<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom">
    <title>BBC - بی بی سی اردو بلاگ</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/" />
    <link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/atom.xml" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2009-02-13:/blogs/urdu/34</id>
    <updated>2011-11-28T11:26:20Z</updated>
    <subtitle>یہ بی بی سی اردو کا بلاگ ہے۔ یہاں آپ مختلف موضوعات پر بی بی سی کے نامہ نگاروں کے بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔ </subtitle>
    <generator uri="http://www.sixapart.com/movabletype/">Movable Type Pro 4.33-en</generator>

<entry>
    <title> عمران خان کی وضاحت</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/11/post_742.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.300904</id>


    <published>2011-11-28T11:16:26Z</published>
    <updated>2011-11-28T11:26:20Z</updated>


    <summary type="html">ایک تازہ بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔...</summary>
    <author>
        <name>آصف فاروقی</name>
        
    </author>
    
    <category term="khanimran" label="khan imran" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>ایک تازہ بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>تحریک انصاف کے سربراہ کے اس بیان سے صرف ایک روز قبل پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کا بھی اسی موضوع پر ایک بیان شائع ہوا تھا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ عمران خان امریکہ کے خلاف نہیں ہیں۔ <br />
یہ بہت سیدھی اور واضح سی بات ہے کہ عمران خان ان امریکی پالیسیوں کے مخالف ہیں جو دنیا بھر اور خاص طور پر پاکستان میں ان کے نکتہ نظر کے مطابق مسائل کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ موقف بھی قابل فہم ہے کہ وہ کسی قوم یا ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ <br />
سوال یہ ہے کہ عمران کو یہ ضاحت کرنے کی ضرورت اب کیوں پیش آئی۔ <br />
کیا اس لیے کہ وہ پاکستان کی پاور پالیٹکس کا کارآمد پرزہ بننے جا رہے ہیں؟<br />
 کیا وہ ایوان اقتدار کی بو سونگھ رہے ہیں؟   </p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>مجی کی رہائی !</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/11/post_741.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.300258</id>


    <published>2011-11-14T12:52:41Z</published>
    <updated>2011-11-14T13:11:45Z</updated>


    <summary type="html">مجی سترہ برس کا تھا جب وہ راستہ بھول کر قصور کی سرحد پار کرگیا اور بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے ہتھے چڑھ گیا۔تفتیش کاروں نے کئی روز ٹھوکنے پیٹنے کے بعد جب اطمینان کرلیا کہ مجی جاسوس یا...</summary>
    <author>
        <name>وسعت اللہ خان</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="قیدی" label="قیدی" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>مجی سترہ برس کا تھا جب وہ راستہ بھول کر قصور کی سرحد پار کرگیا اور بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے ہتھے چڑھ گیا۔تفتیش کاروں نے کئی روز ٹھوکنے پیٹنے کے بعد جب اطمینان کرلیا کہ مجی جاسوس یا دہشت گرد نہیں  تو اسے غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔مجی کو پنجاب اور راجھستان کی چار جیلوں میں رکھا گیا اور دو بار جج کے سامنے پیش کیا گیا۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>دو ہزار ایک میں مجی کو مشرف واجپائی آگرہ ملاقات کے کچھ عرصے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔لیکن مختلف قانونی و تکنیکی سرخ فیتہ موشگافیوں کے سبب عدالتی احکامات پر جولائی دو ہزار دس تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔</p>

<p>بلاخر مجی کو جیل سے نکال کر امرتسر پہنچایا گیا اور مختلف جیلوں سے جمع کیے گئے نو دیگر پاکستانی قیدیوں کے ساتھ اٹاری بارڈر تک لایا گیا اور پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔</p>

<p>مجی کو اس کا بھانجا اور چھوٹی خالہ کرائے کی سوزوکی ڈبے میں بارڈر پر لینے آئے۔مجی کو بتایا گیا کہ اسکے والد کا انیس سو چورانوے میں اور والدہ کا دو ہزار چار میں انتقال ہوگیا۔بڑی بہن کے چار اور منجھلی کے دو بچے ہیں۔ سب لوگ قصور سے لاہور منتقل ہوچکے ہیں۔قصور والا گھر بک چکا ہے ۔</p>

<p> مگر مجی یہ سب کچھ نہیں سن رہا تھا۔وہ تو بس ہر شخص اور شے دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھ رہا تھا۔اکتیس سال میں دنیا مکمل طور پر بدل چکی تھی۔</p>

<p>جیسے ہی سوزوکی سبزہ زار کے علاقے میں پہنچی۔دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نوجوانوں نے سوزوکی کے آگے آ کر اسے رکنے کا حکم دیا۔مگر سوزوکی والے نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔موٹر سائیکل سوار مشتعل ہوگئے اور انہوں نے قریب آ کر سیدھی فائرنگ کردی۔ڈرائیور موقع پر ہلاک ہوگیا۔سوزوکی بے قابو ہو کر کھمبے سے جا ٹکرائی۔مجی ، اسکی خالہ اور بھانجے کو زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا۔</p>

<p>اگلی صبح مجی مرگیا۔<br />
اسپتال کے عملے نے لاش مجی کی بڑی بہن اور بہنوئی کے حوالے کرتے وقت حوالگی کا فارم بھرنے کو دیا۔<br />
مجی کی بہن نے فارم پر کرتے ہوئے لکھا<br />
نام = عبدالمجید<br />
تاریخِ پیدائش = پانچ نومبر انیس سو باسٹھ ۔ <br />
تاریخِ وفات = انتیس جولائی دو ہزار دس<br />
عمر= سترہ سال</p>

<p><br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>روئے زمین کے طاقتور</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/11/post_740.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.299903</id>


    <published>2011-11-04T16:16:04Z</published>
    <updated>2011-11-04T16:20:43Z</updated>


    <summary type="html"> امریکہ کے فوربز میگزین نے جس کے سرورق پر آنا محلوں میں رہنے والے ہر کروڑپتی و ارب پتی بھکاری کا خواب ہوتا ہے، سرزمینِ پاک کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے...</summary>
    <author>
        <name> حسن مجتییٰ</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="سیاست" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پنجاب" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="hasanblog" label="hasan blog" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p><br />
امریکہ کے فوربز میگزین نے جس کے سرورق پر آنا محلوں میں رہنے والے ہر کروڑپتی و ارب پتی بھکاری کا خواب ہوتا ہے، سرزمینِ پاک کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کو دنیا کے طاقتور ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا ہےو</p>]]>
        <![CDATA[<p>دنیا میں اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی فہرست میں ایک سو تینتالیسیوں نمبر پر آنے وہ قوم جس کے سیاستدانوں کے اثاثے سوئس بینکوں میں ہوں، اور جو نیوکلیئر بم کو اپنے اثاثے کہتی ہو، کو نوید ہو کہ ان کے سپہ سالار روئے زمین کی طاقتور شخصیات میں چھپن ویں نمبر پر ہیں، اور ان کے بعد دوسرے طاقتور پاکستانی بقول شخصے آصف زرداری، نواز شریف نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے جنرل پاشا ہیں۔</p>

<p>'نظر وٹو' کے طور پر داؤد ابراہیم  بھی ان کے ساتھ اسی فہرست میں طاقتور شخص کے طور پر موجود ہیں۔</p>

<p>نیویارک کی مرکزی شاہراہ ففتھ ایونیو سے نکلنے  والے فوربز میگزین جس کا خود نعرہ ہے کہ وہ 'آلۂ سرمایہ داری' یا ' کیپیٹلسٹ ٹول' ہے، کی ایسی  ریٹنگ کے بعد اب اس قیاس  کو مزید تقویت ملتی ہے کہ کون کہتا ہے کہ پاکستان میں فوجی اشرافیہ سب سے طاقتور طبقہ نہیں۔</p>

<p>پاکستانی جرنیلوں کا جاہ و جلال اب تو ایک عالم میں مانا جا رہا ہے۔ جب جمہوریت کمزور ہو تو جرنیل طاقتور ہو ہی جاتے ہیں۔</p>

<p>جرنیل اپنے جاہ و جلال سے مرکزی اہیمت کے حامل ہو جاتے ہیں۔ وہ اسٹریٹجگ ڈائیلاگ سے لے کر سعوری ولی عہد کے جنازے میں شرکت تک کر سکتے ہیں اور اگر شرکت نہیں کرسکتے تو نصرت بھٹو کے جنازے  میں نہیں کر سکتے۔</p>

<p>ویسے آپس کی بات ہے کہ ماضی قریب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے بھی جری جرنیل تھے جو خاتون وزیراعظم کو سلیوٹ کرنے سےگریزاں ہوا  کرتے تھے۔<br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>آخر کتنی دولت کافی</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/11/post_739.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.299721</id>


    <published>2011-11-01T13:46:12Z</published>
    <updated>2011-11-03T10:04:18Z</updated>


    <summary type="html">پاکستانی سابق کرکٹ کپتان سلمان بٹ نے لندن کی عدالت میں اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک دن عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے سات سالہ کرکٹ کیریئر میں تقریباً پندرہ کروڑ روپے کمائے۔...</summary>
    <author>
        <name>آصف فاروقی</name>
        
    </author>
    
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>پاکستانی سابق کرکٹ کپتان سلمان بٹ نے لندن کی عدالت میں اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک دن عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے سات سالہ کرکٹ کیریئر میں تقریباً پندرہ کروڑ روپے کمائے۔ </p>]]>
        <![CDATA[<p>سلمان بٹ کی یہ وہ کمائی ہے جس پر انہوں نے ٹیکس ادا کیا۔ <br />
محمد آصف نے بھی کم و بیش اتنی بلکہ اس سے بھی زیادہ کرکٹ کھیل رکھی ہے اور ایک سٹار ہونے کے ناطے یقیناً اس سے زیادہ کمائی بھی کی ہو گی۔<br />
محمد عامر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کرکٹ کی حالیہ تاریخ میں اہم دریافت تھے اور ایک بہت روشن مستقبل ان کا منتظر تھا۔ <br />
اتنے روپے کیا بہت نہیں ہوتے؟ اور وہ بھی جب آپ ہنستے کھیلتے کما لیں۔ اور مزید کمانے کی صلاحیت اور امکانات بھی بہت ہوں۔ <br />
یہ بات میری سمجھ میں تو نہیں آتی کہ پھر ان کرکٹرز کو کیا پڑی تھی کہ وہ ناجائز ذرائع سے بھی دولت کمانے کی کوشش کرتے؟ <br />
آخر کتنی دولت کافی ہوتی ہے؟ <br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>قذافی سٹئڈیم کے نام کا معاملہ</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/10/post_738.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.299473</id>


    <published>2011-10-26T12:21:12Z</published>
    <updated>2011-10-31T10:02:15Z</updated>


    <summary type="html">کیا قذافی کے زوال اور ہلاکت کے بعد لاہور کے سٹیڈیم کا نام بدل لینا چاہیے؟ فیس بُک پر جاری بحث پر بہت لوگوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بالکل مناسب بات...</summary>
    <author>
        <name>عنبر خیری</name>
        
    </author>
    
    <category term="gaddafi" label="gaddafi" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="karachi" label="karachi" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="names" label="names" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pakistan" label="pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="politics" label="politics" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>کیا قذافی کے زوال اور  ہلاکت کے بعد لاہور کے سٹیڈیم کا نام بدل لینا چاہیے؟<br />
فیس بُک پر جاری بحث پر بہت لوگوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بالکل مناسب بات نہیں ہے۔<br />
قذافی سٹیڈیم ہماری زندگیوں اور یاد داشت کا حصہ ہے۔ تاریخ کا حصہ ہے۔ اور تاریخ کو ہمیں اپنی سیاست یا ذاتیات کی بنا پر نہیں بدلنا چاہیے۔ <br />
</p>]]>
        <![CDATA[<p><br />
بہت برس پہلے کراچی میں وکٹوریا روڈ کا نام بدل کر عبداللہ ہارون روڈ رکھ دیا گیا لیکن بہت سے کراچی والے ابھی بھی اس کو وکٹوریا روڈ ہی کہتے ہیں اور زیب النسا روڈ  کو ایلفی  (یعنی ایلفانسٹن سٹریٹ) ۔(ویسے یہ زیب النسا تھیں کون؟  کسی کراچی والے کو تو شائد ہی علم ہوکہ یہ کراچی کی ایک  سوشلائٹ صحافی تھیں )<br />
کچھ  برس پہلے مری کے قریب معروف سکول لارنس کالج کا نام بدل کر 'پائنز کالج' رکھ دیا گیا تھا کیونکہ شاید لارنس صاحب برطانوی راج کے ایک ظالم افسر ہوتے تھے۔ سکول کے ہاؤسز کے ناموں کو بھی سابق کے بجائے مغل باداشاہوں پر رکھ دیا گیا تھا۔ لیکن کیا سابق پرنسپلوں کا سکول سے تعلق رہا تھا یا کہ مغل بادشاہوں کا؟<br />
قذافی چالیس برس تک لیبیا پر حکمرانی کرتا رہا اور بڑے مظالم کا ذمہ دار بھی رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ اس نے امریکی اور مغربی طاقتوں کا اڈٹ کر مقابلہ کیا اور بہت سی ایسی تنظیموں کی حمایت کی   جو آمریت کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ وہ مشکل وقتوں میں  پاکستان کا دوست بھی رہا۔<br />
تاریخ اس پر جو بھی فیصلہ کرے، سیاست کی وجہ سے ہمارے سٹیڈیم کا نام نہیں بدلنا چاہیے۔<br />
کیا نواب شاہ کا نام بےنظیرآباد کرنا چاہیے تھا یا ڈرگ روڈ کو شاہراہ فیصل رکھنا چاہیے تھا؟<br />
فاتح سیاساتدانوں کو شہروں اور سڑکوں اور عوامی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تاریخ مقدس ہے۔<br />
آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟   <br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>یونیفارم والی شرٹ !</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/10/post_737.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.299165</id>


    <published>2011-10-19T18:50:48Z</published>
    <updated>2011-10-19T18:52:43Z</updated>


    <summary type="html">جیسے ہی میں نے بینک کے سامنے گاڑی کھڑی کی ایک آٹھ نو سال کا بچہ ہاتھ میں کپڑا لیے کہیں سے نمودار ہوگیا۔ صاحب گاڑی صاف کردوں !...</summary>
    <author>
        <name>وسعت اللہ خان</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="بحث" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="blog" label="blog" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pakistan" label="pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="wusatullahkhan" label="wusat ullah khan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>جیسے ہی میں نے بینک کے سامنے گاڑی کھڑی کی ایک آٹھ نو سال کا بچہ ہاتھ میں کپڑا لیے کہیں سے نمودار ہوگیا۔</p>

<p>صاحب گاڑی صاف کردوں !<br />
</p>]]>
        <![CDATA[<p>نہیں مجھے جلدی ہے۔</p>

<p>بس جیسے ہی آپ بینک سے باہر آئیں گے گاڑی صاف ملے گی !</p>

<p>اچھا کردو۔۔۔۔لیکن تم نے تو سکول کی یونیفارم پہنی ہوئی ہے ۔۔۔تمہیں تو اس وقت کلاس میں ہونا چاہییے، یہ تم یہاں سڑک پر کیا کررہے ہو۔</p>

<p>جی میں سکول میں نہیں پڑھتا، یہ یونیفارم تو ایک میڈم نے دی ہے۔ان کا بچہ پہنتا تھا۔اب پرانی ہوگئی ہے نا !</p>

<p>تمہیں میڈم نے اور شرٹ کیوں نہیں دی ؟<br />
نہیں جی ان کے پاس تو دو تین پرانی شرٹیں تھیں۔انہوں نے کہا اس میں سے ایک لے لو باقی دو میں دوسرے بچوں کو دوں گی۔ تو میں نے یونیفارم والی شرٹ لے لی !</p>

<p>لیکن کیا فائدہ ۔۔۔تم تو سکول میں نہیں پڑھتے ، دوسری شرٹ لے لیتے۔</p>

<p>نہیں جی۔۔۔ یہ مجھے اچھی لگتی ہے۔اسے پہن کر لگتا ہے جیسے میں بھی سکول جارہا ہوں ۔<br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>پاکستان میں چاہیے شکتی مان</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/10/post_736.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.299153</id>


    <published>2011-10-19T15:07:04Z</published>
    <updated>2011-10-19T15:18:31Z</updated>


    <summary type="html">بارش، سیلاب اور دیگر کئی مصائب میں گھرے پاکستان میں، جہاں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی، تعلیم اور صحت کی سہولیات آبادی کی اکثریت کی دسترس سے باہر ہیں، لاقانونیت اور ظلم کی شکایت عام ہے، ایک اہم آسامی...</summary>
    <author>
        <name>اسد علی </name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="ثقافت" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پنجاب" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>بارش، سیلاب اور دیگر کئی مصائب میں گھرے پاکستان میں، جہاں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی، تعلیم اور صحت کی سہولیات آبادی کی اکثریت کی دسترس سے باہر ہیں، لاقانونیت اور ظلم کی شکایت عام ہے، ایک اہم آسامی خالی ہے۔ یہ آسامی ہے 'شکتی مان' کی۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>ویسےتو حال ہی میں وسطی پنجاب کے مختلف قصبوں میں نوجوانوں سے بات کر کے معلوم ہوا کہ ان میں مقبولیت کے اعتبار سے سلمان خان کا شمار صف اوّل کے لوگوں میں ہوتا ہے، لیکن فیصل آباد کے ایک مدرسے میں ایک بچے نے احساس دلایا کہ اس کی زندگی میں صرف شکتی مان کی کمی ہے۔ <br />
اس بچے سے ملاقات فیصل آباد سے اوکاڑہ جاتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک مدرسے میں ہوئی۔ مدرسے کے امام صاحب تو کہیں کام سے گئے تھے لیکن کچھ بچے اور ایک سینیئر حافظ صاحب موجود تھے۔ <br />
بچوں کے ساتھ گپ شپ شروع کی اور جاننا چاہا کہ ان کا ہیرو یا پسندیدہ شخصیت کون ہے؟ جیسے ہی مائیک سب سے قریب بیٹھے بچے کے سامنے کیا اس نے جواب دیا سلمان خان۔اس جواب پر اپنے ساتھیوں کا قہقہہ سن کر اس نے فوراً اپنا جواب قائد اعظم میں بدل دیا۔ <br />
اس سوال کا یہی جواب میں دیپالپور سے ہجرہ شاہ مقیم جاتے ہوئے شہری آبادی سے دور ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک <br />
نوجوان سے بھی سن چکا تھا۔ جب میں نے اس سے کہا کہ سلمان خان تو فلمی ہیرو  ہیں عام زندگی میں آپ کی پسندیدہ شخصیت کون ہے، تو ایک اور لڑکے نے جواب دیا کہ شان بھی اچھا جا رہا ہے۔<br />
پوچھنے پر کہ شان نے کیا کمال کیا ہے، انہوں نے کسی پنجابی فلم کا نام لیا کہ اس میں شان نے اپنے دوست کے قتل کا انتقام بہت اچھا نبھایا ہے۔ <br />
پتوکی سے سمندری جاتے ہوئے 'مِچل فروٹ فارم' کے سامنے سائیکلوں پر گھروں کو لوٹتے ہوئے طالب علموں سے بات چیت کا موقع ملا۔ان سب نے بھی سلمان خان کو ہی اپنا ہیرو قرار دیا۔      <br />
 خیر مدرسے کے طالب علم کی طرف واپس آتے ہیں۔ حافظ صاحب نے اسے اور ایک طالب علم کو میرے ساتھ روانہ کیا کہ مجھے قریبی بستی میں واقع مدرسے کے مہتمم صاحب کے گھر کا راستہ دکھا دیں۔<br />
دونوں بچے راستے بھر یہی اندازہ لگاتے رہے کہ کون سا گھر امیر آدمی کا ہے اور کون سا غریب کا؟ کون کتنا غریب ہے کون کتنا امیر؟<br />
میں نے ان کی گفتگو میں مخل ہوتے ہوئے اس بچے سے پوچھا کہ پہلے آپ نے سلمان خان بولا بھر قائد اعظم کا نام لیا آپ کو اصل میں کون زیادہ پسند ہے؟ اس کا جواب تھا 'شکتی مان'۔  <br />
شکتی مان مجھے بتایا گیا کہ ہندوستان ٹیلی ویژن کے ایک ڈرامے کا کردار ہے جو خصوصی طاقتوں کا مالک ہے اور غریب لوگوں کو ظلم اور زیادتی سے بچاتا ہے۔ <br />
ماں، باپ اور بہن بھائیوں سے دور کھانے، پینے اور رہائش کے لیے لوگوں کی رحم دلی کے محتاج اور اچھی تعلیم کے کسی امکان کی عدم موجودگی میں ان بچوں کو یقیناً 'شکتی مان' ہی کی ضرورت ہے۔    </p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>سول ایوارڈز کی بہار </title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/08/post_735.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.295713</id>


    <published>2011-08-15T15:33:53Z</published>
    <updated>2011-08-15T15:44:29Z</updated>


    <summary type="html">یوم آذادی کے روز اخبارات میں چھپنے والے سول ایوارڈز کی فہرست دیکھی تو فورا آنکھیں ملیں کہ کہیں روزے کی وجہ سے کچھ کا کچھ اور تو نہیں پڑھ لیا۔ ایسا لگا جیسے حکمراں پیپلز پارٹی کے اہم ترین...</summary>
    <author>
        <name>ہارون رشید</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="بحث" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="سیاست" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="مزاح" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="awards" label="awards" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="haroonrashidblogpakistan" label="haroon rashid blog pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="merit" label="merit" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pppleadership" label="PPP leadership" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>یوم آذادی کے روز اخبارات میں چھپنے والے سول ایوارڈز کی فہرست دیکھی تو فورا آنکھیں ملیں کہ کہیں روزے کی وجہ سے کچھ کا کچھ اور تو نہیں پڑھ لیا۔ ایسا لگا جیسے حکمراں پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔ </p>]]>
        <![CDATA[<p>لیکن ایسا کچھ نہیں تھا یہ حکمراں جماعت کے اہم ترین رہنماؤں کے نام تھے جنہیں 'ان کی اعلی کارکردگی کے پیش نظر' سول ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے اگر جنہیں یہ ایواڈ دیئے گئے خود بھی دل ہی دل میں میں غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا کہ کس بنیاد پر انہیں یہ اعزاز بخشا جا رہا ہے۔ ایک نے تو مجھ سے بات کرتے ہوئے اس کا برملا اظہار بھی کیا۔ <br />
اگر سینٹ کے چیرمین فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کا اپنے عہدوں پر فرائض<br />
سرانجام دینا اتنا ہی مشکل تھا تو پھر ماضی کے تمام سپیکر اور چیرمینوں کو بھی یہ ملنا چاہیے۔ اس مرتبہ میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہاں وزیر داخلہ کی کارکردگی کے تو ہم سب معترف ہیں لہذا ان پر انگلی اٹھانے کی میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے تو امن عامہ کے لیے اپنا دن رات ایک کر دیا۔ کچھ بہتری آئی یا نہیں یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ </p>

<p>بس بھئی فراخ دلی اگر کسی نے سیکھنی ہے تو ہمارے صدر سے سیکھے۔ جس نے جو مانگا اس کو دیا۔ ناصرف اپنی قریبی ساتھیوں کو اعلی ترین وزارتیں اور عہدے دیئے بلکہ اب انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نواز دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی کارکردگی سے کتنی مطمئن ہے۔ عوام کی بات کون کرتا ہے اور ایسے 'پرمسرت' مواقع پر کرنی بھی نہیں چاہیے۔ </p>

<p>لیکن اس اعلان سے مجھے ایک پریشانی سے لاحق ہوئی کہ کیا اس سال کو حکومت اپنا آخری سال تصور کر رہی ہے کہ ابھی سے اپنی ٹیم کے سب اہم اراکین کو شاباشی عطا کر دی۔ ابھی تو اس حکومت کا کم از کم ایک اور یوم آذادی باقی ہے۔ آخر اتنی جلدی کیا تھی۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد صدر کو ان پیپلز پارٹی رہنماؤں سے اس سے زیادہ اچھے کی امید نہیں تھی۔</p>

<p>دوسری پریشانی یہ تھی کہ ان ایوارڈز کی وقعت کیا رہی؟ یقینا اکثریت قابل تعریف کارکردگی کے بل بوتے پر اس کی جائز حقدار ہے لیکن ایک عاد کا نام دیکھ کر تو محض سلیکشن معیار پر 'اف' ہی کی جاسکتی ہے۔      <br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>دنیا کے لیے مثال</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/07/post_734.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.294258</id>


    <published>2011-07-23T01:43:13Z</published>
    <updated>2011-07-23T18:10:09Z</updated>


    <summary type="html">دو تین برس پہلے چودہ گست کے موقع پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔...</summary>
    <author>
        <name>اسد علی </name>
        
    </author>
    
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>دو تین برس پہلے چودہ گست کے موقع پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>  چھوٹے سے سٹیڈیم میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں سینکڑوں پاکستانی شریک تھے۔ ناروے کی اس وقت کی وزیرخزانہ مہمان خصوصی تھیں۔ </p>

<p>میں اپنے عزیزوں کے ساتھ سٹیج سے خاصی دور بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کاش پہلے معلوم ہوتا تو وقت لے کر وزیرخزانہ کا انٹرویو کر لیتا۔ اس خواہش کا اظہار میں نے اپنے کزن سے بھی کیا۔ میری بات سن کر وہیں موجود ایک پاکستانی نے کہا یہ تو کوئی بڑی بات نہیں وزیر خزانہ کو یہیں بلا لیتے ہیں۔</p>

<p>وہ صاحب بغیر کسی روک ٹوک کے سیدھے سٹیج کے قریب گئے اور وزیر خزانہ تک ایک پرچی پہنچا دی۔ تقریب کے اختتام پر وزیر خزانہ نے ان سے مسئلہ دریافت کیا اور معلوم پڑنے پر ان کے ساتھ ہی ہماری طرف آ گئیں۔ انہوں نے خود ہی مجھ سے پوچھ لیا کہ آپ ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور تین چار سوالات کا مختصر کر ڈالا۔</p>

<p>آخری سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے اتنی بڑی تعداد میں اوسلو میں آباد ہونے سے ان کو سب سے بڑا فرق یہ پڑا تھا کہ اپنی انتخابی مہم انہوں نے کھاریاں سے شروع کی تھی۔       </p>

<p>اس کے بعد وہ بڑے اطمینان کے ساتھ لوگوں سے ہاتھ ملاتی، ان کے تصاویر بنواتی اپنی گاڑی تک چلی گئیں۔ نہ کوئی پروٹوکول، نہ سکیورٹی اور نہ کوئی بڑے عہدیدار اور چھوٹے عہدیدار کا فرق۔</p>

<p>یہ ایک مثال ہے اس کھلے معاشرے کی جس کو بچانے کا عہد ناروے کے وزیر اعظم نے جمعہ کو دو بڑے حملوں کے بعد کیا۔ ایک صحافی نے جمعہ کو ہی اس کھلے معاشرے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناروے میں ناقابل یقین حد تک کھلا معاشرہ ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ناروے میں سیاستدان اور امراء عام لوگوں میں اس طرح آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں جس کی مثال دنیا بھر میں کم ہی ملتی ہے۔ وہاں کم لوگوں کے پتے اور فون نمبر خفیہ ہوتے ہیں اور وہاں سیاستدان اپنے ٹیلی فون نمبر اپنے کارڈ پر شائع کرواتے ہیں۔</p>

<p>صحافی کے مطابق باہر کی دنیا کو شاید یہ انداز معصومانہ لگے لیکن ناروے کے لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے رہا جا سکتا ہے۔ دیکھیں اس حملے کے بعد ان کا رویہ بدلتا ہے یا نہیں۔       </p>

<p></p>

<p><br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>بگلا پکڑنا آسان نہیں !</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/07/post_733.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.294079</id>


    <published>2011-07-20T10:57:21Z</published>
    <updated>2011-07-20T10:58:59Z</updated>


    <summary type="html">ایک عقل مند نے دوسرے عقل مند سے پوچھا کہ بگلا زندہ پکڑنے کی موثر ترکیب کیا ہے۔...</summary>
    <author>
        <name>وسعت اللہ خان</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="سندھ" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="سیاست" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="karachi" label="karachi" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="mqm" label="mqm" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pakistan" label="pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="wusatullahkhan" label="wusat ullah khan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>ایک عقل مند نے دوسرے عقل مند سے پوچھا کہ بگلا زندہ پکڑنے کی موثر ترکیب کیا ہے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>پہلے عقلمند نے کہا بہت ہی آسان ہے۔جب آپ بگلا دیکھیں تو کہنیوں کے بل رینگتے رینگتے ایک لمبا چکر کاٹ کر بگلے کے پیچھے پہنچیں تاکہ وہ ہوشیار نا ہوجائے۔ قریب پہنچتے ہی بگلے کے سر پر موم رکھ دیں۔موم سورج کی روشنی سے پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں چلا جائے گا جس کے بعد وہ  کچھ نہیں دیکھ پائےگا اور بے بس ہوجائے گا۔بس یہی وقت ہے کہ آپ اسے گردن سے زندہ پکڑ لیں۔</p>

<p>دوسرے عقلمند نے کہا کہ یار بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن اگر میں بگلے کے قریب پہنچ ہی جاتا ہوں تو پھر سر پے موم کیوں رکھوں ۔سیدھے سیدھے اس کی گردن ہی کیوں نا پکڑ لوں۔</p>

<p>پہلے عقل مند نے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔استادی تو یہ ہے کہ آپ موم سر پے رکھ کے بگلا پکڑ کے دکھائیں تاکہ آپ کی واہ واہ ہوجائے۔۔۔</p>

<p>بالاخر پیپلز پارٹی نے کشمیر اسمبلی کے لئے کراچی کی دو مخصوص نشستوں کو ایم کیو ایم کے لئے چھوڑ دیا۔ یہی کام دو ہفتے کے دوران منہ سے شعلے اگلنے کے کرتب ، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت اور اربوں روپے کے کاروباری نقصان سے پہلے بھی ہوسکتا تھا۔لیکن پھر استاد کون مانتا!!<br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>جلتی آگ کی پرچھائيں</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/07/post_732.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.293782</id>


    <published>2011-07-13T08:27:07Z</published>
    <updated>2011-07-13T08:28:24Z</updated>


    <summary type="html">&apos;پرچھاواں پکڑن والیو چھاتی وچ بلدی اگ دا پرچھاواں نہیں ہوندا&apos; (پرچھائيں پکڑنے والو سینے کے اندر جلتی آگ کی پرچھائيں نہیں ہوتی) یہ سطر کئی برس پہلے پنجابی کی امر شاعرہ امرتا پریتم نے اپنی ایک نظم میں لکھی...</summary>
    <author>
        <name> حسن مجتییٰ</name>
        
    </author>
    
        <category term="-" label="آس پاس" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="ثقافت" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="سیاست" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="-" label="فن اور فنکار" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="amirta" label="amirta" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="blog" label="blog" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="hasan" label="hasan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="india" label="india" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pritam" label="pritam" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>'پرچھاواں پکڑن والیو چھاتی وچ بلدی اگ دا پرچھاواں نہیں ہوندا'</p>

<p>(پرچھائيں پکڑنے والو سینے کے اندر جلتی آگ کی پرچھائيں نہیں ہوتی)</p>

<p>یہ سطر کئی برس پہلے پنجابی کی امر شاعرہ امرتا پریتم نے اپنی ایک نظم میں لکھی تھی۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>لیکن اس آگ کی تپش کل شام نیویارک کے سکھوں کی سب سے بڑی آبادی اور گردواروں والےعلاقے رچمنڈ ہل میں بھی محسوس کی گئی جب پنجابی ادبی سبھا میں اس کا ذکر کیا گیا کہ امرتا پریتم کا دہلی میں مشہور تاریخی گھر بیچ کر توڑ بھی دیا گیا ہے اور اب اس پر کمپلکیس تعمیر ہوگا۔</p>

<p>نیویارک کا پنجابی شاعر سریندر سول مجھے مشرقی پنجاب کے ایک اخبار کا حوالہ دے رہا تھا جس نے لکھا ہے کہ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک تاریخ کا مرثیہ ہے۔</p>

<p>مجھے یاد آیا، امرتا پریتم کا یہ گھر جس کو میں نے تو صرف ان کی خود نوشت یادداشتوں 'رسیدی ٹکٹ'یا ناگ منی کے پرچوں میں دیکھا تھا لیکن میرے دوست شاعر حسن درس، جامی چانڈیو اور مظفر چانڈیو بھی جب انڈیا گئے تھے اسی گھر پر امرتا پریتم سے جا کر ملے تھے جہاں حسن نے امرتا پریتم کو اپنی اور اس کے ہمعصر سندھی شاعروں کی شاعری بھی سنائي تھی۔ جہاں میرے یہ دوست امرتا پریتم کے دوست امروز سے اپنی ملاقات کی دلچسپ تاثرات لائے تھے۔</p>

<p>ہاں اسی گھر میں انیس سو ستانوے میں  بٹوارے کے پچاس سال پورے ہونے پر بی بی سی اردو کی معرکتہ آرا سیریز 'ہندو پانی، مسلمان پانی'  کیلیے محمد حنیف نے امرتا پریتم کی تاریخی کُوک جیسی نظم 'اج اکھاں وارث شاہ نوں'جا کر ریکارڈ کی تھی ۔ '</p>

<p>امرتا پریتم کے اسی گھر کے دورازے پر اس کی یہی سطر امروز نے اپنے فن مصوری اور نقش نگار سے بنائي ہوئی تھی:'پرچھاواں پکڑن والیو چھاتی وچ بلدی اگ دا  پرچھاواں نہیں ہوندا'۔</p>

<p>سریندر سول مجھے بتا رہے تھے امرتا پریتم کے فروخت ہوئےگھر سے اس کا بیٹا بہرحال وہ دروازہ نکال کر لے گیا جس پر وہ سطر لکھی تھی۔میں سوچ رہا تھا  آج پھر سے کوئی 'اج اکھاں وارث شاہ نوں' لکھے۔</p>

<p>دیکھ امرتا پریتم! کون کہتا ہے کہ اندر میں جلتی آگ کی پرچھائيں نہیں ہوتی!</p>

<p>میں نے سوچا  کیا انڈین حکومت اور اداروں نے امرتا پریتم کا یہ تاریخی گھر خریدنے کی کوشش اس لیے نہیں کی ہوگی کہ وہ سکھ تھیں ! سکھ، جو اورنگزیب سے لیکر اندرا گاندھی اور ان کے بعد کے ادوار تک آگ کے دریاؤں سے گزرگئے ہوئے ہیں۔</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>ہائے کشمیری مرچیں</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/07/post_731.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.293738</id>


    <published>2011-07-12T11:04:09Z</published>
    <updated>2011-07-12T11:08:23Z</updated>


    <summary type="html">بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام منقسم کشمیر کے درمیان جیسے سیاست سے لے کر ثقافت، تجارت، سیرو تفریح بغیر کسی دشواری کے انجام پاتی ہے کہ اب کشمیری مرچوں کے بارے میں قضیہ شروع ہوا ہے کہ وادی کی...</summary>
    <author>
        <name>نعیمہ احمد مہجور</name>
        
    </author>
    
        <category term="-" label="آس پاس" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="بحث" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="blog" label="blog" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="kashmir" label="kashmir" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="nayeema" label="nayeema" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام منقسم کشمیر کے درمیان جیسے سیاست سے لے کر ثقافت، تجارت، سیرو تفریح بغیر کسی دشواری کے انجام پاتی ہے کہ اب کشمیری مرچوں کے بارے میں قضیہ شروع ہوا ہے کہ وادی کی بیمار مرچیں سرحد پار بھیجی جاتی ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>کشمیر میں گزشتہ بیس برس کے پرُتشدد حلالات کے پیش نظر چالیس فیصد سے زائد آبادی مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہے تو مرچوں سمیت دوسری فصلیں بیماریوں سے کیسے پاک رہ سکتی ہیں۔</p>

<p>پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے حکام نے حال میں وادی کے حکام کو اُن بیمار مرچوں کی تجارت روکنے کی صلاح دے دی جو حکام کے مطابق انسانی صحت کو زک پہنچا سکتی ہیں۔</p>

<p>اِلزام یہ ہے کہ یہ مرچیں بھارت کی دوسری ریاستوں سے منگوا کر لائن آف کنٹرول کے اُس پار پاکستانی علاقے میں بھیجی جاتی ہیں تاکہ کسٹم ڈیوٹی سے بچا جاسکے اور یہ وہ مرچیں نہیں جو کشمیر کی ہیں کیونکہ ان میں نہ کشمیر کا تیکھا پن موجود ہے اور نہ کشمیر کا رنگ ہے۔</p>

<p>پاکستان کی لیبارٹریوں میں اِن مرچوں کا تجزیہ کرنے کے بعد حکام کومعلوم ہوا ہے کہ ان میں افلاٹوکزن موجود ہے جو انسانی صحت کے لئے مضر ہے (جیسے خود مرچیں انسانی صحت کے لئے مضر نہیں)</p>

<p>جب سے لائن آف کنٹرول پر تجارتی لین دین کا سلسلہ شروع ہوا ہے تاجروں کو دونوں طرف سے شدید مشکلات کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑی دشواری ویزا کا حاصل کرنا ہے اور پھر تجارتی لین دین کے لیے مخصوص اشیا ہی رکھی گئیں ہے جن پر کشمیر کا لیبل ہونا ضروری ہے۔ ان اشیا کو فوجیوں کی موجودگی میں سرحد آرپارپہنچانا جوئے شیر لانے کے متُرادف ہے۔</p>

<p>(یہ تجارتی لین دین صرف کشمیری تاجروں تک محدود ہے اور اس کا مقصد منقسم کشمریوں کے مابین تعلقات کو بحال کرنا ہے اس میں بھارت اور پاکستان کی پیدا کردہ اشیا یا فصل شامل کرنے سے کشمیری تاجروں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتاہے)</p>

<p>اگریہ تجارتی تعلقات بغیر مرچوں کے ہوتیں تو شاید بحال ہونے میں تیکھا پن پیدا نہ ہوتا کیونکہ مرچوں کی لین دین کی وجہ سے پھرتیکھا پن شروع ہوا تو سرحد آر پار رابطے جو تقریبا ساٹھ برسوں کے بعد قائم ہونے لگے ہیں پھر مرچوں کے بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔ </p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>سربنیتزا: اب مستقبل کیا؟   </title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/07/post_730.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.293677</id>


    <published>2011-07-11T09:34:16Z</published>
    <updated>2011-07-11T11:24:12Z</updated>


    <summary type="html">بارہ جولائی 1995 وہ تاریخ ہے جب بوسنیا کی جنگ کے دوران سربیائی فوجوں نے سربنیتزا میں اقوام متحدہ کے ڈچ امن فوج کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے مسلمانوں کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ خونریزی کا...</summary>
    <author>
        <name>عنبر خیری</name>
        
    </author>
    
    <category term="bosnia" label="bosnia" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="hatred" label="hatred" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="rape" label="rape" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="serb" label="serb" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="srebenica" label="srebenica" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="war" label="war" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>بارہ  جولائی 1995  وہ تاریخ ہے جب بوسنیا کی جنگ کے دوران سربیائی فوجوں نے سربنیتزا میں اقوام متحدہ کے ڈچ امن فوج کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے مسلمانوں کو  منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔<br />
خونریزی کا سلسلہ پانچ دن تک جاری رہا۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>تقریباً  23 ہزار بوسنیاک (بوسنیائی مسلمانوں)  کو سرب فوج  لے گئی اور لے جانے سے پہلے ہی انہوں نے قتل اور تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا۔ سربنیتزا کے قتل عام میں آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان کی لاشیں دیگر اجتماعی قبروں میں ڈال دی گئیں۔<br />
سرب فوجوں نے بڑے  پیمانے پر بوسنیائی بچیوں اور خواتین کو جنسی تسدد کا نشانہ بنایا۔ <br />
<a href="http://news.bbc.co.uk/1/hi/675945.stm">یہ قتل عام</a> دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی خـون ریزی کی بد ترین مثال بتائی جاتی ہے۔ اس واقعہ کو سولہ برس گزر گئے ہیں اور آج اس کا ایک بڑا مجرم سربیائی جنرل ملادِچ  ڈھٹائی سے  دا ہیگ کی عدالت میں کٹہرے میں کھڑے ہو کر عدالت سے بد تمیزی کر رہا ہے۔<br />
کئی مجرموں کو جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں  سزا سنائی جا چکی ہے اور حال ہی میں نیدرلینڈز کی ایک عدالت نےڈچ ریاست کو اس واقعے کا <a href="https://meleleh.pages.dev/news/world-europe-14034764">ذمہ دار قرار دیا </a>ہے کیونکہ بقول عدالت کے ڈچ افواج کو بوسنیائی مسلمانوں کو سرب فوج کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔</p>

<p><a href="https://meleleh.pages.dev/news/world-europe-13590411">اس سب</a> کے بارے میں سوچ کر کئی سوالات سامنے آتے ہیں۔ کیا احتساب کے اس دیرینا سلسلے سے ان لوگوں کو کوئی تسلی ملےجن کے خاندان والوں کو ان کے سامنے قتل کر دیا گیا؟ اور کیا ان عدالتی فیصلوں سے طاقتور ممالک کے عالمی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں پر کوئی فرق پڑے گا؟<br />
اس قتل عام میں بہت سے مرنے والوں کی<a href="http://www.nytimes.com/2011/05/31/world/europe/31iht-bosnia31.html"> ڈی این اے ٹیکنولوجی</a> کے ذریعے اب شناخت کی جا سکی ہے اور ان کی تدفین سے ان کے سوگواروں  کو کچھ تسلی ملی ہے۔    <br />
جنرل ملادچ جیسے لوگوں کو مثال بنانا اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن  یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے بہت سے حامی اس خطے مں آج بھی موجود ہیں اور ان لوگوں نے برسوں تک ان کو اپنی حفاظت میں چھپا کر رکھا ۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سربوں کی جارحیت میں مذہبی قومیت اور شناخت کا پہلو اہم تھا۔ ان افواج کو مشرقی عیسائیوں کے روہانی پیشواؤں (اورتھوڈاکس چرچ) کی حمایت حاصل تھی حتی کہ یونان سے بھی بہت سے اورتھوڈوکس افراد اپنے عیسائی بھائیوں کے ساتھ لڑنے آئے تھے۔<br />
ایسے جذبات کے حامی اب بھی اس علاقے میں رہتے ہیں۔ بوسنیا کے سرب الگ علاقوں میں رہتے ہیں، مسلمان الگ علاقوں میں۔ سکولوں میں نصاب الگ پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں جنگ کے یہ زخم شاید صدیوں تک نہ ٹھیک ہو سکیں۔ اور اس کی ایک جیتی جاگتی مثال آپ کو ملک کے یتیم خانوں میں نظر آئے گی: <a href="http://www.theglobeandmail.com/archives/children-born-of-rape-come-of-age-in-bosnia/article815852/">اُن سینکڑوں بچوں</a> میں جن کی ابھی تک سرکار نے کوئی شناخت نہیں کی ہے، کیونکہ یہ جنگ کے دوران بوسنیائی خواتین پر سربوں کے جنسی تشدد کا نتیجہ ہیں اور ان کی پیدائش کا ریکارڈ نہیں ہے لہذا ان کے پاس کسی قسم کے کوئی شناختی کاغذات نہیں ہیں۔<br />
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم یعنی ہم انسان نفرت، خون ریزی اور ظلم کے سارے حدودو پار کرنے کے بعد  پھر  اپنی انسانیت پر واپس کس طرح آ سکتے ہیں؟ نفرت اور انتقام کے ذریعے یا پھر کسی طرح کی مفاہمت اور معافی کے ذریعے؟  تاریخ نے ہم کو کیا سبق سکھایا ہے؟      <br />
</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>حکومت کسے بچانا چاہتی ہے؟</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/06/post_729.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.292622</id>


    <published>2011-06-20T11:42:45Z</published>
    <updated>2011-06-20T11:49:18Z</updated>


    <summary type="html">چاہے سلیم شہزاد کا بہیمانہ قتل ہو یا اسامہ بن لادن کی روپوشی کا شرمناک واقعہ، حکومت کا رد عمل سمجھ سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔...</summary>
    <author>
        <name>آصف فاروقی</name>
        
    </author>
    
    <category term="army" label="army" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="asiffarooqi" label="asif farooqi" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="pakistan" label="pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>چاہے سلیم شہزاد کا بہیمانہ قتل ہو یا اسامہ بن لادن کی روپوشی کا شرمناک واقعہ، حکومت کا رد عمل سمجھ سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>نیتوں کے حال تو خدا بہتر جانتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو ان دو سنگین معاملات کی تحقیقات کروانی مطلوب تھی تو اس میں ابہام پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔</p>

<p>آخر حکومت کیوں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ایک ذاتی دوست جج کو سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے کمیشن کا سربراہ بنانا چاہتی تھی؟ کیا اسے کچھ پوشیدہ رکھنا مقصود ہے؟ جہاں تک اخباری رپورٹوں کا تعلق ہے تو ابھی تک کسی نے بھی اس قتل میں حکومت کے ملوث ہونے کا شائبہ تک ظاہر نہیں کیا پھر اس رویے کا کیا مطلب ہے؟</p>

<p>ایبٹ آباد کمشین کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کے سپرد کرنا لیکن اس میں ایسی مینگنی ڈالنا کہ مذکورہ جج خود بھی اس کے قریب نہ جانے پائیں۔ اس حرکت کا کیا مطلب ہے؟</p>

<p>کیا یہ بات حکومت میں کسی کو معلوم نہیں تھی کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر سپریم کورٹ کا جج اس نوعیت کے کمشین کا رکن بننا قبول نہیں کر سکتا؟ دل اور دماغ یہ دلیل تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ بات یہ بھی نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن کی روپوشی کی ذمہ داری صدر، وزیراعظم یا کابینہ کے کسی رکن پر عائد کی جا رہی ہو۔</p>

<p>پھر حکومت ان معاملات میں خواہ مخواہ کے تاخیری حربے استعمال کر کے کسے بچانا چاہتی ہے؟ اور کیوں؟</p>]]>
    </content>
</entry>

<entry>
    <title>نئے شہر سے پناہ ہی بہتر</title>
    <link rel="alternate" type="text/html" href="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/2011/06/post_728.html" />
    <id>tag:www.bbc.co.uk,2011:/blogs/urdu//34.292141</id>


    <published>2011-06-09T14:43:15Z</published>
    <updated>2011-06-09T14:47:56Z</updated>


    <summary type="html">پاکستان کے جیسے حالات چل رہے ہیں اس میں بڑی تعداد میں اس کے شہری ناامیدی اور پژمردگی کا شکار ہو رہے ہیں۔...</summary>
    <author>
        <name>ہارون رشید</name>
        
    </author>
    
        <category term="" label="سندھ" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="سیاست" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
        <category term="" label="پاکستان" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#category" />
    
    <category term="pakistan" label="pakistan" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    <category term="sindh" label="sindh" scheme="http://www.sixapart.com/ns/types#tag" />
    
    <content type="html" xml:lang="ur" xml:base="https://meleleh.pages.dev/blogs/urdu/">
        <![CDATA[<p>پاکستان کے جیسے حالات چل رہے ہیں اس میں بڑی تعداد میں اس کے شہری ناامیدی اور پژمردگی کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>انہیں لگتا ہے کہ اب بہتری کا امکان کم ہے۔ نہ تو امن عامہ میں بہتری کی امید ہے اور نہ ہی گلی نالی کی تعمیر کے لیے فنڈز ہیں۔ ایسے میں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اور حکومت کے اعلی ترین عہدے پر کام کرنے والے صدر آصف علی زردای بھی لاتعلق ہوچکے ہیں۔</p>

<p>عدالتی حکم کے بعد وہ ایوان صدر میں سیاسی اجلاس تو منعقد نہیں کر پا رہے لیکن آخر اتنے بڑے محل میں کچھ تو کرنا ہے۔ باغبانی سے تو وہ رہے۔ لگتا ہے انہوں نے بھی پاکستان کی حالت بہتر بنانے کی حد تک ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ وہ اب ایک نیا، غالبا چھوٹا اور زیادہ 'مینج ایبل' شہر آباد کرنے میں مصروف ہیں۔ ہر دوسرے روز وہ ذوالفقار آباد سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں۔</p>

<p>اس نئی آبادی کا ماسٹر پلان اس سال کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس شہر کے لیے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے پسند کیے گئے ہیں۔ لیکن سرکاری بیان کے مطابق یہاں بیچز اور ٹرانسپورٹ کا جدید نظام ہوگا۔ مجھے بھی اس نئے شہر میں ایک پلاٹ چاہیے لیکن میری چند شرطیں ہیں۔</p>

<p>نمبر ایک: اثاثہ سمجھے جانے والے طالبان اور القاعدہ کو پلاٹ نہیں دیے جائیں گے۔</p>

<p>نمبر دو: یہاں سکیورٹی ادارے اپنے لوگوں کو نہیں ماریں گے۔</p>

<p>نمبر تین: بجلی/پانی چوبیس گھنٹے دستیاب رہیں گے۔</p>

<p>نمبر چار: مہنگائی قابو میں رہے گی۔</p>

<p>نمبر پانچ: انصاف سستا اور فوری ملے گا۔</p>

<p>نمبر چھ: تعلیم و صحت کی مفت سہولیات دستیاب ہوں گی۔</p>

<p>اگر یہ بھی باقی ملک کی طرح کا کوئی شہر ہے تو میں کم از کم  دلچسپی نہیں رکھتا۔ پاکستان کو تو چھوڑ نہیں سکتا لیکن اس نئے شہر سے پناہ ہی بہتر۔     </p>]]>
    </content>
</entry>

</feed>



