آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ: جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کونارک اور چابہار شہروں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ایران کے جنوبی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کونارک اور چابہار شہروں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اس علاقے سے بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  2. بریکنگ, امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران میں مزید حملے کر رہی ہیں۔

    سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں اور ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے والے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز کارروائیوں پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘

  3. مستونگ: کرکٹ گراؤنڈ میں مسلح افراد کی فائرنگ، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے دو کھلاڑی ہلاک ہوگئے۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متائثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    مستونگ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ مستونگ شہر میں شمس آباد کراس کے علاقے میں واقع گرائونڈ میں پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اس علاقے میں فائرنگ کی جس میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی زندگی کی بازی ہار گئے۔

    انھوں نے کہا کہ اس گرائونڈ میں کرکٹ کا میچ جاری تھا جہاں ان کھلاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنھوں نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں پر فائرنگ کی۔

    انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔

    اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ماضی میں یہ ضلع انتظامی لحاظ سے قلات ڈویژن کا حصہ تھا لیکن حال ہی میں اس ضلع کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا۔

    کوئٹہ کراچی شاہراہ اس شہر کے سامنے گزرتی ہے جبکہ ایک اور اہم شاہراہ کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی اس ضلع سے گزرتی ہے۔

    مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے ضلع میں صورتحال کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

  4. ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں بلکہ عمل سے دیتے ہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کرنے سے اس کی عظمت کم نہیں ہوتی۔

    عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’مہذب اور بہادر ایرانی قوم کو تحقیر آمیز زبان میں مخاطب کرنا اس کی عظمت کو متاثر نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام اپنی شائستگی، ثقافت اور مضبوط اخلاقی اقدار کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں دیتے بلکہ عمل کے ذریعے دیتے ہیں، وہ بھی بے خوف ہو کر اور بھرپور حوصلے کے ساتھ۔‘

  5. امریکہ اور ایران کے تازہ حملے: تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں، وزارت خارجہ پاکستان

    پاکستان نے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کی اپیل کرتا ہے جو علاقائی امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچائے۔‘

    بیان کے مطابق خطے میں امن کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں۔

    ’پاکستان تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں، جو خطے اور اس سے باہر باہمی مفاہمت و احترام اور مشترکہ خوشحالی کی پائیدار بنیاد ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔‘

  6. ایران کا جوہری مواد اتنی گہرائی میں ہے کہ اس تک پہنچنا ممکن نہیں: ٹرمپ

    اب سے کچھ دیر قبل نیٹو سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ نے شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔

    اس دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ ایران کے اندر موجود جوہری مواد کو کس طرح حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور یہ کہ وہ ایرانی قیادت سے کون سی یقین دہانیاں چاہتے ہیں؟

    اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی اس جوہری مواد کو محفوظ بنا چکا ہے ’کیونکہ یہ زمین کے اندر اتنی گہرائی میں ہے کہ ہمارے سوا کوئی بھی اسے حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ (جوہری مواد) ایک پہاڑ کے نیچے اتنی گہرائی میں موجود ہے کہ اسے نکالنے کے لیے بھاری مشینری درکار ہو گی، جو کسی اور ملک کے پاس نہیں بلکہ صرف ہمارے پاس ہے۔‘

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے پر غور کرے گا تو انھوں نے مزید کہ ’میں وہاں کیوں جاؤں گا؟ میں اُس وقت جاؤں گا جب وہ مکمل طور پر یا تو ختم ہو چکے ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔‘

  7. ’نئی اشتعال انگیزی خطے کو آگ کی طرف دھکیل رہی ہے‘: ایران

    ایران کے سپریم لیڈر کے ایک سینیئر مشیر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی ’مہم جوئیوں‘ کا ’فوری جواب‘ دیا جائے گا۔

    علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ’نئی اشتعال انگیزی اور ابتدائی امن معاہدے کی منسوخی کا زبانی اعتراف خطے کو آگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایران کا نام نہاد محورِ مزاحمت جو خطے میں پراکسی گروہوں اور اتحادیوں کا نیٹ ورک ہے، ’نشانہ تانے بیٹھا ہے۔‘

  8. امریکہ ایران کے اندر مزید گہرائی تک حملے کر سکتا ہے: امریکی وزیرِ دفاع کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کو اپنی ’زیادہ سے زیادہ طاقت‘ سے نشانہ نہیں بنا رہا، اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ حملوں میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں (ڈی سیلینیشن پلانٹس)، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے ساحل کے قریب واقع اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور اس معاملے میں تہران زیادہ کچھ نہیں کر سکے گا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ’آج رات بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔‘

    دریں اثنا امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عندیہ دیا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو وہ ایران کے اندر مزید گہرائی تک کیا جا سکتا ہے۔

  9. ٹرمپ کی ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ بحال کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ ناکہ بندی 17 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت ختم کی گئی تھی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہو سکتا ہے ہم ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ صرف ایران کے لیے ہوگی، باقی تمام ممالک جو چاہیں کر سکیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران موقع ملنے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، تاہم امریکہ کے پاس ایسی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے مائن سویپرز موجود ہیں۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران بعض رکن ممالک نے خطے میں مائن سویپرز بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

  10. کیا ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات سے امید کھو چکے ہیں؟, بی بی سی کے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

    کئی ہفتوں تک وہ اس بات پر پُرامید دکھائی دیتے رہے کہ وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور بالآخر کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ تنازع شاید ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    ان کی وہ سابقہ امید پسندی اب خاصی مدھم دکھائی دیتی ہے، اور ٹرمپ نے اس امکان کو بھی کھلا چھوڑ دیا ہے کہ ایران کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والے نئے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جس کا آغاز ممکنہ طور پر آج رات سے ہو۔

    یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’دیکھتے ہیں کہ یہ سب کیسے آگے بڑھتا ہے۔ میں ان سے خوش نہیں ہوں۔‘

    ٹرمپ کو اندرونِ ملک بھی سیاسی چیلنج درپیش

    مذاکرات کی ممکنہ ناکامی اور جنگ بندی کے خاتمے کا امکان ٹرمپ کو داخلی سیاست میں بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

    ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے بعض ارکان شروع ہی سے اس جنگ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

    کچھ قانون سازوں نے کھل کر یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے سے امریکہ کو آخر کیا حاصل ہوا، اور آیا تہران پر یہ اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دے گا یا نہیں۔

    واشنگٹن میں بعض مبصرین اور کانگریس کے ارکان کے نزدیک اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت سمجھا جائے گا کہ ان کے خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔

  11. امریکہ آج رات دوبارہ ایران پر سخت حملہ کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات اُنھیں بہت سخت نشانہ بنایا، بہت ہی سخت۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو بھی سکے گا یا نہیں۔

    جنگ بندی کے ’ختم‘ ہونے سے متعلق اپنے بیان کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مکمل جنگ کا آغاز ہے، تو ٹرمپ نے اس کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔

    تاہم انھوں نے ایران پر معاہدے کی روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہر روز اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمارے معاہدے کے تحت وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکیں گے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کوئی معاہدہ ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ ممکن ہے ہم بغیر کسی معاہدے کے ہی یہ کام کر لیں، کیونکہ سچ کہوں تو ایسا کرنا زیادہ آسان ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور ایک بار پھر امریکی مؤقف دہرایا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا سارا معاملہ حکومت کی تبدیلی سے متعلق نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے ’کافی پیش رفت‘ کی ہے۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے جیسا بااثر اور طاقتور فریق نہیں رہا۔

    اپنی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی قیادت کے بارے میں اپنا سابقہ تبصرہ دہرایا اور انھیں ’سنکی‘ قرار دیا۔

  12. احمد آباد بم دھماکہ کیس میں 38 ملزمان کی سزائے موت برقرار، جمعیت علما کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان, مہتاب عالم، بی بی سی اردو، دہلی

    انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکہ کیس میں 38 ملزمان کو پھانسی اور 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو منگل کو سنایا گیا۔

    خیال رہے کہ جولائی 2008 میں ریاست میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں 56 افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں کل 78 افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا، جن میں سے 49 کو ایک خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو ملزمان کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، اور عدالت نے اب ان سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔

    عدالت نے ہلاک ہونے والے 56 افراد کے ہر ایک کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور زخمی متاثرین میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے دینے کا حکم بھی دیا ہے۔

    گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سانگھوی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کے خلاف ’زیرو مرسی‘ کی ایک مثال بتایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’آج گجرات ہائی کورٹ نے انڈیا کے مضبوط ترین اور تاریخی فیصلوں میں سے ایک فیصلہ سنایا ہے۔‘

    کیس کے متاثرین کے اہل خانہ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ 26 سالہ یش ویاس، جنھوں نے بم دھماکوں میں اپنے والد اور بڑے بھائی کو کھو دیا تھا، کا کہنا ہے کہ فیصلہ مناسب ہے۔ روزنامہ دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرے والد، میرے بھائی اور کئی دوسرے لوگ ان دھماکوں میں مارے گئے تھے۔‘ ان کے والد ہسپتال میں ملازم تھے اور کام پر موجود تھے جب وہ ہلاک ہوئے۔

    ایک دوسرے متاثرہ خاندان کے فرد وجے مودی نے اخبار کو بتایا کہ ’چاہے دیر ہوئی ہو، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب انصاف مل گیا ہے۔‘ وجے کی والدہ، جو اس وقت 55 سال کی تھیں، اس واقعے میں زخمی ہو گئی تھیں اور 2016 میں فوت ہو گئی تھیں۔

    دوسری جانب اس معاملے میں ملزمان کی طرف سے پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی گروپ) کی قانونی امداد کمیٹی نے اسے ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ قرار دیا ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کل 49 ملزمان میں سے جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علما احمد آباد (گجرات) کے تعاون سے 39 ملزمان کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

    تنظیم کے پریس سیکریٹری فضل الرحمن قاسمی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ ہے۔

    جمعیت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی اور ملزمان کو پھانسی کے تختے سے بچانے کے لیے ملک کے نامور فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کرے گی اور ان کے مقدمات مضبوطی کے ساتھ لڑے گی۔ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ اعلیٰ عدالت سے ان نوجوانوں کو مکمل انصاف ملے گا۔‘

    جمعیت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایسے متعدد معاملات ہیں جن میں نچلی عدالتوں نے سزائیں سنائیں، مگر جب وہی مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں گئے تو مکمل انصاف ہوا۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی مثال اکشردھام مندر حملہ کیس ہے، جس میں نچلی عدالت نے مفتی عبدالقیوم سمیت تین افراد کو پھانسی اور چار افراد کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ان سب کو نہ صرف باعزت بری کر دیا بلکہ بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزام میں ملوث کرنے پر گجرات پولیس کی سخت سرزنش بھی کی تھی۔

    غور طلب ہے کہ مجرم قرار دیے گئے افراد کا تعلق گجرات، اتر پردیش، کرناٹک، کیرالا، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طریقے سے دھماکہ خیز مواد جمع کیا تھا اور پھر بم دھماکے کیے، جن میں 56 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔

    اس معاملے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان نے 2002 کے گجرات فسادات کا ’انتقام‘ لینے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے لیے سلسلہ وار دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ 2022 میں عدالت نے 78 میں سے 28 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ اس مقدمے میں ایک ملزم نے سرکاری گواہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

  13. ایران کی بندرگاہ سیریک پر حملہ، چار افراد زخمی

    ایران کے جنوبی علاقے میں واقع سٹریٹجک بندرگاہ سیریک پر رات گئے ہونے والے ایک فوجی حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے جبکہ بندرگاہ کے بحری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ حملہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں رات بھر جاری رہنے والی وسیع تر فوجی کارروائیوں کا حصہ تھا۔

    ارنا نے صوبہ ہرمزگان کے مشرقی حصے میں بندرگاہوں اور بحری امور کے سربراہ حمیدرضا محمدحسینی تختی کے حوالے سے بتایا کہ حملہ بندرگاہ کے حوض، پورٹ بیسن، کے اندر دو مراحل میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں بندرگاہ کی ایک مرکزی تیرتی جیٹی، فلوٹنگ پیئر، کو شدید نقصان پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق مقامی تجارتی کشتیاں اور قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز بھی حملے کی زد میں آئے۔

    محمد حسینی تختی نے بتایا کہ ایک شخص شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر میناب کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ تین دیگر افراد کو معمولی زخم آئے جنہیں موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ہرمزگان کے مختلف مقامات، جن میں بندر عباس اور جزیرہ قشم شامل ہیں، میں کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہیں۔

    ارنا کے مطابق حملے کے باعث بندرگاہ سیریک کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، تاہم قریبی شپنگ مراکز، جن میں جاسک اور تیاب کی بندرگاہیں شامل ہیں، جو سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت بدستور فعال ہیں۔

  14. ایران نے عام شہریوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا: بحرین کا الزام

    بحرینی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے راتوں رات کئی ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

    بحرین کی ڈیفنس فورس جنرل کمانڈ نے ایران پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ’شہریوں کو نشانہ بنانے‘ کا الزام لگایا ہے۔

    بحرین نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ’متعدد‘ فضائی حملوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔

  15. پوڈ کاسٹ اینکر ریحان طارق چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

    لاہور کی ایک عدالت نے پوڈ کاسٹ اینکر ریحان طارق کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریحان طارق کو بدھ کی صبح لندن سے پاکستان واپسی پر این سی سی آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پیکا قانون کی دفعات 11-C، 295-A (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے) اور 298 (جان بوجھ کر مذہبی جذبات مجروح کرنے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ان پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام اس وقت عائد کیا گیا جب انھوں نے مذہبی سکالر سید جواد نقوی کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ ریکارڈ کیا تھا۔

    مقدمے کے متن کے مطابق ریحان طارق نے ایک مذہبی سکالر کے ساتھ انٹرویو کے دوران مبینہ طور پر ’ایسے سوالات اٹھائے جو انتہائی حساس اور متنازع فرقہ وارانہ نوعیت کے معاملات سے متعلق تھے۔‘

    درخواست گزار کے مطابق، ’سوالات کی نوعیت، ان کا سیاق و سباق اور ان کی پیشکش مختلف فرقوں اور مکاتبِ فکر کے پیروکاروں کے درمیان بحث اور تنازع پیدا کر سکتی تھی۔‘

    مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ مواد دانستہ طور پر سوشل میڈیا پر شائع کیا گیا۔ یہ مواد اشتعال انگیز نوعیت کا محسوس ہوا اور اس میں عوامی بے چینی کو ہوا دینے، فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے اور سماجی نظم و ضبط کو کمزور کرنے کی صلاحیت پائی گئی۔‘

    عدالت میں پیشی کے موقع پر ریحان طارق نے کہا کہ ’مجھے عدالت میں اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے کسی انتہائی مطلوب ملزم کو پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھ پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ریحان طارق اس پوڈ کاسٹ کے حوالے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر عوام سے معذرت کر چکے ہیں۔

  16. ایران کا آبنائے ہرمز میں ’نئے ایرانی انتظام‘ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے رات گئے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک ’آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کی گئی نئی انتظامی تبدیلیوں کی خلاف ورزی‘ بھی ہے۔

    اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور سینیئر ایرانی رکنِ پارلیمان ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں نئے ایرانی نظام کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔‘

    خلیج فارس کی اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے سب سے پیچیدہ اور متنازع معاملات میں سے ایک رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز تک رسائی کے قواعد کیا ہوں اور اس پر کس حد تک اختیار کس فریق کو حاصل ہو۔

    17 جون کو طے پانے والی امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کے لیے اپنی ’بہترین کوششیں‘ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    تاہم بعد ازاں ایران نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز پیشگی طور پر ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کریں۔

    ایران نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم (انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن - آئی ایم او) کی جانب سے مقرر کردہ راستے کے ذریعے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش ’ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک‘ ہوگی۔

  17. آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6,000 سمندری کارکن اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم

    اقوامِ متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6,000 سمندری کارکن اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جہازوں پر ہونے والے حملوں نے ان سمندری کارکنوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    آرسینیو ڈومینگیز کے مطابق ’حالیہ حملوں نے اُس خوف، غیر یقینی صورتحال اور نفسیاتی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے جس کا سامنا تقریباً 6,000 سمندری کارکن کر رہے ہیں، جو ایسے جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں جو خلیج فارس سے محفوظ طریقے سے روانہ نہیں ہو سکتے۔‘

    مارچ میں، امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے مقصد سے معاہدہ ہونے سے قبل، آرسینیو ڈومینگیز نے کہا تھا کہ خلیج فارس میں تقریباً 20,000 سمندری کارکن پھنسے ہوئے تھے۔

    اب انھوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر کشیدگی میں کمی لائیں تاکہ پھنسے ہوئے جہاز محفوظ طریقے سے اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو سکیں۔

  18. اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم کی آبنائے ہرمز سے جہاز نہ گزارنے کی اپیل

    اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی بحری تنظیم، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن، کے سربراہ نے گذشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شپنگ کمپنیوں اور آپریٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے نہ گزاریں۔

    آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’ان غیر ذمہ دارانہ حملوں نے ایک بار پھر بے گناہ سمندری کارکنوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب تک جہازوں کے عملے کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، میں پرچم بردار ریاستوں، جہاز مالکان، جہاز آپریٹرز اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سمندری کارکنوں کو غیر ضروری خطرات سے دوچار کرنے سے گریز کریں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے سے احتراز کریں۔‘

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں، خصوصاً تیل بردار ٹینکروں، کی آمدورفت میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔

    شپنگ انٹیلی جنس ادارے لائیڈز لسٹ کے مطابق، 5 جولائی تک کے ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے 211 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ تاہم یہ تعداد جنگ سے قبل کی سطح سے اب بھی کافی کم ہے، جب روزانہ اوسطاً 138 کے قریب جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے۔

  19. یہ کشیدگی تو ہے، لیکن کیا یہ مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے؟, کیری ڈیویز، بی بی سی پاکستان نامہ نگار

    ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کی کوششوں کے تحت طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ابھی ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

    اگرچہ جنگ بندی تکنیکی طور پر اپریل کے اوائل سے نافذ تھی، تاہم اس عرصے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر وقفے وقفے سے ہونے والے جوابی حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، لیکن مذاکرات نہیں‘ ایک ایسا مؤقف دکھائی دیتا ہے جو بیک وقت دروازہ بند بھی کرتا ہے اور تھوڑا سا کھلا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

    یہ حکمتِ عملی اُن کے اُن بیانات سے مختلف نہیں جو جنگ بندی کے اعلان اور ایم او یو پر دستخط کے درمیان سامنے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو معاہدہ کرنے کی صورت میں ممکنہ فوائد کا عندیہ دیا تھا، جبکہ دوسری جانب معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت نتائج اور تباہ کن کارروائیوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

    حالیہ بیانات ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ مایوسی دونوں ممالک کو دوبارہ براہِ راست محاذ آرائی اور فوجی کارروائیوں کی جانب لے جائے گی، یا پھر سفارتی رابطوں کا سلسلہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روک سکے گا؟

    فی الحال صورتِ حال یہی اشارہ دیتی ہے کہ اگرچہ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ یہی عنصر آنے والے دنوں میں اس بحران کی سمت کا تعین کرے گا۔

  20. مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے ریپ اور قتل پر غم و غصہ، ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے دوران ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔

    باروئی پور کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے مقدمے میں ریپ کی دفعات شامل کی ہیں، حالانکہ ابتدائی اطلاعات میں ریپ کا ذکر موجود نہیں تھا۔ پولیس نے تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    متاثرہ بچی کے اہل خانہ کے مطابق وہ سنیچر کے روز لاپتہ ہوئی تھی۔ اتوار کو ایک تالاب سے اس کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک نوجوان کو ملزم سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

    بعد ازاں مقامی سطح پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ہجوم کے ہاتھوں مارا جانے والا شخص ممکنہ طور پر بے گناہ تھا۔ واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچی کی گمشدگی کی ابتدائی شکایت پر فوری اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

    پولیس نے اتوار کو ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، جبکہ بعد میں دو مزید افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ تین دیگر افراد کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔

    مبینہ پولیس مقابلہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تشویش

    پولیس کے مطابق منگل کی رات گرفتار ملزم پربھاس منڈل کو تفتیش کے سلسلے میں جرم کی جگہ پر لے جایا گیا تھا تاکہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران پربھاس منڈل نے ایک اہلکار کا سروس ریوالور چھین لیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوا اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

    پولیس کے مطابق بچی کے اہل خانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پربھاس منڈل کی شناخت کی تھی اور اسے کیس کا اہم ملزم قرار دیا گیا تھا۔

    ملزم کی ہلاکت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کے مؤقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس کے رہنما رنجیت سور نے کہا کہ پربھاس منڈل اس کیس کے ایک اہم گواہ اور ملزم تھے، اور ان کی موت سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس مقابلوں کے بارے میں اکثر ایک جیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، جن میں ملزم کے پولیس کا ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کرنے اور پھر فائرنگ میں مارے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

    اس واقعے نے سیاسی صورت حال کو بھی گرم کر دیا ہے۔ ریاست کی سیاست میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر ترنمول کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں کے درمیان بھی اس معاملے پر الزام تراشی جاری ہے، جس کے باعث یہ واقعہ صرف ایک فوجداری مقدمہ ہی نہیں بلکہ ایک سیاسی موضوع بھی بن گیا ہے۔