آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا کچے اور پکے ہوئے کھانے کے لیے ایک ہی چھری استعمال کرنے سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے؟
- مصنف, اونکر کرمبلکر
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
گرمیوں کے دوران باورچی خانے میں ہونے والی ایک چھوٹی سی غلطی بھی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
اگر پکا ہوا کھانا کچھ دیر باہر پڑا رہے، کٹے ہوئے پھل زیادہ دیر تک پڑے رہیں یا بچا ہوا کھانا صحیح وقت پر فریج میں نہ رکھا جائے تو فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اکثر ہم کھانے کو صرف اس لیے بلاجھجک کھا لیتے ہیں کہ وہ دیکھنے اور سونگھنے میں ٹھیک لگتا ہے تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ جسم کے لیے نقصان دہ جراثیم بغیر کوئی ظاہری علامت دکھائے بھی کھانے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق فوڈ سیفٹی میں دو گھنٹے کے اصول کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
یعنی پکا ہوا کھانا کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہیں رکھا جانا چاہیے۔ شدید گرمی میں یہ وقت کم ہو کر ایک گھنٹہ رہ جاتا ہے۔
چاول، بریانی، سالن، سبزیاں، گوشت میں بنے کھانے، دودھ، دہی اور کٹے ہوئے پھل گرمیوں میں تیزی سے خراب ہو سکتے ہیں۔
غلط طریقے سے کھانا سٹور کرنا، صفائی کا خیال نہ رکھنا اور خراب کھانے کو دوبارہ گرم کرنے کی عادت گرمیوں میں بہت سے گھروں میں غذائی بیماریوں میں اضافے کی وجہ بنتی ہے۔
تو گرمیوں میں کھانے کو محفوظ رکھنے کے لیے کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟ آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوڈ پوائزننگ کی وجوہات کیا ہیں؟
گرمیوں میں اکثر ایسے مسائل کی بڑی وجہ کھانے کا خراب ہونا ہوتا ہے یعنی کھانا تیار کرنے یا محفوظ کرنے کے دوران ہونے والی غلطی۔
آلودہ پانی، صفائی ستھرائی کی کمی، کچا اور پکا کھانا ایک ہی چھری یا بورڈ پر کاٹنا، کھانے کو زیادہ دیر فریج سے باہر رکھنا یا بچے ہوئے کھانے کو صحیح طرح گرم نہ کرنا۔
یہ سب فوڈ پوائزننگ کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ جراثیم خاص طور پر چاول اور چاول سے بنی اشیا میں، کمرے کے درجہ حرارت پر تیزی سے بڑھتے ہیں۔
یہ جراثیم ایسے زہریلے مادے پیدا کر سکتے ہیں جو حرارت سے بھی ختم نہیں ہوتے۔
اسی لیے پکا ہوا کھانا ایک سے دو گھنٹے کے اندر فریج میں رکھ دینا چاہیے، اسے چپٹے برتنوں میں محفوظ کریں اور کھانے سے پہلے اس قدر گرم کریں کہ وہ مکمل طور پر گرم ہو جائے۔
ماہرین کی تجویز ہے کہ صرف سونگھنے یا چکھنے سے یہ اندازہ نہ لگائیں کہ کھانا محفوظ ہے۔
غذائی ماہر دھانوی مائشیری کہتی ہیں کہ ’پکے ہوئے چاول جن میں بیسیلس کیریئس (بیکٹیریا کی قسم) کا خطرہ ہوتا ہے۔ گوشت، چکن، مچھلی، بریانی اور دیگر ایسے کھانے، اسی طرح دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، کٹے ہوئے پھل، خاص طور پر تربوز، خربوزہ، پپیتا، سالن، سبزیاں اور نمی اور پروٹین سے بھرپور غذائیں جلد خراب ہو جاتی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ گرمیوں میں کھانے کے لیے ’دو گھنٹے کے اصول پر عمل کرنا چاہیے تاہم اگر درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو یہ مدت ایک گھنٹے تک محدود ہو سکتی ہے۔‘
’پانچ ڈگری سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت میں جراثیم بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اس لیے اگر پکا ہوا کھانا زیادہ دیر باہر پڑا رہے تو وہ دیکھنے اور سونگھنے میں ٹھیک لگنے کے باوجود صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ باہر پڑا کھانا کن جراثیموں کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتا ہے۔
انٹرنل میڈیسن کے ڈاکٹر امیت سرف نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ’سالمونیلا، ای کولی، سٹیفیلوکوکس اوریئس اور کیمپائلوبیکٹر جیسے بیکٹیریا فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کچھ بیکٹیریا ایسے زہریلے مادے پیدا کرتے ہیں جو دوبارہ گرم کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتے اور اس سے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خطرے کی نشانیاں کیا ہیں؟
بہت سے لوگ پیٹ میں ہلکے درد یا معمولی الجھن کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ علامات فوڈ پوائزننگ کی ابتدا ہو سکتی ہیں۔
بار بار قے آنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ کچھ غلط ہے۔
38 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بخار معمولی بات نہیں بلکہ انفیکشن کی نشانی ہو سکتا ہے۔
ممبئی کے کوکیلابین دھیروبھائی امبانی ہسپتال کی چیف ڈائٹیشن پرتیکشا قدم کہتی ہیں کہ ’پاخانے میں خون آنا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ بیماری سنگین سطح تک پہنچ چکی۔‘
کھڑے ہونے پر چکر آنا اس بات کی نشانی ہے کہ جسم میں پانی کی کمی بڑھ رہی ہے۔
کھانے کو بار بار گرم کرنے کے بارے میں بڑا مغالطہ یہ ہے کہ اس سے کھانا مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے تاہم بعض جراثیم پہلے ہی کھانے میں ایسے زہریلے مادے پیدا کر چکے ہوتے ہیں جو ابالنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔
اس لیے زیادہ دیر باہر رکھے گئے کھانے کو دوبارہ گرم کر کے کھانا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
بچوں اور بزرگوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟
بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا اس لیے ان کے جسم میں بہت کم وقت میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
بزرگ افراد کے معدے میں جراثیم کے خلاف قدرتی دفاع کے طور پر کام کرنے والے تیزاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے بزرگ پہلے ہی دیگر بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی لیے اگر بچوں، بزرگوں یا حاملہ خواتین میں علامات شدید ہوں تو وقت ضائع کیے بغیر ہسپتال جانا چاہیے۔
اگر فوڈ پوائزننگ کا شبہ ہو تو کیا کریں؟
فوڈ پوائزننگ کا شبہ ہونے پر سب سے پہلے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے او آر ایس، مناسب مقدار میں پانی و مشروب اور ہلکی غذا لیں۔
آرام کریں اور ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر خود سے دوائیں نہ لیں۔
ڈاکٹر امیت سرف کہتے ہیں کہ اگر علامات ایک دن سے زیادہ برقرار رہیں، بار بار الٹیاں ہوں، جسم میں پانی یا مائعات کی شدید کمی ہو، تیز بخار ہو، ذہنی الجھن پیدا ہو یا پانی کی کمی کی علامات ہوں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں، تو بلا تاخیر طبی مدد حاصل کریں۔
یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ کھانا اب خراب ہو چکا؟
اکثر ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کھانا خراب ہو گیا، اس لیے اسے کھانے سے پہلے غور سے دیکھنا ضروری ہے۔
زیادہ تر صورتوں میں خراب کھانے سے کھٹاس یا عجیب سی بو آتی ہے اور وہ چپچپا ہو جاتا ہے۔
دہی جیسی پیکڈ اشیا میں گیس بننے لگتی ہے اور پیکٹ پھول جاتا ہے۔
کچھ کھانوں پر سفید یا سبز پھپھوندی نظر آتی ہے اور ان کے رنگ بھی بدل جاتے ہیں۔
تاہم بعض خطرناک جراثیم ایسے بھی ہوتے ہیں جو کھانا دیکھنے اور سونگھنے میں ٹھیک ہونے کے باوجود اس میں بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ذخیرہ کرنے کا طریقہ بہت اہم ہے۔
کٹے ہوئے پھل زیادہ دیر تک باہر نہیں رکھنے چاہییں۔
ڈاکٹر دھانوی مائشیری وضاحت کرتی ہیں کہ ’فریج میں رکھنے سے جراثیم کی افزائش سست ہو جاتی ہے لیکن یہ پہلے سے آلودہ کھانے کو محفوظ نہیں بناتا اور نہ ہی تمام جراثیم یا زہریلے مادے ختم کرتا ہے۔‘
’اگر ماضی میں کھانے کو غلط طریقے سے سنبھالا گیا ہو تو فریج میں رکھنے کے باوجود خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔‘
دھانوی یہ مثال دیتی ہیں کہ کٹے ہوئے پھل دو گھنٹے سے زیادہ باہر نہیں رکھنے چاہییں اور شدید گرمی میں ایک گھنٹے کے اندر استعمال کر لینے چاہییں۔
پھل کٹنے کے بعد انفیکشن کا خطرہ اور غذائیت دونوں متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کٹے ہوئے پھل فریج میں رکھیں اور جلد استعمال کریں۔
آج کل بعض مقامات پر تربوز کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے اس میں رنگ اور کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے تربوز کا استعمال پیٹ درد، اسہال اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
گھر میں کھانا سنبھالتے وقت کی جانے والی عام غلطیاں
- پکا ہوا کھانا زیادہ دیر تک باہر رکھنا
- اچھی طرح دوبارہ گرم نہ کرنا
- بڑے برتن میں کھانے کو گھنٹوں گرم رکھنا
- پھل کاٹ کر کھلا رکھ دینا
- کچے اور پکے کھانے کے لیے ایک ہی چھری یا بورڈ استعمال کرنا
- ہاتھوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا
- بچے ہوئے کھانے کو بار بار گرم کرنا
- صرف سونگھنے یا چکھنے سے کھانے کو محفوظ سمجھ لینا
گرمیوں میں فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ کے آسان طریقے
گرمیوں میں کھانا جتنا ممکن ہو تازہ پکائیں۔ ہمیشہ ایک سے دو گھنٹے کے اصول کو یاد رکھیں۔
کھانے کو جلد فریج میں رکھیں اور زیادہ دیر باہر نہ چھوڑیں۔ اگر کٹے ہوئے پھل بعد میں کھانے ہوں تو انھیں فریج میں رکھیں۔ کھانا سنبھالنے سے پہلے برتن اور ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔
باسی کھانا نہ کھائیں اور سڑک پر کھلا کھانا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر بچے ہوئے کھانے کو کھانا ہو تو اسے اچھی طرح گرم کریں۔
باورچی خانہ صاف رکھیں۔ اگر کھانے کے خراب ہونے کا ذرا سا بھی شبہ ہو تو اسے نہ کھائیں۔
اگر آپ طرز زندگی یا خوراک میں کوئی اہم تبدیلی کرنا چاہتے ہوں، دوائیں لینا یا جسمانی ورزش شروع کرنا چاہتے ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔
یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ جسم اور علامات کی جانچ ڈاکٹر سے کرا کے ہی طرز زندگی میں تبدیلیاں کریں۔
بغیر ڈاکٹر کو دکھائے خود علاج کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔