آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عمران خان کو ’سکیورٹی کی وجہ سے پمز ہسپتال لے جایا گیا‘، صحت مند قرار دیے جانے کے بعد جیل منتقل: وفاقی وزیر اطلاعات

عطا تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے تاہم طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘

خلاصہ

  • وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ’ سکیورٹی صورتحال کے سبب‘ عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ طبی معائنوں میں صحت مند قرار دیے جانے کے بعد انھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
  • شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
  • شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، 'اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے'
  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان امریکہ کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا: عطا تارڑ کا دعویٰ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

    عطا تارڑ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘

    یاد رہے کہ یہ پوسٹ اس بیان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد شیئر کی گئی ہے جس میں انھوں نے عمران خان کے معائنے اور ہسپتال سے اڈیالہ منتقلی کی بات تو کی تھی مگر ہسپتال کا نام نہیں بتایا تھا۔

    عطا تارڑ کے مطابق ’ان (عمران خان) کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے پیش نظر جمعرات کے روز سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ممکنہ منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

    اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے تھے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی۔

  2. شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی و سکیورٹی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    یاد رہے کہ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام اور اسرائیل کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔

    بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا اور عالمی امن و علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

    انھوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شامی وزیرِ خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔

    دونوں فریقوں نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    ’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو میں اسعد الشیبانی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خطے کے اہم ممالک ہیں اور شام مستقبل میں اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

    اسرائیل کی جانب سے 18 اگست کو حلب کے قریب ابو الظہور فضائی اڈے پر حملے اور اسرائیل کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترکی گذشتہ 14 برسوں کے دوران شام اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور وہ شام کا اہم اتحادی ہے۔

    انھوں نے کہا، ’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا کوئی حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘

    ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق ایک سوال پر اسعد الشیبانی نے کہا کہ ان کے دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد کی جانب سے شام اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران شام اور اس کے عوام کے ساتھ اپنے ماضی کے کردار کو تسلیم کرے اور اس کے بعد پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے تو دمشق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

  3. بریکنگ, عمران خان کو طبی معائنہ میں صحت مند قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنوں کے بعد ہسپتال سے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں عطا تارڑ نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ’قیدی‘ کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔‘

    عمران خان کی شفا ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم میں کیا تھا؟

    یاد رہے کہ منگل (18 اگست) کو جاری کردہ اپنے تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم اس کے ساتھ عدالت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس یا صحت سے متعلق معاملات پر سیاست کی گئی تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔

    عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ شفا ہسپتال کے گرد مناسب سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر اس سہولت کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو حکومت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے جبکہ عمران خان اور ان کے اہلخانہ بھی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق شکایات کے سلسلے میں عدالت کا رُخ کر سکتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت کی جانچ سے متعلق ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمی خان بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی خان بھی شامل ہوں گے۔

    اس کیس کی آئندہ سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے جس دوران راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام پیش ہوں گے جبکہ شفا ہسپتال میں معائنے اور علاج سے متعلق رپورٹس بھی جمع کرائی جائیں گی۔

    عطا تارڑ کے مطابق ’ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انھیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔‘

    عطا تارڑ کے مطابق ’ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان، طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ یہ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انھیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 0500 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہیں واضح نہیں کیا کہ عمران خان کو کس ہسپتال لے جایا گیا تھا تاہم اس سے قبل رات گئے اسلام آباد پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ عمران خان کو شفا ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

  4. سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور حکام کی خاموشی

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جمعرات کی رات گئے اسلام آباد میں ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہپستال منتقل کیا گیا تھا۔

    بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی تھی۔ تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ساتھ ہوں۔

  5. سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی نیوز اردو کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عمران خان کو ہسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ یا حکومت نے تاحال باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔

    جہاں ایک طرف سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو متوقع طور پر شفا انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کی اطلاعات چل رہی ہیں، وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے متعدد رہنما کارکنان سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہسپتال کے سامنے جمع نہ ہوں۔

    پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔‘

    اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’جو واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنیں گے اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔‘

    یاد رہے کہ جمعرات کی رات سابق وزیراعظم عمران کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

    اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔

  6. بلوچستان میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس سٹیشن کو تباہ اور تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دو اضلاع پشین اور کچھی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک پولیس تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ ایک تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا ہے۔

    پولیس تھانے کو تباہ کرنے کا واقعہ ضلع پشین کے علاقے سرانان میں پیش آیا۔

    پشین میں پولیس کے ایک اہلکار انور خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جمعرات کو سرانان بازار آئے اور انھوں نے تھانے کے عملے پر قابو پالیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا گیا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    سرانان میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ

    سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    سرانان اور ضلع پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔

    قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت زیارت، سنجاوی اور ہرنانی میں رونما ہونے والے بدامنی کے بعض واقعات کی مذمت کی ہے۔

    بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھ سکیں۔

    ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کہاں نذرآتش کیا گیا؟

    ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کھٹن کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔

    کچھی پولیس کے ایک اہلکار زاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد آئے اور انھوں نے تحصیل آفس کو نذرآتش کیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل آفس اور اس میں موجود سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ضلع کچھی میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  7. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    جمعے کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔

    • شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
    • وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو ترقی دے سکیں۔
    • وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرنے والے اپنے اعلان پر قائم ہے اور اگر ان کے علاج کے لیے ضرورت پڑی تو انھیں بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
    • ایران کے سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر تک پہنچ گئی ہے اور محدود پیداوار، درآمدی مشکلات اور ذخائر پر دباؤ کے باعث صورتحال ایک ’فوری اور نازک مسئلہ‘ بن چکی ہے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کیے گئے نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ
    • اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
    • وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے زامبوئی میں، جو کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے، سونے کی کان کے ایک علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو یہ معلومات فراہم کیں۔
    • ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک ایران کو کوئی رقم یا اثاثے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
  8. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس صفحے پر آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    اگر آپ 20 اگست کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کر سکتے ہیں۔