آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر جاری: اپوزیشن کی نعرہ بازی اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وفاقی کابینہ سے بجٹ منظوری کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے، تاہم اس مرتبہ بہتر بجٹ پیش کریں گے۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت کا 18 کھرب 77 ارب سے زائد کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص
  • پاکستان کا آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر
  • ٓآئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کا وفاقی بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں
  • وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی ہوئی تاہم اس سال بہتر بجٹ پیش کریں گے
  • وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دیا جائے گا
  • پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ آج ہونے والے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کریں گے
  • بجٹ اجلاس سے قبل وفاقی سرکاری ملازمین کا احتجاج، تنخواہوں اور پینشن میں میں بڑے اضافے کا مطالبہ، ریڈ زون میں سکیورٹی سخت

لائیو کوریج

  1. پاکستان کا آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ٹارگٹ رکھا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8٫2 فیصد رکھا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جب کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے لیے مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم کا ہدف 42.4 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت انفراسٹرکچر، سوشل، گورننس اور دوسرے شعبوں میں ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کے ترقیاتی بجٹ شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3675 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

    سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور داسو ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    ملک میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں 23 ہزار 775 گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں قابل تجدید تواناءی شعبے میں پبلک انوسٹمنٹ کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں وزیر اعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت 120000 نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  2. وفاقی حکومت کا 18 کھرب 77 ارب سے زائد کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔

    بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ کھرب پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔

    پینشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک کھرب 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مالی اہداف اور اخراجات کا خاکہ تیار کیا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 کھرب 26 ارب 40 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔

    حکومت کو توقع ہے کہ غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں پانچ کھرب 33 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، جبکہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ چار کھرب ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

    دفاعی خدمات کے انتظامی امور کے لیے ایک کھرب سات ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    مالی سال 2027-2026 کے دوران سبسڈیز کی مد میں ایک کھرب نو ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

  3. بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج، پی ٹی آئی ارکان کی سپیکر ڈائس کے سامنے نعرہ بازی, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن بھی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ بجٹ تقریر سے قبل تحریک انصاف کے ارکان مختلف پوسٹرز لے کر قومی اسمبلی میں داخل ہوئے جن پر عمران خان کی رہائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کے مطالبات درج تھے۔

    ارکان نے ’صوبوں کے حقوق کا خاتمہ نامنظور آئی ایم ایف کا بجٹ نا منظور‘ کے پلے کارڈ اڈا رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہیں۔

  4. قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع، بلاول بھٹو بھی اجلاس میں شریک

    آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بجٹ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

    پہلے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ بلاول بھٹو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے ارکان بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہیں۔

  5. پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم بلاول بھٹو اجلاس میں نہیں جائیں گے: ترجمان پیپلز پارٹی

    پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم چیئرمین پیپلز پارٹی بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قومی مفاد کے تحت پیپلز پارٹی بجٹ کے عمل کا حصہ بنے گی۔

  6. بجٹ اجلاس سے قبل سرکاری ملازمین کا احتجاج، ریڈ زون میں سخت سیکیورٹی, سارہ حسن، صحافی

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل شاہراہ دستور پر سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ریڈ زون میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔

    ریڈ زون میں پرائیویٹ گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ بجٹ اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ اور دیگر اہم عمارتوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے بھی شہریوں سے کہا ہے کہ شاہراہِ دستور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شہری براستہ بری امام استعمال کرتے ہوئے مارگلہ روڈ آنے جانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

    پولیس نے شہریوں کو ریڈ زون کی طرف غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  7. پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی ہوئی، اب بہتر بجٹ پیش کر رہے ہیں: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    بجٹ کی منظوری کے لیے بلائے گئے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُس وقت ہچکولے کھاتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا جس پر وہ 24 کروڑ عوام سے معذرت کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ عوام کوریلیف دیں لیکن مشرقِ وسطیٰ تنازع کی وجہ سے کچھ رکاوٹیں آئی ہیں۔

  8. وزیرِ اعلی سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بجٹ کے دوران پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ کابینہ کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں۔

    روانگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا بجٹ کی مشاورت کے لیے عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کی عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے جس کے لیے اُن کی مشاورت ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اجازت دی جائے۔

  9. بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمداللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔

  10. قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی, سارہ حسن، صحافی

    آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل پاکستان قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار فیصد اور مہنگائی میں اضافے کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1046 ارب روپے کی کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 126 ارب روپے کی کمی کے بعد اب 1000 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں نے اپنے ترقیاتی پروگرامز کے لیے مختص بجٹ میں 920 ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    کئی بار کی تاخیر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداوار بڑھے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت خطے میں جاری جیوپولیٹکل بحران کے باوجود بھی پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی شریک ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکیں۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے اور وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔

    اجلاس کے بعد پلاننگ کمیشن کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئندہ مالی سال میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دفاعی سلامتی اور سکیورٹی کے لیے ضروری منصوبوں کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا جائے گا۔

    پلاننگ کمیشن کے مطابق پنجاب نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 749 ارب روپے، سندھ نے 706 ارب روپے اور خیبر پختوانخواہ نے 455 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 308 ارب روپے خرچ کرے گی۔

    تینوں صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پلان میں کمی کی ہے لیکن بلوچستان کے لیے مختص صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88.8 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کی لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

  11. شرحِ نمو ہدف سے کم، مہنگائی میں اضافہ: سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں مزید کیا بتایا گیا ہے؟, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان کی حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک کی معیشت کی سالانہ شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی ہے۔

    وزارتِ خزانہ مالی سال 2025-2026 کا اقتصادی جائزہ آج جاری کرے گی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شرحِ نمو اور ٹیکس وصولیوں سمیت کئی اہم اقتصادی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔

    رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم حقیقی شرح 3.7 فیصد رہی۔

    دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-2026 کے پہلے دس ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث اپریل اور مئی میں افراطِ زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور مئی میں یہ شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔

    زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد رہی، جو مقررہ ہدف 4.5 فیصد سے کم ہے، اگرچہ چاول، گندم، گنا اور مکئی سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

    صنعتی شعبے کی کارکردگی بھی ہدف سے کم رہی، جہاں 4.30 فیصد کے مقابلے میں شرحِ نمو 3.51 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    تاہم خدمات کے شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد شرحِ نمو حاصل کی۔

    رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر میں نو فیصد اضافہ ہوا اور جولائی سے مئی کے دوران یہ 38 ارب ڈالر رہیں، جو جون کے اختتام تک بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    برآمدات کا سالانہ ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا، لیکن 11 ماہ کے دوران یہ 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ دوسری جانب درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا، جبکہ اسی مدت میں درآمدات 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

    مزید برآں، رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کا حجم 14,799 ارب روپے تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔