آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فضائی حملوں کے دعوے: افغان طالبان کے چار ڈرونز مار گرائے، پاکستانی فوج

افغان طالبان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں سرحد پار سے بھیجے گئے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد ناکام بنا دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام مراحل 'نظام کی پالیسیوں کے دائرہ کار میں اور ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی' کے تحت آگے بڑھے ہیں۔
  • امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکٹریٹری مارکوین مولن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے فُٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر 'خوشی میں رقص' کیا تھا۔
  • ایران کے صوبے کرمانشاہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز، 70 ہزار سے زائد افراد تا حال لاپتہ
  • برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے نیا قانون: تارکین وطن کو تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے
  • انڈیا کی افغانستان پر پاکستانی حملوں کی مذمت: ’یہ افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔۔۔

  2. بلوچستان میں افغان طالبان کے بھیجے گئے چار ڈرونز پاکستانی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیے: آئی ایس پی آر کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 30 جون کو افغان طالبان حکومت نے بلوچستان میں سرحد پار چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجے، جنھیں پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد ناکام بنا دیا۔

    بدھ کو جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈرونز افغان طالبان کی جانب سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور حمایت کے سلسلے کا حصہ تھے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے ان تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے چاروں ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی جاری رکھی تو انھیں ایسا جواب دیا جائے گا جس کی انھیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں اور ملکی سرحدوں کے ہر حصے کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی سرحد پار کارروائی یا اشتعال انگیزی کا آپریشن ’غضبُ الحق‘ کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جاتا رہے گا۔

  3. بریکنگ, افغان طالبان کا بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ

    افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پشین کے سرانان علاقے اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر ’داعش‘ کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے سرانان علاقے میں ایک مشترکہ مرکز پر فضائی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ اسے افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    وزارت نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے قمبرخیل علاقے میں داعش کے ایک مبینہ مرکز، جبکہ چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں داعش اور دیگر مسلح عناصر کے ایک اور مشترکہ مبینہ مرکز کو بھی فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان مراکز سے افغانستان میں تخریبی کارروائیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

    افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں داعش کے جنگجوؤں، ان کے حامیوں اور دیگر مسلح عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے اور ان میں کوئی شہری جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بی بی سی افغان طالبان کے دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق کرنے سے قاصر ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    ادھر کوئٹہ سے ہمارے نمائندے محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے ضلع پشین میں ڈرونز گرنے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ پشین کے علاقے سرانان میں افغانستان کی جانب سے آنے والے ڈرونز دیکھے گئے۔ ان کے مطابق ان میں سے ایک یا دو ڈرونز کو فائرنگ کر کے گرا دیا گیا، جن کے گرنے سے کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔

    دریں اثنا بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رات کے وقت جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

    پشاور سے ہمارے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں مبینہ طور پر ایک کاپٹر ڈرون گرنے یا تباہ کیے جانے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پشاور پولیس نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ حسن خیل تھانے کی حدود میں ڈرون کا ملبہ گرا ہے، جس کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید نے بی بی سی سے گفتگو میں واقعے کی تصدیق کی، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یاد رہے پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار (28 جون) کی شب ’مستند انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔

  4. کیا یہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کی سب سے بڑی قانونی شکست ہے؟, گیری او ڈونوہیو، چیف نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    پیدائشی شہریت سے متعلق عدالتی فیصلہ غالباً وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے قبل وہ غیر ملکی محصولات کے مقدمے میں بھی ہار چکے ہیں، لیکن یہ معاملہ خاصا اہم ہے کیونکہ اسے خود انھوں نے بڑی اہمیت دی تھی۔

    انھوں نے اپنی دوسری مدت کے پہلے ہی دن یہ صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’برتھ ٹورزم‘ کا خاتمہ کر رہے ہیں، اسے انھوں نے غلط استعمال اور وسائل کا ضیاع قرار دیا، اور کہا کہ یہ اقدام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا حق موجود نہیں، جو درست نہیں کیونکہ میکسیکو اور کینیڈا سمیت دو درجن سے زیادہ ممالک میں بھی پیدائشی شہریت کی مختلف صورتیں موجود ہیں۔

    وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور دلائل براہِ راست سنے۔۔۔۔ وہ ایسا کرنے والے پہلے صدر ہیں۔۔۔ تاہم اس کے بعد وہ ممکنہ شکست کا ذکر کرنے لگے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں شکست کا اندازہ تھا، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔

    یہ شکست واضح انداز میں ہوئی اور کسی لحاظ سے مقابلہ قریب نہیں تھا۔ تاہم صدر کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔

    اگر وہ اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں آئین میں ترمیم کرانا ہوگی، اور آج کے امریکہ میں یہ عمل تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

  5. مودی اور ایران کے صدر کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے مغربی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر بات کی ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نریندر مودی نے بتایا کہ انھوں نے جاری مذاکرات (امریکہ اور ایران) میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام کا باعث بنیں گی۔

    انھوں نے اس موقع پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے انڈیا اور عالمی برادری کے لیے اہم قرار دیا۔

  6. سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کا ردِعمل: ’یہ ملک کے لیے اچھا نہیں‘ ہم اسے کانگریس میں قانون سازی کے ذریعے آسانی سے بدل سکتے ہیں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ان کے صدارتی حکم نامے کو مسترد کیے جانے پر ابتدائی ردِعمل دے دیا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کو برقرار رکھا ہے، جو ہمارے ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘

    اپنے بیان میں انھوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود کانگریس قانون سازی کے ذریعے پیدائشی شہریت کو محدود کر سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم اسے کانگریس میں قانون سازی کے ذریعے آسانی سے بدل سکتے ہیں، صدر کی حمایت کے ساتھ، جس کا تعین اب اس عمل کے دوران ہو چکا ہے۔ کسی طویل اور پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں!‘

    انھوں نے مزید لکھا ’کانگریس کو آج ہی اس مہنگی اور ہمارے ملک کے لیے غیر منصفانہ پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے کام شروع کرنا چاہیے۔ انھیں میری مکمل اور بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔‘

  7. 30 سالہ ٹیچر سمیت 19 افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ملبے سے نکالا: ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر لاہور

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں آج ہونے والے حادثے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آج سہ پہر چار بجکر 43 منٹ پر کاہنہ نو کے علاقے سے ایک کال موصول ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ ایک گھر کی چھت گر گئی ہے اور ملبے تلے افراد دب گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں، جہاں معلوم ہوا کہ ٹی آئرن اور گارڈر پر مشتمل چھت منہدم ہو گئی تھی، جس کے نیچے ٹیوشن پڑھنے آنے والے طلبہ و طالبات اور ایک ٹیچر دب گئے تھے۔

    ان کے مطابق ریسکیورز نے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے 30 سالہ ٹیچر سمیت 19 افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ملبے سے نکالا اور سی پی آر دیتے ہوئے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

    بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق 14 زخمی ہلاک ہو گئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں سات بچیاں شامل ہیں۔ 12 بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں، جبکہ دو بچیوں کی عمریں بالترتیب 11 اور 16 سال ہیں۔

    زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں، جن کی عمر 30 سال بتائی گئی ہے۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی کارروائی ایک گھنٹے میں مکمل کر لی گئی۔

  8. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ: ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس حادثے میں 14 بچے ہلاک ہوئے۔

    جن میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچے شامل ہیں۔

    • دعا ولد گلفام، عمر نو سال
    • ماہ نور ولد فاروق، عمر سات سال
    • رمشا ولد عاطف، عمر سات سال
    • ارتضیٰ ولد عاطف، عمر پانچ سال
    • تسبیحہ ولد شہزاد، عمر چھ سال
    • خدیجہ ولد وسیم، عمر سولہ سال
    • سلمان ولد وسیم، عمر چھ سال
    • فواد ولد عابد، عمر آٹھ سال
    • عبداللہ ولد مصطفیٰ، عمر چھ سال
    • عروج ولد مصطفیٰ، عمر نو سال
    • ایمن فاطمہ ولد مصطفیٰ، عمر گیارہ سال
    • ارحم ولد حسن، عمر آٹھ سال
    • عبداللہ ولد اصغر، عمر آٹھ سال
    • علی فرمان ولد فرمان علی، عمر آٹھ سال

    زخمیوں میں چار بچے اور ایک ٹیچر شامل ہیں۔

  9. سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ کے لیے یقیناً ایک دھچکا ہے, انتھونی زرکر، نامہ نگار شمالی امریکہ

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کوشش کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تارکینِ وطن (جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں) کے بچوں کو خودکار شہریت دینے سے انکار کیا جانا تھا۔

    صدر اور ان کی قانونی ٹیم نے ایک ایسا مؤقف پیش کیا تھا جسے حالیہ عرصے تک پالیسی سازوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے زیادہ حمایت حاصل نہیں تھی، اور اسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک لے جانا بذاتِ خود ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔

    تاہم، بالآخر نو ججوں میں سے اکثریت ڈیڑھ سو سال پرانی عدالتی نظیر کو بدلنے اور دیرینہ وفاقی قانون اور امریکی آئین کی زبان کی نئی تعبیر کرنے پر آمادہ نہ ہوئی۔

    یہ دھچکا یقیناً صدر کے لیے مایوسی کا باعث بنے گا اور انھیں اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ بغیر دستاویزات والے تارکینِ وطن کے امریکہ میں داخلے کو محدود کرنے کے لیے نئے طریقے تلاش کریں۔ اگر وہ کبھی امریکی سرزمین تک نہ پہنچ سکیں تو ان کے بچوں کی شہریت کا سوال بھی پیدا نہیں ہو گا۔

  10. بریکنگ, امریکہ کی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کا حکم نامہ مسترد کر دیا

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کا جاری کردہ کا ایک حکم نامہ مسترد کر دیا ہے جس کے تحت تارکینِ وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی شہریت کو محدود کیا جانا تھا۔

    ججوں نے تین کے مقابلے میں چھ ووٹوں سے پیدائشی شہریت کے حق میں فیصلہ دیا۔

    فیصلے کی تفصیلات ہم جلد آپ کے ساتھ شئیر کریں گے۔

  11. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ: ’سانحے کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں، انھیں قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہلاک ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ والدین کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں اور ’اس دکھ کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران 20 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 14 قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی المناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔

    مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انھیں قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔ انھوں نے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے لیے مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  12. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ: امدادی کارروائیوں کی تصاویر

  13. لاہور کے ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 14 ہو گئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی کمشنر مریم خان کا کہنا ہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گِرنے سے 14 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق اس حادثے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہے۔

    ایک بیان میں مریم خان کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت عمارت میں قریب 35 بچے موجود تھے۔

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر پولیس سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے۔ اب تک پولیس نے مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے ’تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

  14. لاہور کے ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 10 بچے ہلاک

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق پنجاب کے شہر لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 10 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کے مطابق یہ وہ بچے ہیں جنھیں مردہ حالت میں ملبے تلے سے نکالا گیا۔ جبکہ زخمی بچوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ادھر پولیس کے مطابق گھر میں قائم اس ٹیوشن سنٹر کی عمارت گرنے کے بعد مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور انھیں ’ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔‘

  15. اس وقت ایران کا کوئی اعلیٰ سطحی نمائندہ دوحہ میں موجود نہیں: قطر

    قطر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سطحی نمائندے دوحہ میں موجود ہیں لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے کہا کہ سٹیو وٹکف اور جیرڈ کُشنر ثالثوں سے ملاقات اور ’علاقائی امور‘ پر بات چیت کے لیے دوحہ آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بات چیت ایران اور دیگر موضوعات جیسے لبنان کی صورتحال کے بارے میں ہوگی۔

    انصاری کے مطابق، فی الحال ایران کا کوئی اعلیٰ سطحی نمائندہ قطر میں موجود نہیں ہے اور انھوں نے زور دے کر کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے دوحہ نہیں آئے ہیں: ’جہاں تک مجھے علم ہے، آنے والے دنوں میں دونوں فریقوں کے درمیان کسی براہِ راست اجلاس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔‘

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا بیان ایران کے حکام کے بیانات سے مطابقت رکھتا ہے تاہم بظاہر یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے متصادم ہے۔

    ٹرمپ نے کل کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر آج دوحہ میں امریکی فریق کے ساتھ ایک ملاقات ہوگی۔

    اس خبر کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر، جو ٹرمپ کے نمائندے ہیں، اس ’اعلیٰ سطحی‘ اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

    تہران نے قطر کے لیے ایک وفد کے سفر کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ ان کی امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    اایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی نمائندوں کے دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے۔

  16. لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے کے بعد ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور کے علاقے کاہنہ نو، فیروزپور روڈ پر واقع قربان سکول کے قریب ایک گھر کے کمرے کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ایمرجنسی گاڑیاں اور اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    ریکسکیو کے مطابق اس گھر میں ایک ٹیوشن سینٹر قائم تھا جس میں کم از کم 35 بچے موجود تھے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم 18 بچوں کو نکالا جا چکا ہے اور باقی بچوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق متاثرہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر پر تعمیر کی گئی تھی۔

  17. والد کے جنازے میں مجتبی خامنہ ای کے شریک ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ان کا دفتر کرے گا: ایرانی عہدیدار

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے اتنظامات کے ذمہ دار شعبے کے سیکریٹری علی اکبر پورجمشیدیان نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے میں شرکت کا فیصلہ رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اگر اس حوالے سے کوئی منصوبہ بنایا گیا تو اس کا اعلان ان کے دفتر کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اب تک 30 سے زائد ممالک کے رہنماؤں نے علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی خواہش اور آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ایران نے سابق رہبرِ اعلی کی آخری رسومات کے لیے چار روزہ تقریبات کا شیڈول جاری کیا ہے۔

    حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق کابینہ نے تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل کی منظوری دی ہے جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی تاکہ ملک بھر سے لوگ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔

    شیڈول کے مطابق تہران میں چار اور پانچ جولائی کو ’الوداعی تقریب‘ ہو گی، جس کے بعد تہران میں چھ جولائی اور قُم میں سات جولائی کو جلوس نکالے جائیں گے۔

    علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہوگی۔

  18. جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو ہماری انگلیاں ٹریگر پر موجود ہیں: ایرانی وزیرِ دفاع

    ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل ماجد ابنِ رضا نے خبردار کیا ہے کہ انھیں ’دشمن پر اعتماد نہیں ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ہماری انگلی ٹریگر پر موجود ہے۔‘

    ایران کے سرکاری ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے نتیجے میں ہم ضروری اور مناسب کارروائی کریں گے۔‘

  19. انڈیا، پاکستان دوستی میں ہی مسائل کا حل ہے: میر واعظ عمر فاروق

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ ’بات چیت کی راہ اختیار کی جائے کیونکہ بات چیت سے ہی حل ہوتے ہیں۔‘

    ان کے دفتر سے منسلک ایکس اکاؤنٹ پر موجود ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس ہفتے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بات چیت ہونے جا رہی ہے، ہم نے ہمیشہ اس کی حمایت کی ہے۔‘

    ’اس تناظر میں میں نے پچھلے جمعے کو بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر ایران اور امریکہ میز پر آ سکتے ہیں تو انڈیا اور پاکستان بھی میز پر آ سکتے ہیں۔‘

    میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ یہ ایک باصلاحیت خطے ہے، یہاں افرادی قوت موجود ہے، جس کے استعمال سے اقتصادی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔

    ’کاش کے ہماری برصغیر کی سیاسی قیادت بھی سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کرے اور تعلقات کو بہتر کرے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا، پاکستان دوستی میں ہی مسائل کا حل ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ انڈیا کی قیادت، پاکستان کی قیادت اور کشمیر کی قیادت بھی ان کوششوں کی حمایت کرے گی، جس سے تمام مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔‘

  20. وٹکوف اور کشنر دوحہ میں لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان ملاقات طے نہیں: قطر

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ایران اور امریکہ مذاکرات پر قطری ثالثوں سے بات چیت کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فی الوقت کوئی اعلیٰ سطحی ملاقات نہیں ہو رہی۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے یہ بھی کہا کہ قطر نے ایران کے منجمد چھ ارب ڈالر تہران کو منتقل نہیں کیے ہیں۔

    خیال رہے گذشتہ روز روئٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر ایران کو واپس کر دیے جائیں گے۔