے ہیں اور ملک کا فضائی دفاع کا نظام ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال ہے۔ دوسری جانب سرکاری ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے سوموار کی صبح اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو ہدف بنایا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل کے مغربی اور وسطی ایران پر فضائی حملے، آئی ڈی ایف کا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • ایران نے حملہ کر کے ’سنگین غلطی‘ کی ہے: اسرائیلی فوج
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے
  • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ 'یہ کارروائی عارضی نہیں بلکہ مسلسل حملوں کے ایک مکمل ہفتے کا آغاز ہے۔
  • پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن اصل مسئلہ متضاد امریکی بیانات ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
  • پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر کارروائی کے دوران 27 شدت پسند مارے گئے ہیں

لائیو کوریج

  1. ’نیتن یاہو کو اسرائیل میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے‘, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    موجودہ ایرانی حکومت کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’بڑا خطرہ‘ قرار دیتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جنگ نے اس حکومت کو کمزور ضرور کیا ہے مگر یہ تاحال اس کا خاتمے کا باعث نہیں بن سکی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت پہلے سے زیادہ خوداعتماد اور شاید مزید جارحانہ نظر آتی ہے۔

    ایسے اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فکرمند ہیں، اور اس ممکنہ معاہدے کو وہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایسی صورتِحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

    نیتن یاہو کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    حزب اللہ کے مسلسل حملوں پر بے اطمینانی کے باوجود لبنان میں جنگ جاری رکھنے کی حمایت موجود ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی حملے اس گروہ کو مزید کمزور کرنے کے لیے اور کیا حاصل کر سکتے ہیں، خصوصاً جب صدر ٹرمپ نے تنازع کو کم کرنے کی کوشش میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر رکھا ہے۔

    اسرائیل میں اکتوبر سے پہلے انتخابات ہونا ہیں اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی جاری رہتی ہے تو وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنی حکومت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

  2. ایران نے ایک بار پھر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کی میزائل صلاحیتوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں پر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی ہے۔

    سوموار کی صبح سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں جنرل محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں اور خطے کی فضائی حدود اس کے اثر و رسوخ میں ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے تباہ کن میزائلوں کی زد میں ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں اور آٹھ اپریل کی جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیلی فوجی اہداف پر میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔

    اتوار کی شب پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے رامات ڈیوڈ ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے، جسے اس نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا مرکز قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ جنوبی لبنان اور بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور بے دخلی کے جواب میں کیا گیا۔

    سوموار کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی فورس کے مطابق یہ کارروائی ایران کے اندر متعدد ریڈار تنصیبات پر اسرائیلی میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’جائز دفاعی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کا ردعمل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایرانی مفادات پر کسی بھی مزید اسرائیلی حملے کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔

  3. عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری

    ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4.5 فیصد بڑھ کر 97.30 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں خام تیل کی قیمت 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 94.50 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ آیا یہ حالیہ حملے جنگ کے دوبارہ پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں یا نہیں، لیکن آسٹریلیا کی جیمز کک یونیورسٹی سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر جیاجیا یانگ کے مطابق اس صورتحال کے باعث تیل کے تاجر ایک بار پھر عالمی تیل کی منڈیوں کے لیے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔

    پیر کے روز ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا نمایاں رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں انڈیکس میں تقریباً 8 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

  4. ’ایران نے کچھ دیر قبل دوبارہ میزائل داغے ہیں، فضائی دفاع کا نظام ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال ہے،‘ اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ’کچھ دیر قبل‘ اسرائیل کی جانب دوبارہ میزائل داغے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسرائیل کا فضائی دفاع کا نظام ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے فعال ہے‘ اور ممکنہ طور پر ہدف بنائے گئے اسرائیلی علاقوں میں عوام کو متنبہ کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، پاسدرانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے نیواتیم اور تل نوف میں موجود دو اسرائیلی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  5. تہران کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں سے پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ تہران کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں، مہرآباد اور امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تمام پروازیں اگلے حکم تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    ادارے کے ترجمان مجید اخوان نے کہا کہ گزشتہ رات ملک کے مغربی فضائی حدود کی بندش سے متعلق ایوی ایشن نوٹس جاری کیے جانے کے بعد مہرآباد اور امام خمینی ہوائی اڈوں سے پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔

    ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال ان دونوں ہوائی اڈوں کا رخ نہ کریں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

  6. اسرائیلی اہداف پر میزائل حملے، یمنی فوج کا بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری نقل و حرکت پر پابندی کا اعلان

    یمن کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے یافا کے علاقے میں اسرائیل کے حساس اہداف کو میزائلوں کے ایک سلسلے سے نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں مطلوبہ اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

    فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ حملے مخصوص اہداف پر کیے گئے، تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ’یہ کارروائی ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں ’امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔‘

    یحییٰ سریع کے مطابق یمنی افواج نے اس امر کی بھی مخالفت کی ہے جسے وہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے اور ’نئے مشرقِ وسطیٰ‘ کے نام سے اسرائیلی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ اپنے عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر عائد ’ناانصافی پر مبنی محاصرے‘ کو توڑنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    یمنی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’بحری میدان میں اسرائیلی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور بحیرہ احمر میں اسرائیلی مفادات کو فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔‘

    مزید کہا گیا ہے کہ ’کشیدگی کے جواب میں مزید کارروائیاں کی جائیں گی اور حالات کو دیکھتے ہوئے فوجی آپریشنز میں اضافہ کیا جائے گا۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے اور محاصرے کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

    جبکہ یمنی فوج نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’ان کے مطابق خطے میں جاری دباؤ اور محاصرے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔‘

  7. گلگت بلتستان میں انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق صرف تین حلقوں کے فارم 47 جاری ہوئے ہیں۔

    عیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک کسی بھی سیاسی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق اب تک صرف تین حلقوں کے فارم 47 جاری ہوئے ہیں جن کے مطابق جی بی اے-1 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین، جی بی اے-4 نگر سے محمد علی اختر جبکہ جی بی اے-11 کھرمنگ سے اقبال حسن کامیاب قرار پائے ہیں ۔

    تاہم چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیونکہ گذشتہ شب ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تھا تو ایسے میں فلوقت ووٹوں کی گنتی اور نتائج کو کمپائل کرنے کا عمل جاری ہے اور ایسے میں الیکشن کمشن گلگت بلتستان کی جانب سے کوئی بھی فار 47 جاری نہیں کیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ نتائج سامنے آنے کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کُچھ حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں سامنے آرہی ہیں تاہم جیسے ہی گنتی کا عمل مکمل ہو جائے گا تو نتائج کی تفصیلات اور فارم 47 جاری کر دیے جائیں گے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے 11 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن چھ نشستوں کے ساتھ دوسرے، آذاد امیدوار چار نشستوں کے ساتھ تیسرے، پی ٹی آئی دو نشستوں کے ساتھ چوتھے جبکہ ایک نشست مجلس واحدتِ مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے حصے میں آئی ہے۔

    واضح رہے کہ تین حلقوں کے علاوہ 21 نشستوں کے فارم 47 تاحال جاری نہیں ہوئے ہیں۔

  8. پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق سوموار کی صبح اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو ہدف بنایا گیا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کچھ ہی دیر قبل پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس نے اس کارروائی میں نواتیم اور تل نوف کے اہم اور سٹریٹجک فضائی اڈوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد ریڈار تنصیبات پر کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کے جواب میں فوری کارروائی اور اہداف کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اس مرحلے میں ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ’ان کی تمام جنگی اور آپریشنل یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کے ممکنہ اقدامات کے جواب کے لیے جامع منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔‘

  9. ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ فضائی اور میزائل تبادلہ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ, بی بی سی کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے یوروشلم سے نامہ نگار یولینڈا نیل کا تجزیہ

    ایران نے آج صبح ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغے ہیں اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وسطی اور مغربی ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔

    تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ایران پر حملوں سے گریز کرنے کی درخواست کی تھی۔

    اسرائیل نے یہ کارروائی گزشتہ روز شمالی اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں کی، جو بیروت میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل نے ایران پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور نجف آباد میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    گزشتہ رات بھی شمالی اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کی بارش کر دی گئی تھی، جو اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ دیر قبل یروشلم، وسطی اور جنوبی اسرائیل پر بھی مزید میزائل فائر کیے گئے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ پر جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں میں حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جہاں کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کے جواب میں کیے۔

    واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ لبنان میں حملے روک دے تاکہ ایران کے ساتھ کسی علاقائی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے، تاہم اسرائیل دونوں محاذوں کو الگ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر کشیدگی میں اضافے کے ایک اور اشارے کے طور پر آج صبح یمن سے بھی اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا، جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی موجود ہیں۔

  10. اسرائیلی فضائیہ کا ایران کے ماہشہر میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کے جنوب مغرب میں واقع شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کے متعدد اہم مقامات پر حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے ہی اس اہم تنصیب پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیج فارس کے شمالی ساحل کے قریب واقع اس صنعتی کمپلیکس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ نقصان کی تفصیلات اور ممکنہ جانی نقصانات کے حوالے سے مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

  11. ایران سے ایک مرتبہ پھر میزائل داغے گئے ہیں، دفاعی نظام متحرک ہے: اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ایران سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک مرتبہ پھر میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فضائیہ کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند منٹوں میں ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں براہِ راست موبائل فونز پر ابتدائی ہدایات جاری کی ہیں۔‘

    اسرائیلی حکام نے عوام سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ الرٹ موصول ہوتے ہی فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں داخل ہو جائیں اور اگلے اعلان تک وہیں موجود رہیں۔

    مزید کہا گیا ہے کہ محفوظ مقامات سے باہر نکلنے کی اجازت صرف واضح ہدایت کے بعد دی جائے گی اور شہریوں کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر مسلسل عمل جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  12. ’ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں امریکہ، ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار سکتی ہیں‘, سارہ سمتھ، ایڈیٹر برائے شمالہی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کے مشورے کے باوجود اسرائیل نے ایران پر حملے کر دیے۔ ٹرمپ پہلے ہی اس بات پر ناراض تھے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بیروت پر حملہ نہ کرنے سے متعلق اُن کی تنبیہات کو نظر انداز کر دیا تھا۔

    ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو پٹڑی سے اتار سکتی ہیں۔

    ایگزیوز نیوز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ رُک جائیں کیونکہ اُن کے بقول ’ہم ایک معاہدے کے حوالے سے کچھ اچھا کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘

    گذشتہ ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک خاصی تلخ ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید نہیں کی کہ انھوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی پر نیتن یاہو کے ساتھ سخت زبان استعمال کی۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنا پڑے گا کیونکہ اُن کے پاس ’کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔‘ نیتن یاہو کے بارے میں اُن کا کہنا تھا: ’فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ نہیں۔‘

    ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب ہیں۔ یہ بات وہ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

  13. ایران سے مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں مصروف ہے۔

    انھوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انھیں کوئی انتباہی پیغام موصول ہو تو فوراً پناہ گاہوں کا رخ کریں۔

    اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  14. سعودی شہر الخرج میں حملے کے بعد سائرن، سول ڈیفینس کی وارننگ چند منٹ بعد واپس لے لی گئی

    سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق الخرج نامی علاقے میں حملے کے پیشِ نظر سائرن بجائے جانے کے بعد سعودی سول ڈیفنس نے سوموار کی صبح الخرج گورنری کے لیے وارننگ جاری کی۔

    سعودی سول ڈیفینس نے کہا کہ الخرج گورنری میں خطرے کے پیشِ نظر انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔

    تاہم یہ وارننگ چند منٹ بعد ہی واپس لے لی گئی۔

    ایمرجنسی الرٹ سسٹم کے ذریعے عوامی وارننگ جاری کی تھی، جس میں رہائشیوں کو ممکنہ خطرے کے حوالے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی۔

    تاہم بعد ازاں ایکس جاری ایک بیان میں سعودی سول ڈیفینس کی جانب سے اس وارنگ کے خاتمے کی اطلاع سامنے آئی اور کہا گیا کہ عوام سے گزارش ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھیں۔

    شہریوں سے جن حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی درخواست کی گئی اُن میں:

    • شہری پُرسکون رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
    • فوری طور پر قریبی محفوظ مقام (کسی عمارت کے اندر یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے) میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔
    • خطرہ ختم ہونے تک اپنے گھر یا عمارت سے باہر نہ نکلیں۔
    • کھلے مقامات، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہیں، نیز بالکونیوں یا چھتوں پر کھڑے ہونے سے گریز کریں۔
    • اگر آپ باہر موجود ہیں تو قریبی عمارت میں داخل ہو جائیں یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لیں۔
    • ہجوم یا خطرناک مقامات کی جانب جانے سے گریز کریں اور تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے اجتناب کریں۔
    • اگر گاڑی چلاتے ہوئے وارننگ موصول ہو تو پلوں اور بلند عمارتوں سے دور سڑک کے کنارے گاڑی روک دیں۔
    • کسی بھی خطرے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 998 پر رابطہ کریں۔
    • سرکاری ذرائع کے ذریعے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا علاقے الخرج اپنے ایک ہوائی اڈے اور ائیر بیس کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

  15. ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکی فوج شریک نہیں تھی: امریکی عہدیدار کا دعویٰ

    ایک امریکی عہدیدار نے ملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران پر رات بھر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں میں امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ اسرائیل کے یہ حملے ’نسبتاً محدود نوعیت‘ کے تھے۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

    ایگزیوس کی سابقہ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے غیر رسمی طور پر یا ادارے کے الفاظ میں ’حکمتِ عملی کے تحت‘، ٹرمپ کی درخواست قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    اسرائیلی حملے ایران کی جانب سے شمالی اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے۔

    تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  16. یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغا گیا: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا oے کہ ’یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یروشلم، تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے گرد و نواح میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔

    بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اپنی صورتحال کے جائزے کے بعد اعلان کیا کہ ملک کے تمام علاقوں میں شہری اب محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

  17. تہران کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ایرانی مقامی میڈیا

    ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وسطی اور مغربی ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوران دارالحکومت تہران کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    مقامی میڈیا نے تہران فائر ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سوموار کی علی الصبح تہران کے مغربی علاقوں میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    اس سے قبل تبریز، اصفہان اور کرج کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

    تاحال حملوں سے ہونے والے نقصان کی نوعیت اور حجم واضح نہیں ہو سکا ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق اصفہان کے مقامی حکام نے بتایا ہے کہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے نقصانات یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    تاہم گذشتہ شب سے ہی ایران بھر میں ہی اسرائیل اور امریکہ مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

  18. تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی سرکاری ٹی وی

    اسرائیل کی جانب سے مغربی اور وسطی ایران پر حملوں کے دعوؤں کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے تین شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔‘

    اطلاعات کے مطابق وسطی شہر کرج کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

  19. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی

    ایشیائی منڈیوں میں سوموار کی صبح کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    یہ اضافہ اپریل میں ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار تہران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 95.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل 2.5 فیصد بڑھ کر 92.75 ڈالر کا ہو گیا ہے۔

    اپریل میں جنگ بندی کے بعد سے توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران قیمتیں تقریباً 95 ڈالر کے آس پاس رہی ہیں کیونکہ تاجر عالمی توانائی کی ترسیل پر جنگ کے طویل المدتی اثرات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

  20. اسرائیل کا مغربی اور وسطی ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کچھ دیر قبل اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی دہشت گرد حکومت سے وابستہ عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

    حملوں میں جانی نقصان یا ان کے درست مقامات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کی ایران کے ساتھ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران نے گذشتہ روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ حملہ ’لگاتار حملوں کے ایک مکمل ہفتے‘ کا آغاز ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے ایک پیغام شیئر کیا کہ ’ایران نے اپنے میزائل داغے ہیں، یہ کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس جئیں اور معاہدہ کریں۔‘