آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, قالیباف کا قطری رہنماؤں سے ملاقات کے دوران خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ

ملاقات کی مزید تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق قطری وزیرِ خارجہ نے ’سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت‘ پر زور دیا اور اختلافات کے حل اور ’خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے‘ کے لیے مذاکرات کی تجویز دی۔

خلاصہ

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی سلامتی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'تہران یہ پیشکش کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر کر رہا ہے۔'
  • نیپال میں سیلاب اور تودے گرنے سے 350 سے زائد افراد ہلاک،سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ
  • پمز ہسپتال میں آتشزدگی: اے سی سے آگ لگنےکے شواہد نہیں اور عملے کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، قائمہ کمیٹی
  • سی آئی اے چیف کی روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کا کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او

لائیو کوریج

  1. پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کر دیے

    پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت پاکستان کی وزارت فاع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں طے پانے والے ’دفاعی تعاون معاہدے‘ کے موجودہ فوجی تعاون کے فریم ورک کو تقویت ملے گی۔

    جمعرات کو پاکستان کی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نئے معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، تربیت اور استعداد کار میں اضافے، سرحدی نظم و نسق اور دفاعی تعاون کے دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبوں میں کویت کی مسلح افواج کی معاونت کریں گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کویت کے وزیر دفاع عشیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کویتی وفد، جس میں کویت کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریعان شامل تھے، راولپنڈی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی۔

    بیان کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، سکیورٹی تعاون اور پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

  2. ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قطری رہنماؤں سے ملاقات، خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کے دوران خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    ملاقات کی مزید تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق قطری وزیرِ خارجہ نے ’سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت‘ پر زور دیا اور اختلافات کے حل اور ’خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے‘ کے لیے مذاکرات کی تجویز دی۔

    اس سے قبل الثانی نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی اور ’کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے‘ کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

  3. ’بوسنیا کے قصائی‘ جنرل راتکو ملادچ کی وفات

    بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادچ، جو بوسنیا میں 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے حراستی مرکز میں وفات پا گئے ہیں۔

    راتکو ملادچ کو 2017 میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    ملادچ کو بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے، انھوں نے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔

    اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔

    یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔

  4. ایرانی صدر کی پڑوسی ممالک کے ساتھ ’باہمی دفاع کا معاہدہ‘ طے کرنے کی تجویز، ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کا احترام کیا جائے: پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی سلامتی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ’مشترکہ سکیورٹی کے انتظامات‘ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    صدر پزشکیان نے یہ بات 27 اگست کو تہران میں منعقدہ اسلامی اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور خطاب کے دوران انھوں نے مسلمان پڑوسی ممالک کے درمیان ثالثی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ایک مستقل نظام کے قیام کی تجویز پیش کی۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے درمیان کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو ہمیں اسے خود حل کرنا چاہیے۔‘

    ایرانی صدر نے کہا کہ ’ایران ایسے انتظامات کی تشکیل کے لیے اپنے پڑوسی ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ تہران یہ پیشکش ’کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے تہران کے اس مؤقف کا بھی اعادہ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں،(جن میں خطے کے ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں) کو ان ممالک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کا دفاع کرنے کا مطلب ہمسایہ ممالک یا مسلم ممالک کے ساتھ دشمنی نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حالیہ تنازع نے خطے کے ممالک کے درمیان قریبی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ سکیورٹی انتظامات کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے

    صدر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے لیے پلیٹ فارم بننے سے گریز کرنا چاہیے۔

    انھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کا احترام کریں اور اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی مسلم سرزمین کو کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف جارحیت کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے۔‘

  5. قطری وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات

    قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اعلیٰ سطحی قطری عہدیدار کا یہ دورہ پاکستانی فوج کے کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دو روز بعد ہوا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے والے ممالک میں قطر اور پاکستان بھی شامل تھے۔

    گزشتہ روز ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطری وزیرِ خارجہ کے دورۂ ایران کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطری وزیرِ اعظم ہمارے ملک کے حکام کے ساتھ قطر کی ثالثی کی کوششوں اور اقدامات اور خطے میں دیگر پیش رفت کے حوالے سے بات چیت اور تبادلۂ خیال کریں گے۔

  6. سیلاب کے بعد نیپال میں صورتحال تشویشناک، لوگوں کو مدد کی شدید ضرورت ہے: ریڈ کراس

    نیپال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے وفد کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے متنبہ کیا ہے کہ نیپال میں بدھ کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔

    بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’شمالی نیپال کے کچھ علاقوں تک صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے کیونکہ سیلاب نے پل اور سڑکیں تباہ کر دی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری ٹیم وہاں سے تھوڑا سا جنوب میں زمین پر ہے اور مقامی رضاکاروں تک پہنچنے اور ان سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔‘

    ڈیوڈ فشر نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے بالکل واضح ہے کہ لوگوں کی ضروریات بہت زیادہ ہیں، گزشتہ رات بڑی تعداد میں لوگوں کو کھلے آسمان تلے رہنا پڑا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پورے دیہات اور بازاروں کو سیلاب کا پانی بہا لے گیا۔ اس وقت نیپال میں صورتحال نازک ہے اور لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔

  7. پوری قوم نیپال میں اپنے بھائیوں بہنوں کے غم میں شریک ہے: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان کی جانب سے نیپال کے حالیہ سیلاب میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ’نیپال میں بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر ہمیں گہرے دکھ اور افسوس ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق ’ہمارے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغامات میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اور پوری قوم نیپال میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔‘

  8. نیپال میں مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود

    نیپال میں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار ہیں۔

    یاد رہے کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب میں اب تک 332 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تریبھوون یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈیزاسٹر سٹڈیز کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بی بی سی نیوز ڈے کو بتایا ہے کہ آج یا کل سیلاب کی دوسری اور تیسری لہروں کا خطرہ موجود ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ابھی مزید اس بارے میں حتمی طور سے نہیں کہہ سکتے تاہم ہم صورت حال پر نظر رکھنے والے چین میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ زیادہ بارش نہیں ہو رہی، لیکن لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی خطرات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے بقول موسمیاتی تبدیلی واقعی یہاں رونما ہو رہی ہے۔

    بسنت راج ادھیکاری کے مطابق ’ہم مشاہدہ کر رہے تھے، لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کسی خاص دن پیش آئے گا۔‘

  9. بریکنگ, نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 289 تک پہنچ گئی​‌

    نیپال کی پولیس نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین اپڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 289 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    بدھ کو آنے والے سیلاب کے بعد ملک کے کئی حصوں میں صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتہ افراد میں سکیورٹی اہلکار، سیاح اور عام شہری شامل ہیں۔

    نیپال کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آج اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 350 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

    فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ریسکیو کیے جانے والوں میں 50 غیر ملکی شہری شامل ہیں جن میں 30 انڈین، آٹھ چینی، آٹھ کوریائی، دو امریکی اور دو اطالوی شہری شامل ہیں۔

    متعدد علاقوں کو ملانے والی سڑکیں اور پل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں،جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس آفت سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

    ادھر دنیا کے مختلف ممالک نے نیپال میں ہونے والے اس سانحے پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

  10. جنوبی لبنان میں نبطیہ اور دیگر علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں نبطیہ کے مشرقی نواحی علاقے میں واقع علی طاہر کی پہاڑیوں پر دو مرحلوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ علاقے میں کئی شدید دھماکے ہوئے جن کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، جبکہ دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

    ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات کے وقت مشرقی زوتار اور مفدون کے درمیان واقع علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

  11. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں عملے نے بتایا ہے کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔
    • چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔
    • برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ایک نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ تاحال ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور روسی انٹیلی جنس سروسز کے حکام کے درمیان ہونے والی ایک غیر اعلانیہ ملاقات سے ’کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘ ٹرمپ نے امریکی اور روسی انٹیلیجنس حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔
    • نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے اب تک کم از کم 165 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 529 سیاحوں سمیت 826 افراد لاپتہ ہیں
    • قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی جمعرات کے روز تہران پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران قطری وزیرِ اعظم ایرانی حکام سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
  12. نیپال میں سیلاب اور تودے گرنے سے 165 سے زائد افراد ہلاک، 529 سیاحوں سمیت 826 تاحال لاپتہ

    نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے اب تک کم از کم 165 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 529 سیاحوں سمیت 826 افراد لاپتہ ہیں۔ اس ساری صورتحال کے متعلق ہم اب تک کیا جانتے ہیں:

    • متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک سیاحتی گروپ کا کہنا ہے کہ 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، سیلاب آنے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
    • چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتہ افراد کی تعداد 558 ہو گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس اعداد و شمار میں ان افراد کی دوبارہ گنتی تو نہیں کی گئی جنھیں نیپال کے لاپتہ افراد کے اعداد و شمار شامل کیا گیا ہے۔
    • امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب ایک گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ کے باعث آیا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
    • نیپالی فوج نے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں، جو زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
    • چینی حکام کے مطابق تبت کی جانب غیر یقینی موسمی حالات اور علاقے کا دشوار گزار اور دور دراز جغرافیہ امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
  13. پمز ہسپتال میں آتشزدگی: اے سی سے آگ لگنےکے شواہد نہیں اور عملے کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، قائمہ کمیٹی

    جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں گذشتہ روز آتشزدگی کے باعث 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

    کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں عملے نے بتایا ہے کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔

    ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ انھیں عملے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں تاروں کا ایک گچھا تھا جس سے آگ لگی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عملے کی جانب سے دیے گئے متضاد بیانات کی بنیاد پر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فی الوقت کسی کو آگ کے ذریعے کا نہیں پتا۔

    جے یو آئی کی رکن کمیٹی عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ عملے کے بیانات سے ایسا تاثر ملا جیسے انھیں بتایا گیا ہو کہ انھوں نے کیا کہنا ہے۔ ’ایک نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ جیسے اے سی میں دھماکہ ہوا اور اس سے آگ لگی۔‘

    ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ جس نرسری میں آگ لگی وہ 1990 میں بنی تھی جبکہ دوسرا وارڈ نیا بنا ہوا ہے۔ ’ہماری رائے ہے کہ نرسری نئے بلاک میں ہونی چاہیے تھی۔‘

    ’یہ نرسری بچوں کو رکھنے کے لیے فٹ نہیں تھی، یہاں گائنی کا وارڈ ہونا تھا۔‘

    کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی جانب سے جس طرح کے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یا تو وہاں کوئی ڈیوٹی پر نہیں تھا یا پھر جو ڈیوٹی پر تھے وہ اس جگہ پر موجود نہیں تھے۔

  14. نیپالی فوج نے لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 اہلکار تعینات کر دیے, فنیندر دہال، بی بی سی نیپالی، کھٹمنڈو

    نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

    فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے تین افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔

    نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس نے بھی تلاش کی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

  15. تبت میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد 558 ہو گئی

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔

    سی سی ٹی وی نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بدستور تین ہے۔

    گیرونگ کی سرحد چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور دیگر آمدورفت کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے۔

    بدھ کو چینی سرکاری میڈیا نے سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے فوراً بعد ’بڑے پیمانے پر جانی نقصان‘ کی اطلاعات دی تھیں۔

    اس سے قبل نیپال نے کہا تھا کہ تقریباً 579 سیاح لاپتہ ہیں، جن میں 466 غیر ملکی شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دونوں جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کچھ افراد کو دو مرتبہ تو شمار نہیں کیا گیا۔

  16. آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ایک نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ تاحال ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ دو روز کے دوران ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور بارودی سرنگوں کی مشترکہ صفائی کی کارروائیوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب واشنگٹن نے ایران پر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔

    فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی، تاہم گذشتہ چھ ماہ کے دوران جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    ایران نے بدھ کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں اس نے امریکی اقتصادی دباؤ کے جواب میں خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ردِعمل دے گا۔

  17. سی آئی اے چیف کی روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کا کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور روسی انٹیلی جنس سروسز کے حکام کے درمیان ہونے والی ایک غیر اعلانیہ ملاقات سے ’کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ماسکو کے دورے کی وجہ کے متعلق کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ وہ منگل کے روز ایک فوجی طیارے کے ذریعے روسی دارالحکومت پہنچے تھے اور چند گھنٹوں بعد واپس روانہ ہو گئے۔ اس دورے کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی اور روسی انٹیلی جنس حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔‘

    دونوں ممالک کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس نوعیت کی آخری ملاقات روس کی جانب سے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیے جانے سے کچھ ماہ قبل ہوئی تھی۔

    دوسری جانب کریملن کا کہنا ہے ریٹکلف نے اپنے دورۂ ماسکو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات نہیں کی۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ رابطے ہوئے تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’روسی صدر کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔ فطری طور پر صدر پوتن کو ہر پیش رفت سے فوری طور پر آگاہ کر دیا جاتا ہے۔‘

    پیسکوف نے یہ بیان روسی اخبار روسیسکایا گزیٹا کے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ آیا ولادیمیر پوتن کو سی آئی اے کے سربراہ کی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا اور یہ رابطے کس سطح پر ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے روسی امور کے ایڈیٹر سٹیو روزنبرگ نے بھی کریملن کے ترجمان سے روسی انٹیلی جنس حکام اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں سوال کیا، تاہم پیسکوف نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  18. نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 162 افراد ہلاک، سینکڑوں تاحال لاپتہ

    نیپال اور تبت کی سرحد پر آئے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو تقریباً 24 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔

    تباہی کی تازہ ترین صورتِ حال:

    • نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 162 ہو گئی ہے۔ پولیس نے جمعرات کی صبح جاری ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں۔ بیان کے مطابق اب بھی لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
    • خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 403 افراد لاپتہ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق انڈیا سے ہے۔
    • فضا سے لی گئی تصاویر میں نیپال کے ضلع رسووا میں واقع بھوٹے کوشی دریا کے علاقے میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
    • نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق پورا ملک صدمے میں ہے۔ بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔
    • اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً آٹھ ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، چین، یورپی یونین اور انڈیا ان ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
    • حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور ’گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ‘ نے اس زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
    • ماہرین اب بھی واقعات کی پوری ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے زیادہ تیزی سے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔
  19. قطری وزیرِ اعظم آج تہران کا دورہ کریں گے

    قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی جمعرات کے روز تہران پہنچیں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران قطری وزیرِ اعظم ایرانی حکام سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا یہ دورہ قطر کے اس مستقل مؤقف کا تسلسل ہے کہ اختلافات کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی راستہ ہی بہترین ذریعہ ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حمل اور اس بات کی ضرورت پر بھی بات چیت کی جائے گی کہ وہاں کی صورتِ حال کو 28 فروری سے پہلے والی حالت پر واپس لایا جائے۔

  20. بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    دو دیگر اضلاع چاغی اور قلات میں چھ مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مستونگ میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے خاران شہر میں ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار الرٹ تھے اور انھوں نے فوری کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور مزید کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے اور فرار ہوگئے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔‘

    خاران کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’رات دس بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ اور دھماکوِں کی آوازیں سنائی دیں جس سے شہریوں میں خوف ہراس پھیل گیا۔‘

    خاران میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے شہر میں اندر آنے اور جانے کے مختلف راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’مسلح افراد اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تاہم بعد میں ان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ دیا گیا۔‘

    ادھر خاران سے متصل ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

    چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گاڑیوں کو چہتر کے علاقے میں نقصان پہنچایا۔‘

    ضلع قلات میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔

    قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے فون پر بتایا کہ ’دونوں گاڑیوں میں سیمنٹ لوڈ تھا فائرنگ سے ان کی ٹائروں کو نقصان پہنچا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔‘

    ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا۔

    ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر پل کو دھماکے سے جزوی طور پر نقصان پہنچا لیکن ٹریفک کی روانی متائثر نہیں ہوئی۔‘