برطانیہ میں جون میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 17 پینس کی کمی ہوئی ہے۔ یہ 26 سال بعد برطانیہ میں ایک ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔
جب 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ تنازعہ نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل کو بری طرح متاثر کیا۔
تاہم، جب سے امریکہ اور ایران نے جون میں لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک ڈیل پر اتفاق کیا تھا، قیمتیں گھٹ گئی ہیں۔
برطانیہ کے رائل آٹو موبائل کلب (آر اے سی) کے مطابق قیمتیں ابھی بھی ایران جنگ سے پہلے والی نہیں ہیں۔
آر اے سی کے مطابق 28 مئی کو پیٹرول کی اوسط قیمت 53-159 پینس فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 54-191 پینس فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر تھی۔ ایک برطانوی پاؤنڈ میں 100 پینس ہوتے ہیں۔
اس کے بعد سے قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آر اے سی کا کہنا ہے کہ جون کے دوران ڈیزل کی اوسط قیمت 183.75 پینس فی لیٹر سے کم ہو کر 167.14 پینس فی لیٹر پر آ گئی۔
اسی عرصے کے دوران پیٹرول کی اوسط قیمت 159.37 پینس فی لیٹر سے کم ہو کر 151.40 پینس فی لیٹر ہو گئی۔
تاہم، آر اے سی کا کہنا ہے کہ قیمتیں اب بھی تنازعے کے آغاز سے قبل کی سطح کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں؛ اس وقت پیٹرول کی اوسط قیمت 132 پینس فی لیٹر اور ڈیزل کی اوسط قیمت 142 پینس فی لیٹر تھی۔
تنازعے کے باوجود، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ان سطحوں سے نیچے ہیں جو یوکرین پر روس کے حملے کے بعد 2022 کے موسمِ گرما میں دیکھی گئی تھیں، جب پیٹرول 191.5 پینس فی لیٹر اور ڈیزل 199 پینس تک پہنچ گیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جو دُنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی آمدورفت کا ذریعہ ہے۔
برطانیہ تیل اور گیس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر امریکہ اور ناروے سے آتی ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ برطانیہ اس کے لیے کتنی قیمت ادا کرتا ہے۔